قرآن کریم کی فصاحت و بلاغت کی مثالیں

قرآن کریم کی فصاحت و بلاغت کی مثالیں

 

ناظرین کو یاد ہوگا کہ ہم پہلے ایک وعدہ کر آئے ہیں اسی کے ایفاء کے لئے عنوان بالاقائم کیا گیاہے۔ مُسَیْلَمَہ کَذَّاب نے اپنے زُعم فاسد میں قرآن کی بعض چھوٹی چھوٹی سورتوں کا مُعَارَضَہ کیا تھا اَزاں جملہ ایک سورۂ کو ثر تھی جس کو اس لعین نے یوں سَجْع (6 ) کیا تھا: (7 )
اِنَّا اَعْطَیْنٰکَ الْجَوَاھِرَ فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَھَاجِرْ اِنَّ مُبْغِضَکَ رَجُلٌ فَاجرٌ ( 8)
ہم نے دیئے تجھ کو جواہرات سو نماز پڑھ اپنے رب کے آگے اور ہجرت کر بے شک جو دشمن رکھنے والا ہے تجھ کو وہ بدکار شخص ہے۔
مگر کوئی منصف مزاج اسے مُعَارَضَہ نہیں کہہ سکتا کہ سورت ہی کے الفاظ و ترتیب لے کر اس میں کچھ اَدَل بدل کردیاجائے۔ علامہ جارُاللّٰہ زَمخشری صاحب تفسیر کَشّاف نے اس سورت کی وجہ اِعجاز پر ایک مستقل رسالہ لکھاہے

جس کا خلاصہ امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ’’ نہایۃ الایجاز فی درایۃ الاعجاز ‘‘ میں یوں لکھا ہے: (1 )
اِنَّاۤ اَعْطَیْنٰكَ الْكَوْثَرَؕ (۱) (2 ) اس آیت میں آٹھ فائدے ہیں :
{1} … یہ جملہ مُعْطِی کبیر (3 ) کی طرف سے عطیۂ کثیرہ پر دلالت کرتاہے۔ جب عطیہ منعم عظیم ( 4) کی طرف سے ہو تو وہ نعمت ِعظمیٰ ہوتاہے۔ کوثر سے مراد وہ مومنین ِامت ہیں جو قیامت تک پیدا ہوں گے۔ نیز اس سے مراد وہ فضائل وخوا ص ہیں جو اللّٰہ تعالٰی نے حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو دو جہاں میں عنایت فرمائے ہیں ۔ ان کی کنہ (5 ) کوخدا کے سوا اور کوئی نہیں جانتا اور منجملہ (6 ) کوثر وہ نہر ہے جس کی مٹی کستوری اور جس کے سنگریزے چاندی کی ڈلیاں ہیں اور جس کے کناروں پر سونے چاندی کے برتن ستاروں کی گنتی سے زیادہ ہیں ۔
{2} … اسم کی تَقْد ِیم مُفِید ِ تخصیص ہے یعنی ہم نے (نہ کسی غیر نے) تجھے یہ کثیر عطا کی جس کی کثرت کی کوئی غایت نہیں ۔ امام رازی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ تحقیق یہ ہے کہ یہاں مُحَدَّث عَنْہ کی تقدیم تخصیص کے لئے نہیں بلکہ اس واسطے ہے کہ ایسی تقدیم اثبات خبر کے واسطے زیادہ تاکید والی ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ جب اسم مُحَدَّث عَنْہ پہلے ذکر کیا جائے تو سامع کو خبر سننے کا شوق پیدا ہوتا ہے اس لئے جب وہ خبر سنتا ہے تو اس کا ذہن ا س کو یو ں قبول کرتا ہے جیسا عاشق معشوق کو۔ پس وہ خبر اس کے ذہن میں باَحْسَن وُجوہ متمکن ہوجاتی ہے۔ (7 )
{3} … ضمیر متکلم بصیغۂ جمع لایاگیاہے جس سے ربوبیت کی عظمت پائی جاتی ہے۔
{4} …جملے کے شروع میں حرف تاکید لایا گیاہے جو قَسَم کے قائم مقام ہے۔
{5} …فعل کو بصیغۂ ماضی لایا گیا ہے تاکہ اس امر پر دلالت ہوکہ کریم کی عطاء آجلہ واقع کے حکم میں ہے۔

{6} … کوثر کے موصوف کو محذوف کردیاگیا اس لئے کہ مذکور میں وہ فرطِ اِبہام و شیاع نہیں جو محذوف میں ہے۔
{7} …وہ صفت اختیار کی گئی ہے جس کے معنی میں کثرت ہے۔ پھر اس کو اس کے صیغہ سے معدول کرکے لایا گیا۔
{8} … اس صیغہ پر لام تعریف لایا گیا تاکہ یہ اپنے موصوف کو شامل اور کثرت کے معنی دینے میں کامل ہو، چونکہ یہ لام عہد کا نہیں اس لئے واجب ہے کہ حقیقت کا ہو اور حقیقت کے بعض افراد بعض سے اَولیٰ نہیں ، پس وہ کاملہ ہوگی۔ اس میں اس طعن کا جواب بھی آگیا کہ حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا آ پ کے بعد کوئی بیٹا نہیں کیونکہ آپ کے بعد بیٹے کا باقی رہنا دوحال سے خالی نہیں یا تو وہ بیٹا نبی بنایاجائے او ر یہ محال ہے کیونکہ آپ خاتم الانبیاء ہیں یانبی نہ بنایا جائے اوریہ امر وہم میں ڈالتا ہے کہ وہ ناخلف ہو۔ پس اللّٰہ تعالٰی نے آپ کو خیر کثیر عطا فرما کر اس عیب سے محفوظ رکھا۔ اولاد کے ہونے سے یہی غرض ہوا کرتی ہے۔ علاوہ ازیں وہ عیب بھی لازم نہ آیا جو بیٹوں کے نبی نہ ہونے کی صورت میں تھا۔
فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْؕ (۲) ( 1) اس میں بھی آٹھ فائدے ہیں :
{1} …فاء تعقیب یہاں دو باتوں کا سبب بنانے کے معنی کے لئے مستعار ہے۔ اول انعام کثیر کو منعم کے شکر و عبادت میں قیام کا سبب بنانا۔ دوسرے انعامِ کثیر کو دشمن کے قول کی پروانہ کرنے کاسبب بنانا، کیونکہ اس سورت کے نزول کا سبب یہ ہے کہ عاص بن وَائِل نے کہا: اِنَّ محمد ا صُنْبُورٌ۔ (2 ) یہ قول جناب رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر ناگوار گزرا، پس اللّٰہ تعالٰی نے یہ سورت نازل فرمائی۔
{2} … دو لاموں سے مقصود تعریض ہے عاص اور اس جیسے دوسروں کے دین سے جن کی عبادت و قربانی غیر اللّٰہ کے واسطے تھی اور نیز یہ مقصود ہے کہ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے قدم صراطِ مستقیم پر جماد یں اور اپنی عبادت کو اللّٰہ کی ذات کریم کے لئے خالص کردیں ۔
{3} … ان دونوں عبادتوں سے اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ عبادت کے دونوع ہیں ، ایک : اَعمالِ بدنیہ جن میں مقدم نماز ہے، دوسر ے: اَعمالِ مالیہ جن میں اعلیٰ اُونٹوں کی قربانی ہے۔
{4} … اس آیت میں اس بات پر تنبیہ ہے کہ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو نماز اور اُونٹوں کی قربانی سے

بڑا اِختصاص تھا ( 1) کیونکہ نماز آپ کی مبارک آنکھوں کے لئے ٹھنڈک بنائی گئی ہے اور اونٹوں کی قربانی میں آپ کی ہمت قوی تھی چنانچہ روایت ہے کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے سو اونٹ قربانی دئیے جن میں ابو جہل کا ایک اونٹ تھاجس کے ناک میں سونے کی نکیل تھی۔
{5} … دوسرے لام کو اس لئے حذف کیا گیا کہ پہلا لام اس پر دلالت کررہا ہے۔
{6} … سَجْع کے حق کی رعایت کی گئی اور یہ من جملہ بدائع ہے۔ جب قائل اسے طبعی طور پر لائے اور تکلف سے کام نہ لے۔
{7} … ’’ لِرَ بِّکَ ‘‘ میں دو خوبیاں ہیں ایک تو اس میں التفات ہے، دوسرے مضمر کی جگہ لفظ مظہر لایا گیاہے اور اس میں اللّٰہ تعالٰی کی شانِ کبریائی اور اسکے غلبہ ٔ قدرت کا اظہار ہے۔ اسی سے خلفاء نے یہ قول لیا، یأمرک امیر المؤمنین بکذا ۔
{8} … اس سے معلوم ہواکہ حق عبادت یہ ہے کہ بندے اس کے ساتھ اپنے رب اور اپنے مالک کو خاص کریں او ر اس شخص کی خطاسے تعریض (2 ) ہوگئی جو اپنے رب کی عبادت چھوڑ کر کسی غیر کی عبادت کرے۔ ( 3)
اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ۠ (۳) ( 4) اس میں پانچ فائدے ہیں :
{1} … امر ( ’’ فَصَلِّ ‘‘ ’’ وَ انْحَرْؕ ‘‘ ) کی علت میں حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے شانی (دشمن) کے حال اور اس کے قول کی طرف ترک توجہ کوبر سبیل ا ِسْتِیناف ( 5) بیان کیا گیا اور ا ِسْتِیناف کا یہ اچھا عمل ہے۔ قرآن شریف میں مواقع استیناف بکثرت ہیں ۔
{2} … یہ وجہ بھی ہوسکتی ہے کہ اس جملہ کو معترضہ قرار دیاجائے جو خاتمۂ اَغراض کے لئے حکمت کے سیاق پر لایا گیاہے جیسا کہ اللّٰہ تعالٰی کا قول ہے: اِنَّ خَیْرَ مَنِ اسْتَاْجَرْتَ الْقَوِیُّ الْاَمِیْنُ (۲۶) (قصص، ع ۳) ( 6) اور شانی سے

مراد عاص بن وائل ہے۔
{3} … عاص کو اس صفت کے ساتھ ذکر کیا اور نام کے ساتھ ذکرنہ کیا تاکہ یہ مُتَناوِل و شامل ہو اس شخص کو جو دین حق کی مخالفت میں عاص کی مانند ہو۔
{4} …اس جملے کے شروع میں حرف تاکید لایا گیا اس سے ظاہر ہے کہ جو کچھ عاص نے کہا جھوٹ ہے اور محض تعنت و عناد (1 ) کا نتیجہ ہے اسی واسطے اس کو شانی کہا گیا۔
{5} … خبر معرفہ لائی گئی ہے تاکہ عدو وشانی (2 ) کے لئے بتر ( 3) بدرجہ کمال ثابت ہو۔ گویا کہ وہ جہور ہے جس کو صُنْبور کہاجائے۔ پھر یہ سورت باوجود علو مَطْلَع و تمامِ مَقْطَع کے اور باوجود نکاتِ جلیلہ سے پُر ہونے اور محاسن کثیرہ کے جامع ہونے کے اس تَصَنُّع سے خالی ہے جس سے انسان اپنے خَصْم کو ساکت و مغلوب کرلیتاہے۔ انتہیٰ۔ ( 4)
ان تمام اُمور کے علاوہ اس سورت کی تین آیتوں میں چار پیشین گوئیاں ہیں جو پہلے مذکور ہوچکی ہیں ۔
آیہ یٰۤاَرْضُ ابْلَعِیْ مَآءَكِ ( 5) کی خارقِ عادت فصاحت کی طرف پہلے اشارہ آچکا ہے۔ علامہ کرمانی (6 ) کی کتاب عجائب میں ہے کہ مُعَاندین نے عرب و عجم کے تمام کلام ڈھونڈمارے مگر کوئی کلام فخامت الفاظ ، حسن نظم، جودتِ معانی اور ایجاز میں اس کی مثل نہ پایااور اس امر پر متفق ہوگئے کہ انسانی طاقت اس آیت کی مثل لانے سے قاصر ہے۔ (7 ) ابن اَبی الا ِصْبَع ( 8) کا قول ہے کہ میں نے کلام انسانی میں اس آیت ( 9) کی مثل نہیں دیکھا۔ اس میں سترہ لفظ ہیں اور بیس بدائع ہیں اور وہ یہ ہیں :

{1 2,} … ’’ اِبْلَعِیْ ‘‘ ’’ اَقْلِعِیْ ‘‘ میں مناسبت تامہ ہے۔
{4,3} … ’’ اِبْلَعِیْ ‘‘ ’’ اَقْلِعِیْ ‘‘ میں استعارہ ہے۔
{5} … ارض و سمامیں طباق ہے۔ (1 )
{6} … یٰسَمَاءُ ‘‘ میں مجاز ہے کیونکہ حقیقت ’’ یَا مَطَرَ السَّمَائِ ‘‘ ہے۔
{7} … ’’ وَ غِیْضَ الْمَآءُ ‘‘ ( 2) میں اشارہ ہے۔ (3 ) کیونکہ اس کی کئی معانی سے تعبیر کی گئی ہے اس لئے کہ پانی خشک نہیں کیا جاسکتا یہاں تک کہ آسمان کا مینہ تھم جائے او ر زمین پانی کے ان چشموں کو نگل جائے جو اس سے نکلتے ہیں تب سطح زمین کا پانی کم ہوجائے۔
{8} … ’’ وَ اسْتَوَتْ ‘‘ میں صنعت ارداف ( 4) ہے کیونکہ اس کی حقیقت جَلَسَتْ ہے پس اس لفظ خاص سے اس کے مرادف کی طرف عدول کیاگیا۔ اس واسطے کہ استواء میں اشعار ہے جلوس متمکن کا جس میں کوئی کجی نہ ہو اور یہ معنی لفظ جلوس سے ادا نہیں ہوتے۔
{9} … ’’ وَ قُضِیَ الْاَمْرُ ‘‘ ( 5) میں تمثیل (6 ) ہے۔
{10} … اس آیت میں تعلیل (7 ) ہے۔کیونکہ ’’ غِیْضَ الْمَآءُ ‘‘ ِاسْتِواء کی علت ہے۔
{11} … اس میں صحت تقسیم ہے، نقص کی حالت میں جو پانی کے اقسام ہیں وہ سب اس میں مذکور ہیں کیونکہ اس کی صرف یہی قسمیں ہیں ۔ آسمان کے پانی کا تھم جانا، زمین سے نکلنے والے پانی کا بند ہوجانا اور سطح زمین کے پانی کا خشک

ہوجانا۔
{12} … اس میں احتراس (1 ) فی الدعاء ہے تاکہ یہ وہم نہ گزرے کہ غرق اپنے عموم کے سبب سے اس کو شامل ہے جو مستحق ہلاک نہیں کیونکہ اللّٰہ تعالٰی کا عدل اس سے مانع ہے کہ غیر مستحق پر دعائے بد کرے۔ (2 )
{13} … اس میں حسن النسق (3 ) ہے کیونکہ ا س میں بعض جملے بعض پر واؤ عطف کے ساتھ اس ترتیب سے معطوف ہیں جو بلاغت کا مقتضاء ہے چنانچہ پہلے زمین پر سے پانی کا ناپید ہونا ذکر کیا گیا جس پر کشتی والوں کا غایت مقصود (کشتی کی قید سے نجات) موقوف ہے۔ پھر آسمان کے پانی کا تھم جانا بیان ہوا کہ جس پر یہ سب (یعنی کشتی سے نکلنے کے بعد کی اذیت کا دور کرنا اور زمین پرکے پانی کا پراگندہ ہوجانا) موقوف ہے۔ پھر ان ہر دو مادوں کے بند ہونے کے بعد پانی کے دور ہوجانے کی خبر دی جو یقینا ان سے متأخر ہے۔ پھر قضائے امر کی خبردی یعنی جس کا ہلاک ہونا مقدرتھا اس کے ہلاک ہونے کی اور جس کا بچنا مقدر تھا اس کے نجا ت پانے کی خبر دی۔ یہ امر ماقبل سے متأخر کیا گیا کیونکہ کشتی والوں کویہ کشتی سے نکلنے کے بعد معلوم ہوا اور ان کا نکلنا ماقبل پر موقوف تھا۔ پھر کشتی کے استقرار کی خبر دی جو اضطراب و خوف دور ہونے کا افادہ کرتا ہے۔ پھر ظالموں پر بددعا کرنے پر ختم کیا گیا تاکہ معلوم ہوجائے کہ طوفان تو تمام روئے زمین پر تھا مگر غرق ہونا صرف مستحقین عذاب پر شامل تھا۔
{14} … اس میں ائتلاف اللفظ مع المعنی ہے یعنی الفاظ معنی مقصود کے مناسب لائے گئے ہیں ۔
{15} … اس میں ایجاز (4 ) ہے کیونکہ اللّٰہ تعالٰی نے یہ تمام قصہ نہایت ہی مختصر عبارت میں بیان فرمادیا۔
{16} … اس میں تسہیم ( 5) ہے کیونکہ آیت کااَوَّل اس کے آخر پر دلالت کرتاہے۔
{17} … اس میں تہذیب ( 6) ہے کیونکہ اس کے مفردات صفات حسن سے متصف ہیں ۔ ہر لفظ کے حروف کے مخارج

سہل ہیں اور ان پر فصاحت کی رونق ہے او ر بشاعت و عقادت سے خالی ہیں ۔
{18} … اس میں حسن بیان ہے کیونکہ سامع کو اس کے معنے سمجھنے میں کسی اور چیز کی ضرورت نہیں اسی سے وہ آسانی سے سمجھ سکتاہے۔
{19} … اس میں تمکین (1 ) ہے۔
{20} … اس میں انسجام (2 ) ہے۔ (3 )
علامہ سیوطی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اِتقان میں اس کے بعد لکھتے ہیں کہ ا س آیت میں اعتراض (4 ) بھی ہے۔ یعنی تین جملے معترضہ لائے گئے ہیں اور وہ یہ ہیں : وَ غِیْضَ الْمَآءُ ، وَ قُضِیَ الْاَمْرُ ، وَ اسْتَوَتْ عَلَى الْجُوْدِیِّ اس سے سمجھا جاتاہے کہ یہ امر دونوں کے درمیان واقع ہوا۔ علاوہ ازیں اس میں اعتراض میں اعتراض ہے کیونکہ ’’ وقضی الامر ‘‘ غیض اور استوت کے درمیان واقع ہے۔ اس لئے کہ اِسْتِواء غیض کے بعد حاصل ہوا۔ ( 5)
’’ ایجا ز ‘‘ کی مثال: وَ لَكُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوةٌ (6 ) ہے۔ اس سے پہلے یہ مقولہ ضرب المثل تھا: ’’ القتل انفی للقتل ‘‘ (7 ) جب یہ آیت نازل ہوئی تو اس مثل کا استعمال متروک ہوگیا اس آیت کی ترجیح مثل مذکور پر بوجوہ ذیل ظاہرہے:
{1} … آیت میں مثل کی نسبت ا ’’ یجاز ‘‘ ہے جو ممدوح ہے کیونکہ ’’ القصاص حیٰوۃ ‘‘ کے حروف دس ہیں اور ’’ القتل انفی

للقتل ‘‘ کے چودہ ہیں ۔ (1 )
{2} … قتل کی نفی حیات کو مستلزم نہیں اور آیت حیات کے ثبوت پر نص ہے جو مطلوبِ اصلی ہے۔
{3} … حیات کی تنکیر تعظیم کے لئے ہے جیسا کہ وَ لَتَجِدَنَّهُمْ اَحْرَصَ النَّاسِ عَلٰى حَیٰوةٍۚۛ-الآیہ۔ (2 ) میں ہے اور اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ قصاص میں حیات مُتَطَاوِلہ ( 3) ہے مگر مثل میں یہ بات نہیں کیونکہ اس میں لام جنس کے لئے ہے۔ اسی واسطے مفسرین نے وہاں حیٰوۃ کی تفسیر بقاء کی ہے۔
{4} … آیت میں تعمیم ہے اور مثل میں نہیں کیونکہ ہر قتل انفی للقتل نہیں بلکہ بعض قتل (اور وہ قتل ظلماًہے) موجب قتل ہوتا ہے اور اس کا (یعنی قتل ظلماً کا ) نافی ایک خاص قتل ہے اور وہ قصاص ہے جس میں ہمیشہ حیات ہے۔
{5} … مثل میں لفظ ’’ قتل ‘‘ دوبار آیاہے اور آیت اس تکرار سے خالی ہے اور تکرار سے خالی افضل ہے اس سے جس میں تکرار پائی جائے خواہ وہ تکرا ر مخل فصاحت نہ ہو۔
{6} … آیت میں محذوف نکالنے کی حاجت نہیں مگر مثل میں ہے کیونکہ اس میں ’’ افعل ‘‘ تفضیل کے بعد ’’ من ‘‘ اور اس کامابعد محذوف ہے اور قتل اول کے ساتھ ’’ قصاصًا ‘‘ اور قتل ثانی کے ساتھ ’’ ظلمًا ‘‘ محذوف ہیں اور تقدیریوں ہے: ’’ القتل قصاصًا انفی للقتل ظلمًا من ترکہ ‘‘
{7} … آیت میں صنعت طباق ہے کیونکہ قصاص کا حیات کی ضد ہونا مشعر ہے مگر مثل میں ایسا نہیں ۔
{8} … آیت ایک فن بدیع پر مشتمل ہے اور وہ دوضدوں میں ہے ایک کا جو فناو موت ہے دوسری کے لئے جوحیات ہے محل و مکان بناناہے اور حیات کاموت میں قرار پکڑنا بڑا مبالغہ ہے جیسا کہ کشاف میں مذکور ہے اور صاحب ایضاح نے اسے یوں تعبیر کیا ہے کہ فِیْکو قصاص پر داخل کرکے قصاص کو حیات کے لئے گویا مَنْبع و مَعْدَن قرار دیاگیاہے۔
{9} …مثل میں پے درپے اَسباب خفیفہ (سکون بعد التحرک ) ہیں اور یہ امر کلمہ کی سلاست اور اس کے زبان پرجریان میں نقص ڈال دیتا ہے جیسا کہ سواری جب ذراسی حرکت کرے اور رک جائے پھر حرکت کرے پھر رک جائے تو ایسی سواری

کو سوار اپنی مرضی کے موافق نہیں چلا سکتا مگر آیت اس نقص سے پاک ہے۔
{10} … مثل میں ظاہر تَنَا قُض ہے کیونکہ ایک شیٔ اپنی ہی ذات کے لئے منافی قرار دی گئی۔
{11} … مثل میں قَلقَلہ ٔ قاف کا تکرار ہے جو تنگی و شدت کا موجب ہے اور نون کا غنہ بھی ہے۔
{12} … آیت حروف متلائمہ پر مشتمل ہے کیونکہ اس میں قاف سے صاد کی طرف خروج ہے اور قاف حروف استعلاء سے ہے اور صاد حروف استعلاء واطباق سے ہے۔ مگر مثل میں قاف سے تا ء کی طرف خروج ہے جو حرف مخفض ہے اور وہ قاف کے ملائم نہیں ۔ اسی طرح صاد سے حاء کی طرف خروج احسن ہے لام سے ہمزہ کی طرف خروج سے کیونکہ کنارۂ زبان اور اقصٰیٔ حلق میں بُعْد ہے۔
{13} …صاد اور حاء اور تاء کے تلفظ میں حسن صوت ہے مگر قاف اور تاء کی تکرار میں یہ خوبی نہیں ۔
{14} … آیت لفظ قتل سے خالی ہے جو مُشْعَرِ وَ حشت ہے بخلاف لفظ حیات کے جو طبائع کو زیادہ مقبول و مرغوب ہے۔
{15} … آیت میں لفظ قِصاص کے ذِکر سے جو مُشْعَرِ مُسَاوات ہے عدل ظاہر ہوتاہے مگر مطلق قتل میں ایسا نہیں ۔
{16} … آیت اِثبات پر مبنی ہے اور مثل نفی پر مبنی ہے اور اِثبات اَشرف ہے کیونکہ اثبات اَوَّل ہے اور نفی اس سے دوسرے درجے پر ہے۔
{17} … آیت کے معنی سنتے ہی سمجھ میں آجاتے ہیں مگر مثل کے معنی سمجھنے کیلئے پہلے ’’ القصاص ھو الحیٰوۃ ‘‘ کے معنے سمجھنے درکار ہیں ۔
{18} … مثل میں فعل متعدی سے افعل تفضیل ہے اور آیت اس سے خالی ہے۔
{19} … صیغۂ افعل اکثر اِشتراک کا مقتضی ہوتاہے، پس ترکِ قصاص قتل کا نافی ہوگا اور قصاص قتل کا زیادہ نافی ہوگا اور یہ درست نہیں ۔ آیت اس نقص سے خالی ہے۔
{20} …آیت قتل اور جرح دونوں سے روکنے والی ہے کیونکہ قصاص دونوں کے لئے ہوتا ہے اور قصاص اعضا ء میں بھی حیات ہے۔ کیونکہ عضو کا قطع کرنا مصلحت حیات کو ناقص یا منغض کردیتا ہے اور بعض وقت جان تک نوبت پہنچ جاتی ہے مگر مثل میں یہ خوبی نہیں ۔ ( 1) کذا فی الا تقان للسیوطی۔
اَمثلہ مذکور ہ بالا سے جو بطورِ ’’ مشتے نمونہ از خروارے ‘‘ (1 ) بیان کی گئی ہیں ناظرین قرآنِ مجید کی خارقِ عادت فصاحت و بلاغت کا اندازہ بخوبی لگا سکتے ہیں ۔
علامہ سیوطی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اَللّٰهُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْاۙ-یُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ۬ؕ- ِالآیہ۔ ( 2) کی فصاحت و بلاغت کے متعلق ایک رسالہ لکھاہے اور اس میں ایک سو بیس بدائع بیان کیے ہیں ۔ بخوفِ تطویل اسے یہاں درج نہیں کیاگیا۔

________________________________
1 – سیرتِ رسولِ عربی کے نسخوں میں اس رسالے کا نام ’’ نہایت الاعجاز فی درایت الاعجاز ‘ ‘لکھا ہے جو کہ کتابت کی غلطی معلوم ہوتی ہے کیونکہ ہمارے پیش نظر دارِ صادر بیروت (الطبعۃ الاولی،۱۴۲۴ھ -۲۰۰۴م)کا نسخہ ہے جس پر ’’نہایۃ الایجاز فی درایۃ الاعجاز‘‘ لکھا ہے لہٰذا ہم نے اسی کے مطابق تصحیح کی ہے ،و اللّٰہ تعالٰی اعلم۔ علمیہ
2 – ترجمۂکنزالایمان:اے محبوب بیشک ہم نے تمہیں بے شمار خوبیاں عطا فرمائیں ۔(پ۳۰، الکوثر:۱) ۔ علمیہ
3 – سب سے بڑے عطا فرمانے والے۔
4 – بزرگ و برتر نعمت دینے والے۔
5 – حقیقت۔
6 – ان میں سے۔
7 – یعنی اچھی طرح ذہن نشین ہو جاتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *