نامُکَمَّل دُرُود

نامُکَمَّل دُرُود

رسولِ ثقلین، سلطانِ کونین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’لَا تُصَلُّوْا عَلَیَّ الصَّلٰوۃَ الْبَتْرَاءَ،یعنی مجھ پرکٹا ہوا( نامکمل ) دُرُودِپاک نہ پڑھا کرو، صحابۂ کرام عَلَیْھِمُ الرِّضْواننے عرض کی: ’’وَمَا الصَّلٰوۃُ الْبَتْرَاء ،یارسُولَاللّٰہ! یہ کٹاہوا دُرُودِپاک کیا ہے ؟ سلطانِ دو جہان، رحمتِ عالمیان صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’تَقُوْلُوْنَ اللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَتَمْسِکُوْنَ،کٹا ہوا دُرُود یہ ہے کہ تم(میری آل پر دُرُود نہ پڑھو اور صرف ) اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍتک پڑھ کر رُک جاؤ۔ ‘‘ (پھر فرمایا:) ’’اس کے بجائے یوں  پڑھا کرو اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ۔‘‘(الصواعق المحرقہ،الباب‚الحادی عشر،الفصل الاول فی الآیات الواردۃ فیہم، ص۱۴۶)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اس رِوایت سے معلوم ہوا کہ جب بھی نبیِّ مُکرّم ، نُورِ مُجسّمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  پر دُرُودِ پاک پڑھنے کی سَعادت نصیب ہو تو ساتھ ہی ساتھ آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی آلِ پاک پر بھی دُرُودِپاک پڑھ لیناچاہئے اور ویسے بھی مَحَبَّت اس بات کی مُتَقَاضِی ہے کہ
 محبوب سے نِسْبَت رکھنے والی ہرشے سے مَحَبَّت کی جائے۔ خیال رہے کہ ہر مسلمان کو جان و مال ،عِزَّت و آبرو ،ماں  باپ ، اَولاد حتی کہ کائنات کی ہر شے سے زِیادہ حُضُورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ذاتِ گرامی محبوب ہونی چاہیے جس پر ہماری صَداقت و تکمیلِ ایمانی کا مدار ہے ۔ لہٰذا جب سب سے زِیادہ قابلِ مَحَبَّتاور لائقِ عقیدت سرکارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ذات ٹھہری تو آپ کے اہلِ بیت اَطہار سے مَحَبَّت بھی ہمارے لئے ہمارے اپنے قرابت داروں  سے بڑھ کر اَہَمِّیَّت کی حامل ہونی چاہئے اور کیوں  نہ ہو کہ قُرآنِ پاک کے ساتھ یہی تو وہ دوسری چیز ہے جسے مَضْبُوطی سے تھامنے کا سرکار عَلیْہ السَّلام نے ہمیں  دَرس دیاہے ۔ چُنانچہ 

دوبڑی اور اَہَمّ چیزیں 

حضرت سَیِّدُنازید بن اَرقم رضِیَ اللّٰہ تَعالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نَبُوَّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا فرمانِ ہدایت نشان ہے : ’’اَنَا تَارِکٌ فِیْکُمُ الثَّقَلَیْنِ‘‘ میں  تمہارے دَرمیان دو بڑی اَہم چیزیں  چھوڑ رہا ہوں  ،  ’’اَوَّلُہُمَا کِتَابُ اللّٰہِ، فِیہِ الْہُدٰی وَالنُّورُ‘‘ان میں  سے ایک تو کتابُ اللّٰہیعنی قرآنِ پاک ہے ، جس میں  ہدایت بھی ہے اور نُور بھی ‘‘ ’’فَخُذُوا بِکِتَابِ اللّٰہِ وَاسْتَمْسِکُوْا بِہِ ‘‘، پس تم کتابُ اللّٰہ کو مَضْبُوطی سے تھامے رکھو۔ وَاَہْلُ بَیْتِیْ‘‘اور دوسری چیز میرے اَہلِ بیت اور پھر 

تین مرتبہ ارشاد فرمایا: ’’اُذَکِّرُکُمُ اللّٰہَ فِیْ اَہْلِ بَیْتِیْ، اُذَکِّرُکُمُ اللّٰہَ فِیْ اَہْلِ بَیْتِیْْ، اُذَکِّرُکُمُ اللّٰہَ فِیْ اَہْلِ بَیْتِیْ،یعنی میں  تم کو اپنے اَہل بیت کے مُتَعلِّق اللّٰہ سے ڈراتا ہوں ۔‘‘(مسلم،کتاب فضائل الصحابہ،باب من فضائل ابی بکرالصدیق،ص۱۳۱۲)

مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضرت ِ مُفْتی احمد یار خان  عَلَیْہ رَحْمَۃُ الْحَنَّان اِس حدیثِ پاک کے تَحت فرماتے ہیں  : ’’(ثَقَلَیْن سے مُراد)دو بھاری بھرکم چیزیں  یا نفیس ترین چیزیں  جو مَتاعِ ایمان میں  سب سے زِیادہ قیمتی ہیں  ، (ان میں  سے پہلی قرآن مجید ہے۔ )یعنی قرآنِ مجید میں  عَقائد و اَعمال کی ہِدایت ہے اور یہ دُنیامیں  دل کا نُورہے قیامت میں  پُلصراط کا نُور(مزیدفرماتے ہیں  🙂 اِسْتِمْسَاک کے معنی ہیں  مَضْبُوتی سے تھامنا کہ چُھوٹ نہ جائے قرآن کریم کو ایسی مَضْبُوطی سے تھامو کہ زِندگی اس کے سایہ میں  گزرے (اور)موت اس کے سایہ میں  آئے ۔ 
خیال رہے کہ کتابُ اللّٰہمیں  سُنَّتِ رسُول اللّٰہبھی داخل ہے کہ وہ کتابُ اللّٰہکی شرح اور اس پر عمل کرانے والی ہے سُنَّت کے بغیر کتابُاللّٰہ پر عمل ناممکن ہے لہذا یہ  نہیں   کہاجاسکتا کہ صرف قرآن کافی ہے۔ حدیث کی ضَرورت  نہیں   بلکہ فقہ بھی کتابُاللّٰہ کی ہی شرح یا حاشیہ ہے (اور دوسری چیز ’’میرے اَہل بیت ہیں  ‘‘ اسکی شرح میں  فرماتے ہیں  ) یعنی میری اَولاد میری اَزواج جنابِ علی وغیرہم ان کی اِطاعت ان سیمَحَبَّتکرو۔( حدیث پاک کے اس جز ’’میں  تم کو اپنے اَہلِ بیت کے متعلق اللّٰہ سے ڈراتا ہوں  ‘‘ کی شرح میں  فرماتے ہیں  ) ان کی نافرمانی بے اَدَبی 

بھول کر بھی نہ کرنا ورنہ دِین کھو بیٹھو گے خیال رہے کہ حضراتِ صحابہ اور اہلِ بیت کی لڑائیاں  جھگڑے عَداوت وبُغْض کے نہ تھے بلکہ اِختلاف رائے کے تھے ۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
بیان کردہ حدیثِ پاک میں  نسلِ انسانی کی ہِدایت ورَہنمائی کے لیے سیِّدُ الْمُرسلین،جنابِ رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلمِین صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جن دو چیزوں  کا ذِکر فرمایا ہے ان میں  ایک قرآنِ پاک اور دوسری اَہلِ بیت اَطہار، تو جو مسلمان قرآنِ پاک پڑھ کے اس کے حلال وحرام پر عمل کرے اورساتھ ہی ساتھ اَہلِ بیت کی مَحَبَّت کو بھی اپنے دل میں  بسالے تو وہ  اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کبھی گمراہ نہ ہوسکے گا ۔ غرضیکہ قرآنِ پاک کی  عَظْمَت کے ساتھ ساتھ اہلِ بیت کی تَعْظِیم وتَکریم ، اُلفت ومَحَبَّت اور ان کی غُلامی بھی ایک مسلمان کے لیے نہایت ضَروری ہے ۔ اگر کوئی ان دونوں  میں  سے کسی ایک چیز مثلاً قرآنِ پاک کو تو مرکزِ ہِدایت مانے مگراس کے دل میں  اَہلِ بیت کی عَقیدت  نہیں   توایسا شخص راہ یاب  نہیں   ، یونہی اگر کوئی قرآنِ پاک کو چھوڑ کر صرف اَہلِ بیت ہی کو مَنْبعِ حق و صَداقت جانے تو اس کے لئے بھی نَجات کی کوئی صورت  نہیں   ۔ حقیقی معنوں  میں  وہی عاشقانِ رسول دُنیاو آخرت میں  کامیابی سے ہمکنار ہیں  جو قرآنِ پاک کو بھی راہِ نَجات مانتے ہیں  اور اَہلِ بیت کیمَحَبَّت کو بھی اپنی رَہنمائی کے لیے مَشْعلِ راہ جانتے ہیں  ۔ 

اَہلِ سُنَّت کا ہے بیڑا پار اصحابِ حضور

نَجم ہیں  اور ناؤ ہے عترت رسُول اللّٰہ کی
  (حدائقِ بخشش،ص۱۵۳)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

تین باتوں  کی تعلیم 

امیرُ الْمُؤمِنِینحضرتِ مولائے کائنات، علیُّ المُرتضٰی شیرِ خدا  کَرَّمَ اللّٰہُ تعالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمسے روایت ہے کہنبیِّ کریم ، رء ُوْفٌ رّحیم عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ وَ التَّسْلِیمکا فرمانِ دلنشین ہے : ’’اَدِّبُوْا اَوْلَادَکُمْ عَلٰی ثَلاثِ خِصَالٍ ،یعنی اپنے بچوں  کو تین چیزیں  سکھاؤ ، حُبِّ نَبِیِّکُمْ وَحُبِّ اَہْلِ بَیْتِہِِ وَقِرَاءَ ۃِ الْقُرْاٰنِ ،اپنے نبی کی مَحَبَّت، اَہل بیت کی مَحَبَّتاور قرآنِ پاک پڑھنا۔ ‘‘(الصواعق المحرقہ،المقصد الثانی فیماتضمنتہ تلک الآیۃ من طلب محبۃ آلہ ،ص۱۷۲)
میٹھے میٹھے  اسلامی بھائیو ! ذِکر کردہ روایت سے بخوبی اَندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ حُضُورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  اپنے اَہلِ بیت سے کس قَدر مَحَبَّت فرماتے ہیں  کہ صحابہ کرام عَلَیْھِم الرِّضْوانکو اس بات کی تعلیم ارشاد فرما رہے ہیں  کہ تم تو مجھ سے اور میرے اَہلِ بیت سے مَحَبَّت کرتے ہی ہو اپنی آنے والی نسلوں  کے دلوں  میں  بھی میری اور میرے اَہل بیت کی مَحَبَّت راسخ کردینا تاکہ ان کا شُمار بھی نَجات یافتہ لوگوں  میں  ہوجائے ۔ چُنانچہ 

سفینۂ نُوح 

حضرت سَیِّدُناابوذَر غِفاری  رَضِیَ اللّٰہ تَعالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ ’’حُضُور نبیِّ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ’’ اِنَّ مَثَلَ اَہْلِ بَیْتِیْ فِیْکُمْ مَثَلُ سَفِیْنَۃِ نُوْحٍ ،میرے اَہلِ بیت کی مثال نُو ح عَلَیْہِ السَّلام  کی کشتی کی طرح ہے، ’’مَنْ رَکِبَہَا نَجَا، جو اس میں  سوار ہوا اس نے نَجات پائی ،وَمَنْ تَخَلَّفَ عَنْہَا ہَلَکَ، اور جو رہ گیا وہ غَرق ہوا۔‘‘ (الصواعق المحرقہ،المقصد الخامس،الفصل الثانی فی سرد احادیث واردۃ فی اہل البیت، ص ۱۸۶)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
قرآنِ پاک میں  مُختلف انبیا ورُسل عَلَیْھِمُ الصَّلٰوۃُوالسَّلامکے بارے میں  آیا کہ اُنہوں  نے توحیدِباری تعالی، احکامِ خداوندی اور اپنی رِسالت ونَبُوَّت کی تبلیغ فرمائی اور ساتھ ہی یہ بھی فرمادیا کہ اس تبلیغ و اِشاعت پر ہم تم سے کسی مُعاوَضے اور بدلے کا مُطالَبہ  نہیں   کرتے، اس نیک کام کا صِلہ اور ثواب تو ہمارا رَبّ عَزَّوَجلَّ ہی عطا فرمائے گا چنانچہ حضرت نُوح عَلَیْہِ السَّلام نے جب اپنی قوم کو عذابِ الہی سے ڈراتے ہوئے اَحکامِ خُداوندی کے مُعاملے میں  اپنی اِطاعت کا دَرس دیاتو ارشادفرمایا: 
وَ یٰقَوْمِ لَاۤ اَسْءَلُکُمْ عَلَیۡہِ مَالًا ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَی اللہِ (پ۱۲،ہود:۲۹)
ترجمۂ کنزالایمان : اور اے قوم میں  تم سے کچھ اس پر (یعنی تبلیغِ رسالت پر ) مال  نہیں   مانگتا ۔ 
اسی طرح جب حضرت ہود عَلیہِ السَّلام نے اپنی قوم کو اَحکامِ خُداوندی اور عبادتِ الٰہی کی طرف راغب کرنے اور مَعْصِیَّتسے بچنے کے لئے نیکی کی دعوت پیش کی تو فرمایا :
یٰقَوْمِ لَاۤ اَسْـَٔلُکُمْ عَلَیۡہِ اَجْرًا ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَی الَّذِیۡ فَطَرَنِیۡ ؕ (پ۱۲،ہود :۵۱)
ترجمۂ کنزالایمان :اے قوم میں  اس پر تم سے کچھ اجرت  نہیں   مانگتا میری مزدوری تو اسی کے ذمّہ ہے جس نے مجھے پیدا کیا ۔
مگر قربان جائیے سرکارِ دوعالمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر کہ آپ کی بارگاہ میں  تو لوگوں  نے تبلیغِ دین کے احسانِ عظیم کے پیشِ نظر کثیر مال و زر پیش بھی کردیا مگر آپ نے اسے ٹُھکراتے ہوئے اپنے اَہلِ بیت سے مَحَبَّت  کا مُطالَبہ کیا ۔ چُنانچہ 

اہلِ بیت سے مَحبَّت کا مطالبہ

حضرت سَیِّدُناابنِ عباس رَضِیَ اللّٰہ تَعالٰی عَنْہُماسے مروی ہے کہ جب نبیِّ کریمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممَدینہ طیّبہ میں  رونق اَفروز ہوئے اور اَنصار نے دیکھا کہ حُضُورِ عَلَیْہ الصَّلٰوۃُالسَّلام کے ذِمّہ مَصارِف بہت ہیں  اور مال کچھ بھی  نہیں   ہے تو اُنہوں  نے آپس میں  مَشوَرہ کیا اور حُضُور کے حُقُوق و اِحسانات یاد کر کے حُضُورکی خِدْمَت میں  پیش کرنے کے لئے بہت سا مال جمع کیا اور اس کو لے کر 

خِدْمتِ اَقدس میں  حاضِر ہوئے اور عرض کی کہ حُضُور کی بدولت ہمیں  ہدایت ہوئی، ہم نے گمراہی سے نَجات پائی ، ہم دیکھتے ہیں  ، کہ حُضُور کے مَصارِف بہت زِیادہ، اس لئے ہم یہ مال خُدّامِ آستانہ کی خِدْمَت میں  نذر کے لئے لائے ہیں  ، قَبول فرما کر ہماری عِزَّت اَفزائی کی جائے ، اس پر یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی۔ (خزائن العرفان)

قُلۡ لَّاۤ اَسْـَٔلُکُمْ عَلَیۡہِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّۃَ فِی الْقُرْبٰی(پ۲۵، الشورٰی:۲۳ )
ترجمۂ کنزالایمان:تم فرماؤ میں  اس پر(یعنی تبلیغ رسالت اور ارشاد وہدایت )پر تم سے کچھ اُجرت  نہیں   مانگتامگر قرابت کی محبّت (تم پر لازم ہے ) ۔ 
گویا ا نہیں   یہ باور کرا دیا گیا کہ اس تبلیغ و اِشاعتِ دین پر اگر تم سے کچھ مطلوب ہے تو محض یہ کہ میرے اَہلِ بیت کیمَحَبَّت کو لازِم کرلو اوران کا عِشق اپنے دل میں  بسا کر ان کے دامنِ کرم سے وابستہ جاؤ ۔ 
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے کہ اس آیتِ کریمہ میں  اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی طرف سے کس پیارے اَنداز میں  نبیِّ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے کلمہ پڑھانے، لوگوں  کو دولتِ ایمان عطا فرمانے ، ا نہیں   ضَلالت وگمراہی کے اَندھیروں  سے نکال کر رُشدو ہِدایت کی روشنی میں  لانے اور کُفر وشِرک کی طَلاطُم خَیز موجوں  میں  ڈوبنے والوں  کو دِین و ایمان کی کشتی میں  سوار کرکے ا نہیں   کنارے لگانے کا صِلہ صرفمَحَبَّت اَہلِ بیت کی صورت میں  طلب کیا جارہا ہے ۔ 

اگر کوئی شخص قَبولِ اسلام کے بعد ساری زِندگی صوم و صلوٰۃ کا پابند رہے، حج و زکوٰۃ کے فریضے کو بھی بحسن وخُوبی اَدا کرتا رہے اور ساری ساری رات عِبادت میں  گزار دے لیکن اس کے دل میں  مَحَبَّت ِرسول اورمَحَبَّتِ اَہلِ بیت  نہیں   ہے تو اس کاایمان قابل قَبول  نہیں   ۔ اس بات کی وَضاحت کرتے ہوئے سرکارِ نامدار، دوعالم کے مالِک و مختارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ارشادفرماتے ہیں  :’’ لَا یُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتّٰی اَکُوْنَ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِنْ نَفْسِہٖ ‘‘کوئی اس وَقت تک مومن  نہیں   ہو سکتا جب تک میں  اس کو اس کی جان سے زِیادہ محبوب نہ ہوجاؤں ’’وَتَکُوْنَ عِتْرَتِیْ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِنْ عِتْرَتِہِ‘‘اورمیری اَولاد اس کو اپنی اَولادسے پیاری نہ ہو۔ (شعب الایمان ،فصل فی براء ۃ نبینا …الخ ،۲/ ۱۸۹،حدیث:۱۵۰۵)

حضرت سَیِّدُناعبدُاللّٰہ بن عباس  رضِی اللّٰہ تَعالٰیعنْہُما سے روایت ہے کہ حُضُور تاجدار مدینہ ، راحتِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وسلَّم کا فرمانِ باقرینہ ہے:  ’’اَحِبُّوا اللّٰہَ لِمَا یَغْذُوْکُمْ مِنْ نِعَمِہِ، تم اللّٰہ عزّوجلّ سیمَحَبَّت رکھو کیونکہ وہ تمہیں  اپنی نعمتوں  میں  سے کھلاتا ہے ، ’’واَحِبُّوْنِیْ بِحُبِّ اللّٰہِ وَاَحِبُّوا اَہْلَ بَیْتِی بِحُبِّیْ،اور اللّٰہ عزّوجلَّ سے مَحَبَّتکی وجہ سے مجھ سے مَحَبَّت کرواور میری مَحَبَّت کی وجہ سے میرے اہل بیت سے مَحَبَّت رکھو ۔ (ترمذی ،کتاب المناقب باب مناقب اہل ببیت النبی ،۵/۴۳۴،حدیث:۳۸۱۴ ) 
باغ جنت کے ہیں  بہر مدحِ خَوان اہلبیت تم کو مُژدہ نار کا اے دُشمنان اہلبیت

کس زباں  سے ہو بیان عز وشان اہلبیت مدح گوئے مصطفی ہے مدح خوانِ اہلبیت

ان کی پاکی کا خدائے پاک کرتا ہے بیان آیۂ تطہیرسے ظاہر ہے شانِ اہلبیت
ان کے گھرمیں  بے اجازت جبرئیل آتے  نہیں    قدر والے جانتے ہیں  قدر وشان اہلبیت
(ذوقِ نعت ،ص۷۱)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
اے ہمارے پیارے اللّٰہ عزّوجلَّ! ہمیں  حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر کثرت سے دُرُودِپاک پڑھنے کے ساتھ ساتھ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے اہلِ بیت سے اُلفت و مَحَبَّترکھنے کی توفیق عطا فرما۔ 
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  
٭…٭…٭…٭…٭…٭

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *