مسجد ضِرار

مسجد ضِرار

منافق ہمیشہ اس امر کے درپے تھے کہ کسی طرح مسلمانوں میں پھوٹ ڈال دیں ۔ اس غرض سے انہوں نے اپنی علیحدہ مسجد بنا نے کا ار ادہ کیا۔ ابو عامر فاسق جو انصار میں سے تھا عیسا ئی ہوگیا تھا۔ وہ غزوۂ خند ق تک آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے لڑتا رہا۔ جب ہو ازِ ن بھاگ گئے تو وہ شام میں چلا گیا تھااس نے وہاں سے ان منافقین کو کہلا بھیجا کہ تم مسجد قباء کے متصل اپنی مسجد بنا لو اور سامان حرب تیار کر لو۔ میں قیصر روم کے پاس جا تا ہوں اور رومیوں کی فو جیں لا تا ہوں تا کہ محمد اور اس کے اصحاب کو ملک سے نکال دیں ۔ چنانچہ منافقوں نے مسجد قباء کے پاس ایک مسجد بنا ئی اور رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں آکر درخواست کی کہ ہم نے بیماروں اور معذوروں کے لئے ایک مسجد بنائی ہے ۔ آپ اس میں قدم رنجہ فرما کر اس میں نماز پڑھا ئیں اور دعائے بر کت فرمائیں ۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ میں اب غز وۂ تبوک پر جا رہا ہوں واپس آکر ان شَا ٓء اللّٰہ تَعَالٰی حاضر ہوں گا۔ چنانچہ جب آپ مہم تبوک سے واپس ہو کر مو ضع ذُو اَوَان میں پہنچے جو مدینہ طیبہ سے ایک گھنٹہ کی راہ ہے تو یہ آیتیں نازل ہوئیں :
وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَّ كُفْرًا وَّ تَفْرِیْقًۢا بَیْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اِرْصَادًا لِّمَنْ حَارَبَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ مِنْ قَبْلُؕ-وَ لَیَحْلِفُنَّ اِنْ اَرَدْنَاۤ اِلَّا الْحُسْنٰىؕ-وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ (۱۰۷) لَا تَقُمْ فِیْهِ اَبَدًاؕ-لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَى التَّقْوٰى مِنْ اَوَّلِ یَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِیْهِؕ-فِیْهِ رِجَالٌ یُّحِبُّوْنَ اَنْ
اور وہ لوگ جنہوں نے ایک مسجد بنا ئی ضرر پہنچا نے اور کفر کرنے اور مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنے کے لئے اور کمین گاہ بنا نے کیلئے اس شخص کے واسطے جو پہلے سے خدا اور رسول سے لڑرہا ہے اور البتہ وہ ضرور قسمیں کھائیں گے کہ ہم نے تو بھلائی ہی چاہی تھی۔ اللّٰہ گواہ ہے کہ وہ لوگ جھوٹے ہیں تو اس مسجد میں ہر گز کھڑا نہ ہو نا البتہ وہ مسجد جسکی بنیاد پہلے دن سے پر ہیزگاری پر رکھی گئی ہے اس بات کی زیادہ
یَّتَطَهَّرُوْاؕ-وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُطَّهِّرِیْنَ (۱۰۸) (توبہ، ع۱۳)
مستحق ہے کہ تو اس میں کھڑا ہو۔ اس میں ایسے مرد ہیں جو پاک رہنے کو دوست رکھتے ہیں اور اللّٰہ پاک رہنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ (1 )
پس آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت مالک بن دَخْشَم اور مَعْن بن عَدی عَجْلانی کو حکم دیاکہ جاکراس مسجدضرارکو گرادواور جلادو، چنانچہ ایسا ہی کیاگیا۔ ( 2) اس سال مختلف قبائل کے وفود اس کثرت سے دربار رسالت میں حاضر ہوئے کہ اسے سال وفود کہا جاتا ہے۔ یہ وفودبالعموم نعمت ِایمان سے مالا مال ہوکر واپس گئے۔ اس مختصر میں ان کی تفصیل کی گنجا ئش نہیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *