فی صدو رالناس

فی صدو رالناس

’’صدر ‘‘سینہ کو کہتے ہیں ، سینہ وہ مقام ہے جس میں دل رکھا گیا ہے ، گویا سینہ دل کا مکان ہے ۔ شیطان وسوسہ اندازی بھی اسی گھر میں رہتا ہے ،اور وقتاً فوقتا ً برے مشورہ دیتا جا تا ہے ، یہی وساوس شیطانی ہیں ۔

ہر چیز کی اصل اور حقیقت :

سینہ کی حقیقت جو ظاہراً معلوم ہو تی ہے وہ یہ ہے کہ چند ہڈیوں اور گوشت وغیرہ سے مرکب ہے ،مگر دراصل اس کی حقیقت کچھ اور ہی ہے ،جس طرح انسان کا حال کہ دیکھنے کو وہ ہڈیوں اور گوشت پوست سے مرکب ہے اور اس میں اور بندہ وغیرہ میں کوئی فرق نہیں ،مگر حقیقتِ انسان کو دیکھا جائے تو وہ کچھ اور ہی چیز ہے جس کا ادراک ممکن

جسم انسانی ،انسان کا غلاف ہے :

یہ جسم جس کو دیکھنے والے انساننہیں ، کیونکہ وہ ایسی لطیف چیز ہے جس سے حواس بالکل بے خبر ہیں ۔
کہتے ہیں وہ انسان کا قدرتی غلاف یا لباس ہے ، جس کے ٹوٹنے پھوٹنے سڑنے گلنے سے انسان پر کوئی اثر نہیں ہوتا ، بلکہ اپنی حالت پر محفوظ رہتا ہے ۔ مقاصد الاسلام کے حصہء دوم میں ہم نے یہ امر بدلائل ثابت کیا ہے کہ مسمر یز والے اس امر کا مشاہدہ کر ا دیتے ہیں کہ جسم انسانی اپنے مقام پرپڑا رہتا ہے او رانسان ہزار ہا کوس جاکر وہاں کی خبریں چند دقیقوں میں لا تا ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *