Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

ویران محل

حکایت نمبر:337 ویران محل

حضرتِ سیِّدُنا صالح مُرِّی علیہ رحمۃ اللہ القوی ایک مرتبہ ایک محل کے قریب سے گزرے تو ایک نوجوان کنیز ہاتھوں میں دَف اٹھائے یہ نغمہ گارہی تھی:” ہم لوگ ایسی نعمتوں اور خوشیوں میں ہیں جو کبھی زائل (یعنی ختم) نہ ہوں گی ۔” یہ سن کر حضرتِ سیِّدُنا صالح مُرِّیّ علیہ رحمۃ اللہ القوی نے اس کنیز سے کہا :” اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! تو جھوٹ بول رہی ہے ، پھر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ وہا ں سے روانہ ہو گئے۔” کچھ عرصہ بعد جب آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا گزر دوبارہ اس محل کے قریب سے ہوا تو دیکھا کہ اس محل پر بوسیدگی وشکستگی کے آثار نمایاں تھے نوکرچاکرسب غائب تھے ،محل کی تمام زیب وزینت خاک میں مل چکی تھی، گر دشِ ایام کی زد میں آکر وہ زیب وزینت کا شاہکار خراب وبیکار ہوچکاتھا گویا وہ ویران محل پکار پکار کر زبانِ حال سے یوں کہہ رہا تھا:

؎ اَجل نے نہ کسریٰ ہی چھوڑا نہ دارا
اسی سے سکندر سا فاتح بھی ہارا
ہر اک لے کے کیا کیا نہ حسرت سِدھارا
پڑا رہ گیا سب یونہی ٹھاٹھ سارا
جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے
یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے محل کے دروازے کے پاس کھڑے ہو کر بآ وازِ بلند کہا:” اے ویران محل! تیرے مکین کہا ں ہیں ؟ کہاں گئے تیرے خدام؟ تیری زیب وزینت کو کیا ہوا ؟ کہا ں ہے وہ جھوٹی کنیز جس کا یہ گمان تھا کہ ہماری نعمتیں اور خوشیاں ختم نہ ہوں گی؟ کہا ں گئی اب وہ نعمتیں اور خوشیاں ؟” ابھی آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ یہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ محل کے اندر سے یہ غیبی آواز
سنائی دی:” اے صالح رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ! جب مخلوق کا مخلوق پر اتنا غضب ہے تو مخلوق پر خالق کے غضب کا عالَم کیا ہوگا؟” پھر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لوگو ں کی طر ف متوجہ ہوئے اور زارو قطار روتے ہوئے یوں گویا ہوئے: اے لوگو! مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ جہنمی اس طرح پکاریں گے: ”اے ہمارے پرور دگار عَزَّوَجَلَّ ! تو جو چاہے ہمیں عذاب دے ، لیکن ہم پر غضب نہ فرما ، بے شک تیرا قہر و غضب ہم پر آگ سے زیادہ شدید ہے۔ اے ہمارے رب عَزَّوَجَلَّ ! جب تو ہم پر غضب فرماتا ہے تو عذاب کی زنجیر یں، بیڑیاں اور جہنمی طوق ہم پر تنگ ہوجاتے ہیں ۔”
؎ عفو کر اور سدا کے لئے راضی ہو جا گر کرم کر دے تو جنت میں رہوں گایا رب عَزَّوَجَلَّ!
(پیارے اسلامی بھائیو! یہ حکایت اپنے اندر عبرت کے بے شمار مدنی پھول لئے ہوئے ہے ۔ انسان کو دنیا کی ظاہری زیب وزینت کے دھوکے میں پڑ کراپنے پروردگارعَزَّوَجَلَّ کی یاد سے غافل نہیں ہوناچاہے۔افسوس ہے اس پر جو دنیا کی نیرَنْگیاں دیکھنے کے باوجود بھی اس کے دھوکے میں پڑ کر اپنی موت اور قبر و حشر کو بھول جائے اور اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لئے اعمالِ صالحہ کی طرف راغب نہ ہو، ایسا شخص واقعی قابلِ مذمت ہے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں دنیا کے دھوکے سے بچنے کی ترغیب دیتے ہوئے ارشاد فرمارہا ہے:

یاۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنَّ وَعْدَ اللہِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّکُمُ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا ٝ وَلَا یَغُرَّنَّکُمۡ بِاللہِ الْغَرُوۡرُ ﴿5﴾

ترجمۂ کنزالایمان: اے لوگو ! بے شک اللہ کا وعدہ سچ ہے تو ہر گز تمہیں دھوکہ نہ دے دنیا کی زندگی اور ہر گز تمہیں اللہ کے حکم پر فریب نہ دے وہ بڑا فریبی۔ (پ22، الفاطر:5)
خوش نصیب ہے وہ شخص جو دنیا کے دھوکے سے بچے اور آخرت کی تیاری کے لئے ہر دم کوشاں رہے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں دنیا کے دھوکے سے بچا کر آخرت کی تیاری کے لئے اعمالِ صالحہ کی تو فیق عطا فرمائے ، اپنی ناراضگی سے بچا کر رضائے دائمی کی لازوال دولت سے مالا مال فرمائے۔ ( آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلَّم))

error: Content is protected !!