شیطان کی دشمنی :

شیطان کی دشمنی :

کیونکہ لڑکپن سے عادت ہوگئی ہے کہ اسباب ہی پر آدمی کی نظر پڑتی ہے ،ضرورت تو ان لوگوں کو محسوس ہوتی ہے جو خدواے تعالیٰ کے کلام پرصدق دل سے ایمان لا تے ہیں اور یہ جانتے ہیں کہ شیطان ہمارا جانی دشمن ہے ، اس کی عدوات کا حال خداے تعالیٰ نے اپنے سچے کلام میں جا بجا بیان فر ما دیا ، کہیں ارشاد ہے ان الشیطان لکم عدومبین یعنی یقینا شیطان تمہارے لئے کھلا دشمن ہے ، اور کہیں ارشاد ہے کہ شیطان آدمی کو کافر بناکر کہتا ہے کہ میں تجھ سے بری ہوں اور خدا سے ڈرتاہوںکما قال تعالیٰ کمثل الشیطان اذا قال للا نسان اکفر فلما کفر قال انی بری ء منک انی اخاف اللّٰہ رب العالمین
الحاصل جب آدمی خدا اور رسول کے ارشادات سے بے پروائی کرے جس طرح عمل کرنے کا حق ہے نہ کرے اور اپنی خواہش کے مطابق با غوائے شیطانی سارے کام کیا کرے تو شیطان کا حوصلہ بڑھ جا تا ہے اور گناہ کرا تے کراتے کفر تک نوبت پہونچا دیتا ہے ۔ کیونکہ خواہشات نفسانی کے مقابلہ میں کلام الٰہی کی وقعت ہی نہ ہوتو پھر کون سی چیز ہوگی جو کفر سے اس کو بچا سکے ؟!ممکن ہے کہ مثل اور خواہشوں کے اس کا بھی مرتکب ہوجائے ۔ بخلاف اس کے ہر بات میں خداکے رسول کے کلام پر عمل کرنے کا خیال ہوتو کفر سے بہت کچھ احتیا ط کر سکتا ہے ۔ اور اگرمعاذ اللہ شیطان کو کافر بنانے کا

موقعہ مل گیا تو اس نے بازی جیت لی اور بارگاہ الٰہی سے مطرود ومردود کرکے ابدالا ٓباد کے لئے اس کو دوزخ کا مستحق بنا دیا ۔ حضرت غوث الثقلین رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ شیطان آدمی سے کبھی بے فکر ولاپرواہ نہیں ہوسکتا جب تک اس کو کافر نہ بنالے ۔
پناہ میں آنے کاطریقہ :
اب غور کیجئے کہ شیطان آدمی کا کیسا دشمن ہے اور کس طر ح تاک میںلگا ہوا ہے !!ایسے دشمن سے بچنے کی کس قدر ضرورت ہے ۔ جب ہمیں معلوم ہے کہ اس کا تسلط دل پر ہے جس طرح چاہتا ہے برے خیالات دل میں پیدا کر تا ہے ،اگر دورہی سے کچھ کہہ دیتا تو ممکن تھا کہ اس کی بات کی طرح توجہ نہ کرتے ،مگر وہ ہمارے دل میں تک گھس جا تا ہے اور وہاں جاکر ایسی باتیں ہمارے دل میںڈالتا ہے کہ ہمیں یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ وہ اس نے کہایا ہمارے دل نے ؟ غرضکہ اس سے بچنا ہمارے اختیار سے باہر معلوم ہوتا ہے ۔ اس لئے جب تک ہم خداے تعالیٰ کی پناہ میں نہ ہو جائیں،ممکن نہیں کہ اس کے دام سے ہمیں رہائی ہو ۔ اسی وجہ سے تعلیم فرمائی گئی کہ شیطان کے مکروں سے اگر بچنا ہو تو ہماری پناہ میں آجائو ۔ پھر جو شخص خداکی پناہ میں آجا ئے تو ممکن نہیں کہ شیطان تو کیا تمام عالم اس کو ضرر پہونچا سکے ۔
مگر یہ یاد رہے کہ پناہ میں آجانا بھی آسان نہیں ، صرف کہہ دینا اس کے لئے کافی نہیں ہوسکتا ۔ دیکھئے آدمی کسی کی پناہ میں اسی وقت آتا ہے کہ جب اس کو یقین ہو کہ موذی ضررر سان کے مقابلہ کی طاقت اپنے میں نہیں ہے ، پھر جس کی پناہ میں وہ جاتا ہے اس کی نسبت یقین ہو تا ہے کہ وہ اس کے ضر ر سے ضروربچا ئے گا ، اور اس کے ساتھ یہ بھی ہوتا ہے جس کی پناہ میں جا تاہے اس کو لازم پکڑ تا ہے اور اس سے علحدہ نہیں ہوتا ،کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ اگر اس سے علحدہ ہوجائوں گا تو ضرور دشمن غالب ہوجائے گا ۔ یہ بات ہم اپنی طرف سے نہیں کہتے ،خود’’ عوذ‘‘کے لفظ سے نکلتی ہے کیونکہ عوذ کے معنی میں چمٹنا داخل ہے ،جیسا کہ اس حدیث شریف سے ظاہر ہے أطیب اللحم عوذہ یعنی عمدہ گوشت وہ ہے جو ہڈی کو لگا ہو ا ہو ۔ چونکہ عوذ اور تعوذ کامادہ ایک ہی ہے اس سے ظاہر ہے کہ تعوذ میں بھی معنی چمٹنے اورلازم پکڑنے کے ہوں گے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *