Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

نکاح کے لغوی اور اصطلاحی معنی کیا ہیں؟ اور نکاح کا شرعی حکم کیا ہے؟

🕋 نکاح کے متعلق ارشاد باری تعالٰی ہے:

🌸”تو نکاح میں لاؤ جو عورتیں تمہیں خوش آئیں دو دو اور تین تین اور چار چار ، پھر اگر ڈرو کہ دو بیویوں کو برابر نہ رکھ سکو گے تو ایک ہی کرو یا کنیزیں جن کے تم مالک ہو ،یہ اس سے ذیادہ قریب ہے کہ تم سے ظلم نہ ہو۔ (النساء :3)🕌
☚نکاح کے لغوی معنی: جذب ہونا ، ایک شے کا دوسری شے سے مل جانا✳️
☚اصطلاحی معنی: نکاح اس عقد کو کہتے ہیں جو اس لیے مقرر کیا گیا ہو کہ مرد کو عورت سے جماع وغیرہ حلال ہو جائے۔ (بہارِ شریعت)

🌳نکاح کا شرعی حکم🌳 👇

👈 اعتدال کی حالت میں یعنی شہوت کا بہت ذیادہ غلبہ نہ ہو اور مہر و نفقہ پر قدرت بھی ہو ، تو نکاح سنتِ مؤکدہ ہے کہ نکاح نہ کرنے پر اڑا رہنا گناہ ہے ، اور اگر حرام سے بچنا یا اتباعِ سنت یا اولاد حاصل کرنا مقصود ہے تو ثواب بھی پائے گا ، اور اگر محض لذت یا قضائے شہوت منظور ہو تو ثواب نہیں۔ (بہارِ شریعت)💜
👈 شہوت کا غلبہ ہے کہ اگر نکاح نہ کرے تو معاذ اللہ زِنا کا اندیشہ ہے ، اور مہر و نفقہ کی قدرت رکھتا ہو تو اس صورت میں نکاح واجب ہے۔ اسی طرح اگر اجنبی عورت کی طرف نگاہ اُٹھنے سے روک نہیں سکتا یا معاذ اللہ ہاتھ سے کام لینا پڑے گا تو نکاح واجب ہے۔ (درمختار)❤️
👈گر یہ یقین ہو کہ نکاح نہ کرنے میں زنا واقع ہو جائے گا تو فرض ہے کہ نکاح کرے۔ (درمختار)
👈اگر یہ اندیشہ ہے کہ نکاح کرے گا تو نان و نفقہ نہ دے سکے گا یا جو ضروری باتیں ہیں ان کو پورا نہ کر سکے گا تو مکروہ ہے ، اور اگر ان باتوں کا یقین ہو کہ ایسا نہیں کر سکے گا ، تو نکاح کرنا حرام ہے مگر نکاح بہرِحال ہو جائے گا۔ (بہارِ شریعت)📚

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!