قلت ضحک

قلت ضحک
سلف صالحین کی عاداتِ مبارکہ میں سے قلّتِ ضحک بھی تھا ، وہ کم ہنستے تھے اور دنیا کی کسی شے کے ملنے پر خوش نہیں ہوتے تھے، از قسم لباس ہو یا سواری یا کوئی اور، وہ ڈرتے تھے کہ ایسا نہ ہو آخرت کی نعمتوں سے کوئی نعمت دنیا میں حاصل ہوگئی ہو ۔ ان کی عادت دنیا داروں کی عادت کے برخلاف تھی ۔ دنیا دار تو دنیا ملنے سے خوش ہوتے ہیں لیکن سلف صالحین دنیا ملنے سے خوش نہیں ہوتے تھے۔
فی الحقیقت جو شخص محبوس ہو وہ کسی شے سے کیسے خوش ہوسکتاہے ۔جس طرح قیدی قید میں مکدر رہتا ہے اسی طرح اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مقبول بندے اس دنیا میں غمناک رہتے ہیں ۔ ان کو یہی خیال رہتا ہے کہ اس دارِ دنیا سے جلدی خلاصی ہو اور حق سبحانہ کی لقاء سے شرف حاصل ہو ۔ حدیث شریف میں آیا ہے ’’ والذی نفسی بیدہ لو تعلمون ما اعلم لضحکـتم قلیلا ولبکیتم کیثرا ولما تلذ ذ تم بالنساء علی الفرش و لخرجتم الی الصعدات تجارون الی اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ ‘‘
(سنن الترمذی، کتاب الزھد، باب قول النبی لوتعلمون…الخ، الحدیث:۲۳۱۹، ج۴، ص۱۴۰ ۔ تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، قلۃ ضحکہم ومزحہم با لدنیا، ص۴۷)
رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا ہے قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر تم جانتے جو میں جانتا ہوں تو تم تھوڑا ہنستے اور بہت روتے اور عورتوں کے ساتھ فراشوں پر کبھی لذّت نہ اُٹھاتے اور جنگلوں کی طرف نکل جاتے اور خدا تَعَالٰی کی جناب میں پناہ چاہتے ۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بہت ہنسنا اچھا نہیں ہے جہاں تک ہوسکے خدا کے خوف سے رونا لازم ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ

سرورِ عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تمام مخلوقات سے اعلم ہیں آپ کا علم سب سے زیادہ ہے ۔
حضرت امام حسن بصری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ ہنس رہا ہے آپ نے فرمایا: یا فتیہل مررت بالصراط اے جوان! کیا تو پل صراط سے گزر چکا ہے؟ اس نے کہا: نہیں ! پھر فرمایا : ہل تدری ا لی الجنۃ تصیر ام الی النار؟کیا تو جانتا ہے کہ تو جنت میں جائے گا یادوزخ میں ؟ اس نے کہاکہ نہیں ! فرمایا: فما ھذ ا الضحک پھر یہ ہنسنا کیساہے؟
(احیاء علوم الدین، کتاب الخوف والرجائ، بیان احوال الصحابۃ…الخ، ج۴، ص۲۲۷)
یعنی جب ایسی مشکلات تیرے سامنے ہیں اور تجھے اپنی نجات کا بھی علم نہیں تو پھر کس خوشی پر ہنس رہا ہے اس کے بعد وہ شخص کسی سے ہنستا ہوا نہیں دیکھا گیا ۔
حدیث قدسی میں آیا ہے’’ عجبا لمن ایقن بالموت کیف یفرح‘‘ اللہ عَزَّ وَجَلَّ فرماتا ہے ’’تعجب ہے اس شخص پر جو موت کا یقین رکھتاہے پھر کیسے ہنستا ہے ‘‘۔ (شعب الایمان، باب فی ان القد رخیرہ…الخ، الحدیث ۲۱۲، ج۱، ص۲۲۲)
حضرت ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم اکوپوچھا گیا کہ خائفین کون ہیں ؟ فرمایا: ’’ قلوبھم بالخوف قرحۃ واعینھم باکیۃ یقولون کیف نفرح والموت من ورا ئنا وا لقبر امامنا والقیامۃ موعدنا وعلی جہنم طریقنا وبین یدی اللّٰہ ربنا موقفنا ‘‘
(احیاء علوم الدین، کتاب الخوف والرجائ، بیان احوال الصحابۃ…الخ، ج۴، ص۲۲۷)
کہ ان کے دل خوف خدا سے زخمی ہیں ان کی آنکھیں روتی ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہم کیسے خوشی کریں جب کہ موت ہمارے پیچھے ہے اور قبر ہمارے سامنے ہے اور قیامت ہمارے وعدہ کی جگہ ہے جہنم پر سے گزرنا ہے اور حق سبحانہ و تَعَالٰی کے سامنے کھڑا ہونا ۔
حضرت حاتم اصم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ انسان عمدہ جگہ پر مغرور نہ ہو

کیونکہ آدم علیہ السلام جو کہ جنت میں نہایت اعلیٰ اور عمدہ جگہ میں تھے ان کو اس جگہ سے باہر تشریف لانا پڑا اور کثرت عبادت پر بھی مغرور نہ ہونا چاہیے کیونکہ ابلیس باوجود کثرت عبادت کے ملعون ہوا اور کثرت علم پربھی مغرور نہ ہونا چاہیے کیونکہ بلعم جو کہ اسم اعظم کا عالم تھا آخر اس کے ساتھ کیا معاملہ ہوا اورصالحین کی کثرت زیارت کرنے پر بھی مغرور نہ ہونا چاہیے کیونکہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اقارب جنہوں نے رسول کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بکثرت زیارت کی تھی جو مسلمان نہ ہوئے توآپ کی زیارت نے ان کو کچھ نفع نہ پہنچایا ۔ (تذکرۃ الاولیاء، باب بیست وہفتم، ذکرحاتم اصم، نیمۂ اول، ص۲۲۵)
حضرت حسن بصری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ یہاں تک خوفناک اور غمناک رہا کرتے تھے کہ یہی معلوم ہوتا تھا کہ گویا ابھی کوئی تازہ گناہ کرکے ڈررہے ہیں ۔ (تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، قلۃ ضحکہم ومزحہم بالدنیا، ص۴۷)
حضرت فضیل بن عیاض رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ رُبّ ضاحک واکفانہ قد خرجت من عند القصار۔
(تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، قلۃ ضحکہم ومزحہم بالدنیا، ص۴۸)
کہ بہت لوگ ہنسنے والے ہیں حالانکہ ان کے کفن کاکپڑا دھوبیوں کے یہاں سے دھویا ہواآچکا ہے ۔ ابن مرزوق رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ جو شخص دعویٰ کرتا ہے کہ مجھے گناہوں کا غم ہے پھر وہ کھانے میں شہد اور گھی جمع کرتاہے تو وہ اپنے دعویٰ میں جھوٹا ہے ۔ (تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، قلۃ ضحکہم ومزحہم بالدنیا، ص۴۸)
حضرت اوزاعی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ حق سبحانہ و تَعَالٰی نے جو آیت میں

لَا یُغَادِرُ صَغِیْرَةً وَّ لَا كَبِیْرَةً اِلَّاۤ اَحْصٰىهَاۚ (پ۱۵، الکہف:۴۹)
ترجمہ کنزالایمان : نہ اس نے کوئی چھوٹا گناہ چھوڑا نہ بڑاجسے گھیر نہ لیا ہو۔
فرمایا ہے اس میں صغیرہ سے مراد تبسم اور کبیرہ سے مراد قہقہہ ہے ۔ میں کہتاہوں تبسم سے وہ تبسم مراد ہے جو ضحک تک پہنچے، یعنی ایساآواز سے ہنسنا جس کو اہل مجلس سن لیں ورنہ صرف تبسم جس کی آواز نہ ہو رسول کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے ثابت ہے ۔ (تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، قلۃ ضحکہم ومزحہم بالد نیا، ص۴۸)
حضرت ثابت بنانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ مؤمن جب کہ موت سے غافل ہوتوہنستا ہے۔
(تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، قلۃ ضحکہم ومزحہم با لد نیا، ص۴۸)
یعنی موت یاد ہوتو اس کو ہنسی نہیں آتی ۔ حضرت عامر بن قیس رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :جو شخص دنیا میں بہت ہنستا ہے وہ قیامت میں بہت روئے گا۔ (تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، قلۃ ضحکہم ومزحہم با لد نیا، ص۴۸)
حضرت سعید بن عبدالعزیز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ چالیس سال تک نہ ہنسے یہاں تک کہ آپ کو موت آگئی ۔ اسی طرح غزوان رقاشی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نہیں ہنستے تھے ۔ (تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، قلۃ ضحکہم ومزحہم با لد نیا، ص۴۸)
حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :’’ مع کل ضحاک فی مجلس شیطان ‘‘
(تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، قلۃ ضحکہم ومزحہم بالدنیا، ص۴۸)
مجلس میں ہر ہنسنے والے کے ساتھ شیطان ہوتاہے ۔ حضرت معاذہ عدویہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ا ایک دن ایسے نوجوانوں پر گزریں جو کہ ہنس رہے تھے اور ان کا لباس صوف کا تھا یعنی لباس صوفیانہ تھاتوآپ نے فرمایا : سبحان اللّٰہ لباس الصالحین وضحک الغافلین . (تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، قلۃ ضحکہم ومزحہم با لد نیا، ص۴۸)

سُبحٰنَ اللہ! لباس تو صالحین کا ہے اور ہنسنا غافلوں کا ۔ حضرت عون بن ابی زید رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :میں عطاء سلمی کے پاس پچاس سال رہا میں نے ان کو کبھی ہنستے ہوئے نہیں دیکھا ۔(تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، قلۃ ضحکہم ومزحہم با لد نیا، ص۴۹)
برادرانِ طریقت! ذرا اپنے اپنے گریبانوں میں منہ ڈال کر دیکھیں کہ کیا ہم لوگوں میں سلف صالحین کی عاداتِ مبارکہ میں سے کوئی عادت پائی جاتی ہے؟ کیا ہمیں غفلت نے تباہ نہیں کیا؟ کیا ہمیں نجات کی چٹھی مل چکی ہے؟کیا ہم آنے والی گھاٹیوں کو طے کرچکے ہیں ؟ پھر کیا وجہ ہے کہ ہم اپنی آخرت سے بے فکر ہیں ؟اس وقت کو غنیمت سمجھو اور اپنے خالق و مالک کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کرواللہ تَعَالٰی آپ کو اور مجھ کوبھی توفیق دے ۔ آمین

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!