روزہ نہ رکھنے کی اجازات پر مبنی33پیرے

” الصَّلٰوۃ وَالسَّلامُ علیکَ یا سیِّدی یا رسولَ اﷲ” کے تینتیس حُرُوف کی نسبت سے روزہ نہ رکھنے کی اجازات پر مبنی33پیرے

 (مگر وہ مجبوری ختم ہوجانے کی صُورت میں ہرروزہ کے بدلے ایک روزہ قَضا ء رکھنا ہوگا)
مُسافِر کو روزہ رکھنے یا نہ رکھنے کا اِخْتِیار ہے۔  (رَدُّالْمُحتَار ج۳ص۴۰۳) اگر خود اُس مُسافِر کو اور اُس کے ساتھ والے کو روزہ رکھنے میں ضَرَر (یعنی نقصَان)نہ پہنچے تَوروزہ رکھنا سَفَر میں بِہتر ہے اور اگر دونوں یا اُن
Advertisement
میں سے کسی ایک کونقصان ہورہا ہو تو روزہ نہ رکھنا بِہتر ہے۔            (دُرِّمُخْتار ج۳ ص۴۰۵)
مُسافِر نے ضَحْوَ ہ کُبریٰ(ضَحْوَہ كُبریٰ كی تعریف روزے كی نیّت كے بیان میں گزرچكی ہے)سے پیشتر اِقامَت کی اور ابھی کچھ کھایا نہیں تَوروزہ کی نِیَّت کرلینا واجِب ہے ۔  (الجَوْہَرۃالنیرۃ ج۱ص۱۸۶) مَثَلاً آپ کا گھر پاکستان کے مشہور شہر حیدر آباد میں ہے اور آپ بابُ المدینہ کراچی سے حیدرآبادکیلئے چلے اور صُبح دس بجے پہنچ گئے اور صُبحِ صادِق کے بعد راستے میں کچھ کھایا پِیا نہ تھاتو اب روزہ کی نِیَّت کرلیجئے۔
دِن میں اگر سَفر کیا تَو اُس دِن کا روزہ چھوڑدینے کیلئے آج کا سَفَر عُذر نہیں۔ البَتَّہ اگر دَورانِ سَفر تَوڑدیں گے تَو کفَّارہ لازِم نہ آئے گامگر گُناہ ضَرور ہوگا۔ (رَدُّالْمُحتَار ج۳ ص۴۱۶) اور روزہ قضا کرنا فرض رہے گا۔
اگر سَفَر شُروع کرنے سے پہلے توڑدیا ۔پھر سَفَر کیا تَو (اگر کفّارے کے شرائط پائے گئے تو) کَفَّارہ بھی لازِ م آئیگا۔         (اَیْضاً)
اگر دن میں سَفَر شُروع کیا (اور دَورانِ سَفر روزہ توڑ انہ تھا)اور مکان پرکوئی چیز بھول گئے تھے اسے لینے واپَس آئے اور اب اگر آکر روزہ توڑ ڈالا تَو(شرائط پائے جانے کی صورت میں) کفَّارہ بھی واجِب ہے ۔اگر
دَورانِ سَفَر ہی توڑدیا ہوتا تَو صِرف قضاء رکھنا فَرْض ہوتا جیسا کہ نمبر۴ میں گُزر ا۔   (فتاوٰی عالمگیری ج۱ص۲۰۷)
کسی کو روزہ توڑ ڈالنے پر مجبور کیا گیا تَو روزہ تو توڑ سکتا ہے مگر صَبْر کیا تَو اَجْر ملے گا۔(مجبوری کی تعریف ص ۲۳۴ پر گُزری)                (رَدُّالْمُحتَار ج۳ص۴۰۲)
سانپ نے ڈَس لیا اور جان خَطْرے میں پڑگئی تَو روزہ توڑدے ۔            (رَدُّالْمُحتَار ج۳ص۴۰۲)
جن لوگوں نے اِن مجبوریوں کے سَبَب روزہ توڑااُن پر فَرض ہے کہ اُن روزوں کی قَضَاء رکھیں اور اِن قَضاء روزوں میں ترتیب فَرْض نہیں ۔ لہٰذا اگر اُن روزوں کی قضا کرنے سے قَبل نَفْل روزے رکھے تَو یہ نَفْلی روزے ہوگئے، مگر حُکم یہ ہے کہ عُذْر جانے کے بعدآئندہ رَمَضانُ الْمُبارَک کے آنے سے پہلے پہلے قَضاء رکھ لیں۔حدیثِ پاک میں فرمایا، ”جس پر گُزَشْتہ رَمَضانُ الْمُبارَک کی قَضاء باقی ہے اور وہ نہ رکھے ، اُس کے اِس رَمضانُ الْمبارَک کے روزے قَبول نہ ہوں گے۔” (مجمع الزوائد ج۳ص۴۱۵) اگر وَقت گزرتا گیا اور قَضاء روزے نہ رکھے
یہاں تک کہ دُوسرا رَمَضان شریف آگیا تَو اب قَضاء روزے رکھنے کی بجائے پہلے اِسی رَمَضانُ الْمُبارَک کے روزے رکھ لیجئے۔ قَضا ء بعد میں رکھ لیجئے۔بلکہ اگر غیرِ مَریض و مُسافِر نے قَضاء کی نِیَّت کی جب بھی قَضاء نہیں بلکہ اِسی رَمَضان شریف کے روزے ہیں۔           (دُرِّ مُختار ج۳ ص۴۰۵)
حَمْل والی یا دُودھ پِلانے والی عورت کو اگر اپنی یا بچّہ کی جان جانے کا صحیح اَندیشہ ہے تو اجازت ہے کہ اِسوقت روزہ نہ رکھے۔خواہ دُودھ پِلانے والی بچّہ کی ماں ہو یا د ائی،اگر چِہ رَمَضانُ الْمُبارَک میں دُودھ پِلانے کی نوکَری اِختیار کی ہو۔
    (دُرِّمُختار ، ردُّ الْمُحتار ج۳ص۴۰۳)
بُھوک اور پِیاس ایسی ہوکہ ہَلاک کا خوفِ صحیح ہو یانُقصانِ عَقْل کا اندیشہ ہو تَو روزہ نہ رکھیں۔      (دُرِّمُختار ،ردُّ الْمُحتار ج۳ص۴۰۲)
مَریض کو مَرض بڑھ جانے یادیر میں اچھّا ہونے یا تَنْدُ رُست کو بیمار ہو جانے کا گُمانِ غالِب ہوتَو اِجازت ہے کہ اُس دِن روزہ نہ رکھے۔ (بلکہ بعد میں قَضا کرلے)        (دُرِّمُختار ج۳ص۴۰۳)
اِن صُورتوں میں غالِب گُمان کی قَید ہے، مَحض وَہم ناکافی ہے ۔ غالِب
گُمان کی تین صُورَتیں ہیں۔(ا)پہلی صُورت یہ ہے کہ اس کی ظاہِری نِشانی پائی جاتی ہے(۲)دُوسری یہ کہ اِس شَخْص کا ذاتی تَجرِبہ ہے ۔ (۳) تیسری یہ کہ کسی مُسلمان حاذِق (یعنی تَجربہ کار اوراپنے فَنِّ طِب میں ماہِر) طَبِیبِ مَستُور یعنی غیرِ فاسِق نے اِس کی خبردی ہو ۔اور اگر نہ کوئی عَلامَت ہو،نہ تَجرِبہ ،نہ اِس قسم کے طَبِیب نے اُسے بتایا بلکہ کسی کافِر یافاسِق طَبِیب( مَثَلاً داڑھی مُنڈے ڈاکٹر) کے کہنے سے اِفْطار کرلیا یعنی روزہ توڑ ڈالا تَو شرائط پائے جانے کی صورت میں قَضاء کے ساتھ ساتھ کفّارہ بھی لازِم آئے گا۔      (ردُّ الْمُحتار ج۳ص۴۰۴)
حَیض یا نَفاس کی حالت میں نماز، روزہ حرام ہے اور ایسی حالت میں نَماز و روزہ صحیح ہوتے ہی نہیں ۔نِیز تِلاوت قُراٰنِ پاک یا قُراٰنِ پاک کی آیاتِ ِمُقَدَّسہ یا اُن کا تَرجَمہ چُھونا یہ سب بھی حرام ہے۔    (بہارشریعت حصہ۲ص۸۸،۸۹)
حَیض ونَفاس والی کے لئے اِخْتیار ہے کہ چُھپ کر کھائے یا ظاہِراً ۔روزہ دار کی طرح رہنا اُس پر ضَروری نہیں۔
(الجَوْہَرۃالنیرۃ ج۱ص۱۸۶)
مگر چُھپ کرکھانا بہتر ہے خُصُوصاً حَیض والی کے لئے ۔  (بہا رشریعت حصہ ۵ ص ۱۳۵)
”شیخِ فانی ”یعنی وہ مُعَمَّر بُزُرگ جِن کی عُمر اتنی بڑھ چُکی ہے کہ اب وہ بے چارے روزبروز کمزور ہی ہوتے چلے جائیں گے۔جب وہ بِالکل ہی روزہ رکھنے سے عاجِز ہوجائیں۔یعنی نہ اب رکھ سکتے ہیں نہ آئِندہ روزے کی طاقت آنے کی اُمّیدہے ۔اُنہیں اب روزہ نہ رکھنے کی اِجازت ہے ۔لہٰذا ہر روزہ کے بدلہ میں( بطور ِ فِدیہ)ایک صَدَقہ فِطْر  (دوکلو سے 80 گرام کم) گیہوں یا اُس کاآٹا یا اُن گیہوں کی رقم ہے۔)کی مِقدار مِسْکین کو دَیدیں۔
                (دُرِّمُختار ج۳ص۴۱۰)
اگر ایسا بوڑھا گرمیوں میں روزے نہیں رکھ سکتا تو نہ رکھے مگر اِس کے بدلے سردیوں میں رکھنا فرض ہے۔
 (ردُّ الْمُحتارج۳ص۴۷۲)
اگر فِدْیہ دینے کے بعد روزہ رکھنے کی طاقت آگئی تَو دیا ہوا فِدْیہ صَدقہ نَفْل ہو گیا۔اُن روزوں کی قَضاء رکھیں۔ (عَالمگیری ج۱ص۲۰۷)
یہ اِختیار ہے کہ شُروعِ رَمَضان ہی میں پُورے رَمَضان کا ایک دَم فِدیہ دے دیں یا آخِر میں دیں۔
     (عالمگیری ج۱ص۲۰۷)
فِدیہ دینے میں یہ ضَروری نہیں کہ جِتنے فِدیے ہوں اُتنے ہی مَساکِین کو
الگ الگ دیں۔بلکہ ایک ہی مِسکین کو کئی دِن کے بھی دیئے جاسکتے ہیں۔       (دُرِّمُختار ج۳ص۴۱۰)
نَفْل روزہ قَصْداً شُروع کرنے والے پر اب پُورا کرنا واجِب ہوجاتا ہے کہ توڑ دیا تَو قَضا ء واجِب ہوگی۔
     ( رَدُّالْمُحتَار ج۳ص۴۱۱)
اگر آپ نے یہ گُمان کرکے روزہ رکھا کہ میرے ذِمّہ کوئی روزہ ہے مگر روزہ شُروع کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ مجھ پر کسی قِسْم کاکوئی روزہ نہیں ہے، اب اگر فوراً توڑ دیا تَو کُچھ نہیں اور یہ معلوم کرنے کے بعد اگر فَوراًنہ توڑا،تَو اب نہیں توڑسکتے ،اگر توڑیں گے تَو قَضاء واجِب ہوگی۔
            (دُرِّمُختار ج۳ص۴۱۱)
نَفل روزہ قَصْداً نہیں توڑا بلکہ بِلا اِختیار ٹوٹ گیا۔مَثَلاً دَورانِ روزہ عورت کوحَیْض آگیا،جب بھی قَضا ء واجِب ہے۔
                     (دُرِّمُختار ج۳ص۴۱۲)
عیدُ الفِطر یا بَقَرعید کے چار دِن یعنی ۱۰،۱۱،۱۲،۱۳ ذُوالحجّۃِ الْحرام میں سے کسی بھی دِن کا روزئہ نَفْل رکھا تَو (چُونکہ اِن پانچ دِنوں میں روزہ رکھنا حرام ہے لہٰذا ) اِس روزہ کا پورا کرنا واجِب نہیں ۔نہ اِس کے توڑنے پر
قضاء واجِب ،بلکہ اِس کا توڑدینا ہی واجِب ہے ۔اور اگر اِن دِنوں میں روزہ رکھنے کی مَنَّت مانی تَو مَنَّت پُوری کرنی واجِب ہے مگر اِن دِنوں میں نہیں،بلکہ اور دِنوں میں۔
    (ردُّ الْمحْتار ج۳ص۴۱۲)
نَفل روزہ بِلاعُذْر توڑ دینا ناجائز ہے۔مِہمان کے ساتھ اگر مَیزبان نہ کھائے گا تَو اُسے ناگوار ہوگا یا مِہمان اگر کھانا نہ کھائے گا تَو میزبان کو اَذِیَّت ہوگی تَو نَفل روزہ توڑدینے کیلئے یہ عُذر ہے۔(سُبحٰنَ اللہ شریعت کو احتِرامِ مسلم کا کس قَدَر لحاظ ہے) بَشَرطیکہ یہ بَھروسہ ہو کہ اِس کی قَضاء رکھ لے گا اور ضَحْوَہئ کُبریٰ سے پہلے توڑدے بعد کو نہیں۔
                     (عالمگیری ج۱ص۲۰۸)
دعوت کے سبب ضَحْوَہ کُبرٰی سے پہلے روزہ توڑ سکتا ہے جبکہ دعوت کرنے والا مَحض اس کی موجودگی پر راضی نہ ہو اور اس کے نہ کھانے کے سبب ناراض ہوبشرطیکہ یہ بھروسہ ہوکہ بعد میں رکھ لے گا،لہٰذا اب روزہ توڑ لے اور اُس کی قضا رکھے ۔لیکن اگر دعوت کرنے والامَحض اس کی موجودگی پر راضی ہو جائے اور نہ کھانے پر ناراض نہ ہو تو روزہ توڑنے کی اجازت نہیں ہے ۔         (فتاویٰ عالمگیری، ج۱،ص۲۰۸ کوئٹہ)
نَفْل روزہ زَوَال کے بعد ماں باپ کی ناراضگی کے سَبَب توڑسکتا ہے۔ اوراِس میں عَصْر سے پہلے تک توڑ سکتا ہے بعدِ عَصْر نہیں۔             (دُرِّمُخْتار، رَدُّالْمُحتَار ج۳ص۴۱۴)
عورت بِغیر شَوہَر کی اِجازت کے نَفْل اور مَنَّت وقَسم کے روزے نہ رکھّے اور رکھ لئے تَو شَوہَر تُڑواسکتا ہے مگر توڑے گی تَو قَضا ء واجِب ہوگی مگر اِس کی قَضاء میں بھی شوہَر کی اِجازت دَرْکار ہے۔یاشَوہَر اوراُس کے دَرمیان جُدائی ہوجائے یعنی طلاقِ بائن( طلاقِ بائِن اُس طلاق کو کہتے ہیں جس سے بیوی نکاح سے باہَر ہو جاتی ہے ، اب شوہر رُجوع نہیں کر سکتا)دے دے یا مرجائے ۔ہاں اگر روزہ رکھنے میں شَوہَر کا کچھ حَرَج نہ ہو،مَثَلاً وہ سَفر میں ہے یا بیمارہے یا اِحرام میں ہے تَو ان حالتوں میں بِغیر اِجازت کے بھی قَضاء رکھ سکتی ہے بلکہ وہ مَنْع کرے جب بھی رکھ سکتی ہے۔البَتَّہ اِن دنوں میں بھی شوہَر کی اِجازت کے بِغیر نَفل روزہ نہیں رکھ سکتی ۔        (ردُّالْمحتار ج۳ص۴۱۵)
رَمَضانُ الْمُبارَک اور قَضائے رَمَضانُ الْمُبارَک کیلئے شوہَر کی اِجازت کی کچھ ضَرورت نہیں بلکہ اُس کی مُمانَعَت پر بھی رکھے۔ (در مختار، رد المحتار ج ۳ ص۴۱۵)
اگر آپ کسی کے ملازِم ہیں یا اُس کے یہاں مزدُوری پر کام کرتے ہیں تَو اُس کی اِجازت کے بِغیر نَفل روزہ نہیں رکھ سکتے کیوں کہ روزہ کی وجہ سے کام میں سُستی آئے گی۔ہاں۔اگر روزہ رکھنے کے باوُجُود آپ باقاعِدہ کام کرسکتے ہیں،اُس کے کام میں کسی قِسْم کی کوتاہی نہیں ہوتی،کام پُورا ہوجاتا ہے۔تَواب نَفل روزہ کی اِجازت لینے کی ضَرورت نہیں۔
( رَدُّالْمُحتَار ج۳ص۴۱۶)
نَفْل روزہ کیلئے بیٹی کو باپ ، ماں کو بیٹے، بَہن کو بھائی سے اِجازت لینے کی ضَرورت نہیں۔   ( رَدُّالْمُحتَار ج۳ص۴۱۶)
ماں باپ اگر بیٹے کو روزہ نَفْل سے مَنْع کردیں اِس وجہ سے کہ مَرض کا اندیشہ ہے تو ماں باپ کی اِطاعت کرے۔
 ( رَدُّالْمُحتَار ج۳ص۴۱۶)
Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!