گھر والوں کے خرچ میں بخل کرنے والا ہم سے نہیں

گھر والوں کے خرچ میں بخل کرنے والا ہم سے نہیں

Advertisement

 

رسولِ اکرم ،نُورِ مُجَسَّم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان عالیشان

ہے:لَیْسَ مِنَّا مَنْ وَسَّعَ اللّٰہُ عَلَیْہِ ثُمَّ قَتَّرَ عَلٰی عِیَالِہ یعنی جسے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے خوشحالی عطا فرمائی اس کے باوجود وہ اپنے بال بچوں پر خرچ کرنے میں بخل کرے وہ ہم سے نہیں۔(فردوس الاخبار، ۲/۲۱۴،حدیث:۵۳۱۱)

اپنے گھروالوں کی خیرخواہی کیجئے

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اچھی اچھی نیتوں کے ساتھ اپنے گھر والوں کی خوب خیر خواہی کیجئے ،(اسراف سے بچتے ہوئے)خوراک ،لباس اور رہائش وغیرہا کا عمدہ اہتمام کیجئے، اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس پر بھی آپ کو ثواب ملے گا اور آخرت میں جہاں لوگ ایک ایک نیکی کو ترسیں گے وہاں اپنے گھر والوں پر خرچ کرنے والے خوش نصیب مسلمان کی اس نیکی کو سب سے پہلے اس کے میزان میں رکھا جائیگا ،چنانچہ

میزان میں سب سے پہلے کس عمل کو رکھا جائے گا

نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسول اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: بندے کے میزان میں سب سے پہلے اس کے اپنے گھروالوں پر خرچ کئے گئے مال کو رکھاجائے گا۔(المعجم الاوسط،۴/۳۲۸حدیث:۶۱۳۵)

اہلیہ کو پانی پلانے پر ثواب(حکایت )

حضرتِ سیِّدُنا عرباض بن ساریہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو فرماتے سنا:جب کوئی شخص اپنی بیوی کو پانی پلاتاہے تو اسے اس کااجر دیا جاتاہے ۔راوی کہتے ہیں کہ پھر میں اپنی
بیوی کے پاس آیا اور میں نے اسے پانی پلایااور جو کچھ میں نے رسولُ اللّٰہ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے سنا تھا اسے سنایا۔
(مجمع الزوائد ،کتاب الزکاۃ،باب فی نفقۃ الرجل …الخ،۳/۳۰۰،حدیث:۴۶۵۹)

چادر کا صدقہ(حکایت )

حضرتِ سیِّدُنا عمرو بن اُمَیَّہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کہتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا عثمان بن عفان یا عبدالرحمن بن عوف رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ ایک اُونی چادر کوخریدنے کے لئے بھاؤ طے کررہے تھے کہ میرا وہاں سے گزرہوا اور میں نے وہ چادر خرید کر اپنی بیوی سُخَیْلہ بنت عُبَیْدَہ (رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا) کو اوڑھادی۔ جب حضرتِ سیِّدُنا عثمان یا عبدالرحمن رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کا وہاں سے گزرہوا تو انہوں نے پوچھا کہ تم نے جو چادر خریدی تھی اس کا کیا ہوا ؟میں نے کہا،اسے میں نے سُخَیْلہ بنت عُبَیْدَہ (رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا)پر صدقہ کردیا ہے۔تو انہوں نے پوچھا،جو کچھ تم اپنے گھروالوں پرخرچ کرتے ہوکیا وہ صدقہ ہے؟ میں نے جواب دیا کہ میں نے رسولُ اللّٰہ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو اسی طرح فرماتے ہوئے سنا ہے۔جب میری یہ بات رسول ُاللّٰہ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے سامنے ذکرکی گئی تو فرمایا:عمرو نے سچ کہاہے تم جو کچھ اپنے گھروالوں پر خرچ کرتے ہو وہ ان پر صدقہ ہی ہے۔(التر غیب والتر ھیب، کتاب النکاح،الترغیب فی النفقۃ…الخ، ۳/۴۳، حدیث:۱۵)

گھر والوں کے لئے رزقِ حلال کی تلاش کا ثواب (حکایت )

حضرت ِسیِّدُنا کعب بن عجرہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے سامنے سے گزرا۔ صحابہِ کرام رضی اللّٰہ تعالٰی عنہم نے اس کی چستی دیکھ کر عرض کی :یارسولَ اللّٰہ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کاش! یہ شخص راہِ خدا میں ہوتاتو آپ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:اگر یہ اپنے چھوٹے بچوں کی ضرورت پوری کرنے کے لئے نکلا ہے تو بھی یہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں ہے اور اگر اپنے بوڑھے والدین کی خدمت کے لئے نکلا ہے تو بھی اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں ہے اور اگر اپنے آپ کو بچانے کے لیے نکلا ہے تو بھی اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں ہے اور اگر یہ ریاکاری اور تفاخُر کے لئے نکلا ہے تو پھر یہ شیطان کی راہ میں ہے۔(المعجم الکبیر، ۱۹/۱۲۹حدیث:۲۸۲)

ماہِ رمضان میں اہل وعیال پر خرچ کرنے کی فضیلت

حضرتِ سیِّدُنا عبدُاللّٰہ بن عمررضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے، جب ماہِ رمضان کی پہلی رات آتی تو آپ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ فرمایاکرتے رمضان المبارک کے پورے مہینے کو مرحبا!اس کے دن میں روزے ہیں اور راتوں میں قیام اور اس میں بیوی بچوں پر خرچ کرنااللّٰہ عزَّوَجَلَّ کی راہ میں خرچ کرنے کی طرح ہے۔(الروض الفائق،المجلس الخامس،ص۴۰)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!