ابن زیاد کی ہلاکت

ابن زیاد کی ہلاکت

    عبیداللہ ابن زیاد ، یزید کی طرف سے کوفہ کاوالی (گورنر) کیاگیاتھا۔ اسی بدنہاد کے حکم سے حضرت امام اور آپ کے اہل بیت علیہم الرضوان کو یہ تمام ایذا ئیں پہنچائی گئیں، یہی ابن زیاد موصل میں تیس ہزار فوج کے ساتھ اترا۔ مختار نے ابراہیم بن مالک اشترکو اس کے مقابلہ کیلئے ایک فوج کولے کر بھیجا موصل سے پندرہ کوس کے فاصلہ پر دریائے فرات کے کنارے دونوں لشکروں میں مقابلہ ہوا اور صبح سے شام تک خوب جنگ رہی۔ جب دن ختم ہونے والا تھا اور آفتاب قریب غروب تھا اس وقت ابراہیم کی فوج غالب آئی، ابن زیادکوشکست ہوئی،اس کے ہمراہی بھاگے۔ ابراہیم نے حکم دیا کہ فوجِ مخالف میں سے جو ہاتھ آئے اس کوزندہ نہ چھوڑا جائے۔ چنانچہ بہت سے ہلاک کیے گئے۔ اسی ہنگامہ میں ابن زیاد بھی فرات کے کنارے محرم کی دسویں تاریخ 67ھ؁ میں مارا گیا اور اس کا سر کا ٹ کر ابراہیم کے پاس بھیجا گیا، ابراہیم نے مختار کے پاس کوفہ میں بھجوایا، مختار نے دار الامارت کوفہ کو آ راستہ کیا اوراہل کوفہ کو جمع کرکے ابن زیاد کا سرناپاک اسی جگہ رکھوایا جس جگہ اس مغرورِحکومت و بندۂ دنیانے حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا سرِ مبارک رکھا تھا۔ مختار نے اہل کوفہ کو خطاب کرکے کہا کہ اے اہل کوفہ! دیکھ لوکہ حضرت امام حسین


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خونِ ناحق نے ابن زیادکو نہ چھوڑا، آج اس نامراد کا سر اس ذلت و رسوائی کے ساتھ یہاں رکھا ہوا ہے، چھ سال ہوئے ہیں وہی تاریخ ہے ،وہی جگہ ہے ،خدواند ِ عالَم نے ا س مغرور، فرعون خصال کو ایسی ذلت و رسوائی کے ساتھ ہلاک کیا، اسی کوفہ اور اسی دار الامارت میں اس بے دین کے قتل وہلاک پر جشن منایا جارہاہے۔ (1)
ترمذی شریف کی صحیح حدیث میں ہے کہ جس وقت ابن زیاد اور اس کے سرداروں کے سر مختار کے سامنے لاکر رکھے گئے توایک بڑاسانپ نمودار ہوا، اس کی ہیبت سے لوگ ڈر گئے وہ تمام سروں پر پھرا جب عبیداللہ ابن زیاد کے سر کے پاس پہنچا اس کے نتھنے میں گھس گیا اور تھوڑی دیر ٹھہر کر اس کے منہ سے نکلا، اس طرح تین بار سانپ اس کے سر کے اندر داخل ہوا اور غائب ہوگیا۔(2)
    ابن زیاد، ابن سعد،شمر، قیس ابن اشعث کندی ، خولی ابن یزید، سنان بن انس نخعی، عبداللہ بن قیس ، یزید بن مالک اور باقی تمام اشقیا جو حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قتل میں شریک تھے اور ساعی تھے طرح طرح کی عقوبتوں سے قتل کیے گئے اور ان کی لاشیں گھوڑوں کی ٹاپوں سے پامال کرائی گئیں۔(3)
    حدیث شریف میں اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے یہ وعدہ ہے کہ خونِ حضرتِ
امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بدلے سترہزار شقی مارے جائیں گے۔(1)وہ پور اہوا، دنیا پرستارانِ سیاہ باطن اور مغرورانِ تاریک دروں کیاامیدیں باندھ رہے تھے اورحضرت امام علیٰ جدہ وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی شہادت سے ان دشمنان حق کو کیسی کچھ توقعات تھیں۔ لشکریوں کو گراں قدر انعاموں کے وعدے دئیے گئے تھے، سرداروں کو عہدے اورحکومت کا لالچ دیا گیا تھا، یزید اور ابن زیاد وغیرہ کے دماغوں میں جہانگیر سلطنت کے نقشے کھنچے ہوئے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ فقط امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی کاوجود ہمارے لیے عیشِ دنیا سے مانع ہے ، یہ نہ ہوں تو تمام کرۂ زمین پر یزیدیوں کی سلطنت ہوجائے اورہزاروں برس کے لئے ان کی حکومت کاجھنڈا گڑجائے مگر ظلم کے انجام اور قہر الٰہی عزوجل کی تباہ کن بجلیوں اور درد رسید گانِ اہل بیت کی جہاں برہم کُن آہوں کی تاثیرات سے بے خبر تھے۔ انھیں نہیں معلوم تھا کہ خونِ شہداء رنگ لائے گا اور سلطنت کے پرزے اڑجائیں گے، ایک ایک شخص جو قتلِ حضرتِ امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں شریک ہواہے طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوگا، وہی فرات کا کنارہ ہوگا، وہی عاشورہ کا دن، وہی ظالموں کی قوم ہوگی اور مختار کے گھوڑے انھیں روندتے ہوں گے، ان کی جماعتوں کی کثرت ان کے کام نہ آئے گی، ان کے ہاتھ پاؤں کاٹے جائیں گے، گھرلوٹے جائیں گے، سولیاں دی جائیں گی، لاشیں سڑیں گی،دنیا میں ہر شخص تُف تُف کریگا، اس ہلاکت پر خوشی منائی جائے گی، معرکہ جنگ میں اگرچہ ان کی تعداد ہزاروں کی ہوگی مگر وہ دل چھوڑکر ہیجڑوں کی طرح بھاگیں گے اور چوہوں اور کُتّوں کی طرح انھیں جان بچا نی مشکل ہوگی، جہاں پائے جائیں


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

گے ماردئیے جائیں گے، دنیا میں قیامت تک ان پر نفرت و ملامت کی جائے گی۔ 
    حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت حمایتِ حق کے لئے ہے اس راہ کی تمام تکلیفیں عزت ہیں اور پھروہ بھی اس شان کے ساتھ کہ اس خاندان عالی کا بچہ بچہ شیر بن کر میدان میں آیا، مقابل سے اس کی نظرنہ جھپکی، دمِ آخر تک مبارزطلب کرتارہا اور جب نامردوں کے ہجوم نے اس کو چاروں طرف سے گھیرلیاتب بھی اُس کے پائے ثبات واِسْتِقْلال کو لغزش نہ ہوئی، اُس نے میدان سے باگ نہ موڑی نہ حق و صداقت کا دامن ہاتھ سے چھوڑا نہ اپنے دعوے سے دست برداری کی، مردانہ جانبازی کا نام دنیا میں زندہ کردیا، حق و صداقت کا ناقابلِ فراموشی درس دیا اور ثابت کردیا کہ فیوضِ نبوت کے پرتَو سے حقا نیت کی تجلیاں اُن پاک باطنوں کے رگ وپے میں ایسی جاگزیں ہوگئی ہیں کہ تیر و تلوار اور تیر و سناں کے ہزارہا گہرے گہرے زخم بھی اُن کو گزند نہیں پہنچا سکتے۔ آخرت کی زندگی کا دلکش منظر اُن کی چشمِ حق بیں کے سامنے اِس طرح روکش ہے کہ آسایشِ حیاتِ دنیوی کووہ بے التفاتی کی ٹھوکروں سے ٹھکرا دیتے ہیں۔ 
    حجاج ابن یوسف کے وقت میں جب دوبارہ حضرت زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسیر کئے گئے اور لوہے کی بھاری قید و بند کا بارِگراں ان کے تنِ نازنین پر ڈالا گیا اور پہرہ دارمتعین کردئیے گئے، زہری علیہ الرحمہ اس حالت کو دیکھ کر روپڑے اور کہا کہ مجھے تمنا تھی کہ میں آپ کی جگہ ہوتا کہ آپ پر یہ بارِمصائب دل پرگوارا نہیں ہے۔اس پر امام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ 
    کیاتجھے یہ گمان ہے کہ اس قیدو بند ش سے مجھے کرب و بے چینی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اگر میں چاہوں تو اس میں سے کچھ بھی نہ رہے مگر اس میں اجر ہے اور تَذَکُّرہے
اور عذابِ الٰہی عزوجل کی یادہے۔ یہ فرماکر بیڑیوں میں سے پاؤں اور ہتھکڑیوں میں سے ہاتھ نکال دئیے۔(1)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    یہ اختیارات ہیں جو اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے کرامۃً انھیں عطا فرمائے گئے اور وہ صبر و رضا ہے کہ اپنے وجود اور آسایشِ وجود ، گھر بار،مال و متاع سب سے رضائے الٰہی عزوجل کیلئے ہاتھ اٹھالیتے ہیں اور اس میں کسی چیز کی پرواہ نہیں کرتے۔ اللہ تعا لیٰ ان کے ظاہری و باطنی برکات سے مسلمانوں کو متمتع اور فیض یاب فرمائے اور ان کی اخلاص مندانہ قربانیوں کی برکت سے اسلام کو ہمیشہ مظفرو منصور رکھے۔آمین۔
1۔۔۔۔۔۔الکامل فی التاریخ، سنۃ سبع وستین، ذکر مقتل ابن زیاد، ج۴، ص۶۰۔۶۲ملخصاً
والبدایۃ والنہایۃ، سنۃ سبع وستین، وترجمۃ ابن زیاد، ج۶، ص۳۷۔۴۳ ملخصاً
وروضۃ الشہداء (مترجم)، دسواں باب، فصل دوم، ج۲، ص۴۵۷
2۔۔۔۔۔۔سنن الترمذی، کتاب المناقب، باب مناقب ابی محمد الحسن…الخ، الحدیث:۳۸۰۵، 
ج۵، ص۴۳۱


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

3۔۔۔۔۔۔روضۃ الشہداء (مترجم)، دسواں باب، فصل دوم، ج۲، ص۴۵۵ ماخوذاً
1۔۔۔۔۔۔المستدرک للحاکم ، کتاب تواریخ المتقدمین …الخ، قصۃ قتل یحیی علیہ السلام، 
الحدیث: ۴۲۰۸، ج۳، ص۴۸۵
1۔۔۔۔۔۔المنتظم، سنۃ اربع وتسعین، ۵۳۰۔علی بن الحسین…الخ، ج۶، ص۳۳۰

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *