نکاح علی و فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہما

نکاح علی و فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہما
حمد ِ باری تعالیٰ :

Advertisement

تمام تعریفیں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے ہیں جوعظیم،محمود، کریم ،مقصود،قدیم اورموجودہے ۔ جس نے اہلِ حقیقت کے لئے آسمانِ توفیق کے کناروں سے سعادت کے ستارے ظاہر فرمائے اور آراستہ وجودکودرجۂ شہودکے آئینوں میں چمکایا۔ توجس نے مطلوب کوسمجھا و ہ مقصود کو پہنچا۔ اس نے موسِمِ بہارکودرختوں کے نئے پتوں کے ذریعے مزین کیاکہ وہ خوبصورت وعمدہ پوشاک میں ، نرم ونازک ٹہنیوں کے ساتھ جھومتے ہیں۔اوران کے پتوں میں خوبصورت آواز والے پرندوں کو درختوں کے منبروں پر ٹھہرایاکہ سحرکے وقت مالک ومعبود عَزَّوَجَلَّ کی حمد وثنا کرتے ہیں۔اُس نے عقل کو جملہ دلائل میں سے انسانی اعضاء اور آنکھوں پر حاکم بنایا اورعقل نے انہیں اللہ تعالیٰ کی کا ریگری کے عجائبات میں غوروفکرکاحکم دیا۔چنانچہ،انہوں نے انگور اور گندم کے دانوں کے خوشوں کامشاہدہ کیاتوغوروفکرکے بعدبنانے والے کی قدرت پر حیرت زدہ ہیں کہ کس طرح اُس نے سرکش ومنکرین (کو سمجھا نے ) کے لئے مختلف موجودات کوپیدافرمایااورقطعی دلائل قائم فرمائے۔
پاک ہے وہ ذات جس نے سخت ومضبوط چٹانوں سے نہریں جاری فرمائيں، درختوں سے پھولوں کو ظاہرکیااور لکڑی سے پھلوں کونکالا ۔ اس نے آسمان کو چاند وسورج سے آراستہ کیا۔بطحائے مکہ کوحضرت ابوبکرصدیق وعمرفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہماسے فضیلت بخشی۔خاتونِ جنت حضرت سیِّدَتُنافاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہاکوحضرات حسنینِ کریمین رضی اللہ تعالیٰ عنہماسے نوازا اور اِن کے ناناجان ، رحمتِ عالمیان ،سرورِذیشان صلّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلَّم کو سب سے زیادہ عزت وشرف عطا فرمایا۔کتنے ہی اس کے مشتاق، حسرت ویاس کے پیکربنے ہوئے ہیں کہ اس کے شوق میں اعلیٰ نسبوں نے جفاکش ٹانگوں کے ذریعے انتھک کوششیں کیں ۔پس انہوں نے ہجرورکاوٹ کے جنگل کوطے کرلیاپھرجب وہ اس مجلس میں پہنچ جاتے ہیں توتُواُنہیں جھومتا ہوا دیکھے گااورجب کوئی حُدی خواں ان کے سامنے حمد ِالٰہی عَزَّوَجَلَّ کانغمہ گُنگُناتاہے توان کے رخساروں پر آنسو رَواں ہو جاتے ہیں۔

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!