وزارت کیوں ترک کی ؟

وزارت کیوں ترک کی ؟

Advertisement

خلیفہ ہارون الرشید کے وزیرحضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مشرف رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ ایک دن اُس کے سامنے بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے پوچھا:” اے خلیفۃ المسلمین! اگرکوئی شخص آپ کے دربار میں درخواست کرے کہ میرا غلام فرار ہو کر آپ کے پاس آ گیا ہے، لہٰذا آپ مجھے میرا غلام لوٹادیں، تو کیا آپ اس کو اس کا غلام واپس کر دیں گے؟” تو خلیفہ نے کہا: ”کیوں نہیں۔”تو انہوں نے فرمایا: ” جناب! میں بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کا غلام ہوں ،جو اپنے مالک ِحقیقی عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ سے فرار ہو کر آیا ہے، آپ مجھے اس کی خدمت میں حاضر ہونے کے لئے چھوڑ دیں،تاکہ میں دوبارہ اس کی بارگاہ میں حاضر ہو جاؤں۔”ہارون الرشید اور تمام حاضرین رودئیے پھر خلیفہ کہنے لگے:” ہم میں سے یہ شخص نجات پا گیا ،جبکہ ہم یہاں بیٹھے اِس کی طرف دیکھ رہے ہیں۔” پھر خلیفہ ہارون الرشید نے انہیں جانے کی اجازت دے دی تو وہ اسی وقت احرام باندھ کر

”لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیَکَ” کہتے ہوئے حرمِ پاک کی طرف چل پڑے۔ راستے میں حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ ان سے ملے اور دیکھا کہ وہ زمین پر محو ِ خواب ہیں اور ہوا مٹی اُڑا اُڑا کر ان کے چہرے پرڈال رہی ہے۔ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے ا ن کو سلام کرنے کے بعد دریافت فرمایا :” اے عبداللہ! سب کچھ چھوڑنے کا عوض اللہ عَزَّوَجَلَّ نے تجھے کیا دیا؟”وہ بولے: ” اے سفیان !اپنی وزارت وغیرہ چھوڑنے کاعوض اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مجھے یہ دیاکہ اس نے مجھے اپنی رضا عطا فرما دی جس میں، مَیں اِس وقت ہوں۔” جب حرمِ پاک کے مشائخ کو ان کے آنے کی خبر ہوئی تو وہ سلام پیش کرنے کے لئے نکل پڑے ۔ ان کی لاغری اور غبار آلودگی کو دیکھ کر انہوں نے پوچھا: ”بے آب وگیاہ چٹیل میدان کاسفر آپ نے کیسے برداشت کر لیا؟” حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مشرف رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے جواب دیا: ”جس مجرم غلام کا دل اُسے آقا کے دروازے کی طرف لے جارہا ہو، وہ اپنے آقا کی بارگاہ میں کیسے آتا ہے؟ اگر مجھے قدرت ہوتی تو میں سر کے بل آتا۔” اس کے بعد وہ رونے لگے ،پوچھا گیا :” کیوں رو رہے ہیں؟” ارشاد فرمایا:” میں نے اپنا شفیع آگے بھیج دیا ہے، شاید! اس کی شفاعت قبول ہو جائے۔” اور جب ان کی نظر بیت اللہ شریف پر پڑی تو زور دار چیخ ماری اور ان کی روح جسم سے جدا ہوگئی۔

؎ بے سبب بخش دے نہ پوچھ عمل
نام غفَّار ہے تیرا یا رب عَزَّوَجَلَّ!

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!