معجزہ اورکرامت

 

معجزہ اورکرامت

اوپر ذکر کی ہوئی تفصیل سے معلوم ہوگیا کہ معجزہ اورکرامت دونوں کی حقیقت ایک ہی ہے۔ بس دونوں میں فرق صرف اس قد رہے کہ خلافِ عادت وتعجب خیز چیزیں اگر کسی نبی کی طرف سے ظہور پذیرہوں تو یہ ”معجزہ ”کہلائیں گی اوراگر ان چیزوں کا ظہور کسی ولی کی جانب سے ہو توان کو ”کرامت”کہا جائے گا۔ چنانچہ حضرت امام یافعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنی کتاب ”نشرالمحاسن الغالیہ”میں تحریر فرمایا ہے کہ امام الحرمین و ابوبکر باقلانی وابوبکر بن فورک وحجۃ الاسلام امام غزالی وامام فخرالدین رازی وناصر الدین بیضاوی ومحمد بن عبدالملک سلمی وناصرالدین طوسی وحافظ الدین نسفی و ابوالقاسم قشیری ان تمام اکابرعلماء اہل سنت ومحققین ملت نے متفقہ طور پر یہی تحریرفرمایا کہ معجزہ اورکرامت میں یہی فرق ہے کہ خوارقِ عادات کا صدوروظہور کسی نبی کی طرف سے ہوتواس کو ”معجزہ” کہا جائے گااوراگرکسی ولی کی طرف سے ہوتو اس کو ”کرامت” کے نام سے یاد کیا جائے گا حضرت اما م یافعی نے ان دس اماموں کے نام اوران کی کتابوں کی عبارتیں نقل فرمانے کے بعد یہ ارشادفرمایا کہ ان اماموں کے علاوہ دوسرے بزرگان ملت نے بھی یہی فرمایا ہے ، لیکن علم وفضل اورتحقیق وتدقیق کے ان پہاڑوں کے نام ذکر کردینے کے بعد مزید محققین کے ناموں کے ذکر کی کوئی ضرورت نہیں۔ (2)

(حجۃ اللہ علی العالمین ج۲،ص۸۴۹)

 

2۔۔۔۔۔۔حجۃ اللہ علی العالمین ، الخاتمۃ فی اثبات کرامات الاولیاء…الخ ، المطلب الاول فی تجویز الکرامۃ للاولیاء …الخ ، ص۶۰۴

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *