Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

رسولوں میں فرق کرنے کی صورتیں اوران کی پہچان

   الف: جن آیتوں میں فرمایا گیا ہے کہ رسولوں میں فرق نہ کرو۔وہاں ایمان میں فرق کرنا مراد ہے یعنی ایسے فرق نہ کرو کہ بعض کو مانو اور بعض کو نہ مانو یا مراد یہ ہے کہ اپنی طرف سے فرق پیدا نہ کرو یعنی ان کے فضائل اپنی طرف سے نہ گھٹاؤ یا ایسا فرق نہ کرو جس سے بعض پیغمبر وں کی توہین ہوجاوے ۔
ٍ    ب: جن آیتوں میں فرمایا گیا کہ پیغمبروں میں فرق ہے وہاں درجات اور مراتب کا فرق مراد ہے یعنی بعض کے درجے بعض سے اعلیٰ ہیں۔
” الف” کی مثال یہ ہے :
(1)  لَا نُفَرِّقُ بَیۡنَ اَحَدٍ مِّنۡ رُّسُلِہٖ
مسلمان کہتے ہیں کہ ہم اللہ کے رسولوں میں فر ق نہیں کرتے ۔(پ3،البقرۃ:285)
(2) وَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللہِ وَرُسُلِہٖ وَلَمْ یُفَرِّقُوۡا بَیۡنَ اَحَدٍ مِّنْہُمْ اُولٰٓئِکَ سَوْفَ یُؤْتِیۡہِمْ اُجُوۡرَہُمْ ؕ وَکَانَ اللہُ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا ﴿۱۵۲﴾٪
اور وہ جو اللہ تعالیٰ او راس کے رسولوں پر ایمان لائے اور ان رسولوں میں سے کسی میں فرق نہ کرے ۔ یہ وہ ہیں جنہیں رب ان کا ثواب دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔(پ6،النسآء:152)
ان آیتوں میں ایمان کا فرق مراد ہے یعنی بعض پیغمبر وں کو ماننا او ربعض کو نہ ماننا یہ کفر ہے۔ ایمان کے لئے سب نبیوں کو ماننا ضروی ہے اس کی تفسیر اس آیت نے کی ۔
(3)اِنَّ الَّذِیۡنَ یَکْفُرُوۡنَ بِاللہِ وَرُسُلِہٖ وَیُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ یُّفَرِّقُوۡا بَیۡنَ اللہِ وَرُسُلِہٖ وَیَقُوۡلُوۡنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّنَکْفُرُ بِبَعْضٍ ۙ وَّیُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ یَّتَّخِذُوۡا بَیۡنَ ذٰلِکَ سَبِیۡلًا ﴿۱۵۰﴾
بے شک وہ لوگ جو کفر کرتے ہیں اللہ اور اس کے رسولوں کا اور کہتے ہیں کہ ہم بعض پر ایمان لاتے ہیں اور بعض کا انکار کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اس کے درمیان میں رستہ بنالیں۔(پ6،النسآء:150)
اس آیت نے بتادیا کہ پیغمبروں کے درمیان ایمان لانے میں فر ق کرنا منع ہے۔
”ب” کی مثال یہ ہے:
(1) تِلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَہُمْ عَلٰی بَعْضٍ ۘ مِنْہُمۡ مَّنۡ کَلَّمَ اللہُ وَرَفَعَ بَعْضَہُمْ دَرَجٰتٍ
یہ رسول ہیں کہ ہم نے ان میں سے بعض کو بعض پر بزرگی دی ان میں سے بعض وہ ہیں جن سے اللہ نے کلام کیا اور بعض وہ ہیں جنہیں درجوں میں بلندکیا ۔(پ3،البقرۃ:253)
(2) یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰکَ شَاہِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیۡرًا ﴿۴۵﴾ۙوَّ دَاعِیًا اِلَی اللہِ بِاِذْنِہٖ وَ سِرَاجًا مُّنِیۡرًا ﴿۴۶﴾
اے نبی ہم نے آپ کوبھیجاگواہ خوش خبریاں دیتا اور ڈر سناتا اور اللہ کی طرف اس کے اذن سے بلاتا اور چمکانے والا سورج۔(پ22،الاحزاب:45۔46)
(3) وَمَاۤ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۰۷﴾
اور نہیں بھیجا ہم نے آپ کو مگر تمام جہانوں کی رحمت ۔(پ17،الانبیآء:107)
    ان آیات سے معلوم ہوا کہ بعض پیغمبر بعض سے افضل ہیں اور خصوصاً ہمارے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سارے رسولوں میں ایسے ہیں جیسے تاروں میں سورج اور سارے جہان کی رحمت ہیں یہ صفات اور وں کو نہ ملیں۔
    نوٹ ضروری : بعض احادیث میں آیا ہے کہ ہم کو یونس علیہ السلام پر بھی بزرگی نہ دو اور بعض میں آیا ہے کہ ہم تمام اولاد آدم کے سردار ہیں ۔ ان احادیث میں مطابقت اسی طر ح ہے کہ ایسی بزرگی دینا جس سے یونس علیہ السلام کی توہین ہوجاوے منع ہے اور اس طرح حضور کی شان بیان کرنا کہ ان حضرات کی عظمت بر قرار رہے اور حضور کی شان معلوم ہوجائے ۔ بالکل جائز بلکہ ضروری ہے ۔
error: Content is protected !!