اسلام

(10) جذبا تی مُرید پر اِنفرادی کوشش

(10) جذبا تی مُرید پر   اِنفرادی کوشش

     پاک وہند کی سرزمین پرجب بعض لوگوں نے اللہ و رسول جَلَّ جلالہُ و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی توہین کرکے اپنا دین و ایمان بگاڑا اور خُودکو دائرہ اسلام سے خارِج
کرکے حُدُودِ مسلمین سے جدا کرلیا تو حامئ سنت، مجدد دین وملت ،رہبر شریعت ،اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن نے ان کے متعلق حکمِ شرعی تقریراً و تحریراً بیان کیا۔اب چاہے تو یہ تھاکہ یہ لوگ فوراً اپنی گستاخیوں سے توبہ کر کے تجدیدِ ایمان کرتے اور راہِ حق کے راہی بن جاتے۔ مگر افسوس! انہوں نے ایسا نہ کیا ۔چنانچہ مجددِ دین وملت، اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت نے اپنا فریضۂ دینی ادا کرتے ہوئے علی الاعلان مسلمانوں کو ان لوگوں کی اصلی صورت سے آگاہ کیا ۔ان طاغُوتوں سے اور توکچھ نہ بن پڑا بس اپنی جگ ہنسائی پر پیچ وتاب کھاتے ہوئے اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت کی مخالفت پر کمر بستہ ہوگئے ۔جب غصہ حد سے سِوا ہوجاتاتو خط میں ایک دو گالیاں لکھ کر اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت کوبذریعہ ڈاک بھیج دیا کرتے اور سمجھتے کہ بہت بڑا کارِ نمایاں کیا۔ ایک مرتبہ اسی طرح گالیوں سے بھرا ہواایک خط آیا ،پڑھنے والے نے چند سطریں پڑھ کرخط علیحدہ رکھتے ہوئے عرض کی:”حضور! کسی بدمذہب نے اپنی دشمنی کاثبوت دیا ہے۔” حلقۂ ا ِرادت میں شامل ہونے والے ایک نئے مرید وہ خط اُٹھاکر پڑھنے لگے۔ اتفاق کی بات تھی کہ بھیجنے والے کا جو نام اور پتہ لکھا تھا وہ ان صاحب کے اَطراف کا تھا۔ نئے مرید کو بہت زیادہ رنج ہوا۔ اس وقت تو خاموش رہے لیکن جب اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت
مغرب کی نماز کے بعددولت کدہ کی طرف جانے لگے تو آپ کو روک کرکہا:”اس وقت جو خط میں نے پڑھاتھا کسی سنگدل نے گالیاں لکھ کر بھیجی تھیں۔ میری رائے ہے کہ ان پر مقدمہ کیا جائے۔ ایسے لوگوں کو سزا دلوائی جائے تاکہ دوسروں کے لیے عبرت کا نمونہ بن جائيں ورنہ دوسروں کو بھی ایسی جراء ت ہوگی۔”
    حلم وحیا کے پیکر نے اپنے نئے مرید کی یہ بات سنی تویہ کہہ کراندرچلے گئے : ” تشریف رکھئے! میں ابھی آتا ہوں۔” پھر دس پندرہ خطوط دستِ مبارک میں لئے باہرتشریف لائے اور فرمایا:”ذرا انہیں پڑھئے!”یہ دیکھ کر پاس بیٹھے ہوئے لوگ بڑے حیران ہوئے کہ یہ نہ جانے کس قسم کے خطوط ہیں؟ خیال ہوا کہ شاید اسی قسم کے گالی نامے ہوں گے۔ جن کے پڑھوانے سے یہ مقصود ہوگا کہ اس قسم کے خط آج کوئی نئی بات نہیں، بلکہ زمانہ سے آرہے ہیں ۔ لیکن وہ صاحب خط پڑھتے جارہے تھے اور ان کا چہرہ خوشی سے دَمَکتا جارہا تھا۔ جب سب خط پڑھ چکے تواعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت نے فرمایا :” پہلے ان تعریف کرنے والوں بلکہ تعریف کا پل باندھنے والوں کو اِنعام و اِکرام، جاگیر وعطیات سے مالا مال کردیجئے ، پھر گالی دینے والوں کو سزا دلوانے کی فکر کیجئے گا۔”باادب وجذباتی مرید نے عرض کی :”حضور !جی تو یہی چاہتا ہے کہ اِن سب کو اِتنا انعام و اکرام دیا جائے جو نہ صرف اِن کو بلکہ اِن کی نسلوں کو بھی کافی ہو۔ مگریہ میری وسعت سے باہر ہے۔” فرمایا :
”جب آپ مخلص کو نفع نہیں پہنچاسکتے ، تو مخالف کو نقصان بھی نہ پہنچائیے۔”

مَدَنی پھول

    میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت اسی نبی کے سچے عاشق تھے جو اپنے ذاتی دشمنوں کوبھی دعاؤں اور عطاؤں سے نوازا کرتے تھے ؎
وہ پتھر مارنے والوں کو دیتے ہیں دعا اکثر کوئی لاؤ مثال ایسی شرافت ہو تو ایسی ہو
جہاں مجرم کو ملتی ہیں پناہیں بھی عطائیں بھی مدینے میں جو لگتی ہے عدالت ہو تو ایسی ہو
ہمیں بھی چاہے کہ ہم اپنی ذات کی خاطر کسی پر شِدّت وسختی نہ کریں ہماری محبت وعداوت صرف اور صرف اللہ ورسول عَزَّوَجَلَّ و صلی اللہ تعالی علیہ اٰلہ وسلم کے لئے ہونی چاہے۔اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں حکمتِ عملی کے ساتھ دین متین کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمین بجاہ ا لنبی الامین صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم 
اللہ عَزّوَجَلَّ کی اعلٰی حضرت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو
اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلَّم 
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!