واصل باللہ نوجوان:

واصل باللہ نوجوان:

حضرت سیِّدُنا منصور بن عمار رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ ارشاد فرماتے ہیں کہ میں نے عراق کے ایک شہر میں ایسا نصیحت بھرا بیان کیا کہ جس سے پتھر دل بھی پگھل جاتے اور جگر پاش پاش ہو جاتے، لیکن میری اس محفل میں کسی نے آنسو کا ایک قطرہ تک نہ بہایا، اور ایسی بات نہیں تھی کہ میری تقریر ان کے کانوں کے راستے دلوں میں نہ اُتررہی ہو۔ میری گفتگو کی سحر انگیزی نے دلوں کو دم بخود کر رکھاتھا ،اور لوگوں کی ارواح جلوۂ محبوب میں کھوئی ہوئی تھیں، اچانک میں نے صاف ستھرے لباس میں ملبوس ایک خوبصورت نوجوان دیکھا، اس نے کھڑے ہو کر چیخ ماری، پھر گھبراکر بیٹھ گیا،لیکن اس کی اس چیخ سے میرے بیان میں خلل آ گیا۔ میں اپنے منبر سے نیچے اُتر آیا، اور اس کے مدہوشی سے افاقہ پانے تک انتظار کرتا رہا۔ جب وہ ہوش میں آیا تو میں نے اس کے پاس جا کر پوچھا:” اے میرے محترم ! آپ کے وجدان کے گھوڑے کہاں تک رسائی پا چکے ہیں(یعنی آپ قربِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ کی کس منزل تک پہنچ چکے ہیں)؟” تو اس نے جواب دیا: ”میرے وجدوسرور کے گھوڑوں نے اپنا مقصود پا لیا۔”میں نے پوچھا :”آپ کو وصالِ بارگاہِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ کی یہ دولت کیسے نصیب ہوئی ؟” تو اس نے جواب دیا:” طویل مشقت و تھکاوٹ کے بعد میں نے اس راحت ووصال کو پایا ۔”میں نے پوچھا :” کس شرط پر آپ نے اپنا مقصود پایا؟”جواب ملا: ”مجھے اپنے مقصود کی انتہائی طلب کی وجہ سے کامیابی ملی ۔”میں نے پوچھا:” کیاآپ کا گزر بارگاہِ قرب سے بھی ہوا؟” جواب ملا:”ہاں، وہی میرے حصولِ فیض کی جگہ ہے۔”میں نے پوچھا:” کیاآپ نے صاحب ِ وقار مَردوں کا مشاہدہ کرلیا اوران کے قرب میں آپ کی جھجھک ختم ہوگئی ؟” جواب ملا: ”اے ابن عمار! بغیر ہچکچائے آگے بڑھنا ہی میرا طریقہ ہے؟” میں نے پوچھا:”پھر آپ کس وسیلے سے بارگاہِ قرب تک پہنچے؟” جواب ملا: میں درِرحمت پر کھڑا رہا اور اس کے آداب کو ہر لمحہ ملحوظِ خاطر رکھا۔ جب اللہ ربُّ العالمین عَزَّوَجَلَّ نے میرے انتہائی شوق کو ملاحظہ فرمایاتو مجھ پر کَرَم کے بادل برساتے ہوئے اپنی رحمت کے دروازے کھول دئیے،اور سارے حجابات اٹھا دئیے اور مجھے ندا دی: ”تمام حجابات اُٹھے ہوئے ہیں، لہٰذا تم میرے دِیدارسے کیف وسرورحاصل کر لو۔”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *