اسلامواقعات

صدق

صدق

اپنے تو در کناربیگا نے بھی آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی صداقت کے قائل تھے۔حضرت عبداللّٰہ بن سلام ابھی ایمان نہ لائے تھے کہ حضور کو دیکھتے ہی پکار اٹھے : وَجْھُہٗ لَیْسَ بِوَجْہِ کَذَّابٍان کا چہرہ دروغ گو کا چہر ہ نہیں ۔

صلح حدیبیہ کی مدت میں ہر قل ِروم نے ابو سفیان ( جو اب تک ایمان نہ لائے تھے) سے آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی نسبت پو چھا: ’’ کیا دعویٰ نبوت سے پہلے تمہیں ان پر جھوٹ بو لنے کا گمان ہوا ہے ؟ ‘‘ ابو سفیان نے جواب دیا کہ نہیں ۔
حضرت علی مرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ ابو جہل نے آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے کہا کہ ’’ ہم (معشر قریش ) تم کو جھوٹا نہیں کہتے۔لیکن جو کچھ ( کتاب و شریعت ) تم لائے ہو اس سے ہم انکار کرتے ہیں ۔ ‘‘ اس پر ابو جہل اور اس کے اَمثال کی شان میں اللّٰہ تعالٰی نے یہ آیت نازل فرمائی :
فَاِنَّهُمْ لَا یُكَذِّبُوْنَكَ وَ لٰكِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ یَجْحَدُوْنَ (۳۳) (انعام، ع۴)
وہ تجھ کو جھوٹا نہیں کہتے لیکن ظالم خدا کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں ۔ (1 )
عُتْبَہ بن رَبیعہ حضرت امیرمُعاوِیہ کی والد ہ ہند کا باپ تھا، جو جنگ بدر میں کفر پر مرا۔ایک روز قریش نے اس کو آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے گفتگوکر نے کے لئے بھیجا۔اس نے حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر چند اُمور پیش کیے کہ ان میں سے جو چاہیں اِختیار کریں اور نئے مذہب سے بازآئیں ۔اس کے جواب میں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے سورہ ٔ حٰم السجد ۃ پڑ ھنی شروع کی۔جب آپ آیہ فَاِنْ اَعْرَضُوْا پر پہنچے تو عتبہ نے آپ کے منہ مبارک پر ہاتھ رکھ کر اور قرابت کی قسم دے کر کہا کہ آپ آگے نہ پڑھیں ۔اس کے بعد عُتْبَہ نے واپس جاکر قریش سے یہ ماجر ابیان کیا اور کہا کہ اس نے مجھے قرآن سنا یا، جب وہ اس آیت پر پہنچا :
فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَقُلْ اَنْذَرْتُكُمْ صٰعِقَةً مِّثْلَ صٰعِقَةِ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَؕ (۱۳)
اگر وہ منہ پھیر یں تو کہہ دیجئے کہ میں نے تمہیں ایک کڑا کے سے ڈر ایا ہے جیسا کہ عاد و ثمود پر آیا تھا۔ (2 )
تو میں نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور قرابت ِقَرِیبہ کی قسم دے کر کہا کہ بس آگے نہ پڑھئے۔ تمہیں معلوم ہے کہ محمد (صَلَّی

اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) جب کچھ کہہ دیتا ہے تو جھوٹ نہیں بولتا۔اس لئے میں ڈرگیا کہ کہیں تم پر وہ عذاب نازل ہو جائے جس سے اس نے ڈرایا تھا۔ ( 1)
جب آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اعلانِ دعوت کا حکم آیا تو آپ نے کو ہ صفا پر چڑھ کر قریش کو پکارا، جب وہ جمع ہوگئے تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان سے پو چھا: ’’ بتا ؤاگر میں تم سے یہ کہوں کہ وادی مکہ سے ایک سواروں کا لشکر تم پر تاخت و تاراج ( 2) کر نا چاہتا ہے تو کیا تمہیں یقین آجائے گا؟ ‘‘ وہ بولے ’’ ہاں ‘‘ ، کیونکہ ہم نے تم کو سچ ہی بو لتے دیکھا ہے۔

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!