محدثین کی ہمت وغیرہ

محدثین کی ہمت وغیرہ

غرضکہ محدثین کی جانفشانیاں، اولوالعزمیاں اور وہ امور ، جن سے حفاظت حدیث متعلق ہے مثل حافظہ ، تدین اور احتیاط وغیرہ دیکھے جائیں تو اہل انصاف کا وجدان خود گواہی دے گا کہ یہ حضرات خاص احادیث کی حفاظت کے لئے پیدا کئے گئے تھے ،اب ہم چند حالات بھی ان حضرات کے بطور’’ دو مشتے نمونہ از خرد ارے ‘‘تبرکاً ہدیۂ ناظرین کرتے ہیں جس سے ہمارے قول کی تصدیق ہوجائیگی ۔
مقدمہ ٔفتح الباری میں شیخ الاسلام ابن حجر عسقلانیؒ نے لکھا ہے کہ امام بخاریؒ کے والد مالدار شخص تھے، پچیس ہزار درہم انہوں نے کسی کو مضاربت کی غرض سے دیئے تھے ،اُن کے انتقال کے بعد اُس شخص نے چاہا کہ وہ مال غصب کر ے، لوگوں نے امام بخاری سے کہا کہ والی سے اسباب میں مدد لیجئے ،آپ نے فرمایا کہ اگر میں والی سے کوئی درخواست کروں تو وہ مجھ سے بھی کچھ خواہش کرے گا اور میں دین کو دنیا کے عوض ہرگز بیچنا نہیں چاہتا، اُس کے بعد اُس شخص نے اس بات پر صلح کی کہ ہر مہینے دس درہم دیا کرونگا ، آپ اُسی پر راضی ہوگئے اور خود امام بخاریؒ کا قول نقل کیا ہے کہ جب میں آدم ابن ایاس کے

یہاں تحصیل حدیث کے لئے گیا ،اُس وقت میرے پاس کچھ خرچ نہ تھا ،کئی روز گذران اِس طور پر رہی کہ جب زیادہ بھوک لگتی تو جنگل کو جا کر کچھ پتے بوٹیاں کھا لیتا ۔طبقات شافعیہ میں امام سبکیؒ نے لکھا ہے کہ عمر بن حفص کہتے ہیں ہم بصرہ میں بخاریؒ کے ساتھ حدیث لکھتے تھے ، ایک بار کئی روز اُن سے ملاقات نہ ہوئی، اتفاقاً ایک روز کسی حجرہ میں اُن کو دیکھا کہ برہنہ بیٹھے ہیں ،دریافت کرنے سے معلوم ہواکہ لباس نہ ہونے کی وجہ سے باہر نہ نکل سکے اور خرچ بھی ہوگیا تھا ، ہم نے چندہ کر کے اُن کو لباس بنا دیا ، اُن کی اولوالعزمی کا خیال کیجئے کہ کھا نیکی وہ حالت اور کپڑے کی یہ حالت ،باوجود اس کے اُن کی ہمت میں ذرا بھی فرق نہ آیا اور کمال حاصل کرہی لیا اور لکھا ہے کہ حامد بن اسماعیل وغیرہ کہتے ہیں کہ بخاریؒ لڑکپن میں ہمارے ساتھ اساتذہ کے یہاں جاتے ،مگر چپ چاپ بیٹھے رہتے ،کبھی کوئی حدیث نہیں لکھی ،ہم اکثر کہا کرتے کہ جب ہر روز تم آتے ہو ،کیوں نہیں لکھا کرتے ؟ اِس تضییع اوقات سے کیا فائدہ ؟ یہ سنکر چپ ہوجاتے ،ایک روز جب ہم نے بہت ملامت کی تو کہا کہ تم نے مجھے تنگ کر دیا ،اچھا جو حدیثیں تم نے لکھی ہیں وہ سب نکالو ،جب ہم نے نکالا تو پندرہ ہزار سے زیادہ ہوگئی تھیں، کہا یہ سب مجھ سے زبانی سن لو! چنانچہ وہ پڑھتے گئے اور ہم اُن سے سنکر تصحیح بھی کرتے گئے اس کے بعد جب وہ کسی شیخ کے یہاں جاتے تو طالب علموں کا ان کے ساتھ مجمع رہتا، چونکہ وہ کم عمرتھے، کسی جگہ راہ میں زبردستی اُن کو بٹھا لیتے اور اُن سے احادیث کی تصحیح کرتے اور ہزاروں شائقین کا وہاں مجمع ہوجاتا اور اکثر ان ہی سے روایت کرتے ۔
تذکرۃ الحفاظ میں ابن ابی حاتم کا حال لکھا ہے کہ وہ مصر میں سات مہینے رہے ،وہ کہتے ہیں کہ اِس عرصہ میں سالن کھانے کی کبھی نوبت نہ آئی ،دن کو اساتذہ کی خدمت میں جاتے اور رات کو سبق لکھ لیتے یا لکھے ہوئے کا مقابلہ کرتے۔ اُن کا بیان ہے کہ ایک روز میں اور
میرے ہم سبق رفیق ایک شیخ کے یہاں گئے ،معلوم ہواکہ وہ بیمار ہیں ،واپسی کے وقت بازار میں ایک مچھلی نظر آئی، چونکہ فرصت تھی اُس کو ہم نے خریدا ،جب گھر پہونچے تو دوسرے شیخ کی تدریس کا وقت ہوچکا تھا ،ہم وہاں چلے گئے اوروہ مچھلی رکھی رہی اور تین روز تک اُس کے پکانے کی نوبت نہ آئی ، آخر بھوک کی حالت میں جس قدر کھائی گئی کچی کھالی ۔
علمائے سلف میں مولوی حبیب الرحمن خان صاحب شروانی نے لکھا ہے کہ ابن مقری بیان فرماتے ہیں کہ میںنے صرف ایک نسخہ ابن فضالہ کی خاطر ستر منزل کا سفر کیا تھا، اُس نسخے کی ظاہری حیثیت یہ ہے کہ اگر کسی نان بائی کو دیا جائے تو وہ ایک روٹی بھی اُس کے عوض میں دینا گوارا نہ کرے گا، اِس کے علاوہ امام موصوف نے چار مرتبہ مشرق (ممالک ایشیا) اور مغرب (ممالک افریقہ و اسپین) کا سفر کیا تھا اور دس دفعہ بیت المقدس گئے تھے ۔
اُسی میں ابن طاہر مقدسی کا حال تذکرۃ الحفاظ سے لکھا ہے کہ انہوں نے جتنے سفر طلب حدیث میں کئے ،کبھی سواری کا سہارا نہیں لیا ، سواری اور باربرداری دونوں کا کام وہ اپنے ہی نفس سے لیتے تھے ،سفر پیادہ کرتے تھے اور کتابوں کا پشتارہ پشت پر ہوتا تھا مشقت پیادہ روی کبھی کبھی یہ رنگ لاتی کہ پیشاب میں خون آنے لگتا ،اسی جفاکشی سے جو سیاحت حافظ ممدوح نے کی، اُس میں حسب ذیل مقامات منجملہ اور مقاموں کے تھے ۔ بغداد ‘ مکہ مکرمہ ‘ جزیزہ تنیس (واقع بحیرۂ روم) دمشق ‘حلب ‘ جزیرہ اصفہان ‘ نیشاپور ‘ ہرات ‘ رحبہ ‘ لوقان ‘ مدینہ طیبہ ‘نہاوند ‘ ہمدان ‘ واسط ‘ ساوہ ‘ اسدآباد ‘ انبار ‘ اسفرائن ‘ آمل ‘ اہواز ‘ بسطام ‘ خسرو جرد ‘ جرجان ‘ آمد‘استرآباد‘ بوسنج ‘ بصرہ ‘دینور ‘ ری ‘سرخس ‘ شیراز ‘ قزوین ‘ کوفہ، اس کے سوا محدثین کے شوق اور علو ہمت اور استقلال وغیرہ کے وقائع بکثرت ہیں جن میں سے اکثر علماء سلف میں مذکور ہیں ۔

محدثین کا حافظہ

اب اُن حضرات کے حافظہ کا بھی تھوڑا سا حال سُن لیجئے! امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے حافظہ کا تو حال کسی قدر ابھی معلوم ہوا، اِس کے سوا اور بہت سے حالات کتابوں میں مذکور ہیں ۔ بستان المحدثین میں شاہ عبدالعزیزؒ نے امام ترمذیؒ کے حافظہ کا حال لکھا ہے کہ کسی شیخ سے آپ نے دو جزء روایتیں لکھ لی تھیں، مگر اُس کی تصحیح کا اتفاق نہیں ہوا تھا ، ایک عرصہ کے بعد مکہ معظمہ کی راہ میں اُن سے ملاقات ہوئی، آپ نے اُن روایتوں کی تصحیح کی درخواست کی ، شیخ نے فرمایا اچھا وہ جزء نکالو ،آپ نے نکالے ،شیخ نے پڑھنا شروع کیا اور آپ سنتے جاتے تھے اور جزء برائے نام ہاتھ میں تھے ، اتفاقاً وہ جزء سادے تھے ،جن پر شیخ کی نگاہ پڑ گئی ،غصہ سے شیخ نے کہا :کیا تم استہزاء کرتے ہو؟ آپ نے کہا مجھے اجزاء کے دیکھنے کی ضرورت نہیں ،وہ کل حدیثیں مجھے یاد ہیں ، شیخ نے فرمایا اگر یاد ہیں تو پڑھو ،آپ نے پوری حدیثیں مع اسناد ، سنا دیں شیخ نے امتحاناً چالیس حدیثیں اپنی غرائب پڑھیں جو دوسروں کے پاس نہیں تھیں ، آپ نے وہ حدیثیں بھی مع اسناد ، سنا دیں ۔
جب امام محمد صاحب ، امام صاحب کی خدمت میں گئے، آپ نے فرمایا پہلے قرآن شریف یاد کرلو! یہ سُنکر وہ چلے گئے اور ایک ہفتہ میں یاد کرلیا ۔ طبقات شافعیہ میں امام سبکیؒ نے لکھا ہے کہ ابو الفضل ہمدانی جب نیشاپور گئے تو اُن کے حافظہ کی وہاں بڑی شہرت ہوئی اور فی الواقع حافظہ تھا بھی ایسا ہی سو شعرایک بار کے سُننے میں اُن کو ایسے یاد ہو جاتے کہ آخری شعر سے شروع کر کے ایک ایک شعر ، اول تک سنا دیتے ، چنانچہ اُسی پر اُن کو بدیع الزماں کا لقب وہاں ملا ۔ ایک روز انہوں نے کمال فخر سے کہا کہ یہ جو کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص فن حدیث میں حافظ ہے اور اکابر محدثین کا ذکر اس لقب سے کیا جاتا ہے ،سو وہ کوئی
نادربات نہیں ،یہ کیفیت حافظ ابو عبداللہ حاکم کو پہونچی،انہوں نے حدیث کا جزء اُن کے پاس بھیجا اور کہلایا کہ ایک ہفتہ کی آپ کو مہلت ہے، اُس کو خوب یاد کر کے سنا دیجئے ! مدت گذرنے کے بعد انہوں نے یہ کہہ کر وہ جزء واپس کر دیئے کہ یہ کون یاد کرے ؟محمد ابن فلاں اور جعفر ابن فلاں اورعن فلاں مختلف نام اور ایسے الفاظ کہ جن میں کوئی مناسبت نہیں حاکم ؒ نے کہلایا بس اپنے حافظہ کا مقدار سمجھ رکھئے! یعنی اشعار کا یاد ہوجانا اور ہے اور حدیثوں کا یاد رکھنا اور اشعار کے مضمون میں مناسبت ہوتی ہے اور احادیث کے اسنادوں میں اور ناموں میں کوئی ربط مناسبت نہیں ہوتی ،یہاں صرف حافظہ کا کام ہے جو خاص موہبت الٰہی ہے ۔
تہذیب التہذیب میں اسحاق ابن ابراہیم کے ترجمہ میں لکھا ہے کہ ایک بار انہوں نے گیارہ ہزار حدیثیں مع اسناد زبانی لکھوا دیں ،پھر جب شاگردوں نے دوبارہ پڑھنے کو کہا تو بلا کم و کاست اعادہ کر دیا اورایک حرف کی کمی و زیادتی نہیں کی ۔ اِس قسم کے واقعات کتب رجال میں بکثرت مذکور ہیں ، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ جتنے نامی گرامی محدثین ہیں، سب کو اعلیٰ درجہ کا حافظہ عنایت ہوا تھا ، اسی وجہ سے اُن کا لقب حافظ ہوا کرتا تھا ،چنانچہ امام ذہبی ؒ نے خاص ان حضرات کے حالات میں ایک کتاب چار جلدوں میں لکھ کر اُ س کا نام تذکرۃ الحفاظ رکھا ، چونکہ حفاظت حدیث کا مدار حافظہ پر ہے ،اس وجہ سے راویوں کے حافظہ کی تحقیق وتفتیش خاص طور پر ہوا کرتی تھی ،اگر پیرانہ سری کی وجہ سے کسی کے حافظہ میں ضعف آ جاتا تو وہ کیسی ہی مستند شیخ الشیوخ مانے گئے ہوں، متروک کر دیئے جاتے تھے ۔ تہذیب التہذیب میں ابن حجر عسقلانیؒ نے جریر ابن حازم کے ترجمہ میں لکھا ہے کہ وہ اعمش اور ایوب اور ابن مبارک اور وکیعؒ وغیرہ کے استاد ہیں جن میں کسی قسم کا کلام نہیں ہوسکتا، مگر جب اُن کے حافظہ میں ضعف آگیا تو خود اُن کے فرزندوں نے اُن کو ترک کر دیا ۔ ادنیٰ
تامل سے یہ بات معلوم ہوسکتی ہے کہ جس قوم میں شوق تحصیل حدیث اور علوہمت اور استقلال اور قوت حافظہ ما فوق العادت حق تعالیٰ نے دی ہو تو بدلیل اِنّی یہ ضرور ماننا پڑے گا کہ حق تعالیٰ کو منظور ہے کہ مثل قرآن کے احادیث نبویہ بھی محفوظ رہیں ،کیونکہ اس کا انکار نہیں ہوسکتا کہ جس قوم کو خدائے تعالیٰ کوئی فضیلت دینا چاہتا ہے تو اس میں لائق اور قابل افراد پیدا کر کے ایسے صفات اُن کو عطا فرماتا ہے کہ اُن کو کام میں لائیں تو اُس فضیلت کے مستحق ہو جائیں ،پھر عمل کی توفیق بھی دی جاتی ہے جس سے وہ کوششیں کر کے وہ فضیلت حاصل کر لیتے ہیں ۔ غرضکہ حضرات محدثین کو تمامی اہل اسلام میں اس فضیلت کا افتخار ضرور حاصل ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کو انہوں نے محفوظ کر دیا ۔
پھر علاوہ صفات مذکورہ کے ان حضرات کی طبیعتوں میں احتیاط انتہا ء درجہ کی تھی ،وہ ہرگز گوارا نہیں کرتے تھے کہ کوئی ایسی بات دین میں شریک ہوجائے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نہ ہو ، یہ احتیاط صحابہ ہی کے زمانہ سے شروع ہوگئی تھی ۔ منشا اُس کا یہ تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ’’من کذب علی متعمداً فلیتبوأ مقعدہ من النار‘‘ جس سے ظاہر ہے کہ حضرت کے اقوال و افعال سے متعلق کوئی خلاف واقع بات بیان کی جائے تو اُس کا انجام دوزخ ہے ۔ اِس وجہ سے صحابہ کو کسی حدیث میں ذرا بھی شک ہوتا تو اُس کو بیان نہ کرتے ،اِس خیال سے کہ کہیں اس وعید کے مستحق نہ ہو جائیں ، اسی احتیاط نے صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو احادیث کے جمع کرنے سے روک دیا تھا ۔ تذکرہ الحفاظ میں لکھا ہے کہ آپ نے پانچ سو حدیثیں جمع کی تھیں، مگر اس خیال سے کہ اُن میں کوئی حدیث شاید خلاف واقع ہو ، سب کو جلا دیا اور باوجود اُس ملازمت اور تقرب کے صرف تخمیناً سو روایتیں آپ سے مروی ہیں ۔ تذکرۃ الحفاظ میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا قول نقل کیا ہے کہ جس طرح میں اس وقت حدیثیں بیان کرتا ہوں ،اگر عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانہ میں
بیان کرتا تومجھے دُرّے مارتے اور لکھا ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے ابن مسعود اور ابو الدرداء اور ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہم کو تین روز قید رکھا اور فرمایا کہ تم لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت ساری حدیثیں روایت کیں اور جب آپ نے قرظہ رضی اللہ عنہ وغیرہ کو عراق بھیجا تو اُن کو تاکید کی کہ حدیث کی روایت بہت کم کریں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *