شیطان کی شرکت اور راشن میں بے برکتی

راشن میں بے بَرَکتی

آج کل یہ شکوہ بھی عام ہے کہ پہلے جتناراشن مہینے بھر چلتا تھا۔ اب ۱۵ دن میں ہی خَتمْ ہوجاتا ہے۔کاش کہ ہم اس پر بھی غور کرلیتے کہ کھانا کھاتے وقت ابتداء میں بسْمِ اﷲشَرِیْف پڑھ لیتے ہیں یا نہیں؟

شیطان کی شرکت

کھانے یا پینے سے پہلےبِسْمِ اﷲشَرِیْف پڑھنا سنت ہے۔ حضرت سیّدنا حُذَیفہ رضی اﷲعنہ روایت کرتے ہیں کہ تاجدارِمدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے کہ جس کھانے پربِسْمِ اﷲ نہ پڑھی جائے شیطٰن اُس کھانے میں شریک ہوجاتا ہے۔ (صحیح مسلم،کتاب الاشربۃ،باب آداب الطعام ،الحدیث۲۰۱۷،ص۱۱۱۶،دارابن حزم بیروت)

اسلئے کھانے سے پہلے بِسْمِ اﷲ شَرِیْف نہ پڑھنے سے کھانے کی بَرَکت زائل ہوجاتی ہے۔ اگر ایک بھی شخص بِغیر بِسْمِ اﷲ شَرِیْف پڑھے کھانے میں شامل ہوجائے تو بھی کھانے سے بَرَکت زائل ہوجاتی ہے۔

حضرت سیدناابوایوب انصاری (رضی اﷲتعالیٰ عنہ) فرماتے ہیں ہم سرکارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی خدمتِ بابَرَکت میں حاضرتھے۔کھانا پیش کیا گیا، ابتداء میں اتنی بَرَکت ہم نے کسی کھانے میں نہیں دیکھی،مگر آخِرمیں بڑی بے بَرَکتی دیکھی۔ ہم نے عرْض کی، یارَسُوْلَ اﷲعَزَّوَجَلَّ و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم ایسا کیوں ہوا؟ ارشاد فرمایا، ہم سب نے کھانا کھاتے وقت بِسْمِ اﷲ پڑھی تھی۔ پھر ایک شخص بِغیربِسْمِ اﷲپڑھے کھانے کو بیٹھ گیا، اس کے ساتھ شیطٰن نے کھانا کھالیا۔

(شرح السنہ،کتاب الاطعمۃ،باب التسمیۃ علی الابحل،الحدیث۲۸۱۸،ج۶،ص۶۱،دا ر الکتب لعلمیۃ)

عُلَمائے کِرام فرماتے ہیں،ناخنوں کا بڑھاہوا ہونا (بھی)تنگی رِزْق کا سبب ہے۔(چاليس دن سے زائد ناخن بڑھانامکروہ تحريمی ہے)

(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الکراہۃ،الباب التاسع عشر،ج۵،ص۳۵۸،مطبوعہ کوئٹہ)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *