صَلٰوۃُ الْجَمَاعَۃِ : نمازباجماعت

صَلٰوۃُ الْجَمَاعَۃِ : نمازباجماعت

Advertisement

1): باجماعت نماز کی فضیلت

اِسلام دینِ اِجتماعی ہے نہ کہ اِنفرادی، اِسی وجہ سے مسجد کو جامع کہا جاتا ہے اور نماز باجماعت تنہا نماز پڑھنے سے افضل ہے۔
حضرت اِبنِ عمر ص فرماتے ہیں کہ رَسولِ اَکرم انے فرمایا کہ باجماعت نماز پڑھنا اکیلے نماز پڑھنے کے مقابلے میں 27گنا زیادہ درجہ رکھتا ہے۔ [مسلم :۱؍۴۵۱]

(2): نماز باجماعت کب ہوتی ہے ؟

جب اِمام کے ساتھ ایک مرد بھی ہوتو نماز باجماعت کہلائے گی۔
با جماعت نماز کا حکم: مردوں کے لئے نماز باجماعت سنتِ مؤکدہ ہے۔

(3): اِمامت کی شرائط

(۱): بالغ ہونا ۔
(۲): مرد ہونا۔
مسئلہ : عورت کا عورتوں کی اِمامت کروانا کراہت کے ساتھ جائز ہے اور جب عورت اِمام ہوگی تو وہ عورتوں کے درمیان ہی کھڑی ہوگی۔
(۳): اِمام قرأت جانتا ہو۔
(۴): اِما م عذر سے سلامت ہو ،جیسے سلسِ بول نہ ہو۔
(۵): مقتدی اِمام کی پیروی کی نیت کرے گا اور اِمام پر واجب ہے کہ جب اُس کے پیچھے عورتیں ہوں تو اُن کی اِقتداء کی نیت بھی کرے۔
(۶): اِمام اور مقتدی ایک ہی وقت کے فرض کی نیت کریں یعنی یہ نہیں ہو سکتا کہ اِمام عصر کی نیت سے فرض پڑھے اور مقتدی نے ظہر کے فرض کی نیت کی ہو۔
(۷): اِما م اور مقتدی کے درمیان ایک نہر یا دیوار یا سڑک کا فاصلہ نہ ہو۔
(۸): مقتدی اِمام کی نماز کو صحیح سمجھتا ہو۔
(۹): مقتدی اِمام سے پہلے اَفعال ادا نہ کرے بلکہ تھوڑی تاخیر سے ادا کرے ۔

(4): فرض کو کیسے پائے گا؟

٭ اگر کوئی اِمام کے سلام پھیرنے سے پہلے پہلے جماعت میں شامل ہو گیاتو جماعت کا ثواب مل جائے گا۔
٭ اگر کوئی شخص حالتِ رکوع میں شامل ہوگیا تو اُسے وہ رکعت مل گئی ۔
٭ جب اِقامت شروع ہوجائے تو پھر سنتیں شروع نہ کرے بلکہ جماعت میں شامل ہوجائے۔
٭ اگرچار رکعت والی سنتیں پڑھ رہا تھا کہ اِقامت شروع ہوگئی تو اب اگر پہلی رکعت میں تھا تو اپنی نماز توڑ دے اور اِمام کے ساتھ شامل ہو جائے اوراگر دوسری رکعت میں تھا تو دوسری رکعت مکمل کر کے امام کے ساتھ شامل ہو جائے اور یہ دورکعات نفل ہو جائیں گی اور فرض کے بعد چار سنتیں دوبارہ ادا کرے اور اگر تیسری رکعت کا سجدہ کر لیا تو پھر چار مکمل کر کے اِمام کے ساتھ شامل ہو جائے ۔
٭ اَلبتہ اگر فجر کی سنتیں پڑھ رہا ہے اور وہ جانتا ہے کہ اِمام کے سلام پھیرنے سے پہلے وہ اپنی سنتوں کو مکمل کر لے گا تو پھر سنتیں مکمل کر کے جماعت میں شامل ہو جائے ، اِس لئے کہ اِن سنتوں کی بہت زیادہ تاکید آئی ہے۔

(5): اِمامت کا زیادہ مستحق کون؟

(۱): جو سب سے زیادہ نماز کے اَحکام جانتا ہو۔
(۲): جو تجویدو قرأت سب سے زیادہ جانتا ہو۔
(۳): جو تقوی و پر ہیز گاری میں بڑھ کر ہو۔
(۴): جس کی آواز اچھی ہو کیونکہ ایسے شخص کی اِمامت میں لوگوں کا خشوع زیادہ ہوگا۔
مسئلہ : فاسق کی اِمامت مکروہ ِتحریمی واجبُ الاعادہ ہے۔

(6): صفوں کی ترتیب

(۱): اکیلا مقتدی اِمام کے دائیں جانب کھڑا ہوگا ۔
(۲): دو یا دو سے زائد مقتدی ہوں تو اِمام کے پیچھے کھڑے ہوں گے۔

(۴): اگر اِمام کے پیچھے مرد اور بچے ہوں تو پھر ترتیب یہ ہو گی کہ پہلے صف مردوں کی اورآخر میں بچوں کی ہو گی ۔
مسئلہ : اگر صف میں جگہ خالی رہ جائے تو نماز بالکراہۃ ہو گی اور اگر پہلی صف میں جگہ نہ ہو اوراکیلا مقتدی پچھلی صف میں کھڑا ہوتو نماز ہو جائے گی۔
مسئلہ : نمازی کے لئے سنت ہے کہ اگر اُس کے آگے سے لوگوں کے گزرنے کا اِمکان ہو تو وہ سُترہ(جو ایک ہاتھ یعنی تقریباً دو فُٹ لمبا ہو اور کم ازکم ایک اُنگلی کی مقدار موٹا ہو ) رکھے تا کہ لو گ گزر کر گناہ گار نہ ہوں۔

(7): نماز با جماعت چھوڑنا کب جائز ہے؟

رَسولِ اَکرم انے ہمیں ترغیب دلائی ہے کہ نماز با جماعت ادا کریں، لہذٰا جماعت کی حفاظت کرنا ہر نمازی کے لئے ضروری ہے۔
اَلبتہ اگر کوئی عذر ہو تو نماز با جماعت چھوڑسکتا ہے ، وہ عذر یہ ہیں۔
(۱): شدید بارش کا ہونا۔ (۲): شدید سردی کا ہونا۔
(۳): شدید بیماری یا مریض کی خدمت میں مصروف ہونا۔
(۴): ظالم یا فتنہ کا خوف ہونا۔ (۵): جماعت میں حاضر ہونے میں جسمانی طور پر قادر نہ ہونا،مثلاً اُس کے ہاتھ پائوں کا شل (اپا ہج)ہوجانا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!