اسلام

۔۔۔۔کلمات استفہام کا بیان۔۔۔۔۔

کلمات استفہام کی تعریف:
    استفہام کے لغوی معنی سوال کرنا ،پوچھنا ہے،جبکہ اصطلاح میں کلمات استفہام سے مراد وہ کلمات ہیں جن کے ذریعے کسی چیز کے بارے میں سوال کیا جائے۔ کلمات استفہام دو قسموں پر ہیں۔ 
۱۔حروف استفہام         ۲۔اسمائے استفہام 
ز۔۔۔۔۔۔۱۔حروف استفہام:
    حروف استفہام دو ہیں ۔     ۱۔ ” أ ”     ۲۔ ”ھل”
۱۔:     ہمزہ (أ)
     ہمزہ کبھی استفہام کیلئے آتا ہے اور کبھی استفہام انکاری (۱)کیلئے ۔ استفہام کی مثال أَ أَنْتَ یُوْسُفُ؟ استفہام انکاری کی مثال ۔ اَیُحِبُّ اَحَدُکُمْ اَنۡ یَّاۡکُلَ لَحْمَ اَخِیۡہِ مَیۡتًا ۔
۲۔ھل:
     دوسر ا حرف استفہام ھل ہے اسکی مثال ھَلْ عِنْدَکَ کِتَابٌ؟
ترکیب:
ھَلْ عِنْدَ کَ کِتَابٌ؟
    ھَلْ حرف استفہام عِنْدَ مضاف ،کَ ضمیر مضاف الیہ ،مضاف مضاف الیہ سے ملکر خبر مقدم کِتَابٌ مبتدا موخر ، مبتدا خبرملکر جملہ اسمیہ انشائیہ ۔
*۔۔۔۔۔۔۲۔اسمائے استفہام کی تفصیل:
        اسماء استفہام گیارہ ہیں ۔
    ۱۔مَنْ ۔۲۔مَا ۔۳۔أَیُّ۔۴۔أَیَّۃُ۔۵۔مَاذَا ۔۶۔کَمْ ۔۷۔کَیْفَ۔ ۸۔مَتٰی ۔ ۹۔أَیْنَ۔۱۰۔أَنّٰی ۔۱۱۔ أَیَّانَ۔
    ۱۔مَنْ: ذوی العقول کے لیے آتا ہے ۔جیسے مَنْ ضَرَبْتَ؟ (تو نے کس کو مارا؟) مَنْ اَکَلَ ھٰذَا الطَّعَامَ؟ (یہ کھانا کس نے کھایا؟)
    ۲۔ مَا: غیر ذو ی العقول کے لیے آتا ہے جیسے مَافِیْ یَدِکَ؟ (تیرے ہاتھ میں کیا چیز ہے؟)۔
ترکیب : مَافِیْ یَدِکَ؟
     اس کی ترکیب اس طرہوگی مَا بمعنی أَیُّ شَئْیٍ مبتدا فِیْ حرف جار یَدِ مضاف کَ ضمیر مضاف الیہ مضاف اپنے مضاف الیہ سے ملکر مجرور،جار مجرور ثَابِتٌ متعلق سے ملکر شبہ جملہ ہوکر خبر ،مبتدا ،خبر سے ملکر جملہ اسمیہ انشائیہ۔
۳،۴۔ ای ، ایۃ:
    یہ ذوی العقول اور غیر ذوی العقول دونوں کیلئے استعمال ہوتے ہیں جیسے أَیُّ الْبِلاَدِ أَحْسَنُ؟ (کونسا شہر زیادہ اچھا ہے؟) 
ترکیب:
أَیُّ الْبِلاَدِ اَحْسَنُ؟
     أَیُّ مضاف أَلْبِلاَدِ مضاف الیہ ،مضاف اپنے مضاف الیہ سے ملکر مبتداء أَحْسَنُ صیغہ اسم تفضیل ھُوَ ضمیر فاعل اسم تفضیل سے ملکر شبہ جملہ ہو کر خبر ،مبتداء اپنی خبر سے ملکر جملہ اسمیہ انشائیہ ہوا۔
نوٹ :
    أَیُّ ،أَیَّۃُ معرب ہیں باقی تمام اسمائے استفہام مبنی ہیں۔
۵۔ ماذا:
    یہ أَیُّ شَیْءٍ کے معنی میں استعمال ہوتاہے۔ جیسے مَاذَا تَفْعَلُ فِی ھٰذِہِ الأَیَّامِ ؟
۶۔کم:
    اس سے عد د مبہم کے بارے میں سوال کیا جاتاہے اس کی تمییز مفرد اور منصوب ہوگی جیسے کَمْ أَخًا لَکَ ؟( تیرے کتنے بھائی ہیں؟) کم خبریہ بھی ہوتاہے۔ اور اسکی تمییز مجرور ہوتی ہے ۔جیسے کَمْ کِتَابٍ عِنْدَکَ ؟ (تیرے پاس بہت کتابیں ہیں؟) ۔
۷،۸۔ این وانی:
    یہ دونوں ظرف مکان کیلئے آتے ہیں ۔ ان کے ذریعے کسی جگہ یامکان کے متعلق سوال کیا جاتا ہے۔ اور ان کے بعد کسی اسم یا فعل کا ہونا ضروری ہے۔ جیسے أَیْنَ زَیْدٌ ( زید کس جگہ ہے)۔ أَنیّٰ تَجْلِسُ ؟ ( تو کہاں بیٹھے گا)۔ کبھی کبھی أَنّٰی کَیْفَ کے معنوں میں بھی استعمال ہوتاہے۔ اَنّٰی یَکُوْنُ لِیْ وَلَدٌ ؟ (میرے ہاں بچہ کیسے ہوگا؟ )۔
۹۔کیف:
    یہ کسی کی حالت کے متعلق سوال کرنے کیلئے استعمال ہوتاہے۔ جیسے کَیْفَ أَنْتَ ؟
(آپکی طبیعت کیسی ہے؟)۔ 
۱۰،۱۱۔ متی، ایان:
    یہ دونوں وقت کی تعیین کیلئے سوال کرتے وقت استعمال ہوتے ہیں جیسے مَتٰی تَذْھَبُ؟ (تو کب جائے گا؟) مَتٰی کے ذریعے امور عظیمہ اور صغیرہ دونوں کے متعلق سوال کیا جاسکتا ہے۔ اور أَیَّانَ سے زمانہ مستقبل میں امور عظیمہ کے متعلق ہی سوال کیا جاتاہے۔ جیسے أَیَّانَ یَوْمُ الدِّیْنِ (یوم جزا کب ہوگا) ۔
    اسماء استفہام ترکیب کلام میں فاعل ،مبتداء مفعول فیہ ،مفعول بہ واقع ہوتے ہیں ۔ مگر حروف استفہام کا اعراب میں کوئی محل نہیں ۔
1۔۔۔۔۔۔وہ ہمزہ جو استفہام انکاری کیلئے آتا ہے۔ اگر اس ہمزہ کے بعد فعل مثبت ہو تو یہ ہمزہ نفی کا معنی دیتاہے۔ جیسے مذکورہ بالا مثال ۔

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!