Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

آداب و احکامِ مسجد

احکامِ مسجد کا بیان

اللّٰہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے اچھی جگہ مسجد ہے اور سب سے بُری جگہ بازار ہے۔

مسجد میں جاتے وقت کی دعا:

جب مسجد میں جائے تو درود شریف پڑھے اور یہ کہے: رَبِّ اغْفِرْلِیْ ذُنُوْبِیْ وَافْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِکَ۔ (2 ) اورجب نکلے تو درود شریف پڑھ کر یہ کہے:رَبِّ اغْفِرْلِیْ ذُنُوْبِیْ وَافْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ فَضْلِکَ۔ ( 3)

قبلہ کی طرف پاؤں کرنے کا حکم

مسئلہ۱: قبلہ کی طرف پاؤں پھیلانا مکروہ ہے، سوتے میں ہو یا جاگتے میں ۔ یوہیں چھوٹے بچوں کا پاؤں قبلہ کی طر ف کرکے لٹا دینا مکروہ ہے اور اُس کی برائی لٹانے والے پر ہے۔ (درمختار)

مسجد کی چھت کے آداب

مسئلہ۲: مسجد کی چھت پر بھی گندگی کرنی حرام ہے۔ مسجد کی چھت کا بھی مسجد کی طرح ادَب ہے۔ (غنیۃ)
مسئلہ۳: مسجد کی چھت پر بلا ضرورت چڑھنا مکروہ ہے۔ (درمختار، ردالمحتار)

مسجد کو راستہ بنانے کے اَحکام

مسجد کو راستہ بنانا یعنی اس میں سے ہو کر گزرنا ناجائز ہے، اگر اس کی عادت کرے تو فاسق ہے۔ اگر کوئی اس نیت سے مسجد میں گیا اور بیچ میں پہنچا تھا کہ پچھتایا تو جس دروازہ سے اُس کو نکلنا ہے اُس کے سوا دوسرے دروازے سے نکلے یا وہیں نماز پڑھے پھر نکلے اور وضو نہ ہو تو جس طرف سے آیا تھا واپس جائے۔ (درمختار وردالمحتار)
مسئلہ۴: مسجد کے اندر کسی برتن میں پیشاب کرنا یا فصد کا خون لینا بھی جائز نہیں ۔

مسجد میں بچے اور پاگل کے جانے کے اَحکام

مسئلہ۵: بچے کو اور پاگل کو جن سے گندگی کا گمان ہو مسجد میں لے جانا حرام ہے اور اگر نجاست کا ڈر نہ ہو تو مکروہ ہے۔

مسجد یا بستر وغیرہ پر کچھ آیت وغیرہ لکھنے کے اَحکام

مسئلہ۶: مسجد کی دیواروں اور محرابوں پر قرآن لکھنا اچھا نہیں اس لیے کہ ڈر ہے کہ وہاں سے گرے اور پاؤں کے نیچے پڑے اور اِسی بے ادَبی کی وجہ سے تکیہ، فرش، بستر و دستر خوان، جا ئے نماز پر بھی آیت یا حدیث یا شعر وغیرہ کچھ لکھنا منع ہے۔ (عالمگیری و بہار)

مسجد میں کوئی گندگی میل وغیرہ ڈالنے کے اَحکام

مسجد میں وضو کرنا یا مسجد کی دیواروں پر یا چٹائی پر یا چٹائی کے نیچے ناک تھوک میل وغیرہ ڈالنا منع ہے اگر ناک سنکنے یا تھوکنے کی ضرورت ہی پڑ جائے تو کپڑے میں لے لے۔ (عالمگیری)
مسئلہ۷: مسجد میں نجاست لے کر جانا منع ہے۔ اگرچہ وہ نجاست مسجد میں نہ لگے اسی طرح جس کے بدن پر نجاست لگی ہو اس کو بھی مسجد میں جانا جائز نہیں ۔ ( ردالمحتار)

مسجد میں ناپاک گارا لگانا منع ہے

مسئلہ۸: ناپاک تیل مسجد میں جلانا، یا نجس گارا مسجد میں لگانا منع ہے۔

مسجد میں وضو کب کرسکتا ہے؟

مسئلہ۹: مسجد میں کوئی جگہ وضو کیلئے شروع ہی سے مسجد بنوانے والے نے قبل تمام مسجدیت بنالی ہے، جس میں نماز نہیں ہوتی تو وہاں وضو کرسکتا ہے۔ یوہیں طشت وغیرہ کسی برتن میں وضو کرسکتا ہے بشرطیکہ پوری احتیاط سے ہو کہ کوئی چھینٹ مسجد میں نہ پڑے۔ (عالمگیری)
مسئلہ۱۰: وضو کے بعد منہ اور ہاتھ سے پانی پونچھ کر مسجد میں جھاڑتے ہیں یہ ناجائز ہے۔ (بہار)

مسجد میں جو کوڑا وغیرہ نکلے اُسے کیا کرے

مسجد کا کوڑا جھاڑ کر کسی ایسی جگہ نہ ڈالے جہاں بے ادَبی ہو۔ (درمختار)

مسجد میں کب پیڑ لگانے کی اِجازت ہے

مسئلہ۱۱: مسجد میں پیڑ لگانے کی اجازت نہیں ہاں مسجد کو اس کی حاجت ہے کہ زمین میں تری ہے ستون قائم نہیں رہتے تو اس تری کے جذب کرنے کے لیے پیڑ لگا سکتے ہیں ۔ (عالمگیری وغیرہ)

مسجد میں حجرہ کب اور کس لیے بنوایا جاسکتا ہے

مسئلہ۱۲: قبل تمام مسجدیت مسجد کے اَسباب رکھنے کے لیے مسجد میں حجرہ بنواسکتے ہیں ۔ (عالمگیری)

مسجد میں سوال کرنے اور سائل کو دینے کے اَحکام

مسئلہ۱۳: مسجد میں سوال کرناحرام ہے اور اس سائل کو دینا بھی منع ہے۔
مسئلہ۱۴: مسجد میں گم شدہ چیز تلاش کرنا منع ہے۔ ( مسلم وغیرہ)
مسئلہ۱۵: بدبودار چیز کھا کر یا لگا کر مسجد میں جانا منع ہے۔
مسئلہ۱۶: کچا لہسن، پیاز کھا کر مسجد میں جانا جائز نہیں جب کہ بو باقی ہو، یہی حکم ہر اُس چیز

کا ہے جس میں بدبو ہے اُس سے مسجد کو بچایا جائے اور اس کے بغیر دورکیے ہوئے مسجد میں نہ جائے حتی کہ جو مریض کوئی بدبودار دوا مثل گندھک وغیرہ کے لگائے ہو تو وہ مسجد میں نہ جائے بلکہ کوڑھی یا کسی اور گندے مرض والے بلکہ اس بدزبان کو بھی جو لوگوں کو زبان سے ایذا دیتا ہے مسجد سے روکا جائے۔ (درمختارو ردالمحتار وبہار وغیرہ)

مسجد میں بات کرنا منع ہے

مسئلہ۱۷: مباح باتیں بھی کرنے کی مسجد میں اجازت نہیں نہ آواز بلند کرنا جائز ہے۔ (درمختار، صغیری)
مسئلہ۱۸: مسجد کی صفائی کے لیے چمگادَڑ اور کبوتر کے گھونسلے نوچنے میں کوئی حر َج نہیں ۔ (درمختار وبہار)

مسجد میں نماز پڑھنے کی فضیلت

مسئلہ۱۹: محلہ کی مسجد میں نماز پڑھنا اگر چہ جماعت تھوڑی ہو جامع مسجد سے افضل ہے بلکہ اگر محلہ کی مسجد میں جماعت نہ ہوتی ہو تو تنہا جائے اور اَذان و اِقامت کہہ کر نماز پڑھے یہ جامع مسجد کی جماعت سے افضل ہے۔ (صغیری وغیرہ)

2 – اے پروردگار! تو میرے گناہوں کو بخش دے اور میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔
3 – اے رب! تو میرے گناہ بخش دے اور اپنے فضل کے دروازے میرے لیے کھول دے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!