Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

نعرۂ تکبیرسے زلزلہ

نعرۂ تکبیرسے زلزلہ

جنگ قادسیہ میں فتح حاصل ہوجانے کے بعد حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ”حمص”پرچڑھائی کی یہ رومیوں کا بہت ہی مضبوط قلعہ تھا۔ بادشاہ روم نے اس شہر کی حفاظت کے لیے بہت ہی زبردست فوج بھیجی تھی مگر جب حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس شہر کے قریب پہنچے تو آپ نے اپنے لشکرکو حکم فرمایا: لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاللہُ اَکْبَرُ کا بلند آواز سے نعرہ ماریں چنانچہ جب پوری فوج نے ایک ساتھ نعرہ ماراتو اس شہر میں اس زور کا زلزلہ آگیا کہ تمام عمارتیں ہلنے لگیں ۔ پھر دوسری مرتبہ نعرہ مارا تو قلعہ اورشہر کی دیواریں گرنے لگیں اوررومی فوج پر ایسی دہشت سوار ہوگئی کہ وہ ہتھیار بھی نہ اٹھا سکی بلکہ ایک گراں قدر رقم بطور جزیہ کے دے کر رومیوں نے مسلمانوں سے صلح کرلی۔ (1)

(ازالۃ الخفاء، مقصد۲،ص۵۹)

 

تبصرہ

کلمہ طیبہ اورتکبیرکا نعرہ ہر شخص لگا سکتاہے مگر تجربہ یہ ہے کہ اگر اس زمانے کے لاکھوں مسلمان بھی ایک ساتھ مل کر یہ نعرہ ماریں تو گھاس کا ایک پتہ اوربھس کا ایک تنکا بھی نہیں ہل سکتامگر صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے اس نعرہ سے پتھروں کی چٹانوں سے بنے ہوئے محلات اورقلعے چکنا چورہوکر زمین پر بکھرگئے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ اگرچہ کلمہ تکبیرکے الفاظ ومعانی میں تو ذرہ برابر بھی فرق نہیں ہے لیکن اللہ والوں کی زبانوں ، آوازوں اورلہجوں میں اورہماری زبانوں ، آوازوں اورلہجوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے ۔ کہاں وہ اللہ عزوجل کے نیک اورپاکبازبندے؟اورکہاں ہم دلوں کے میلے اور زبانوں کے گندے ۔اس سے پتہ چلتاہے کہ ایک ہی آیت ، ایک ہی دعا ، ایک اللہ والا پڑھ دے تو اس کی تاثیر کچھ اور ہوتی ہے اور ایک گناہوں والا پڑھ دے تو اس کی تاثیر کچھ اورہوتی ہے ۔ ڈاکٹر محمد اقبال نے اسی مضمون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کیا خوب کہا ہے ؎

پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں
کرگس کا جہاں اورہے شاہیں کا جہاں اور
الفاظ ومعانی میں تفاوت نہیں لیکن
ملا کی اذاں اور مجاہد کی اذاں اور
(بال جبریل)

بہر حال اس نکتہ سے ہرگز ہرگز غافل نہیں رہنا چاہے کہ اولیاء کرام اورعام انسانوں میں بہت بڑا فرق ہے جو لوگ صرف پانچ وقت نماز پڑھ کر اولیاء کرام کے
ساتھ برابری کا دعو یٰ کرتے پھرتے ہیں ۔ خدا کی قسم! یہ لوگ گمراہی کے اتنے گہرے اور اس قدر اندھیرے غارمیں گر پڑے ہیں کہ انہیں نہ تو فیق الٰہی کی سیڑھی مل سکتی ہے نہ وہاں تک آفتاب ہدایت کی روشنی پہنچ سکتی ہے ۔ خداوند کریم ان گمراہوں کے قرب اور ان کے مکروفریب کے کالے جادو سے ہر مسلمان کو محفوظ رکھے ۔ (آمین )

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!