والیانِ ملک کو دعوتِ اسلام

والیانِ ملک کو دعوتِ اسلام

Advertisement

جب رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم (ذی الحجہ ۶ھ میں ) حد یبیہ سے واپس تشریف لا ئے تو آپ نے شروع ۷ھ میں والیانِ ملک ( 1 ) کو دعوت اسلام کے خطوط اِرسال فرمائے جن کا ذکر کسی قدر تفصیل سے یہاں درج کیا جاتاہے:

قیصر روم کو خط

{۱} …جو نامہ مبارک قیصر روم کے نام لکھا گیا اس کے الفاظ یہ تھے :
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ من محمد عبد اللّٰہ و رسولہ الٰی ھِرَقْلَ عظیم الروم سلام علٰی من اتبع الھدٰی امّا بعد فانی ادعوک بدعایۃ الاسلام اسلم تسلم یؤتک اللّٰہ اجرک مرتین فان تولیت فان علیک اثم الاریسین ویٰـاھل الکتٰب تعالوا الٰی کلمۃ سواء بیننا وبینکم الا نعبد الا اللّٰہ ولا نشرک بہ شیئا ولا یتخذ بعضنا بعضًا اربابًا من دون اللّٰہ فان تولّوا فقولوا اشہدوا بانا مسلمون۔اللہ رسول محمد
شروع خدا کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہا یت رحم والا ہے۔ اللّٰہ کے بندے اور رسول محمد (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کی طرف سے ہِرَقْل امیر رُوم کے نام۔ سلام اس پر جس نے ہدایت کی پیروی کی۔ اما بعد میں تجھ کو دعوتِ اسلام کی طرف بلا تا ہوں تو اسلام لا، سلامت رہے گا، خدا تجھ کو دوہرا ثواب دیگا۔اگر تونے رو گردانی کی تو تیر ی رعا یاکا گناہ تجھ پرہوگا۔ اوراے اہل کتاب! آؤ ایسی بات

کی طرف جو ہم میں اور تم میں یکساں ہے کہ ہم خدا کے سوا کسی کی پوجانہ کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اورہم میں سے کوئی اللّٰہ کو چھوڑ کر دو سرے کو خدا نہ بنا ئے۔اگر وہ نہیں ما نتے توکہہ دو: تم گواہ رہوکہ ہم ما ننے والے ہیں ۔ اللہ رسول محمد
رومیوں اور ایر انیوں میں دیر سے لڑائی چلی آتی تھی۔ ایر انیوں نے ملک شام فتح کر لیا تھا۔ ہِرَقْل کی یہ حالت ہو گئی تھی کہ اسے اپنے پا یۂ تخت ( 1 ) قُسْطَنْطِیْنِیَّہ پر ایرانی حملہ کا اندیشہ ہوگیا تھا۔ اس حالت میں اللّٰہ تعالٰی نے اپنے کلام پاک میں خبردی کہ رومی جو شام میں مغلوب ہو گئے ہیں چند سال میں وہ ایرانیوں پر غالب آئیں گے۔ یہ پیشین گوئی صلح حدیبیہ سے نوسال پیشتر ہوئی تھی اور حرف بحرف پوری ہوئی۔ چنانچہ حدیبیہ کے دن مسلمانوں کو رومیوں کی فتح کی خبرپہنچی۔ ہِرَقْل اس فتح کے شکرانے کے لئے حِمْص سے بیت المقدس میں پیادہ گیا۔ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنا نامہ مبارک حضرت دِحْیہ بن خلیفہ کلبی کے ہاتھ روانہ کیا تھا۔حضرت دِحیہ نے وہ خط ہِرَقْل کے گورنر شام حارث غَسَّانی کو بصرے میں دے دیا۔ اس نے قیصرکے پاس بیت المقدس میں بھیج دیا۔ قیصرنے حکم دیا کہ اس مدعی نبوت کی قوم کا کوئی آدمی یہاں ملے تولاؤ۔ اتفاق یہ کہ ابو سفیان جو اس وقت تک ایمان نہ لائے تھے، تا جر ان قریش کے ساتھ غَزَّہ (2 ) میں آئے ہوئے تھے۔ قیصرکا قاصد ان سب کو بیت المقدس میں لے گیا۔ ابوسفیان ( 3 ) کا بیان ہے کہ جب ہم کوقیصرکے پاس لے گئے توکیا دیکھتے ہیں کہ وہ تاج پہنے ہوئے دربارمیں تخت پربیٹھاہے اور اس کے گِرداگِرد (4) اُمرائے روم ہیں ۔ اس نے اپنے ترجمان سے کہاکہ ان (قریشیوں ) سے پوچھو کہ تم میں بلحاظ نسب اس مدعی نبوت سے کون اَقرب (5) ہے؟ (قول ابوسفیان) میں نے کہا کہ میں اقرب ہوں ۔ قیصر نے رشتہ دریافت کیا۔ میں نے کہا: وہ میرا چچیرا بھائی ہے۔قافلہ میں اس وقت عبد مناف کی اولادمیں میرے سوا کوئی نہ تھا۔ قیصرکے حکم سے مجھے نزدیک بلایا گیا اور میرے ساتھیوں کومیری پیٹھ پیچھے بٹھایا گیا۔ پھرقیصرنے اپنے ترجمان سے کہا کہ اس کے ساتھیوں سے کہہ دو کہ میں اس (ابوسفیان) سے اس مدعی نبوت کاحال دریافت کرتا ہوں ۔ اگر یہ جھوٹ بولے تو کہہ دینا کہ یہ جھوٹ بو لتا ہے۔ ابو سفیان کا قول ہے کہ اگرمجھے یہ ڈرنہ ہوتاکہ میرے ساتھی میرا جھوٹ اور وں سے نقل کیا کریں گے تو میں اس کا حال بیان کر نے میں جھوٹ بولتا مگر اس ڈرسے میں

سچ ہی بولا۔ اس کے بعد قیصر وابوسفیان میں بذر یعہ ترجمان یہ گفتگو ہوئی :
قیصر: … اس مدعی نبوت کا نسب تم میں کیساہے ؟
ابوسفیان: …وہ شریف النسب ہے۔
قیصر: …کیا اس سے پہلے تم میں سے کسی نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے ؟
ابوسفیان: … نہیں ۔
قیصر: … کیا اس کے خاندان میں کوئی بادشاہ گزراہے؟
ابوسفیان: … نہیں ۔
قیصر: …اس کے پیر واکا بر ہیں یا کمزور لوگ؟
ابوسفیان: …کمزور لوگ ہیں ۔
قیصر: … اس کے پیر وزیا دہ ہو رہے ہیں یا کم ہو تے جارہے ہیں ؟
ابوسفیان: …زیادہ ہو رہے ہیں ۔
قیصر: … کیا اس کے پیر وؤں میں سے کوئی اس کے دین سے ناخوش ہو کر ا س دین سے پھر بھی جا تا ہے؟
ابوسفیان: … نہیں ۔
قیصر: … کیا دعوائے نبوت سے پہلے تمہیں اس پر جھوٹ بو لنے کا گمان ہوا ہے؟
ابوسفیان: … نہیں ۔
قیصر: …کیا وہ عہد شکنی کر تا ہے ؟
ابوسفیان: … نہیں ۔لیکن اب جو ہمارا اس کے ساتھ معاہدہ صلح ہے، دیکھئے اس میں کیا کرتا ہے۔
قیصر: … کیا تم نے کبھی اس سے جنگ بھی کی ؟
ابوسفیان: … ہاں ۔
قیصر: … جنگ کا نتیجہ کیا رہا؟
ابوسفیان: … کبھیہم غالب رہے اور کبھی وہ۔
قیصر: … وہ تمہیں کیا تعلیم دیتا ہے ؟

ابوسفیان: … کہتا ہے کہ ایک خدا کی عبادت کر و، خدا کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، تمہارے آباء واجداد جو کچھ کہتے ہیں وہ چھوڑدو، نمازپڑھو، سچ بولو، پاک دامن رہو، صلۂ رحم کرو۔
اس گفتگوکے بعدقیصرنے ترجمان کی وَساطَت سے ابوسفیان سے کہاکہ تم نے اس کو شریف النسب بتا یا، پیغمبر اپنی قوم کے اَشراف میں مبعوث ہواکرتے ہیں ۔ تم نے کہا کہ ہم میں سے کسی نے اس سے پہلے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا۔ اگر ایسا ہو تاتو میں سمجھ لیتا کہ اس نے پہلے کے قول کا اقتداء کیا ہے۔ تم نے کہا کہ اس کے خاندان میں کوئی بادشاہ نہیں گزرا۔ اگر ایسا ہوتا تو میں خیال کر تا کہ وہ اپنے آبائی ملک کا طالب ہے۔ تم نے کہا کہ دعویٰ نبوت سے پہلے وہ کبھی مُتَّہِم بالکِذ ب نہیں ہوا۔ (1) اس سے میں نے پہچان لیاکہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ وہ لوگوں پر توجھوٹ نہ باندھے اورخدا پرجھوٹ باندھے۔ تم نے بتایا کہ کمزورلوگ اس کے پیرو ہیں ۔ پیغمبروں کے پیرو (غالباً) کمزور لوگ ہی ہوا کرتے ہیں ۔ تم نے ذکر کیاکہ اس کے پیروزیادہ ہورہے ہیں ۔ دین وایمان کا یہی حال ہوتاہے یہاں تک کہ وہ تمام وکامل ہوجاتاہے۔ تم نے بتایاکہ اس کے پیروؤں میں سے کوئی مرتد (2) نہیں ہوتا۔ ایمان کا یہی حال ہے کہ جب اس کی بشاشت ولذت دل میں سرایت کر جاتی ہے تووہ دل سے نہیں نکلتا۔ تم نے کہا کہ وہ عہدشکنی نہیں کرتا۔ پیغمبر عہد نہیں توڑا کرتے۔ تم نے بیان کیا کہ جنگ میں کبھی ہم غالب رہتے ہیں اور کبھی وہ۔ پیغمبروں کایہی حال ہوتاہے کہ اعدائے دین کے سبب ان کو اِبْتِلائ ( 3) ہوا کرتاہے مگرآخرکار فتح پیغمبروں ہی کوہوتی ہے۔ تم نے اس کی تعلیمات بیان کیں ۔ اگرتم سچ کہتے ہوتومیرے قدم گاہ تک اس کا قبضہ ہوجائے گا۔ میں جانتاتھاکہ وہ آنے والا ہے مگرمجھے یہ خیال نہ تھاکہ وہ تم میں سے ہوگا۔ اگرمجھے یقین ہوتا کہ اس تک پہنچ جاؤں گا تومیں اس کی خدمت میں حاضرہونے کی تکلیف گواراکرتااوراگرمیں اس کے پاس ہوتاتواس کے پاؤں دھوتا۔ اس کے بعد رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کانامہ مبارک پڑھاگیا۔ اسے سن کر اُمرائے روم نے بڑا شور و شَغَب برپا کیا ابوسفیان اور اس کے ہمراہی رخصت کردیئے گئے۔

قیصر حِمْص (1) میں چلا آیا اور امرائے روم کوقصرشاہی میں جمع کرکے حکم دیاکہ دروازے بندکردیئے جائیں ۔ پھر یوں خطاب کیا: ’’ اے گروہ روم! اگر تم فلاح ورُشدکے طالب ہو اور چاہتے ہوکہ تمہارا ملک برقرار رہے تواس نبی پر ایمان لاؤ۔ یہ سن کروہ خرانِ وَحشی کی طرح (2) دروازوں کی طرف بھاگے مگر ان کوبندپا یا۔ جب ہِرَقْل نے ان کی نفرت دیکھی اور ان کے ایمان سے مایوس ہوگیا توکہا کہ ان کومیرے پاس لاؤ اوران سے یوں خطاب کیا کہ میں تمہیں آزماتا تھا کہ تم اپنے دین میں کیسے مستحکم ہو، سو میں نے تم کومستحکم پایا۔ یہ سن کرانہوں نے قیصرکو سجدہ کیا اور اس سے خوش ہوگئے۔ (3)

 

خسرو پرویز بن ہُرمُز شاہِ ایران کو خط

{۲} …خسرو پرویز بن ہُرمُز بن نوشیرواں شاہِ ایران کویوں (4) لکھا گیا: بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم من محمد رسول اللّٰہ الٰی کسرٰی عظیم فارس سلام علی من ا تبع الھدٰی و اٰمن باللّٰہ و رسولہ و شھد ان لا الہ الا اللّٰہ وحدہ لا شریک لہ و ان محمد ا عبدہ و رسولہ ادعوک بدعایۃ اللّٰہ عز وجل فانی رسول اللّٰہ الی الناس کلھم لینذر من کان حیًّا و یحقّ ا لقول علی الکفر ین اسلم تسلم فان تولیت فعلیک اثم المجوس ۔ اللہ رسول محمد شروع خدا کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہا یت رحم والا ہے۔ اللّٰہ کے رسول محمد کی طرف سے کسرٰ ی امیر فارس کے نام۔ سلام اس پر جس نے ہدایت کی پیروی کی اور اللّٰہ اور اس کے رسول پر ایمان لایا اور گواہی دی کہ کوئی معبود بحق نہیں مگر خدا ایک جس کا کوئی شریک نہیں اور یہ کہ محمد اس کا بندہ اور رسول ہے۔ میں تجھے دعوت خدا ئے عَزَّوَجَلَّ کی طرف بلاتا ہوں کیونکہ میں تمام لوگوں کی طرف خدا کا رسول

ہوں تا کہ ڈراوے اس کو جو زندہ ہو اور ثابت ہوجائے کلمہ عذاب کافروں پر تو اسلام لا سلامت رہے گا۔ پس اگر تو نے نہ مانا تو مجو سیوں کا گناہ تجھ پر ہے۔ اللہ رسول محمد
علاقہ بحرین کسریٰ کے زیر فرمان تھا۔ وہاں اس کی طرف سے مُنْذِر بن ساوِی عبد ی تمیمی نائب السلطنت تھا۔ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنا نا مہ مبارک حضرت عبد اللّٰہ بن حُذافہ قَرَشی سَہْمِی کو دے کر حکم دیا (1) کہ اسے حاکم بحرین کے پا س لے جاؤ۔ حاکم موصوف نے وہ نامہ خسرو پر ویز کے پاس بھیج دیا۔ جب وہ پڑ ھا گیاتو پرویز نے اسے پھاڑ ڈالا۔ جب آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو خبر ہو ئی تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے پر ویز اور اس کے معاو نین پر بد دعا فرمائی کہ ’’ وہ ہر طرح پا رہ پا رہ کیے جائیں ۔ ‘‘ چنانچہ ایسا ہی ظہور میں آیا، ان کی سلطنت جاتی رہی، دولت واقبال نے منہ پھیر لیا اور وہ ہلاک ہو گئے۔ اس بر بادی کی کیفیت یوں ہے (2 ) کہ پر ویز نے نامہ مبارک کو چاک کر نے کے بعد اپنے گو ر نر یمن با ذان کو لکھا کہ اپنے دو دلیر آدمیوں کو حِجاز میں بھیجو تا کہ اس مدعی نبوت کوپکڑ کر میرے پاس لائیں ۔ باذان نے اپنے قہرمان (3) بابُوَیہ اور ایک شخص خرخسرہ نام کو اس غرض کے لئے مدینہ میں بھیجا اور بابُوَیہ سے کہہ دیا کہ اس مدعی نبوت سے کلام کرنا اور اس کے حال سے اطلاع دینا۔ یہ دونوں بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے۔ بابُوَیہ نے حقیقت حال عرض کی۔ آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ کل میرے پاس آؤ۔ جب وہ دوسرے دن حاضرِ خدمت ہوئے تو آپ نے فرمایاکہ فلاں مہینے کی فلاں رات کو خدا نے کسریٰ کو قتل کر دیا اور اس کے بیٹے شِیرَوَیہ کو اس پر مسلط کردیا۔ وہ بو لے آپ یہ کیا فرمارہے ہیں کیا ہم اپنے بادشاہ (باذان ) کو یہ اطلاع کردیں ؟ حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا: ہاں ! میری طرف سے اسے یہ خبر دے دواور کہہ دو کہ میرا دین اور میری حکومت کسریٰ کے ملک کی انتہا تک پہنچ جائے گی اور (باذان سے) یہ بھی کہہ دو کہ اگر تم اسلام لاؤ تو تمہارا ملک تم ہی کو دیا جائے گا۔ دونوں نے واپس آکر باذان سے سارا ماجر اکہہ سنا یا۔ اس پر کچھ عرصہ نہ گزراتھاکہ شِیرَوَیہ کا خط باذان کے نام آیا جس میں لکھا تھا کہ میں نے اپنے باپ پر ویز کوقتل کرڈالا کیونکہ وہ اَشراف ِفارس کا قتل جائز سمجھتا تھا۔ اس لئے تم لوگوں سے میری اطا عت کا عہد لو اور اس مدعی نبوت کو جس کے بارے میں کسریٰ نے تم کو کچھ لکھا تھا بر ابھلا مت کہو۔ یہ دیکھ کر باذان مسلمان ہو گیا اور ایرانی جو یمن میں تھے سب ایمان لے آئے۔ اس کے چھ ماہ بعد شِیرَوَیہ بھی مر گیا۔ فار س کا آخر ی باد شاہ یَزْدَجْرِدْ بن شہر یار

بن شِیرَوَیہ حضرت عثمان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے عہد میں قتل ہوا۔ ( 1 )

 

اَصْحَمہ نَجاشی شاہِ حَبَشہ  کو خط

{۳} … اَصْحَمہ نَجاشی شاہِ حَبَشہ کو جو نامہ مبارک (2 ) لکھا گیااس کے الفاظ یہ ہیں : ـبسم اللّٰہ الرحمن الرحیم من محمد رسول اللّٰہ الی النجاشی ملک الحبشۃ سلام انت فانی احمد الیک اللّٰہ الذی لا الہ الا ھو الملک القدوس السلام المؤمن المھیمن و اشھد ان عیسی ابن مریم روح اللّٰہ و کلمتہ القٰھا الی مریم البتول الطیبۃ الحصینۃ حملت بعیسی فخلقہ من روحہ و نفخہ کما خلق اٰدم بیدہٖ و انی ادعوک الی اللّٰہ وحدہ لا شریک لہ و الی موالات علی طاعتہ و ان تتبعنی و تؤمن بالذی جا ٓء نی فانی رسول اللّٰہ الیک و انی ادعوک و جنودک الی اللّٰہ عز و جل و قد بلغت و نصحت فاقبلوا نصیحتی و السلام علی من ا تبع الھدٰی ۔ اللہ رسول محمد شروع خدا کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔ اللّٰہ کے رسول محمد کی طرف سے نجاشی شاہِ حبشہ کے نام۔ توسلامتی والا ہے میں تیرے پاس خدا کا شکر کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود بحق نہیں وہ بادشاہ ہے، پاک ذات، سلامت سب عیب سے، امان دینے

والا، نگہبان اور میں گواہی دیتا ہوں کہ عیسیٰ ابن مریم روح اللّٰہ ہیں اور اللّٰہ کا کلمہ جسے اس نے القاء کیا مریم بتول طیبہ عَفِیفَہ (1 ) کی طرف وہ بارْوَر ہوئی ( 2) عیسیٰ کے ساتھ پس خدا نے اسے پیدا کیا اپنی روح سے اور اس کے پھونکنے سے جیسا کہ پیدا کیا آدم کو اپنے ہاتھ سے اور میں تجھے بلاتا ہوں اللّٰہ کی طرف جو وحدہ لا شریک ہے اور اس کی اطاعت پر مو الا ت ( 3) کی طرف اور یہ کہ تو میری پیروی کر ے اور ایمان لائے اس چیز پر جو مجھے ملی کیونکہ میں تیری طرف اللّٰہ کا رسول ہوں اور میں تجھ کو اور تیرے لشکروں کو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف بلا تاہوں ۔میں نے پہنچا دیا اور نصیحت کر دی تم میری نصیحت کو قبول کرو۔ والسلام علی من اتبع الہدیٰ۔ اللہ رسول محمد
جب یہ نامۂ مبارک حضرت عمر وبن اُمَیَّہ ضَمْرِ ی کے ہاتھ اَصْحَمہ نجاشی کو ملاتو اس نے اسے اپنی آنکھوں پر رکھا اور تخت سے اتر کر زمین پر بیٹھ گیا پھر اپنے اسلام کا اعلان کر دیا اور نامہ مبارک کو ہاتھی دانت کے ڈبے میں رکھ لیا اور یہ جواب لکھا : بسم اللّٰہ الر حمن الرحیم الی محمد رسول اللّٰہ من النجاشی اصحمۃ سلام علیک یارسول اللّٰہ و رحمۃ اللّٰہ وبرکات اللّٰہ الذی لا الہ الا ھو الذی ھدا نی للاسلام اما بعد فقد بلغنی کتابک یارسول اللّٰہ فما ذکرت من امر عیسی فو رب السمآء والارض ان عیسٰی علیہ الصلٰوۃ و السلام لا یزید علٰی ما ذکرت ثفروقاً انہ کما ذکرت وقد عرفنا ما بعثت بہ علینا فاشھد انک رسول اللّٰہ صادقاً مصد قاً وقد بایعتک وبایعت ابن عمک واسلمت علی یدیہ للّٰہ رب العٰـلمین وقد بعثت الیک ابنی وان شئت اتیتک بنفسی فعلت فانی اشھد ان ما تقولہ حق و السلام علیک ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ ۔ مہر

شروع خدا کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔ اللّٰہ کے رسول محمد کے نام نجاشی اصحمہ کی طرف سے۔ یا رسول اللّٰہ آپ پر سلام اور اللّٰہ کی رحمت اور اللّٰہ کی بر کتیں جس کے سوا کو ئی معبود بحق نہیں ۔ اس نے مجھے اسلام کی طرف ہدایت کی۔ امابعد! یارسول اللّٰہ ( صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) مجھے آپ کا نامہ ملا، آپ نے جو حضرت عیسیٰ (علیہ الصلٰوۃ و السلام) کا حال بیان کیا ہے سو آسمان وزمین کے رب کی قسم کہ حضرت عیسیٰ (علیہ الصلٰوۃ و السلام) اس سے ذرہ بھی زیادہ نہیں ہیں وہ بے شک ایسے ہی ہیں جیسا کہ آپ نے ذکر کیا ہے اور ہم نے پہچان لیا جو کچھ آپ نے ہماری طرف لکھ کر بھیجا ہے۔ پس میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللّٰہ کے رسول صادق مصدق ہیں اور میں نے آپ کی بیعت کی اور آپ کے چچیر ے بھائی کی بیعت کی اور اس کے ہاتھ پر اللّٰہ رب العالمین کے لئے اسلام لا یا اور میں آپ کی خدمت میں اپنے بیٹے کو بھیج رہا ہوں ۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ میں خودحاضر ہو جاؤں تو تیار ہوں ۔ پس میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ جو کچھ فرماتے ہیں حق ہے۔ والسلام علیک و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ۔ مہر
اَصْحَمہ کورسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے عمر وبن اُمَیَّہ ضَمْرِ ی کے ہاتھ ایک اور نامہ بھیجا تھاکہ اُمِ حبیبہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا ( امیر معاویہ کی بہن ) کو نکاح کا پیغام دو اور مہاجرین میں سے جواب تک حبشہ میں ہیں ان کو یہاں پہنچادو۔ ارشاد مبارک کی تعمیل کی گئی۔ حضرت ام حبیبہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے حضرت خالد بن سعید بن العاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکو اپنا وکیل مقرر کیا اور نجاشی نے رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا نکاح اُم حبیبہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے کر دیا اور مہر جو چار سو دینا ر تھا وہ بھی خود ہی ادا کردیا۔ ام حبیبہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا پہلا خاوند عُبَید اللّٰہ بن جَحَش اَسَدی تھا دونوں ہجرت کر کے حبشہ میں چلے آئے تھے مگر عبید اللّٰہ نصر انی ہو کر مر گیا تھا۔ اس طرح ام حبیبہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا بیوہ رہ گئی تھیں ۔
نجاشی نے حضرت جعفر (1 ) طیار رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ اور حضرت ام حبیبہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا اور دیگر مہاجر ین حبشہ کو ایک جہاز میں مدینہ منورہ کی طرف روانہ کیا۔ اس کے بعد دوسرے جہاز میں اپنے بیٹے کو مصاحبوں کے ساتھ رسول

اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں ایک خط دے کر بھیجا جس میں اپنے ایمان لا نے کا حال لکھا تھا۔ پہلا جہاز صحیح وسالم منزل مقصود پر پہنچ گیا۔ اس وقت رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم خیبر میں تشریف رکھتے تھے مگر دوسرا جہاز سمندر میں ڈوب گیا اور سوا رسب ہلا ک ہوگئے۔
اصحمہ نجاشی نے ۹ھمیں وفات پائی۔ آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس کے جناز ے کی نماز غائبانہ پڑ ھی۔ (1 ) رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دوسرے نجاشی کو بھی جو اصحمہ کے بعد باد شاہ ہوا دعوت اسلام کا خط لکھا تھااس دوسرے نجاشی کے ایما ن کا حال معلوم نہیں ۔ (2 )

ہِرَقْل قیصر روم کو خط

{۴} … مُقَوْقِس والی ِ مصرہِرَقْل قیصر روم کا باج گزا ر (3 ) تھا۔حضرت حاطِب بن اَبی بَلْتَعَہ کے ہاتھ اس کو یہ نامہ مبارک بھیجا گیا:
بسم اللّٰہ الر حمن الرحیم من محمد عبد اللّٰہ و رسولہ الی المقوقس عظیم القبط سلام علی من اتبع الھدٰی اما بعد فانی ادعوک بدعایۃ الاسلام اسلم تسلم یوتک اللّٰہ اجرک مرتین فان تولیت فعلیک اثم القبط یٰاھل الکتٰب تعالوا الی کلمۃ سوآء بیننا و بینکم الا نعبد الا اللّٰہ و لا نشرک بہ شیئا و لا یتخذ بعضنا بعضا اربابا من دون اللّٰہ فان تولوا فقولوا اشھدوا بانا مسلمون ۔ اللہ رسول محمد
شروع خدا کا نام لے کر جو بڑا مہر بان نہایت رحم والا ہے۔ اللّٰہ کے بندے اور اس کے رسول محمد کی طرف سے مُقَوْقِس امیر

قِبط کے نام ۔ سلام اس پر جس نے ہدایت کی پیروی کی۔ امابعدمیں بلاتاہوں تجھ کو دعوت اسلام کی طرف۔تواسلام لا سلامت رہے گا۔ دے گا تجھ کو اللّٰہ ثواب دوہرا۔ اگر تو نے نہ مانا تو تجھ پر ہو گا گناہ قِبْطِیوں کا۔اے اہل کتاب! تم آؤ طرف ایسی بات کی جو یکساں ہے ہم میں اور تم میں کہ ہم عبادت نہ کریں مگر اللّٰہ کی اور شریک نہ ٹھہرائیں اس کے ساتھ کسی کو اور نہ بنائے ہم سے کوئی دوسرے کو رب سوائے اللّٰہ کے سوا گر وہ نہ مانیں تو کہو تم گو اہ رہو کہ ہم ہیں ما ننے والے۔ اللہ رسول محمد
حسن اتفاق سے اصل نا مہ مبارک ایک فرا نسیسی سیاح کو احمیم کے گر جامیں ایک راہب سے ملا۔ اس نے خرید کر سلطان عبد المجید خاں مر حوم والی سلطنت عثمانیہ کی خدمت میں بطورِ ہدیہ پیش کیا اور اب قُسْطَنْطِنْیہ میں محفوظ ہے۔ اس کے دو فوٹواس وقت ہمارے زیر نظر ہیں ۔ ہم نے اسے تبرکا مطابقِ اَصل لفظ بہ لفظ سطروار نقل کیا ہے۔ اس کے اخیر میں رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مہر ثبت ہے۔ جس کی اوپر کی سطر میں اللّٰہ دوسری میں رسول اور تیسری میں محمد ہے۔ دیگر خطوط کے آخر میں بھی یہی مہر مبارک ثبت تھی۔ یہ نامۂ مبارک مُقَوْقِس کو سکندریہ میں ملا۔ اس نے ہاتھی دانت کے ڈبے میں رکھ لیا اور اس پر اپنی مہر لگا دی اور جواب میں عربی زبان میں یوں لکھو ایا:
بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم لمحمد بن عبد اللّٰہ من المقوقس عظیم القبط سلام علیک اما بعد فقد قرات کتابک فھمت ماذکرت فیہ وما تدعو الیہ وقد علمت ان نبیا بقی وکنت اظن انہ یخرج بالشام وقد اکرمت رسولک وبعثتہ الیک بجاریتین لھما مکان فی القبط عظیم وبکسوۃ واھدیت الیک بغلۃ لترکبھا والسلام علیک ۔ (1 ) مہر
شروع خدا کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔ محمد بن عبد اللّٰہ کے نام مُقَوْقِس امیر قبط کی طرف سے سلام آپ پر۔ اما بعد! میں نے آپ کا خط پڑھا اور سمجھ گیاجو کچھ آپ نے اس میں ذکر کیا ہے اور جس کی طرف آپ بلاتے ہیں ۔ مجھے معلوم تھا کہ ایک نبی آنے والا ہے۔ میرا گمان تھا کہ وہ شام میں ظاہر ہوگا۔ میں نے آپ کے قاصد کی عز ت کی اور آپ کی طرف دو کنیز یں جن کی قِبطیوں میں بڑی عزت ہے اور کپڑے بھیجتا ہوں اور آپ کی سواری کے لئے ایک خچر ہدیہ بھیجتا ہوں و السلام علیک ۔ مہر
یہ دو کنیز یں مارِیہ اور سِیرِ ین نام سگی بہنیں تھیں ۔رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان کو دعوت اسلام دی تو ماریہ نے فوراً اور سیر ین نے کچھ توقف کے بعد کلمہ شہادت پڑھا اس واسطے حضرت ماریہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا حرم نبوی میں داخل کر لی گئیں اور سیر ین حضرت حسان بن ثابت شاعر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کوعنایت ہوئی۔ خچر کا نام دُلدُل تھا۔ حضرت حاطب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے مُقَوْقِس کا حال جو ذکر کیا تو آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ اس خبیث کو ملک کی طَمَع نے اسلام سے محروم رکھاحالانکہ

اس کا ملک باقی نہ رہے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔

ہَو ذَہ بن علی الحَنَفی کو خط

{۵} … ہَو ذَہ بن علی الحَنَفی صاحب یمامہ کی طرف یوں لکھا گیا ہے :
بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم من محمد رسول اللّٰہ الی ھَوذۃ بن علی سلام علی من اتبع الھدی واعلم ان دینی سیظھر الی منتھی الخف و الحافر فاسلم تسلم اجعل لک ما تحت یدیک۔ اللہ رسول محمد
شروع خدا کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔اللّٰہ کے رسول محمد کی طرف سے ہَوذَہ بن علی کے نام۔ سلام اس پر جس نے ہدایت کی پیر وی کی۔ تجھے معلوم رہے کہ میرادین عنقریب اس حدتک پہنچے گاجہاں تک کہ اونٹ اور خچر جاتے ہیں تو اسلام لا، سلامت رہے گا۔میں تیر املک تجھ کو دے دوں گا۔ اللہ رسول محمد
جب حضرت سَلِیط بن عمر وعامری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ یہ نامہ مبارک ہَوذَہ کے پاس لے گئے تو اُر ُکونِ ( 1) دمشق جو اُمر ائے نصاریٰ میں سے تھا اس وقت حاضر تھا۔ ہَوذَہ نے مضمون نامہ بیان کر کے اس سے آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی نسبت دریافت کیا۔اُرکُون نے کہا: تم اس کی دعوت قبول کیوں نہیں کرتے؟ ہَوذَہ نے کہا: میں اپنی قوم کا بادشاہ ہوں اگر میں اس کا پیر وبن گیاتو ملک جا تا رہے گا ۔اُر ُکون نے کہا: خدا کی قسم! اگر تو اس کا پیرو بن جائے تو

وہ ضرور تیر املک تجھ کو دیدے گا۔ تیری بہبودی اس کے اتباع میں ہے۔ وہ بیشک نبی عربی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے جس کی بشارت حضرت عیسیٰ ابن مریم عَلَیْہِ السَّلَام نے دی ہے اور یہ بشارت ہمارے پاس انجیل میں موجود ہے۔ بایں ہمہ ہَوذَہ ایمان نہ لایا۔ ایک روایت میں ہے کہ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: ہَوذَہ ہلاک ہو گیا اور اس کا ملک جاتا رہا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ جب رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فتح مکہ سے واپس تشریف لائے تو حضرت جبرئیل عَلَیْہِ السَّلَام نے حاضر خدمت ہو کر خبر دی کہ ہَوذَہ مرگیا۔ (1 )

حارِث بن ابی شِمْر غَسَّانی  کو خط

{۶} … قیصر رُوم کی طرف سے حارِث بن ابی شِمْر غَسَّانی حد ود شام کا گور نر تھا، غَوطہ دمشق اس کا پایۂ تخت ( 2) تھا۔ اس کو یہ نامہ مبارک بھیجا گیا: بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم من محمد رسول اللّٰہ الی الحارث بن ابی شمرسلام علی من اتبع الھد ی وامن بہ وصدق فانی ادعوک الی ان تؤمن باللّٰہ وحدہ لا شریک لہ یبقی ملکک. اللہ رسول محمد
شروع خدا کا نام لے کر جو بڑا مہر بان نہایت رحم والا ہے۔ اللّٰہ کے رسول محمد کی طرف سے حارث بن ابی شمر کے نام۔ سلام اس پر جس نے ہدایت کی پیروی کی اور اس پر ایمان لایا اور تصدیق کی۔ میں تجھے اس بات کی طرف بلاتا ہوں کہ تو اللّٰہ وحدہ لا شریک پر ایمان لا ئے۔تیری حکومت قائم رہے گی۔ اللہ رسول محمد
حضرت شُجَاع بن وَہب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ یہ نامہ مبارک لے کر روانہ ہوئے۔ جب یہ دِمَشق پہنچے تو دیکھا کہ قیصر روم جوحِمْص سے بیت المقدس کو ایر انیوں پر فتح کے شکر انہ کے لئے آرہا تھا، اس کے استقبال کے لئے تیاریاں ہو رہی ہیں ۔ان کا بیان ہے (3 ) کہ میں نے حارث کے دروازے پر دوتین دن قیام کیامیں نے اس کے رومی دربان سے کہا

کہ میں حارث کی طرف رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا قاصد ہوں ۔ اس نے کہا کہ فلاں روزباریابی (1 ) ہو گی۔ وہ دربان جس کا نام مُرِّ ی تھا مجھ سے رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور آپ کی دعوت کا حال پوچھتا رہتا تھامیں بیان کر تا تو اس پر رقت طاری ہو جاتی یہاں تک کہ روپڑتا اور کہتا کہ میں نے انجیل میں پڑھا ہے۔ بِعَیْنِہٖ اسی نبی عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی صفت اس میں مذکور ہے۔ میرا خیال تھا کہ وہ شام میں ظاہر ہوگا مگر میں دیکھتا ہوں کہ وہ زمین عرب میں ظاہر ہوا ہے۔ میں اس پر ایمان لا تا ہوں اور اس کی تصدیق کرتا ہوں ۔ مجھے اند یشہ ہے کہ حارث مجھے قتل کر دے گا آخرکار حارِث ایک روز دربار میں تاج پہن کر تخت پر بیٹھا، میں بار یاب ہواتو میں نے رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا نامہ مبارک پیش کیا۔ اس نے پڑھ کر پھینک دیا کہنے لگا: مجھ سے میرا ملک کون چھین سکتا ہے؟ وہ خواہ یمن میں ہو میں اس کے پاس جاتا ہوں اور حکم دیا کہ فوج تیار ہو جائے اور گھوڑ وں کی نعل بند ی کی جائے۔ پھر مجھ سے کہا: تم جو کچھ دیکھ رہے ہو اس کو بتا دینا۔ حارث نے میری آمد کا حال قیصر کو لکھا۔ وہ عرضدا شت قیصر کو بیت المقدس میں ملی۔ دَحیہ کلبی ابھی وہاں تھے۔ جب قیصر نے حارث کا خط پڑھا تو اسے لکھا کہ اس مدعی نبوت کے پاس مت جاؤاس سے دور رہو اور مجھ سے بیت المقدس میں ملو۔ یہ جواب میرے ایا م قیام میں آگیا۔ حار ث نے مجھے بلا کر دریافت کیا کہ کب جانے کا ارادہ ہے؟ میں نے کہاکہ کل۔ یہ سن کر اس نے حکم دیا کہ مجھے سو مثقال سو نا دے دیا جائے۔ حضرت مُرِّ ی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے نفقہ ولباس سے میری مدد کی اور کہا کہ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے بعد سلام عرض کر دینا کہ میں آپ کے دین کا پیرو ہوں ۔ میں نے رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر حارث کا حال عرض کیاتو فرمایا کہ اس کا ملک جا تا رہا اور حضرت مُرِّ ی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا حال عرض کیاتو فرمایا کہ وہ سچا ہے۔ (2 )

مُنذِر بن ساویٰ حاکم بحرین کو خط

{۷} … ۸ھمیں رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت علابن الحضرمی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے ہاتھ مُنذِر بن ساویٰ حاکم بحرین کے نام ایک تبلیغی خط بھیجاجس کے مطالعہ سے منذر کے ساتھ وہاں کے تمام عرب اور بعض عجم ایمان لائے مگر یہود و مجوس ایمان نہ لائے۔ حضرت مُنذِر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے بذریعہ عرضد اشت آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ان حالات کی اطلاع دی اور دریافت کیا کہ کیا کیا جائے؟ اس پر حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام

نے مُنْذِر کو یہ خط لکھا : بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم من محمد رسول اللّٰہ الی المنذر بن ساوی سلام علیک فانی احمد اللّٰہ الیک الذی لا الہ الا ھو واشھد ان لا الہ الا اللّٰہ وان محمد اً عبدہ ورسولہ اما بعد فانی اذکر اللّٰہ عزوجل فانہ من ینصح فانما ینصح لنفسہ وانہ من یطع رسلی ویتبع امرھم فقد اطاعنی ومن نصح لھم فقد نصح لی وان رسلی قد اثنوا علیک خیرا وانی قد شفعتک فی قومک فاترک للمسلمین ما اسلموا علیہ وعفوت عن اھل الذنوب فاقبل منھم وانک مھما تصلح فلن نعز لک عن عملک و من اقام علی یھودیتہ او مجوسیتہ فعلیہ الجزیۃ. اللہ رسول محمد (1 ) شروع خدا کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔ اللّٰہ کے رسول محمد کی طرف سے مُنذِر بن ساویٰ کے نام۔ سلام تجھ پر میں تیرے پاس خدا کا شکر کر تا ہوں کہ جس کے سوا کوئی معبود بحق نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ اللّٰہ کے سوا کوئی معبود بحق نہیں اور یہ کہ محمد اللّٰہ کا بندہ اور رسول ہے، اما بعد! میں تجھے یاد دلاتا ہوں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ (کے احکام ) بیشک جو خیر خواہی کر تا ہے وہ اپنے لئے کرتا ہے اور جو میرے قاصدوں کی اطاعت کرے اور ان کا حکم مانے، اس نے بے شبہ میری اطاعت کی اور جو ان کی خیر خواہی کرے اس نے بیشک میری خیر خواہی کی۔ میرے قاصدوں نے تمہاری تعریف کی ہے میں نے تمہاری سفارش تمہاری قوم کے بارے میں قبول کی۔ پس مسلمانوں

کے لئے چھوڑدو وہ (مال وغیرہ ) جس پر وہ مسلمان ہو ئے۔ میں نے گنہگاروں کو (پہلے گناہ ) معاف کر دیئے تم ان سے (اسلام ) قبول کرو۔ جب تک تم کا م اچھا کر تے رہو گے ہم تم کو تمہارے عہدے سے معزول نہ کریں گے اور جو شخص یہود یت یا مجوسیت پر قائم رہے اس پر جزیہ ہے۔ اللہ رسول محمد
یہ اصل نامۂ مبارک بھی ایک فرانسیسی سیاح نے اَطراف بلادِ مصرسے ایک قِبطی راہب سے خرید کر سلطان عبدالمجید خاں مر حوم کی خدمت میں بطور ہدیہ پیش کیا تھا۔اب وہ خزانہ شاہی میں محفوظ ہے اس کے اخیر میں یہ مہر ہے:
اللہ رسول محمد

 

وَالیانِ عُمَان کو خط

{۸} …ذیقعدہ ۸ھ میں وَالیانِ عُمَان کے نام یہ نامہ مبارک لکھا گیا: بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم من محمد بن عبد اللّٰہ الی جیفر و عبد ابنی الجلندی سلام علی من ا تبع الھدی اما بعد فانی ادعوکما بدعایۃ الاسلام اسلما تسلما فانی رسول اللّٰہ الی الناس کافۃ لانذر من کان حیا و یحق القول علی الکفرین وانکما ان اقررتما بالاسلام ولیتکما مکانکما وان ابیتما ان تقرّا بالاسلام فان ملککما زائل عنکما و خیلی تحل بساحتکما و تظھر نبوتی علی ملککما ۔ اللہ رسول محمد شروع خدا کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔ محمد بن عبد اللّٰہ کی طرف سے جَیفَر وعبد پسر ان جُلَنْدی کے نام۔ سلام اس پر جس نے ہدایت کی پیر وی کی۔ امابعد میں تم دونوں کو دعوت اسلام کی طرف بلا تا ہوں ۔ تم اسلام لاؤ سلامت رہو گے کیونکہ میں تمام لوگوں کی طرف اللّٰہ کا رسول ہوں تا کہ ڈراؤں اس کو جو زندہ ہو اور کافروں پر حُجت ثابت ہو جائے۔ اگر تم اسلام کا اقرار کر لو تو میں تم کو تمہارا
ملک دے دوں گااگر تم اقرار اسلام سے انکار کروتو تمہارا ملک تمہارے ہاتھ سے نکل جا ئے گا اور میرے سوار تمہارے مکانات کی فضا میں اتریں گے اور میری نبوت تمہارے ملک پر غالب آئے گی۔ اللہ رسول محمد
یہ نامہ مبارک حضرت عمر وبن العاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکے ہاتھ ار سال کیا گیا۔ جَیفَروعبد دونوں ایمان لائے

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!