غزوات و سَرایا کاآغاز

غزوات و سَرایا کاآغاز

اسی سال سلسلہ غَزَوات و سَرایا شروع ہو تا ہے۔ محدثین واَہل سِیَر (3) کی اِصطلاح میں غزَوہ وہ لشکر ہے جس میں رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بذات اقدس شامل ہوں اور اگر حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بذات شریف شامل نہ ہوں بلکہ اپنے اصحاب میں سے کسی کو دشمن کے مقابلہ میں بھیج دیں تو وہ لشکر سَرِیَّہ کہلاتا ہے۔ غزوات تعداد میں ستائیس ہیں ۔ جن میں سے نو میں قتال وقوع میں آیا ہے اور وہ یہ ہیں : بَدْر، اُحُد، مُرَیْسِیْع، خندق، قُرَیْظَہ، خیبر، فتح مکہ، حُنَین، طائف۔ سرایا کی تعداد سینتا لیس ہے۔ نظر بر اِختصار ہم سر ایا کو پَس اَنداز کر کے (4) غزوات وبعض دیگر وَقائع (5) کا حال سنہ وار پیش کرتے ہیں ۔
ہجرت کے بعد بھی کفار قریش مسلمانوں کے مذہبی فرائض کی بجاآوری میں مُزَاحِم ہوتے (6) تھے اور اسلام کے مٹانے کی کوشش کرتے تھے بلکہ دیگر قبائل کو بھی مسلمانوں کی مخالفت پر برانگیختہ کر تے (7) تھے، اس لئے حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مختلف اَغراض کے لئے اپنے اصحاب کی چھوٹی چھوٹی جماعتیں (سرایا) اَطرافِ مَدینہ میں بھیجنی شروع کیں بلکہ بعض دفعہ خود بھی شرکت فرمائی۔کہیں دشمن کی نقل و حرکت کی خبر لانے کے لئے کہیں بعض قبیلوں سے معاہدہ قائم کر نے کے لئے اور کہیں محض مُدَافَعَت کے لئے ایسا کیا گیا۔ ہاں ایک غرض یہ بھی تھی کہ قریش کی شامی تجارت کا راستہ بند کر دیا جائے اور یہ وہی بات ہے جس کی دھمکی حضرت سعد بن معاذ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے ہجرت کے بعد ابوجہل کو خاص خانہ کعبہ میں یوں دی تھی کہ اگر تم نے (8) ہم کو طواف کعبہ سے روکاتو ہم تمہارا مدینہ کا راستہ بند کر دیں گے، (9) چونکہ قریش با لعموم مسلمانوں کو حج وعمرہ سے روکتے تھے اس لئے مجبور اً مسلمانوں کو ان کے تجارتی قافلوں سے تَعَرُّض
کرنا پڑا (1) تاکہ مذہبی مُداخلت سے باز آجائیں ۔
’’ غزوۂ اَبواء ‘‘ (2) اسی سال کے ماہِ صفر میں ، ’’ غزوۂ بُوَاط ‘‘ (3) وغز وۂ بَدْر اُولیٰ ماہ ِربیع الا وَّل میں اور ’’ غزوۂ ذُوالعُشَیْرَہ ‘‘ (4) ماہِ جُمَادَی الا ُخریٰ میں ہوا۔بَدْرِ (5) اُولیٰ کُرْزبن جابر فِہرِ ی کی گو شمالی (6) کے لئے تھا جو مدینہ منورہ کے اونٹ ہانک لے گیا تھا۔ باقی تینوں قافلۂ قریش سے تَعَرُّض کے لئے تھے مگر ان میں سے کسی میں بھی مقابلہ نہیں ہوا۔
غزوۂ ذُوالعُشَیْرَہ کے بعد ماہ رجب میں آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے پھوپھی زادبھائی حضرت عبداللّٰہبن جحش رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکو آٹھ یا بقولِ بعض بار ہ مہاجرین کی جمعیت کے ساتھ نخلہ (7) کی طرف روانہ کیا۔وہ نخلہ میں پہنچ کر قافلہ قریش کے منتظر رہے۔ نا گاہ (8) قریش کے اونٹوں کا قافلہ جن پر وہ شرابِ مُنقّٰی اور چمڑا وغیرہ مالِ تجارت طائف سے لارہے تھے ان کے قریب اترا۔ اس قافلے میں عَمرْ و (9) بن حَضْرَمی، عثمان بن عبداللّٰہ بن مُغِیرَہ اور اس کا بھائی نَوفَل بن عبداللّٰہ اور ابوجہل کے باپ ہِشام بن مُغِیرَہ کا آزاد کردہ غلام حَکَم بن کَیْسَان تھے۔ فریقین میں مقابلہ ہوا، اس میں حضرت واقِد بن عبداللّٰہ تَمِیمِی نے ایک تیر سے عَمرْ وبن حَضْرَمی کا کام تمام کردیا۔ عثمان بن عبداللّٰہ اور حَکَم بن کَیْسَان گرفتار ہوئے اور باقی بھاگ گئے۔ حضرت عبداللّٰہبن جحش دونوں اَسیر وں اور مال غنیمت کو لے کر حضور اقدسصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضور نے غنیمت تقسیم فرمادی۔ حضرت حَکَم بن کَیْسَان اسلام لائے عثمان بن عبداللّٰہ کوچھوڑدیا گیا، وہ مکہ میں چلاگیااورکفرپرمرا۔ (1)
اسی سال کے ماہ شعبان میں ماہ رمضان کے روزے فرض ہوئے اور ماہ رمضان میں ’’ غزوۂ بَدْرثانیہ ‘‘ وُقوع میں آیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *