کافروں کو رازدار بنانے کی ممانعت اور کفار کی خواہشات

کافروں کو رازدار بنانے کی ممانعت اور کفار کی خواہشات

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا بِطَانَةً مِّنْ دُوْنِكُمْ لَا یَاْلُوْنَكُمْ خَبَالًاؕ-وَدُّوْا مَا عَنِتُّمْۚ-قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَآءُ مِنْ اَفْوَاهِهِمْ ﭕ وَ مَا تُخْفِیْ صُدُوْرُهُمْ اَكْبَرُؕ-قَدْ بَیَّنَّا لَكُمُ الْاٰیٰتِ اِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ(۱۱۸)
ترجمۂ کنزُالعِرفان : اے ایمان والو! غیروں کو راز دار نہ بناؤ، وہ تمہاری برائی میں کمی نہیں کریں گے ۔ وہ تو چاہتے ہیں کہ تم مشقت میں پڑ جاؤ ۔ بیشک (ان کا) بغض تو ان کے منہ سے ظاہر ہوچکا ہے اور جو ان کے دلوں میں چھپا ہوا ہے وہ اس سے بھی بڑھ کر ہے ۔ بیشک ہم نے تمہارے لئے کھول کرآیتیں بیان کردیں اگر تم عقل رکھتے ہو ۔ (اٰل عمران : ۱۱۸)
( لَا تَتَّخِذُوْا بِطَانَةً مِّنْ دُوْنِكُمْ : غیروں کو راز دار نہ بناؤ ۔ ) بعض مسلمان اپنے قرابت دار اور رشتہ دار یہودیوں وغیرہ سے قرابت یا پڑوس کی بنا پر دوستی اور میل جول رکھتے تھے ۔ ان کے متعلق یہ آیتِ کریمہ اتری ۔ (صاوی، اٰل عمران، تحت الاٰية : ۱۱۸، ۱ / ۳۰۶)

کفار سے تعلقات کے بارے میں اسلام کی تعلیمات :

اس سے معلوم ہوا کہ کفار سے دوستانہ تعلقات، دلی محبت و اخلاص حرام ہے اور انہیں اپنا راز دار بنانا بھی ناجائز ہے اور تجربات سے بھی
یہی ثابت ہے کہ کفار مسلمانوں کو نقصان پہنچانے میں کمی نہیں کرتے ۔ نیزاس آیت سے معلوم ہوا کہ مسلمان حکمران کافروں اور مرتدوں کو اہم ترین عہدوں پر نہ لگائے جس سے یہ لوگ غداری کرنے کا موقعہ پائیں کیونکہ یہ لوگ تمہاری برائی چاہنے میں کوئی کمی نہیں کریں گے ، ان کی تو خواہش ہی یہ ہے کہ مسلمان تکلیف و مشقت میں پڑے رہیں نیز ان کی دشمنیاں ان کے الفاظ اور کردار سے ظاہر ہیں جو وقتاً فوقتاً سامنے آتا رہتا ہے ۔ جب زبانی دشمنی بھی سامنے آتی رہتی ہے تو جو دشمنی اور مسلمانوں سے بغض و عداوت ان کے دلوں میں ہوگی وہ کس قدر ہوگی؟ یقیناً ان کے دلوں میں موجود دشمنی ظاہری دشمنی سے بڑھ کر ہے ۔ لہذا اے مسلمانو! اِن سے دوستی نہ کرو ۔ اللہ تعالیٰ تمہارے سامنے اپنی آیتیں کھول کر بیان فرماتا ہے ۔ قرآنِ پاک کی جامعیت اور حقانیت کو اگر سمجھنا ہو تو ان آیات کو سامنے رکھ کر تمام دنیا کے مسلمان اور کافر ممالک کے حالات کا جائز ہ لیں ۔ کیا اللہ تعالیٰ نے جو کچھ بیان فرمایا وہ قطعی طور پر حق اور سچ نہیں ہے ؟ یقیناً سچ ہے ۔ تاریخِ عالم، تاریخِ اسلام اور موجودہ حالات تمام کے تمام قرآن کی ان آیات کی صداقت پر دلالت کررہے ہیں لیکن افسوس کہ ابھی بھی ہماری آنکھیں خوابِ غفلت میں ہیں ، ہمارے لوگ ابھی بھی انہی کو اپنا مشکل کشا اور حاجت روا مان رہے ہیں جنہیں اپنے راز بتانے سے بھی اللہ تعالیٰ ہمیں منع فرمارہا ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *