Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

عالم برزخ

 عالم برزخ

    اگر دو چیزوں  کے درمیان کوئی چیز حائل ہو جائے، تو اسے برزخ
کہا جاتا ہے۔ قرآن کریم نے موت اور قیامت کے درمیان کی زندگی کو عالم برزخ سے تعبیر
کیا ہے۔
    حتی اذا جاء احدھم الموت قال رب ارجعون لعلی
اعمل صالحا فی ماترکت کلا انھا کلمة ھو قآئلھا و من و رائھم برزخ الی یوم یبعثون
    (سورۂ
مومنون، آیت
۱۰۰)
    “جب ان میں  سے کسی ایک کے پاس موت آئے گی، تو وہ عرض کرے گا
بار الہا! مجھے پلٹا دے تاکہ جو اعمال صالح ترک کئے ہیں، ان کو بجا لاؤں 
ہرگز نہیں  یہ تو وہ زبانی گفتگو ہے، جس کا قائل وہ ہے اور
اس کے پیچھے برزخ اور فاصلہ ہے، اس دن تک جب یہ اٹھائے جائیں  گے۔ “
    قرآن کریم میں  یہی ایک آیت ہے، جس میں  موت اور قیامت کے درمیانی فاصلہ کو برزخ سے تعبیر
کیا گیا ہے، اسی آیت سے استفادہ کرتے ہوئے علماء اسلام نے دنیا اور قیامت کبریٰ کے
درمیانی عالم کا نام برزخ رکھا ہے۔ اس آیت میں  موت کے بعد زندگی کے دوام کا ذکر بس اتنا ہی ہے
کہ کچھ انسان مرنے کے بعد اظہار پشیمانی کرتے ہوئے درخواست کریں  گے کہ ایک دفعہ دنیا میں  پھر لوٹائے جائیں، لیکن انکار کر دیا جائے گا۔
    یہ آیت صراحتاً بتا رہی ہے کہ موت کے بعد
انسان کی ایک خاص قسم کی زندگی ہوتی ہے، جس میں  رہتے ہوئے وہ واپسی کی خواہش کرتا ہے، لیکن اسے
رد کر دیا جاتا ہے۔
    قرآن کریم میں  ایسی آیتیں  زیادہ ہیں، جو دلالت کرتی ہیں  کہ موت اور قیامت کے درمیانی فاصلے میں  انسان ایک خاص قسم کی زندگی رکھتا ہے، جس میں  اس کے محسوس کرنے کی قوت میں  شدت آ جاتی ہے، وہ گفت و شنید کرتا ہے، اسے لذت،
رنج، سرور اور غم بھی ہوتا ہے۔ خلاصہ یہ کہ اسے ایسی زندگی نصیب ہوتی ہے، جس میں  سعادت کی آمیزش ہوتی ہے، قرآن کریم میں  مجموعی طور پر تقریباً
۱۵ آیتیں  ایسی ہیں، جو زندگی کی کسی نہ کسی صورت کو بیان
کرتے ہوئے کہتی ہیں  کہ انسان قیامت اور
موت کے درمیانی عرصے میں  ایک مکمل زندگی
رکھتا ہے۔
    ان آیتوں  کی کئی اقسام ہیں :
    ۱۔ وہ آیات جن میں  صالح اور نیک انسانوں  یا بدکار اور فاسد انسانوں  کی اللہ کے فرشتوں  سے بات چیت کا ذکر ہے، جو مرنے کے فوراً بعد ہو
گی، اس قسم کی آیات کی تعداد کافی ہے، سورۂ نساء کی آیہ نمبر
۹۷ اور سورۂ مومنون کی آیت نمبر ۱۰۰ جن کا ذکر مع ترجمہ
پہلے ہو چکا ہے، اسی قسم میں  سے ہیں۔
    ۲۔ ایسی آیات جو مندرجہ
بالا مفہوم کے علاوہ کہتی ہیں  کہ فرشتے نیک
اور صالح انسانوں  سے اس گفتگو کے بعد کہیں
 گے کہ بعد ازیں  الٰہی نعمتوں 
سے فائدہ اٹھاؤ یعنی انہیں  قیامت
کبریٰ کی آمد تک منتظر نہیں  رکھا جاتا، ذیل
کی دو آیات اسی مطلب پر مشتمل ہیں :
    (الف) الذین تتوفا ھم الملائکة طیبین یقولون سلام علیکم ادخلوا الجنة بما کنتم
تعملون
    (سورۂ نحل، آیت ۳۲)
    “وہ لوگ جنہیں  پاکیزگی کی حالت میں  فرشتے اپنی تحویل میں  لیتے ہیں، فرشتے ان سے کہیں  گے آپ پر سلام ہو، بے شک اپنے اچھے کردار کی وجہ
سے جنت میں  داخل ہو جایئے۔ “
    (ب) قیل ادخل الجنہ قال یالیت قومی یعلمون بما غفرلی ربی و جعلنی من المکرمین    (سورۂ یس،
آیات
۲۶۔ ۲۷)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    “(مرنے کے بعد) اس سے کہا جائے گا، بہشت
میں  داخل ہو جاؤ وہ کہے گا، اے کاش! جن
لوگوں  نے میری بات نہیں  سنی، اب جان لیتے کہ میرے پروردگار نے مجھے کیسے
بخش دیا اور اپنے معزز بندوں  میں  سے قرار دیا ہے۔ “

    اس سے پہلے کی آیات میں  مومن آل یسن کی اپنی قوم کے ساتھ گفتگو کا ذکر
ہے۔
    جس میں  وہ لوگوں 
کو شہر انطاکیہ میں  ان انبیاء کا
کہہ رہا ہے، جو عوام الناس کو غیر خدا کی عبادت سے منع کرتے اور خدا کی مخلصانہ
عبادت کی طرف دعوت دیتے تھے، اس کے بعد یہ مومن اپنے ایمان و اعتقاد کا اظہار کر
کے کہہ رہا ہے کہ میری بات سنو اور میرے راستے پر عمل کرو۔ ان آیات میں  ارشاد ہوتا ہے کہ لوگوں  نے اس کی بات کو نہ سنا، حتیٰ کہ وہ اگلے جہان
میں  چلا گیا۔ اگلے جہاں  میں  اپنے بارے میں  مغفرت و کرامات الٰہی کے مشاہدہ کے بعد اس نے
آرزو کی کہ
    “اے کاش! میری قوم جو اس وقت دار دنیا میں
 ہے، میری یہاں  کی سعادت مند کیفیت کا مشاہدہ کر سکتی۔ “
    واضح رہے کہ یہ تمام حالات قیامت کبریٰ سے
قبل کے ہیں  کیونکہ قیامت کبریٰ میں  اولین و آخرین سب جمع ہوں  گے اور روئے زمین پر کوئی بھی باقی نہیں  ہو گا۔
    ضمناً اس نکتہ کو سمجھ لیں  کہ مرنے کے بعد نیک اور باسعادت لوگوں  کے لئے بہشتیں  مہیا ہیں  نہ ایک بہشت، یعنی مختلف اقسام کی بہشتیں۔
    عالم آخرت میں  بہشت کے مدارج قرب الٰہی کے مدارج و مراتب کے
لحاظ سے مختلف ہوں  گے، جیسا کہ اہل بیت
اطہارکی احادیث و روایات سے استفادہ ہوتا ہے۔ ان بہشتوں  میں  سے
بعض عالم برزخ سے مربوط ہیں  نہ کہ عالم قیامت
سے، بنابرایں  اوپر والی دو آیات میں  بہشت کے ذکر سے یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ یہ عالم
قیامت سے مربوط ہیں۔
    ۳۔ تیسری قسم ان آیات کی
ہے، جن میں  فرشتوں  کی انسانوں 
کے ساتھ گفتگو کا کوئی ذکر نہیں  بلکہ سعادت مند اور نیک انسانوں  یا بے سعادت اور بدکار انسانوں  کی زندگی کا ذکر ہے، پہلی قسم کے لئے موت کے
فوراً بعد نعمات الٰہی اور دوسری صنف کے لئے عذاب و رنج ہو گا۔
    ذیل کی دو آیتیں  اسی قسم سے متعلق ہیں :
     ولا تحسبن الذین قتلوا فی سبیل اللہ امواتا بل احیاء عند ربھم یرزقون فرحین
بما اتھم اللہ من فضلہ و یستبشرون بالذین لم یلحقو ابھم من خلفھم الا خوف علیھم
ولا ھم یحزنون
    (سورۂ آل عمران، آیات ۱۲۹۔ ۱۷۰)
    “آپ یہ گمان نہ کریں  کہ راہ خدا میں  مقتول مردہ ہیں، بلکہ وہ اپنے پروردگار کے پاس
زندہ ہیں  اور روزی دیئے جا رہے ہیں۔ اپنے
فضل و رحمت سے خدا نے جو کچھ انہیں  دیا

(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

ہے، اس پر وہ خوش ہیں، ان کی آرزو ہے کہ ان کے دنیا والے دوستوں  کی شہادت کی بشارت ان تک پہنچے تاکہ انہیں  بھی اپنے ساتھ اس شہادت میں  شریک دیکھیں۔ “

    (۲) (وحاق بال فرعون سوء العذاب
النار یعرضون علیھا غدواً و عشیا و یوم تقوم الساعة ادخلوا آل فرعون اشد العذاب
(سورۂ مومن، آیات ۴۵۔ ۴۶)
    “آگ کے تکلیف دہ عذاب نے آل فرعون کا
احاطہ کر رکھا ہے، ہر صبح و شام آگ ان کے سامنے پیش کی جاتی ہے، جب قیامت ہو گی
(کہا جائے گا) آل فرعون کو اب شدید ترین عذاب میں  داخل کر دو۔ “
    اس آیت میں  آل فرعون کے لئے دو قسم کے عذاب کا ذکر ہے۔ ایک
قیامت سے پہلے جس کو سوء العذاب سے تعبیر کیا گیا ہے اور وہ یہ کہ ہر روز دو بار
آگ کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں، بغیر اس کے کہ اس میں  ڈال دیئے جائیں۔ دوسرا بعد از قیامت جس کو
اشدالعذاب سے تعبیر کیا گیا ہے۔ حکم ہو گا انہیں  جہنم میں  داخل کیا جائے۔ پہلے عذاب کے بارے میں  صبح و شام کا تذکرہ ہے، دوسرے عذاب میں  نہیں۔
    جیسا کہ اس آیت کی توضیح اور تفسیر میں  امیرالمومنین علیہ السلام کا فرمان ہے کہ پہلا
عذاب چونکہ عالم برزخ سے مربوط ہے، اسی لئے صبح و شام کا ذکر ہے کیونکہ عالم برزخ
میں  عالم دنیا کی طرح صبح و شام، ہفتہ،
ماہ اور سال ہیں۔ اس کے برعکس دوسرا عذاب عالم قیامت سے متعلق ہے اور وہاں  صبح و شام اور ہفتہ وغیرہ کا وجود نہیں۔
    رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، امیرالمومنین
علی علیہ السلام اور باقی آئمہ اطہار علیہم السلام کی احادیث روایات میں  عالم برزخ کا ذکر ہے، نیز اہل ایمان و اہل معصیت
کی حیات کا بھی بہت تذکرہ ہے، جنگ بدر میں  جب مسلمانوں 
کو فتح ہوئی اور سرداران قریش کو ہلاکت کے بعد ایک کنویں  میں  ڈال
دیا گیا، تو رسول اللہ نے اپنا روئے مبارک کنویں  میں  کر
کے فرمایا:
yle=”font-family: “alvi nastaleeq”; mso-ascii-font-family: Arial; mso-hansi-font-family: Arial;”>    “خدا نے ہمارے ساتھ جو وعدہ کیا تھا،
اسے ہم نے سچا پایا، تمہارے ساتھ جو وعدہ کیا گیا تھا، کیا وہ تم نے پا لیا؟”
    بعض اصحاب نے کہا یا رسول اللہ آپ مردوں  سے باتیں  کر رہے ہیں، کیا یہ آپ کی بات سمجھ رہے ہیں ؟
فرمایا:
    “اس وقت یہ تم سے بھی زیادہ سنتے ہیں۔
    اس حدیث میں  اس جیسی دیگر احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اگرچہ
جسم و جان کا رشتہ موت کی وجہ سے منقطع ہو جاتا ہے، لیکن روح جو سالہا سال تک جسم
کے ساتھ متحد رہی اور وقت گذارا، کلی طور پر بدن سے اپنا تعلق منقطع نہیں  کرتی۔
    امام حسین علیہ السلام روز عاشور نماز صبح
باجماعت پڑھنے کے بعد اصحاب کی طرف متوجہ ہوئے اور ایک مختصر سے خطبہ میں  ارشاد فرمایا:
    “تھوڑا سا صبر و استقامت سے کام لو، موت
ایک پل کے سوا کچھ نہیں، جو آپ
۱ کو درد و رنج کے ساحل سے سعادت و خوش بختی اور وسیع
جنتوں  کے ساحل پر پہنچا دے گی۔ “
    حدیث میں  آیا ہے کہ لوگ سوئے ہوئے ہیں، جب مریں  گے، تب بیدار ہو جائیں  گے، مراد یہ ہے کہ موت کے بعد کی زندگی کا درجہ
اور رتبہ دنیوی زندگی سے زیادہ کامل اور بلند ہے۔ جس طرح سے انسان نیند کی حالت میں
 احساس کے ایک ضعیف درجہ کا حامل ہوتا ہے، یعنی
اس کی حالت نیم مردہ اور نیم زندہ ہوتی ہے۔
    بیداری کے بعد اس کی حیات کامل ہو جاتی ہے،
اسی طرح عالم دنیا میں  عالم برزخ کی نسبت
زندگی ضعیف تر اور زیادہ کمزور ہوتی ہے، جو عالم برزخ میں  منتقل ہونے کے بعد کامل تر ہو جاتی ہے، یہاں  پر دو نکات کی طرف توجہ ضروری ہے :
    (الف)رہبران دین کی روایات و احادیث سے
استفادہ ہوتا ہے کہ عالم برزخ میں  فقط ان
مسائل کے متعلق سوال ہو گا، جن کا تعلق اعتقاد و ایمان سے ہے۔ باقی مسائل کا سوال
قیامت کبریٰ میں  ہو گا۔
    (ب) ثواب و اجر کی نیت سے مرحومین کے لواحقین
کی طرف سے جو نیک کام کئے جاتے ہیں، وہ مردہ کے لئے آسانی، خیر اور سعادت کا باعث
ہوں  گے، مثلاً صدقات، خواہ صدقات جاریہ
ہوں، جیسے ان اداروں  کی تشکیل جن کا نفع
خلق خدا کو حاصل ہو، یا صدقات غیر جاریہ جو ایسا عمل ہے کہ جلد ختم ہو جاتا ہے، یہ

(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

عمل اگر اس نیت سے ہو کہ اس کا اجر و ثواب، ماں، باپ، دوست، معلم و استاد یا کسی
اور مردہ کو نصیب ہو، تو یہ مرنے والے کے لئے تحفہ شمار کیا جائے گا اور اس کے لئے
خوشی اور سرور کا باعث ہو گا۔ اسی طرح سے ان مرحومین کی نیابت میں  دعا، طلب مغفرت، حج، طواف اور زیارات یہی فائدہ
رکھتی ہیں، ممکن ہے اولاد نے والدین کو اپنی زندگی میں  خدانخواستہ ناراض کیا ہو اور مرنے کے بعد اس طرح
کے کام کر لے کہ والدین کی رضامندی کا مستحق ہو جائے، اسی طرح اس کے برعکس بھی
ممکن ہے۔

مرتضی مھطری ​
error: Content is protected !!