اسلام

معرفت کی باتیں

معرفت کی باتیں

حضرت سیدنا محمد بن محمود سمر قندی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں، میں نے حضرت سیدنا یحییٰ بن معاذ رازی علیہ رحمۃ اللہ ا لباری کو یہ فرماتے ہوئے سنا : ”غربت اورتنگدستی زاہدین کے دیار ہیں۔ بندہ مؤمن جب کوئی عمل کرتاہے یاتو اس کا وہ عمل نیک ہوتاہے یا بد۔ اس کا نیک عمل تو نیک ہی ہے لیکن اس کے برُے عمل کے ساتھ بھی بسا اوقات نیکیاں شامل ہوجاتی ہیں وہ اس طرح کہ جب کسی نیک انسان سے کوئی گناہ سرزدہوتاہے تو اس پر خوفِ خداوندی عزوجل طاری ہوجاتاہے اوراللہ عزوجل سے ڈرنا نیکی ہے، اس کے بعد وہ اپنے رب عزوجل سے اُمیدرکھتا ہے کہ وہ پاک پروردگار عزوجل اس کا گناہ بخش دے گاتو اس کی یہ اُمید بھی نیکی ہی ہے ۔پس مؤمن کا گناہ ایسا ہے جیسے دو شیروں کے درمیان لومڑی۔”
پھر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: ”اولیاء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ حکمت کے سرچشمے ہیں ،ان کی مجالس بابرکت ہوتی ہیں گویا یہ لوگ عمدہ باغات اوراپنی پسندیدہ جگہوں میں ہیں ، ان کی مجالس میں خیر ہی خیر ہے۔ ”
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرمایا کرتے :” اللہ ربُّ العزَّت نے قرآن کریم میں ارشادفرمایا :

وَ اسْتَغْفِرْ لِذَنۡۢبِکَ وَ لِلْمُؤْمِنِیۡنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ ؕ

ترجمہ کنزالایمان:اوراے محبوب! اپنے خاصوں اور عام مسلمان مَردوں اورعورتوں کے گناہوں کی معافی مانگو۔( پ 26 ،محمد: 19)

اس آیت کریمہ میں خود خدائے بزرگ وبرتر حکم فرمارہا ہے:” اے محبوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم!آپ مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کے لئے دعائے مغفرت کیجئے۔”کیا ایساہوسکتاہے کہ اللہ عزوجل اپنے بندوں کو خود کسی کام کا حکم فرمائے اورپھر اس کی بجا آوری پر انہیں اَجر نہ دے ،یا جو اس نے وعدہ کیا ہے اسے پورا نہ کرے؟ ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا ۔وہ پاک پروردگار عزوجل تو وعدوں کو پورا کرنے والا ہے جو اس سے اُمید رکھتا ہے وہ کبھی بھی مایوس نہیں ہوتا۔ جب کسی بندے سے کوئی گناہ سرزد ہوجائے اور اسے اپنے گناہ پر شرمندگی بھی ہو پھرنبی مُکرّم، نورِمجسَّم، شاہِ بنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم اس کی شفاعت فرمائیں اور جس ذات کی نافرمانی اس گناہ گار شخص سے ہوئی وہ ذات بھی ایسی کریم کہ بڑے بڑے گناہوں کو محض اپنے لُطف وکرم سے بخش دے اور جو اس کے سامنے صدقِ دل سے تائب ہوجائے اوردو قطرے آنسوؤں کے بہالے تو زمین وآسمان کے برابرگناہوں کوبھی معاف فرما دے ۔ کیا وہ پاک پروردگار عزوجل ہمارے گناہوں کو معاف نہیں فرمائے گا؟ ضرور فرمائے گا ہمیں اس کی پاک ذات پر کامل یقین ہے ۔ ”
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں :”کاش!کوئی ایسا راستہ مل جائے کہ وہ ہمیں کسی عارف تک لے جائے۔ اے عارفو! تم کہاں ہو؟ میں تمہارے دیدار سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرنا چاہتا ہوں۔ تعجب وافسوس ہے ان لوگوں پر جو اولیاء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کی محفلوں اور ان کے قُرب سے ناآشنا ہیں اور بادشاہوں اوروزیروں کی خوشنودی کے طلبگار ہیں، محبت الٰہی عزوجل کے طلبگاروں کو دُنیوی مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑتاہے۔ جب تک انسان راہِ عشق میں تکالیف سے دوچارنہ ہو تب تک محبت کی مٹھاس نہیں پا سکتا۔”
؎ وہ عشقِ حقیقی کی لذت نہیں پا سکتا جو رنج ومصیبت سے دو چار نہیں ہوتا
دنیا کو ترک کردینا آخرت کا مَہرہے یعنی جس نے دُنیوی نعمتیں ترک کردیں اس نے آخرت کی نعمتوں کو پالیا۔ اُخروی نعمتوں کی خاطردُنیوی نعمتوں کو چھوڑ دینا ایمان ویقین کے پختہ ہونے کی دلیل ہے ۔اے میرے عقیدت مندو! جب تم دنیاحاصل کرنے پر مجبور ہوجاؤ تو بقدرِ کفایت رزقِ حلال حاصل کرولیکن دُنیوی مال ودولت کی محبت ہرگز دل میں نہ بٹھاؤ ،اپنے جسموں کو رزقِ حلا ل کی طلب میں مشغول رکھو لیکن اپنے دلوں کو اس میں مشغول نہ کرو بلکہ تمہارے دلوں میں آخرت کی محبت ہونی چاہے ،ہر وقت آخر ت کو مدِّ نطر رکھو۔ بے شک یہ دنیا تو ایک گزر گاہ ہے لہٰذا اس سے دور رہنے میں ہی عافیت ہے، بے وفا دنیا سے دل نہ لگاؤ بلکہ آخرت سے محبت کرو ،اسی کی فکر کرو کیونکہ وہاں ہمیشہ رہنا ہے، وہی دار ِ قرار ہے ۔”
؎ بے وفا دنیا پہ مت کر اعتبار تو اچانک موت کا ہو گا شکار
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:” موت کا خوف موت کی تکلیف سے زیادہ ہولناک ہے یعنی جسے یہ علم ہوجائے کہ مَیں فلاں وقت مروں گا تو وہ ایسے خوف میں مبتلا ہوجائے کہ جس کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا گویا موت کے خوف سے وہ گُھل گُھل کر

مُردوں کی مانند ہوجاتاہے ۔ ”آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (عاجزی کرتے ہوئے) فرماتے ہیں:”میری حالت تو ایسی ہے کہ اگرمیر ی کوئی حاجت پوری نہ ہوتو رونے لگتا ہوں لیکن موت کے خوف سے رونا نہیں آتا ۔اے ابن آدم!تجھ پر افسوس ہے، اگر تجھے کوئی دنیاوی نعمت نہ ملے تو تُوپریشان وغمگین ہوجاتاہے اور ان عارضی چیزوں کے ملنے پر تجھے خوشی ہوتی ہے جنہیں موت تجھ سے جدا کردے گی ۔ یاد رکھ! موت آتے ہی تمام دنیاوی نعمتیں تجھ سے واپس لے لی جائیں گی۔
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے تھے :” اگر عفو ودرگزر اوررحم وکرم اللہ عزوجل کی صفات نہ ہوتیں تو اہلِ معرفت کبھی بھی اس کی نافرمانی نہ کرتے، جب اللہ عزوجل نے اپنے عفوودرگزر اوررحم وکرم کا مژدہ جانفزاسنایاتو گناہگاروں کا آسرابڑھ گیا اور انہیں پختہ یقین ہوگیا کہ ہمارا رب عزوجل ہماری غلطیوں اورکوتاہیوں سے ضرور درگزر فرمائے گا۔ اللہ عزوجل نے اپنے عفو وکرم کا اعلان فرمایا تاکہ لوگ جان جائیں کہ ہمارا پروردگار عزوجل بہت رحیم وکریم ہے، وہ گناہ گاروں کے بڑے بڑے گناہوں کو محض اپنے لُطف وکرم سے معاف فرمادیتا ہے ،اس کی رحمت اس کے غضب پر سبقت رکھتی ہے۔ وہ اپنے بندوں پر بہت زیادہ رحیم وکریم ہے ،اس لئے گناہگار گناہ ہوجانے پر اس کی رحمت سے مایوس نہیں ہوتے بلکہ وہ اپنے پروردگار عزوجل سے اُمیدِ واثق رکھتے ہیں کہ وہ گناہوں کو بخش دے گا اور رحم وکرم فرمائے گا کیونکہ اس کے رحم وکرم کی کوئی اِنتہانہیں ۔

؎ سَبَقَتْ رَحْمَتِیْ عَلٰی غَضَبِیْ تُو نے جب سے سنادیایارب عزوجل !
آسرا ہم گناہگاروں کا اور مضبوط ہو گیا یا رب عزوجل!
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا :” میرے نزدیک بندہ جس گناہ کی وجہ سے اپنے آپ کو اللہ عزوجل کی رحمت کا محتاج سمجھے، وہ اس نیکی سے افضل ہے جس کی وجہ سے بندہ اپنے رب عزوجل پردلیر ہوجائے اورمغرور ہوجائے ۔ ”
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے پوچھا گیا :” عبادت کیا ہے ؟”توآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: ”گوشہ نشینی اختیار کرنا ، عبادت کی دُکانداری کے لئے مالِ تجارت ہے اورجنت اس تجارت کا منافع ہے یعنی جو شخص مخلوق سے بے نیاز ہوکر صرف اللہ عزوجل کی عبادت میں مشغول رہے گا اس کو عبادت کا صلہ جنت کی صورت میں دیا جائے گا ۔ ”
(اے اللہ عزوجل !ہمیں عبادت کی لذت عطافرما اورنیک لوگوں کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطافرما ۔ آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم )
؎ تیرے غلاموں کا نقشِ قدم ہے راہِ نجات وہ کیا بہک سکے جو یہ سراغ لے کے چلے

Related Articles

Check Also
Close
Back to top button
error: Content is protected !!