پل صراط کا باریک اور ایک وادی ہونا :

یہاں ایک اور مسئلہ حل ہوگیا کہ حدیث شریف میں وارد ہے کہ پل صراط بعض کے واسطے بال سے باریک ہوگا ،اور بعض کے حق میں کشادہ میدان ۔ کیونکہ یہ ثابت ہو گیا کہ ایک معین چیز وقت واحد میں کئی مقامات میں ہو سکتی ہے ،پھر کیا تعجب کہ ایک مقام میں نہایت باریک ہو اور دوسرے مقام میں نہایت وسیع ،اور دونوں کو بوحدت شخصی ایک ہوں ۔
جب جن کا جود مشاہدہ سے ثابت ہوگیا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ ان کے احوال نزالے ہیں انسانوں پر ان کا قیاس نہیں ہو سکتا ، تو اب ان مشاہدات سے انکا ر کی کوئی ضرورت نہ رہی جو متواتر ثابت ہیں کہ وہ کبھی نظر آتے ہیں اور ان کا مختلف صورتیں بدلنا محسوس ہو تا ہے ،مثلاً کتے یا بلی کی صورت میں دکھا ئی دیتے ہیں ،پھر ساتھ ہی مہیب و قد آور آدمی بن گئے ۔جب کوئی اپنے چشم دید واقعات اس قسم کے بیان کر تا تو کہا جا تا تھا یہ سب خیالی اور وہمی صورتیں ہیں جن کی خارج میںکوئی اصل نہیں!حالانکہ ان امور کی اصلیت اب ثابت ہو چکی ہے ۔
اب بھی شاید بعض لوگوں کے سمجھ میں یہ نہ آئے گا کہ اگر وہ ایسے اجسام ہیں جو دکھا ئی نہیں دیتے تو پھر ان کا دکھنا کیسا ؟ اور آشکال کے بدلنے میں بڑے بڑے اِشکال پیدا ہو تے ہیں ،مگر غور کیا جائے تو اس کا سمجھنا کوئی مشکل بات نہیں ۔ حق تعالیٰ نے جس چیز کو پیدا کیا اس کے اوصاف و احول خاص خاص قسم کے معین کئے جو ہمیشہ ایک طورپر دیکھے جا تے ہیں ،اس وجہ سے جب اس چیز کا خیال آئے گا تو وہی احوال واوصاف پیش نظر ہو جائیں گے ۔

Advertisement
Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!