مسئلہ خلق افعال

مسئلہ خلق افعال
الحمد اللہ رب العالمین والصلاۃ و السلام علی حبیبہ و رسولہ
سیدنا محمد وآلہ واصحا بہ اجمعین ۔
اہل علم پرپوشیدہ نہیں کہ مسئلہ خلق افعال ایک معرکہ آرامسئلہ ہے اوراس کے سمجھنے میں بڑی بڑی دشواریاں پیش آتی ہیں ،چونکہ شرع شریف میں یہ مسئلہ مہتم بالشان ہے ،اور اکثر حضرات اس میں ایسی گفتگو کر تے ہیں کہ شریعت سے دور جا پڑتے ہیں ،ا س لئے یہ چند اوراق بغرض خیر خواہی اہل اسلام لکھے جا تے ہیں،ناظرین سے توقع ہے کہ تا و قتیکہ اول سے آخر تک بنظر غامض اس کو ملا حظہ نہ فرما لیں اعتراض کی فکر میں مشغول نہ ہوں
وما علینا الا البلاغ
علماء نے لکھا ہے کہ جب ابتداء اً کسی کام کے کرنے کا خیال پیدا ہوتا ہے تو اس کو ’’ہاجس ‘‘ کہتے ہیں ۔اور تھوڑا سا قرار و قیام ہوجانے پر اس کا نام ’’خاطر ‘‘ہو جاتا ہے ۔پھر اگر اس کام کے کرنے یا نہ کرنے میں ترددہوتو اس کو ’’حدیث نفس ‘‘ کہتے ہیں۔او راگر کرنے کی جانب کو ترجیح ہو جائے تو وہ ’’ہم ‘‘ہے ۔ او رجب پورا قصد کرکے وہ کام شروع کر دیا جائے تو اس کو ’’عزم ‘‘کہتے ہیں ۔
یہاں تک تو مدارج اس خیال کے ہوئے جو ابتداء اً دل میں پیدا ہو تا ہے۔اس کے بعد فعل جس قسم کا ہو (خواہ جوارح سے متعلق ہو یا دل سے ) شروع ہو جا تا ہے ،اورجب تک وہ کام ختم نہ ہو قصد باقی رہتا ہے ۔ اگر چہ بظاہر اس خیال ابتدائی
کے ساتھ فعل کو چنداں مناسبت نہیںمگر یہ ظاہر ہے کہ دونوں میں علم و معلوم کی نسبت ہے ، اور دونوں آدمی کے حالات ہیں ،صرف فرق یہ ہے کہ وہ کیفیت علمیہ ہے اوریہ حالتِ جوارح وغیرہ ،اوروہ بمنزلہ ء تخم ہے اور یہ بمنزلہء درخت ۔جس طرح درخت بغیر تخم کے نہیں ہوسکتا اسی فعل اختیاری بغیر اس خیال کے نہیں ہوسکتا ،اور جیسے تخم بغیر وجود شرائط کے درخت نہیں بنتا ویسے ہی وہ خیال بغیر وجود شرائط کے فعل کی صورت میں ظاہر نہیں ہوتا ۔ اگر چہ بظاہر تخم وشجر میں کوئی مناسبت نہیںہے ،اس لئے کہ وہ خشک ہے اور یہ تر و تازہ ،وہ جماد ہے اوریہ نامی ،اس میں رگ و ریشہ وبرگ نہیں ہے اور اِس میں سب کچھ ہے ،اوریہ بدرنگ بے رونق اور بے مزہ ہے اور یہ خوش رنگ خوش ذائقہ اور خوشبودار ہے با وجود اس کے عقل گواہی دیتی ہے کہ وہی تخم خشک بسبب وجود شرائط کے درخت ہو رہا ہے اسی طرح اگر غور کیا جائے تو وہی خیال اولیںجو درجہ ء ’’ہاجس‘‘ میں تھا بسبب وجود شرائط کے صورتیں بدلتا ہوا گویا فعل بن رہا ہے ۔
اب اس سلسلے پر غور کرنا چاہئے کہ ابتدائے وجودِ خیال سے انہائے وجودِ فعل تک آدمی کے اختیارات اورقوت کو کہاں تک دخل ہے ؟ یہ توہر شخص جانتا ہے کہ ابتداء اً جو خیال پیدا ہوتا ہے وہ اختیار سے خارج ہے ، اس لئے کہ جب کوئی نیا خیال آتا ہے تو اچانک آتا ہے ،بسااوقات آدمی چاہتا ہے کہ کوئی خیال ہی نہ آنے پائے مگر وہ آہی جا تا ہے ۔اس سے ظاہر ہے کہ خیالات کے باب میںآدمی کس قدر مجبور ہے ۔
یہ وجدانی دلیل ہے تھی ۔ عقلاً اس کا ثبوت یہ ہے کہ وہ خیالِ ابتدائی قبلِ وجودممکن ہے ،یعنی نہ اس کا وجود ضروری ہے نہ عدم ۔اور یہ مسلم ہے کہ ممکن جب تک بسبب ترجیح جانب وجود کے واجب باالغیر نہیں ہوتا وجود میں نہیں آسکتا ۔پھریہ بھی بدیہی ہے کہ ممکن سے واجب صادر نہیں ہوسکتا ،کیونکہ علت کا مرتبہ معلول سے ارفع ہو تا ہے ، اسی وجہ سے ممکن نہیں کہ اس خیال کا وجود ا س شخص سے یا کسی دوسرے ممکن سے ہوسکے ۔ تولازمی ہوا کہ وہ اپنے وجود میں مثل اور ممکنات کے واجب تعالیٰ کا محتاج ہواور جب تک حق تعالیٰ اس کو وجود عطاء نہ فرمائے وہ موجود نہ ہوسکے ۔
اس واضح دلیل اس دعوے پر یہ ہے کہ اگر اس ابتدائی خیال کوآدمی اپنے اختیار سے پیدا کرتا ہو تا تو چاہئے تھا کہ پہلے ا س خیال کا خیال بھی آتا، کیونکہ جو کام اختیار سے کیا جا تا ہے اس کو پہلے سے جان لینا ضروری ہے تاکہ وہ سونچ اور سمجھ کر کیا جائے ۔ پھر وہ خیالِ خیال بھی اختیار ی ہو تا تو اس کا بھی خیال پہلے ہی سے ہونا چاہئے،علیٰ ہذاالقیاس یہ سلسلہ عیر متناہی جا ری ہو جائے گا جو باطل ہے ، کوئی عاقل یہ تسلیم نہیں کرسکتا کہ ایک خیال کے واسطے اتنے

خیالات یاچند ہی خیالات پہلے ہی سے موجود ہوجا تے ہوں ۔ اس سے ثابت ہوا کہ جو خیال آتا ہے وہ بلا اختیار آتا ہے ۔
غرض ان دلائل سے ثابت ہوا کہ ’’ہاجس ‘‘ محض بخلق ِ خالق ہے ۔ علامہ صدر الدین شیرازی نے اسفار اربعہ میں محققین حکماء کا قول نقل کیا ہے کہ قو ل المحققین منہم ان المؤ ثر فی الجمیع ہو اللہ بالحقیقۃ ۔ پھر اس کا ثابت وباقی رکھنا بھی خدا ے تعالیٰ ہی کا کام ہے ،کیونکہ آدمی کسی چیز کو معدوم محض نہیں کر سکتا ،البتہ کسی چیز کی صورت بدل سکتا ہے ۔جب اِعدام پرآدمی کی قدرت نہ ہوئی تووجود اس کا بحفظِ الٰہی اپنی حالت اصلی پر باقی رہے گا جب تک خدائے تعالیٰ ا س کو خود معدوم نہ کرے ۔اور جب یہ معلوم ہوگیا کہ ہر وقت کے ہوا جس صرف خدا ئے تعالیٰ کی خلق سے ہیں تو ممکن تھا کہ جب تک حدیث نفس کی نوبت پہنونچے کوئی دوسرا ہا جس پیدا ہو جا تا جس سے وہا ںتک کی نوبت ہی نہ پہونچتی ۔ اس ہاجس کو اس درجہ تک نشو نما دینا بھی خدا ہی کا کام ہوا ۔ ا سکے بعد جب تردد کی نوبت پہونچتی ہے جو حدیث نفس ہے ،اس کی کیفیت یہ ہے کہ کبھی تو فعل کی جانب راحج ہو جا تی ہے اور کبھی ترک کی۔اگر چہ یہ دونوں کیفیتوں کے مجموعے کا نام ’’حدیث نفس ‘‘ ہے مگر علیحدہ علیحدہ دونوں جانبوں کو دیکھئے تو وہاں بھی وہی ہاجس کی سی کیفیت ہے کہ یکایک کبھی فعل کی ترجیح ہو جا تی ہے ،پھر ترک کی ،پھر فعل کی ۔ہر ایک کیفیت کا حدوث بلا اختیار ہو تا ہے جس کی خلق بحسب دلائل سابقہ حق تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے ۔ گومنشاء اس کا ہر جانب کے منافع و مضار کا خیال ہو تا ہے مگر اس خیال کی بھی وہی کیفیت ہے جو ہاجس کی تھی ، کیونکہ جب منافع و مضار دونوں اس میں ہو ںتوپہلے دونوں میں سے کسی ایک کے لے مرجح چاہئے اور وہ آدمی نہیں ہوسکتا ورنہ تسلسل لازم آئے گا ،جس کاحال اوپر گزرا ۔اس سے معلوم ہوا کہ وہ خیال نفع یا ضرر جو حدیث نفس میں پہلے آیا وہ بھی مثل ہاجس کے بہ خلق الٰہی ہوگا ،اس طرح دوسرا خیاسل پھر اس کے بعدہم و عزم پیدا ہو تے ہیں وہ بھی ان ہی دلائل سے مخلوق خالق ہیں کیونکہ ان کاوجود بھی حادث ہے ۔ الحاصل یہ تمام سلسلہ عزم و قصد تک بخلق خالق ہونا دلائل عقلیہ و نقلیہ سے ثابت ہے ۔
پھر عزم کے متصل فعل شروع ہوتا ہے ، اس کی کیفیت حکماء کے پاس اس طرح ہے جیسا کہ شیخ نے قانون میں لکھا ہے :
حرکت اردای جو اعضاء سے متعلق ہے اس کی تکمیل ا س وقت
سے ہو تی ہے جو دماغ سے بواسطۂ اعصاب اعضاء میں پہو نچتی ہے
اس کی صورت یہ ہے کہ عضلات جو اعصاب اور ربا طات وغیرہ
پر مشتمل ہیں جب سمٹ جا تے ہیں تو وتر( جو رباط وعصب سے
ملتمٔ او راعضاء میں نفود کیے ہوئے ہے ) کھنچ جا تا ہے ،جس سے
اعضاء بھی کھنچ جا تے ہیں ،اورجب عضلہ منبسط ہو تا ہے تو وتر
ڈھیلا ہو جا تا ہے اور عضو دور ہوجا تا ہے ۔
اس تقریر میں معلوم ہو اکہ نفس ادراک کے بعد کسی کام کا ارداہ کر تا ہے تو عضلات کو جو جسم آدمی میں پانچسو انتیس( ۵۲۹) ہیں کشش وغیرہ دے کر کسی عصبِ خاص کے ذریعے سے جو ستہتر (۷۷)ہیں جس عضو کو چاہتا ہے خاص حرکت دیتا ہے جس سے فعلِ مطلوب وقوع میںآتا ہے ۔
یہاں یہ امر قابل غور ہے کہ نفس کو سرسے پائوں تک جس عضو کو حرکت دینا ہو تو ضروری ہے کہ پانچسوانتیس عضلات اور ستہتر (۷۷)عصب میں سے اس عضلے اور اور اس عصب کو حرکت دینا ہوگا جو اس خاص عضو سے متعلق ہے !اور یہ ظاہر ہے کہ قبل اس کے کہ کسی عضلے او رعصب کو حرکت دیں اس کو معین کرنے کی صرورت ہے تاکہ خاص اسی کو حرکت دی جائے جس کی طرف توجہ ہے ،اور یہ معین کرنا اس بات پرموقوف ہے کہ پیشتر تمامی اعصاب و عضلات کو با لتفصیل جان لے ۔اس کی مثال بعینہ ایسی ہوگی جیسے لکھنے کے وقت قلم کو حرکت دینے کے لئے پہلے چند انگلیوں کو معین کرتے ہیں جس سے قلم کر حرکت دینا ہوتا ہے ،پھر ان انگلیوں کو اردے اور اخیار سے حرکت دیتے ہیں جس سے قلم کو حر کت ہو گی ہے۔اس موقعہ پر ہم اہل انصاف سے

درخواست کر تے ہیں کہ جس عضو کو چاہیں باربار مسلسل حرکت دے کر بغور و تعمق اپنے وجدان سے دریافت کریں کہ اس اخیاری حرکت کے وقت کوئی عضلہ یا عصب کی طرف نفس کی (اپنی )توجہ بھی ہوتی ہے یا یہ معلوم ہوتا ہے کہ اندر کوئی عضلہ یا عصب بھی ہے یا کسی چیز کو ہم کھینچتے ہیں جس سے وہ عضو کھنچتا ہے ،! کوئی اس کی گواہی نہیں دے سکتا کہ اندرونی کیا کیفیت ہے ؟ اور وہ عضلات و اعصاب کیونکر کھنچتے ہیں ،میری دانست میں اگر کوئی پوری پوری وجدانی حالت کی ایمان سے خبر دے تو یہی کہے گا کہ اعصاب و عضلات کو میں تو نہیں کھینچتا ،ہاں اتنا تو معلوم ہوتا ہے کہ ہم فلاں عضو کو حرکت دینا چاہتے ہیں ۔پھر ہو تا یہ ہے کہ اِدھر توجہ ہوئی اور اُدھر اس کو حرکت ہوگئی !
یہاں یہ کہنا بے محل نہ ہوگا کہ عصب و عضلے کو حرکت دینا بھی ہمارے اختیار سے خارج ہے ،کیونکہ اختیار ی حرکت ہو تی تو اس کا علم اور ارادہ بھی ضرور ہوتا ، اور یہ نہیں کہہ سکتے کہ حرکت کا ارادہ بعنیہ عصب و عضلے کی حرکت کا ارادہ ہے ،ا س لئے کہ جب ہمارے وجدان ہی میں نہیںکہ عصب کوئی چیز بھی ہے تو پھر یہ کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ اس کی حرکت کا ارادہ ہوا ! پھرجب تحقیق حکماء اطباء سے یہ ثابت ہے کہ بغیر عضلات و اعصاب کی حرکت کے کوئی عضو حرکت نہیں کرسکتا ،توضروری ہوا کہ وہی ملتفت الیہ بالذات ہوں گو مقصود بالذات ان کی حرکت نہ ہو ۔
یہ ہا تھ پائوں کے افعال سے متعلق بحث تھی ۔ اب آنکھوں کے فعل کا حال سنئے کہ دیکھنے کے وقت حدقوں (پتیلوں ) کو ایک منا سبت کے ساتھ گھمانے کی ضرورت ہو تی ہے ،اس وجہ سے کہ جب تک دونوں آنکھوں کے خطوط شعاعی مرئی پر نہ ڈالے جائیں وہ شئے ایک نظر نہ آئے گی ،کیونکہ ہر ایک آنکھ مستقل دیکھتی ہے ۔اسی وجہ سے احوال (ترچھا ) دو دو دیکھتا ہے ۔ پھر وہ زاویہ پیداہوتا ہے ،یہ زاویہ جس قدر کشادہ ہو گا مرئی بھی اس قدربڑا نظر آئے گا ، اور جس قدر تنگ ہوگا اسی قدر چھوٹا نظر آئے گا ۔اسی وجہ سے کسی چیز کو نزدیک سے دیکھیں تو بڑی اور دور سے دیکھیں تو چھوٹی نظر آتی ہے ۔اس کی تفصیل ہم نے کتاب العقل میں کس قدر شرح و بسط سے لکھی ہے یہاں صرف اسی قدر بیان کر نے کی ضرورت ہے کہ : جب مرئی کے ایک نظر آنے کا مدار دونوں خطوط شعاعی کے ملنے پر ہے تو مرئیات جس قدر دور یا نزدیک ہو تے جائیں گے حدقوں کی وضع (پوزیشن ) بھی بدلتی جائے گی ،یہاں تک کہ اگر مرئی بہت ہی نزدیک ہو جائے گا تو حد قے بھی بالکل ناک کی جانب ہو جائیں گے ،اورجب وہ بہت دور ہو جا ئے گا تو وہ کان کی جانب مائل ہو جائیں گے ۔ اب ہم دکھنے والوں سے پوچھتے ہیں کہ ایک گز یا ہاتھ کے فاصلہ پر حدقے کو کس قدر مائل کر نے کی ضرورت ہے ؟اس کو اپنے وجدان سے بیان کریں اور اگر وجدان ساتھ نہیں دیتا تو کسی حکیم ہی کے قول سے ثابت کر دیں کہ اس قدر فاصلے پر کوئی چیز ہوتو حدقوں کو اس وضع پر رہنا چاہئے ،اور اس قدر فاصلے پر ہوتو اتنی حرکت دینا چاہئے !!حالانکہ ہم جب کسی چیز کو دیکھنا چاہتے ہیں تو بغیر ا س کے کہ ہم کو اس کا طریقہ معلوم ہو یہ سب کچھ ہو جا تاہے،اِدھر ہماری توجہ ہوئی اُدھر آنکھوں نے اپنے موقع پرشست باندھ لی اورنفس ناطقہ کو خبر بھی نہیں کہ یہ کام کس نے کیا ۔
علیٰ ہذاالقیاس بات کرنے اور پڑھنے کے وقت حلق و زبان وغیرہ کے عضلات و اعصاب کوکھینچنا اور ڈھیلے چھوڑنا اور ہرہر مخرج پرلگانا بغیر اس علم کہ کہاں کونسا عضلہ ؟اورکہاں کونسا عصب ہے ؟ دلیل واضح ہے اس پرکہ ہمارے اختیار کو اس میں کوئی دخل نہیں ۔
اگر کہا جا ئے کہ یہ فعل طبیعت سے صادر ہو تا ہے ،توہم کہیں گے کہ حکماء نے
تصریح کر دی ہے کہ طبعیت بے شعور محض! ہے پھر اس کوکیونکر خیر ہوئی کہ نفس فلاں چیز کو دیکھنا چاہتا ہے اور چیز اس قدر فاصلے پر ہے ؟اور نفس نے فلاں عبارت پڑھنی چاہی!اگر نفس طبیعت کو یہ سب بتا دیتا ہے تو یہ خلاف بداہت و وجدان ہے ۔ او بالفرض اگر تسلیم بھی کیا جائے تو خلافِ تحقیق حکماء ہے ، اس لئے کہ نفس ان کے وہاں اور ادراکات ِجزئیہ مادیہ نہیں کرسکتا ،اور جتنی عضلات او راعصاب میں سب جزئیات مادیہ ہیں پھر نفس کو ان جزئیات کا ادراک کیونکر ہو سکتا ہے ۔
اگر کہا جا ئے کہ قدرت یہ سب کام کر تی ہے جو نفس کی صفت ہے ،تو ہم کہیں گے کہ قدرت ارادے کی تابع اور ارادہ علم کے تابع ہے ،جب تک کسی چیز کا علم نہ ہو اس کا ارادہ نہیں ہوسکتا ،اور جب تک ارادہ نہ ہو قدرت کچھ نہیں کر سکتی ، کیونکہ بغیر ارادے کے اگر قدرت یہ کام کر لے جب کہ آدمی

میں ہرکام کی قدرت ہر وقت رہتی ہے تو چاہئے کہ ہر کام ہروقت ہونے لگے !جس سے دم بھر کی فرصت ملنی مشکل ہواور آدمی دیوانہ مشہور ہوجا ئے ۔پھر ارادہ بغیر علم کے نہیں ہوتا ،ورنہ طلب مجہول مطلق کی لازم آجائے گی جو محال ہے
اس سے معلوم ہوا کہ مذکورہ تحریک عضلات وغیرہ میں صرف قدرت بیکار ہے۔حاصل یہ ہے کہ فعل کے وقت تحریک عضلات وغیرہ جو ہوتا ہے وہ یا خود بخود ہوتا ہے یا ہمارے ارادے سے یا حق تعالیٰ کے خلق سے ۔چونکہ یہ مسلم ہے کہ کسی چیز کا وجود بغیر موجد کے نہیں ہوسکتا ، اس لئے خود بخود تحریک عضلات ہونا باطل ہے ۔اور تقریر سابق سے ثابت ہوا کہ حرکت ہمارے ارادے سے بھی نہیں ہوتی ،تو اب وہی تیسری صورت باقی رہ گئی کہ حق تعالیٰ حرکت کو اعصاب وغیرہ میں پیدا کر دیتا ہے، اوریہ ہونا بھی چاہئے ،اس لئے کہ حرکت ممکن ہے اور ممکن کے احد الجانبین کو ترجیح دینا اوراس کو واجب بالغیر بنانا حق تعالیٰ ہی کا کام ہے ۔
الحاصل فعل کے سلسلے میں ہاجس سے و قوع فعل تک کوئی درجہ ایسا نہیں کہ حق تعالیٰ کا مخلوق نہ ہو ۔ اس سے ثابت ہے کہ جس طرح آدمی کی ذات صفات مخلوق الٰہی ہیں اسی طرح اس کے جملہ حرکات و سکنات او رافعال بھی مخلوق الٰہی ہیں ۔اس تقریر کے بعد امید ہے کہ معتزلہ کے کل شبہات بشرط انصاف حل ہو جائیں گے ۔ کیونکہ جب بدلائل عقلیہ یہ بات ثابت ہوگئی کہ کل افعال مخلوقِ الٰہی ہیں تو پھر کوئی شبہ قابل التقات نہ ہوگا ۔
جبریہ کہتے ہیں کہ بندے میں کسی طرح کی قدرت نہیں بلکہ وہ مثل جماد ہے۔اور اشاعرہ کا مذہب ہے کہ قدرت تو ہے مگر موہوم جس کا اثر فعل میں نہیں ہو سکتا،اور وہ فعل کے ساتھ ہی ہے مگر موہوم ۔حنفیہ کا قول ہے کہ قدرت توبخلقِ خالق موجودہے لیکن وہ فعل میں اثرنہیں کرسکتی بلکہ فعل کو اللہ تعالیٰ ہی پید کر تا ہے ۔ معتزلہ کا عقیدہ ہے کہ بندے میں قدرت موجود ہے اور ایسی قدرت سے بندہ اپنے افعال پیدا کر تا ہے اور وہ قدرت قبل صدور فعل بھی موجود ہے ۔
اس مسئلہ میں معتزلہ اور قدریہ نے صرف عقل ہی سے کام لیا ہے ، وہ کہتے ہیںکہ ہر شخص جانتا ہے جس پراس کا وجدان بھی گوا ہی دیتا ہے کہ اپنے میں کام کرنے کے وقت قدرت ہے ۔ بلندی پر چڑھنے میں اور اوپر سے گرنے میں ہر عاقل فرق کر سکتا ہے کہ ایک اختیار سے ہے اور دوسرا بلا اختیار ،اس وجہ سے انھوں نے کہہ دیا کہ فعل بندے ہی کا مخلوق ہے ۔
جبریہ نے دیکھا کہ نصوصِ قطعیہ تصریح کر رہی ہیں کہ کُل افعال مخلوقِ باری تعالیٰ ہیں کما قال اللہ تعالیٰ واللہ خلقکم و ما تعملون توانھو ں نے بندے کو مجبور محض اور مثل جما د قرار دے دیا ۔
اہل سنت نے دیکھا ہے کہ اس میں جزاء و سزاکا معاملہ درہم برہم ہوا جا تا ہے اس لئے انھوں نے کسب پر جزاء وسزا کو مبنی کیا جس پر آیت شریفہ لھا کسبت وعلیہا ماکتسبت دال ہے ۔مقصود ان حضرات کا یہ ہے کہ راہِ توسط اختیار کی جائے ،یعنی افعال مخلوقِ الٰہی ہوں ،اور جزاء و سزا کسب سے متعلق ہو ۔
حضرات صوفیہ کا مسلک بھی اس مسئلے میں ظاہر اً جبریہ کا سا معلوم ہو تا ہے،چنانچہ ان کی تصریحات سے یہ امر ظاہر ہے ،مگر چونکہ ان کا مسلک ہے کہ حتی الامکان آیات میں تاویل نہ کریں ،اس لئے بلحاظ ان آیات کے جن میں عمل کی تاکید ہے اعلیٰ درجے کا عمل میں اہتمام کیا اور اس قدر عمل میں مشغول ہو ئے کہ معتزلہ اورقدریہ با وجود ا س اعتقاد کے جو مقتضیٰ کمال ِاہتمام عمل ہے اس قدر عمل نہیں کرسکتے۔چنانچہ یہ بات ان کے حالات اور تذکروں سے ظاہر ہے ۔ اور اعتقا د میں و ہ بالکل جبریہ کا سا اعتقاد رکھتے ہیں بلکہ ایک حیثیت سے ان پر بھی فائق ہیں ، ان کے مسلک پر بھی بندے میں کسی قسم کی قدرت نہیں بلکہ ہر طرح کی قدرت خدائے تعالیٰ ہی کے لئے مسلم ہے اور مختار وہی ہے ،بندے کے اختیار کو کوئی دخل نہیں ،چنانچہ ارشاد ہے و ربک بخلق ما یشاء و یختارOماکان لہم الخیرۃO سبحا نہ و تعالیٰ عما یشرکون ۔
یہ تو با تفاق اہل سنت و جماعت ثابت ہے کہ قدرت اور افعال دونوں حق تعالیٰ ہی کے مخلوق ہیں ۔ اب رہ گیا کسب یعنی قدرت کو صرف کرنا ، اس کو

بھی اگر غور سے دیکھا جائے تو آخر و ہ بھی فعل قلبی ہے ،مثل حدیث نفس و توکل و ایمان وغیرہ ،اور وہ واللہ خلقکم وما تعملون میں داخل ہے ۔ اس تقدیر پر کوئی فعل بندہ کا مخلوق و اختیار ی نہیں ہو سکتا،بلکہ بندہ مع جمیع افعال مخلوقِ الٰہی ہے ۔
اس مقام پر اعتراز کیا جا تا ہے کہ اگر بندے کو کچھ اختیار نہ ہو اور ارادہ وغیرہ بھی خدا ہی پیدا کرے تو جبراور خلاف عدل لازم آنے گا!!اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ اعتراض چنداں قابل التقات نہیں ،اس جو لوگ مادر ذاد اندھے ،بہرے ،گونگے ، اپاہج اور ضعیف پیدا ہو تے ہیں اور ہمیشہ بیمار رہتے ہیں جب ہم جنسوں کو نعمتوں اور صحت میں دیکھتے ہوں گے توان کے دل کی کیا کیفیت ہو تی ہوگی ؟کیا اس کو عذاب نہ سمجھتے ہو ںگے ؟اگر بغیر فعل کے عذاب خلاف عدل ہے تو اس خلق کو بھی خلاف عدل کہنا چاہئے !! حالانکہ کوئی اس کا قائل نہیں ہے ۔
رہا یہ کہ یہ عذاب اس عالم میں افعال سے متعلق نہیں ، اورجو عذاب اس عالم میں ہوگا وہ افعال سے متعلق ہے !سو یہ بحث دوسری ہے ،یہاں کلام صرف عدل میں ہے ۔ ایک بندے کو بلا سبب عذاب میں رکھنا اور دوسرے کو نعمتیں دینا ان کے عقیدے کے مطابق خلاف انصاف ہے ۔
الغرض حق تعالیٰ نے جس طرح بعض بندوں کو اقسام کی نعمتیں عطاء فرما ئیں اس طرح بعضوں کو توفیق بھی عطاء فرمائی یعنی خیالات بھی ان میں اچھے پیدا کر دیے،اور اس کے موافق ان میں افعال بھی پیدا کر دیے ،جس سے وہ قابل تقرب ہو جائیں ۔ اور کسی دوسرے کو اس قابل نہ بنائے تو خلاف عدل کیونکر ہوگا ؟ مالک مختار نے جس کو جو چاہا دیا کوئی اس سے یہ نہیں پوچھ سکتا اور نہ پوچھنا جائز ہوگا کہ اپنی ملک میں یہ کیوں کیا ؟قال اللہ تعالیٰ لایسئل عما یفعل و ہم یسئلون ۔اسی وجہ سے صاف ارشادفرمایا ولقد ذرأنا لجہنم کثیراً من الجن والانس جب جہنم ہی کے لئے بہت سے لوگوں کو پیدا فرمایا تو ا ن کے کسب کا اختیار ی ہونا کس کام آئے گا !! اس لئے کہ جو شخص قبل عمل بلکہ قبل پیدائش دوزخی ٹھہر جائے تو وہ اختیار سے کیا نفع اٹھا سکتا ہے ۔
حکمت جدید ہ والوں کو اس کا یقین ہے کہ آدمی جس چیز کو دیکھتا ہے الٹی دیکھتا ہے ،چنانچہ آدمی کا سرنیچے اور پائوں اوپر نظر آتا ہے ،مگر قوت لامسہ اور قرائن سے مدد لے کرسراوراورپائوں نیچے سمجھنے کی عادت ہو گئی ۔یہ خیال ایسا متمکن ہوگیاہے کہ تمام عالم کا مشاہدہ ایک طرف ہے اور وہ ایک طرف ،اس خیال کا ان کا ایسا وثوق ہے کہ تعلیم و تعلم میں اس مسئلہ کو داخل کر دیا ۔ اسی طرح ہنود کے عقائد اپنے دیوتائوں کے ساتھ ایسے ہیں کہ کوئی عاقل ان کی تصدیق نہیں کرسکتا ۔ علی ہذا اور دوسری اقوام اپنے اپنے عقائد مخصوصہ کی تصدیق پوری پوری کر تے ہیں اور کچھ خیال نہیں کرتے کہ وہ خلاف مشاہدہ اور مخالفِ بداہت عقل ہیں ۔ مگر افسوس ہے کہ اہل اسلام با وجود دعواے اسلام کے حق تعالیٰ کے قول کی تصدیق نہیں کرتے اور اپنی عقل کے مطابق بنا نے کے لئے آیات قرآنی میںتا ویلیں کر تے ہیں ۔ چونکہ معتزلہ وغیرہ کا استدلال وجدان قدرت پر ہے اس لئے اس کا بھی حال کچھ معلوم کر لینا چاہئے :
وجدان اس علم کانام ہے جو آدمی اپنے میں پاتا ہے ۔چونکہ حواس کو بقول حکماء شعور نہیں اس لئے ان کو وجدان بھی نہ ہوگا ۔ بلکہ بواسطہ ء حواس نفس کو ادراک اور اس کاوجدان ہو تا ہے ،مثلاً کوئی عضو جلے یا سرد ہوتو بواسطہء قوت لامسہ نفس کو گرمی اور سردی کا احساس اور وجدان ہوتا ہے ۔ اسی طرح جملہ حواس اور قواے متخیلہ و واہمہ وغیرہ نفس کے ادراک کے لئے آلات ہیں نفس کو ان تمام ادراکات کا وجدان ہے ،جیسے خوشی اور غمی اور بھوک اور پیاس وغیرہ کیفیات کا وجدان ہے ۔ چونکہ سلسلہء فعل ہی میں قدرت بھی قائم کی گئی ہے اس لئے یہ دیکھنا چاہئے کہ جس طرح ہم کو ھاجس سے عزم تک جمیع مدارج کا وجدان ہے ایسا ہی قدرت کا بھی وجدان ہے یا نہیں ؟ جب کسی کام کا خطور ہم میں ہوتا ہے کہ کوئی نئی بات ہم میں پیدا ہوگئی ہے جو پہلے نہ تھی ،یہی وجدان ’’ہاجس‘‘ہے اسی طرح ’’ عزم ‘‘تک نفس کو ہر درجے کا وجدان ہوتا ہے اور ہر مرتبہ کے مناسب آثار نفس میںبلکہ خارج میں نما یاں ہوتے ہیں ۔بخلاف قدرت کے ،اس لئے کہ اس سلسلے میںکوئی نئی چیز ایسی پیدا نہیں ہوتی جس کا نام قدرت رکھا جائے ۔
اگرکہا جائے کہ ہر شخص کوکام کرنے کے وقت اس امر کا وجدان ہوتا ہے کہ میں یہ کام کر سکتا ہوں!اس وجہ سے اسی کام کا ارادہ کرے گا جس کے سکنے کا وجدان ہوتا ہے اسی کانام ’’وجدان قدرت ‘‘ ہے ۔ تو جواب اس کایہ ہے کہ :ہر قدرت کا وجدان نہیں بلکہ اس کام کے علم کاوجدان ہے ،اس کی مثال ایسی ہے کہ جیسے دیوار کو دیکھنے سے ایک وجدانی کیفیت آدمی اپنے میں پا تا ہے جس کو دیوار کا وجدان نہیں کہہ سکتے بلکہ وہ اس کے علم کا وجدان ہے ،
اس لئے کہ دیوار کا علم حصولی ہے اور وجدان علم خضوری میں ہوا کرتا ہے ،اور علم کا وجدان اس وجہ سے کیا جا تا ہے کہ وہ نفس کی کیفیت ہے جس کا علم حضوری ہو تا ہے ک۔اسی طرح کام کرنے کا علم جو قبل فعل ہوتا ہے وہ بھی علم حصولی ہے ا س لئے کہ ابھی کام کا وجود ہی نہیں ،اور ہوگا بھی تو جوراح سے ہوگا ،پھر اس کا علم حضوری کیونکر ہوگا ؟ البتہ اس کے علم کا علم حضوری ہے ۔
فعل کا علم ایسا ہے جیسے طبیب حاذق کو بعد ملاحظہء قرائن اسباب اس مر کا علم ہو تا ہے کہ بیمار مرجائے گا یا صحت پائے گا ، اور وہ اس کو امر وجدانی سمجھتا ہے اور کہتا ہے کہ میرا وجدان اس پر گواہی دیتا ہے ۔اسی طرح ہر شخص کا وجدان قرائن کی وجہ سے گواہی دیتا ہے کہ ہم یہ کام کر سکتے ہیں ۔ مثلاً جو شخص گھوڑے کی سواری نہ جانے اورلوگوں کو گرتے دیکھے تو یہ کہے گا کہ میں سواری نہیں کرسکتا ،اورجب کئی بار سوار ہوا اور نہ گرے تو اس قرینے سے کہے گا کے کہ میں سواری کر سکتا ہوں !اگر چہ بظاہر اپنے وجدان کو خبر دیتا ہے کہ مجھ میں سواری کی قدرت ہے مگر دراصل وہ علم استدلالی ہے جو بنظر قرائن حاصل ہوا ہے ۔اسی طرح بیمار جب چلتا ہے اور بہ سبب ضعف کے چل نہ سکے تواس پر قیاس کرکے خبر دیتا ہے کہ مجھ میں چلنے کی قدرت نہیں، پھر جب چند با ر چلے اور نہ گرے تو یہ کہتا ہے کہ میں اپنے میں چلنے کی قدرت پا تا ہوں ۔ اگر چہ یہ بھی وجدان ہی کی خبر دیتا ہے مگر وہ وجدان سے متعلق نہیںبلکہ قیاس او رعلم استدلالی ہے ، اور یہ وجدان بعینہٖ ایسا ہے جیسے طبیب کا وجدان بیمار کی صحت یا موت پرہوتا ہے ۔
بات یہ ہے کہ جب قرائن سے کسی کام کے کرنے کاعلم ہوجا تا ہے تو اس علم کا وجدان بھی ہوجا تا ہے اور آدمی اس کو سمجھتا ہے کہ وہ قدرت کا وجدان ہے ،حالانکہ وہ وقوع فعل کے علم کا وجدان ہے ،اسی وجہ سے اس میں خطا بھی ہوتی ہے اور وہ علم خلاف واقعہ ثابت ہوتا ہے ۔مثلاً بسا اوقات آدمی دعویٰ کر تا ہے کہ میں یہ کام کر سکتا ہوں اور اس پر اس کو اس قدر وثوق و اعتماد ہو تا ہے کہ شرط تک باندھ لیتا ہے ،پھر با وجود اس کے نہیں کر سکتا ۔اگر اس کو شرط باندھنے کے وقت اس قدرت کا وجدان ہو تا جو اس کا م کے لئے کافی ہے تووہ کام ضرور کر سکتا ،پھر جب نہ کرسکا تو معلوم ہواکہ اس کام کی قدرت کا وجدان ہی نہ تھا ۔
اگرکہا جائے کہ :بھوک کے وقت ایک ایسی حالت کا وجدان ہو تا ہے جس سے آدمی سمجھتا ہے کہ میں کام نہیں کرسکتا ،پھر کھانا کھانے کے بعدایسی حالت پیدا ہو تی ہے کہ اس سے اپنے میں کام کر نے کی قوت پا تا ہے ، اور یہ وجدان ایسا ہے کہ کوئی اس کاانکار نہیں کرسکتا ہم اسی قوت کا نام ’’قدرت‘‘ رکھ سکتے ہیں ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ:کھانا کھانے کے بعد جو حالت طراوت وتازگی پیدا ہو تی ہے وہ نباتات میں بھی ہو تی ہے ۔دیکھ لیجئے چھوٹے چھوٹے درختوں کو سینچنے میں دیر ہو توپثر مردہ اور مضمحل ہو جا تے ہیں مگر جب ان میںپانی سیرایت کر تا ہے تو فوراً ان میں تازگی شروع ہو جا تی ہے اور کمزور مر جھا ئے ہوئے پتوں میں طاقت آجا تی ہے جس سے وہ کھڑے ہو جا تے ہیں !حالانکہ یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ درختوں میںقدرت ہے ۔ اسی سے معلوم ہوا کہ طراوت اور تازگی کا نام قدرت نہیں ہوسکتا ۔
با ت یہ ہے کہ جب حق تعالیٰ کو اعضاء سے کام لینا منظور ہوتا ہے تو ان میں مناسب رطوبت ورنہ یبوست مفرطہ پیدا فرما دیتا ہے ۔ مثلاً جب نسیان پیدا کرنا منظور ہو تو خواہ بوجہ پیری یا اور کسی سبب سے دماغ میں یبوست مفرطہ پیدا فرما دیتا ہے جس سے نفس ناطقہ نسیا ن پر مجبور ہو تا ہے ۔اور قوت حافظہ پیدا کرنا ہوتو رطوبت مناسبہ پیدا فرما دیتا ہے ،اسی طرح تمام اعضاء میں رطوبت مناسبہ پیدا ہو تی ہے ،اس کے بعد بحسب وجود شرائط فعل پیدا ہو تا ہے ،مگر چونکہ اس کی عدات ہوگئی ہے اس لئے آدمی اسی وجدان طراوت کوقدرت سمجھتا ہے !حالانکہ فعل کی تکمیل جس میں قدرت موثر سمجھی جا تی ہے صرف رطوبت اعضاء سے نہیں ہوتی بلکہ اس میں کشش اعصاب و عضلاب کوبھی دخلِ تام ہے ۔ او اس کاحال ابھی معلوم ہو اکہ نفس اس میں لایعلم محض ہے ۔
بادی الرائے میں جو وجدان قدرت معلوم ہوتا ہے وہ قدرت کا وجدان نہیں بلکہ ا س کا اشتباہ ہے، کیونکہ وجدان کے سمجھنے میں اکثر غلطی ہوتی ہے ،جس کی کئی نظریں ہیں :
۱۔ جھولا جھولنے اور چکر گھومنے کے بعد وجدان ہوتاہے کہ تمام چیزیں گھوم رہی ہیں حالانکہ وہ وجدان غلط ہے ۔
۲۔ ریل کے بازو سے دوسری ریل گزے تواُس ریل پر سوار مسافرین کو وجدان ہوتا ہے کہ ہم ساکن ہیں اور دوسری ریل متحرک ہے ۔
۳۔ بہت سے لوگ اپنے میںقدرت پاکر بصرف زر کثیر نکاح کرتے ہیں پھر مقصود میں کامیاب نہیں ہوتے حالانکہ قوت کافیہ کا وجدان جو تھا غلط ثابت ہوا ۔
۴۔ افیمی کی افیم نہ ملنے کے سبب جو ردی حالت ہو جا تی ہے اس وقت کوئی چیز مشابہ افیون کے دی جائے گواس میںنشہ نہ ہو تب بھی وہ افیون کا نشہ اپنے میں پا تا ہے،حالانکہ یہ وجدان بھی غلط ہے ،اس لئے کہ وہ چیز نشہ آور نہ تھی ۔
جب وجدان میں غلطی ہونا مسلّم ہے تو بالفرض اگر ہم قوت کو وجدانی مان بھی لیں تو ضروری نہیں کہ منشاء اس کا واقعی ہوا ، بلکہ جائز ہے کہ جس چیز کاوجدان ہو رہا ہے وہی یعنی قوت ہی سرے سے معدوم ہو ، جیسے افیونی کی مثال مذکورہ سے ظاہر ہے ۔ الحاصل وجدانِ قدرت سے قدرت کا وجود اور فعل کا اختیار ی ہونا ثابت ہو سکتا ۔
اب یہاں یہ معلوم کرنا ضروری ہے کہ جب دلائل عقلیہ اور نقلیہ سے ثابت ہے کہ بندے کی قدرت و اختیار کو اس کے فعل میں کوئی دخل نہیں تو کسب کے کیا معنی ہوں گے جو لہا ما کسبت میں ارشادہے ؟ او رجزاء و سزا کس چیز پر مبنی ہے ؟!
اصل کسب کے معنیٰ کے ہیں ،اور اس کا استعمال طلب مال و رزق وغیرہ میں ہوا کرتا ہے ،چنانچہ کہتے ہیں ’’کسبت المال و الرزق ‘‘ ۔مطلب یہ ہوا کہ کسی موجود چیز کو حاصل اور جمع کرنے کانام ’’کسب‘‘ ہے ۔ اس صورت میں افعال کا کسب ایسا ہو گا جیسے مال کا کسب ،یعنی جسیے مال کے وجود ذاتی میں ہم کوکچھ دخل نہیں ویسے ہی افعال کے وجود میں بھی ہمیں کچھ دخل نہیں بلکہ ان کو صرف اپنے میںجمع کرلینے کانام کسب ہے جیسا کہ مال کے جمع کرنے میں ہوتاہے ،ہاں فرق اتنا ہے کہ مال کے حاصل کرنے میں مال پہلے سے موجود ہو تا ہے ،اور افعال کا وجود ان کے کرنے کے وقت ہی ہوتا ہے ،او ر بندہ ان افعال کا ظرف ہوتا ہے اگرچہ اس اعتبار سے بندہ کو افعال قبیحہ کے ارتکاب پر معذور سمجھا جا نا چاہئے !مگر جس طرح ظرف جب محلِ نجاست ہوجا تا ہے تو اس قابل نہیں رہ سکتا کہ اس کو دسترخوان پرجگہ ملے بلکہ ا س کی جگہ مزبلہ پایا ئخانہ ہو تی ہے جہاں نجاست کا مقام ہے ، گو ظرف کے فعل کو وجود نجاست میںکوئی دخل نہیں ۔اسی طرح بندے کو وجود معاصی میں دخل نہیں ،لیکن جب محل نجاست معیوب بن جائے تو قابل تقرب نہیں رہتا ،جب تک کہ گناہوں سے پاک وصاف نہ ہوجا ئے۔اگرچہ یہ دونوں ظرف ہیں لیکن بہت بڑا فرق یہ ہے کہ آدمی ایسا ظرف ہے کہ اس کو سمجھ بھی ہے اور سمجھ ایسی چیز ہے کہ مدح و ذم کا مداراسی پر ہے ۔اسی وجہ سے لڑکے اور سکران اور دیوانے کے افعال قابل مؤاخدہ نہیں سمجھے جاسکتے ۔قائل شرعاً بھی قابل مؤاخذہ ہے با وجود یکہ نقص قطعی سے ثابت ہے کہ مقتول کی عمر میں قاتل کے فعل سے کچھ کمی نہیں ہوتی ،مگر چونکہ اس کی دانست اور زعم میں ما رڈالنا ہوتا ہے اس لئے وہ قابل مؤاخذہ ٹھہرا ۔
اگر کوئی شخص اشتباہ قبلہ کے وقت تحری کرکے نماز پڑھ لے تو نماز اس کی صحیح ہو جائے گی گواس نے خلاف جانب قبلہ نماز پڑھی ہو ، کیونکہ اس کی دانست میں قبلہ وہی ہے ۔ قانون سرکاری باب مستنشیات عامہ میں مصرح ہے کہ نیک نیتی سے کوئی فعل ضرر رساں صادر ہو توجرم نہیں ،کیونکہ اس کی دانست میں ضرر پہونچانا مقصود نہیں ۔ بہت کم بیمار مرتے ہوں گے جو کسی طبیب کے زیر علاج نہ ہوں یا علاج میں بد عنوانی نہ ہوتی ہو،مگر چونکہ اس کی دانست یا ارادہ میں ضرر رسانی نہیں ہوتی اس لئے ورثہ بھی اس کو قابل مؤاخذہ نہیں سمجھتے ۔
الغرض صدہا مثالیں مل سکتی ہیں کہ دانست گو خلاف واقعہ ہومگر مواخذہ اسی سے متعلق ہے ۔ او جوکام آدمی سمجھ کر کر تا ہے اس کے آثار اس کی طبیعت میں موجودہو تے ہیں ،مثلاًکسی دوست کو دشمن سمجھ کر مار ڈالے تو مارنے کے وقت جو کیفیت دشمن پرغالب ہونے کے وقت ہوتی ہے یعنی تعلی وغیرہ وہ سب اپنے میں پا ئے ئے گا اور اس پرافتخار کرے گا ، پھرجب ظاہر ہو جائے کہ وہ دوست تھا تو اس فعل پر ندامت ہوگی،یہ دونوں آثار صرف اس دانست و علم سے متعلق ہیں جو دونوں وقت اس میں پائے گئے۔ اب دیکھئے کہ ہر آدمی کی دانست میںیہ بات کس قدر راسخ اور مستحکم ہے کہ جو کچھ کرتے
ہیں ہم اپنے اختیار سے کر تے ہیں اورکسی کام کے وقت یہ خیال بھی نہیں ہوتا کہ یہ فعل حق تعالیٰ ہم میں پیدا کر رہا ہے ،گویہ دانست خلاف واقعہ ہو مگر ثواب و عقاب اسی سے متعلق ہیں ۔ پھر اگر کوئی اس پرایمان بھی لایا تو خود اس کی حالتِ قلبی اس کی تکذیب کر تی ہے ، الا ماشاء اللہ بہت کم لوگ ایسے نکلیں گے کہ کوئی شخص ان پر تعدی کرے اور ان کی حالت ِقلبی نہ بدلے ،حالانکہ مقتضیٰ اس ایمان کا یہ تھا کہ جو کچھ ایذاء کسی سے پہونچے وہ حق تعالیٰ ہی کی طرف سے سمجھی جائے اور تعدی کرن ے والے کا خیال بھی نہ ہو ۔
اگرچہ عقلاً و نقلاً یہ مسئلہ مدلل ہے کہ کل افعال مخلوق اِلٰہی ہیں ،مگر لڑکپن سے و عادت ہوگئی ہے کہ ارادے کے ساتھ فعل موجود ہوتا ہے ، تو اس عادت کی وجہ سے جو بجائے خود طبیعت بن جا تی ہے وجدان گواہی دیتا ہے کہ ہم میں قدرت ہے اور اعتقاد مغلوب ہوجا تا ہے ،جیسے قوت واہمہ سے عقل مغلوب ہو جا تی ہے ۔مثلاً بلندی پر کم عرض جگہ میں چلنا مشکل ہو تا ہے ،حالانکہ تجربہ و مشاہدہ اور عقل گواہی دیتے ہیں کہ اس سے کم عرض جگہ میںآدمی ہمیشہ چلتا ہے ۔
پھرجب فعل کے وقت وجدان قوتِ ایمان پرغالب ہو جائے تو اس حالت میں ایمان سابق کا وجود کالعدم ہے ، جس طرح قوت واہمہ کے وقت عقل و تجربہ کا وجود بیکار ہے ۔ اس دانست وجودان کے اعتبار سے مؤاخذہ خلاف عدل و انصاف ثابت نہیں ہوسکتا ،جس طرح قتل شرعاً قابل مؤاخذہ ہے اور عرفاً وقانوناً دشنام دہی جرم ہے۔حالانکہ جس فعل کی وہ تصریح کر تا ہے نہ اس کا وقوع زمانہء ماضی میں ہوتا ہے نہ استقبال میں بلکہ صرف اس کے اس خیال قبیح پرقابل مؤاخذہ سمجھا جا تا ہے ۔اگر کہا جائے کہ دشنام دہی خود فعل ہے جس کاوجود جوارح یعنی زبان سے متعلق ہے یہ جرم فعل کا ہوگا نہ کہ خیال کا !!تو جواب اس کا یہ ہے کہ : اگرقابل مؤاخذہ ہے تووہ فعل ہے جس پرالفاظ دلالت کر تے ہیں ،اور الفاظ اِخبار ہوں یا اِنشاء کسی طرح قابل مؤاخذہ نہیں ہیں جب تک کہ وہ کسی خیال سے ظاہر نہ ہوئے ہوں ،اسی وجہ سے اگر کسی خاص شخص کے نام سے گالی دیوار پر لکھی ہوتواس کا لکھنے مجرم اور قابل مؤاخذۃ ہوگا۔پھر اگر ثابت ہوجائے کہ گالی دینے والا نشہ کی حالت میں تھا تو معذور سمجھا جا تاہے ،حالانکہ زبان کا فعل وہاں بھی موجود ہے مگر چونکہ وہ بے خود ی اس کی تسلیم کی جاتی ہے اس لئے اس فعل کو غالباً قابل مؤاخذہ نہیں سمجھا جا تا ۔ اس سے ثابت ہو تا ہے کہ عرفاً فاًوعقلاً بھی قابل مؤاخذہ دانست ہی ہے گو خلاف واقعہ ہو ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *