اعمال

قیامت کامنظر:

قیامت کامنظر:

حضرت سیِّدُنا عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ ٌعَنِ الْعُیوب عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ عبرت نشان ہے:”قیامت کے دن کچھ لوگوں کو جنت کی طرف بلایاجائے گا یہاں تک کہ جب وہ قریب پہنچیں گے اور اس کی خوشبو سونگھيں گے اور اس کے محلات دیکھیں گے تو ندا کی جائے گی: ”ان لوگوں کو جنت سے لوٹا دو، ان کے لئے جنت میں کوئی حصہ نہیں۔” تو وہ ایسی حسرت کے ساتھ لوٹیں گے کہ اس جیسی حسرت سے اگلوں پچھلوں میں سے کوئی نہ لوٹا ہو گا تو وہ عرض کریں گے: ”اے ہمارے رب عَزَّوَجَلَّ! اگر تو یہ دکھانے سے قبل ہی جہنم میں داخل کر دیتاتو ہم پر آسان تھا۔” اللہ عزَّوَجَلَّ فرمائے گا: ”میں نے یہ اس لئے کیاکیونکہ تم خلوت میں نافرمانیوں سے میرامقابلہ کیا کرتے تھے اورجب تم لوگوں سے ملتے تو لوگوں کو دکھانے کے لئے بڑی عاجزی سے ملاقات کرتے اور جو تمہارے دلوں میں میرے لئے تھا وہ اس کے برعکس تھا۔تم لوگوں سے ڈرتے اور مجھ سے نہ ڈرتے ، لوگوں کی تعظیم کرتے اور میری تعظیم نہ کرتے۔ تو آج میں تمہیں اپنا درد ناک عذاب چکھاؤں گامزید یہ کہ میں نے تم پرآخرت کا ثواب حرام کر دیا ہے۔” (المعجم الکبیر، الحدیث۱۹۹/۲00، ج۱۵/۱۷، ص۸۵۔۸۶۔بتغیرٍقلیلٍ)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
error: Content is protected !!