شہادت کی شہرت

شہادت کی شہرت

Advertisement

حضرت امام عالی مقام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ولادت کے ساتھ ہی آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کی خبر مشہور ہوچکی، شیر خوار گی کے ایام میں حضور اقدس نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ام الفضل کو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کی خبردی، خاتون جنت رضی اللہ تعالیٰ عنہانے اپنے اس نونہال کو زمین کربلا میں خون بہانے کے لیے اپنا خونِ جگر (دودھ) پلایا، علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے دل بندِجگرپیوند کو خاک کربلا میں لَوٹنے اور دم توڑنے کے لئے سینہ سے لگا کر پالا، مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے بیابان میں سوکھا حلق کٹوانے اور را ہِ خداعزوجل میں مردانہ وارجان نذر کرنے کے لئے امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنی آغوشِ رحمت میں تربیت فرمایا، یہ آغوشِ کرامت و رحمتِ فردوسی چمنستانوں اور جنتی ایوانوں سے کہیں زیادہ بالامرتبت ہے، اس کے رتبہ کی کیا نہایت اور جو اس گود میں پرورش پائے اس کی عزت کاکیااندازہ۔ اس وقت کا تصور دل لرزا دیتا ہے جب کہ اس فر زند ِارجمندرضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ولادت کی مسرت کے ساتھ ساتھ شہادت کی خبر پہنچی ہوگی، سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی چشمۂ رحمت چشم نے اشکوں کے موتی برسا دئیے ہوں گے، اس خبر نے صحابہ کبار جاں نثار انِ اہلِ بیت رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے دل ہلا دئیے، اس درد کی لذت علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دل سے پوچھئے، صدق وصفا کی امتحان گاہ میں سنتِ خلیل علیہ السلام ادا کررہے ہیں۔
حضرت خاتون جنت رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خاک ِزیرِ قدمِ پاک پر قربان! جس کے دل کا ٹکڑا ناز نین لاڈلا سینہ سے لگاہوا ہے، محبت کی نگاہوں سے اس نور کے پتلے کو دیکھتی ہیں، وہ اپنے سرور آفریں تبسم سے دلربائی کرتاہے، ہُمَک ہُمَک کر محبت کے سمندر

میں تلاطم پیدا کرتا ہے، ماں کی گود میں کھیل کر شفقتِ مادری کے جوش کو اور زیادہ موجزن کرتاہے، میٹھی میٹھی نگاہوں اور پیاری پیاری باتوں سے دل لبھاتا ہے، عین ایسی حالت میں کربلا کا نقشہ آپ کے پیش نظر ہوتا ہے۔ جہاں یہ چہیتا ، نازوں کا پالا، بھوکا پیاسا، بیابان میں بے رحمی کے ساتھ شہید ہورہا ہے، نہ علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ساتھ ہیں نہ حسن مجتبیٰ، عزیز واقارب برادر و فرزند قربان ہوچکے ہیں، تنہا یہ نازنین ہیں، تیروں کی بارش سے نوری جسم لہو لہان ہورہاہے، خیمہ والوں کی بے کسی اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے اور راہِ خداعزوجل میں مردانہ وار جان نثار کرتاہے۔کربلا کی زمین مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پھول سے رنگین ہوتی ہے، وہ شمیم پاک جو حبیب ِخداعزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو پیاری تھی کوفہ کے جنگل کو عطر بیز کرتی ہے، خاتونِ جنت رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی نظر کے سامنے یہ نقشہ پھر رہاہے اور فرزند سینہ سے لپٹ رہاہے۔حضرت ہاجرہ علیہا السلام اس منظر کو دیکھیں۔
دیکھنا تو یہ ہے کہ اس فرزند ِارجمند کے جَدِّ کریم، حبیب ِخدا عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہیں، حضرت حق تبارک و تعالیٰ ان کا رضا جو ہے :

وَ لَسَوْفَ یُعْطِیۡکَ رَبُّکَ فَتَرْضٰی ؕ﴿۵﴾ (1)

بروبحر میں ان کا حکم نافذ ہے، شجر وحجر سلام عرض کرتے ہیں اور مطیعِ فرمان ہیں، چاند اشاروں پر چلا کرتاہے، ڈوبا ہوا سورج پلٹ آتا ہے،بدر میں ملائکہ لشکری بن کر حاضر خدمت ہوتے ہیں، کونین کے ذرہ ذرہ پر بحکم الٰہی عزوجل حکومت ہے، اولین و آخرین سب کی عُقْدَہ کُشائی اشارۂ چشم پر موقوف و منحصر ہے، ان کے غلاموں کے صدقہ میں خَلْق کے کام بنتے ہیں، مددیں ہوتی ہیں، روزی ملتی ہےھَل

تُنْصَرُوْنَ وَتَرْزَقُوْنَ اِلَّا بِضُعَفَآئِکُمْ۔(1)(رواہ البخاری)

باوجود ا س کے اس فرزند ارجمند کی خبرِ شہادت پاکر چشمِ مبارک سے اشک تو جاری ہو جاتے ہیں مگر مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم دعا کے لئے ہاتھ نہیں اٹھاتے، بارگاہِ الٰہی عزوجل میں امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے امن وسلامت اور اس حادثۂ ہائلہ سے محفوظ رہنے اور دشمنوں کے بربا د ہونے کی دعا نہیں فرماتے، نہ علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ عرض کرتے ہیں کہ یارسول اللہ! عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اس خبر نے تودل و جگر پارہ پار ہ کردئیے، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے قربان! بارگاہِ حق میں اپنے اس فرزند کے لئے دعا فرمائیے۔ نہ خاتون جنت رضی اللہ تعالیٰ عنہا التجا کرتی ہیں کہ اے سلطان دارین! آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے فیض سے عالَم فیض یاب ہے اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی دعا مستجاب۔ میرے اس لاڈلے کے لئے دعا فرمادیجئے، نہ اہل بیت نہ ازواجِِ مطہرات نہ صحابہ کرام علیہم الرضوان۔سب خبر شہادت سنتے ہیں، شہر ہ عام ہوجاتا ہے مگر با رگاہِ رسالت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم میں کسی طرف سے دعا کی درخواست پیش نہیں ہوتی۔
بات یہ ہے کہ مقامِ امتحان میں ثابت قدمی درکارہے، یہ محل عذروتا مل نہیں، ایسے موقع پر جان سے دَرِیْغ جانباز مردوں کا شیوہ نہیں، اخلاص سے جاں نثاری عین تمنا ہے۔ دعائیں کی گئیں مگر یہ کہ یہ فرزند مقامِ صفاو وفا میں صادق ثابت ہو۔ تو فیقِ الٰہی عزوجل مُساعِدْ رہے، مصائب کا ہجوم اور آلام کا اَنْبوہ اس کے قدم کو پیچھے نہ ہٹا سکے۔
احادیث میں اس شہادت کی بہت خبریں وارد ہیں۔ابن سعد و طبرانی نے

حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ حضور انور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے جبریل نے خبر دی کہ میرے بعد میر ا فرزند حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ زمینِ طَفّ میں قتل کیا جائے گا اور جبریل علیہ السلام میرے پاس یہ مٹی لائے، انہوں نے عرض کیا کہ یہ (حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کی خوابگاہ (مَقْتَل) کی خاک ہے۔ طف قریب کوفہ اس مقام کا نام ہے جس کو کربلا کہتے ہیں۔(1)
امام احمد نے روایت کی کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میری دولت سرائے اقدس میں وہ فرشتہ آیا جو اس سے قبل کبھی حاضر نہواتھا، اس نے عرض کیا کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے فرزند حسین (رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) قتل کئے جائیں گے اور اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو اس زمین کی مٹی ملاحظہ کراؤں جہاں وہ شہید ہوں گے۔ پھر اس نے تھوڑی سی سرخ مٹی پیش کی۔ (2)
اس قسم کی حدیثیں بکثرت وارد ہیں، کسی میں بارش کے فرشتہ کے خبر دینے کا تذکرہ ہے،کسی میں ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو خاک ِکربلا تَفْوِیْض کرنے اور اس خاک کے خون ہوجانے کو علامتِ شہادتِ اما م رضی اللہ تعالیٰ عنہ قراردینے کا تذکرہ ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو اس شہادت کی بار بار اطلاع دی گئی اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے بھی بارہا اس کا تذکرہ فرمایا اور یہ شہادت حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد ِطُفولِیَّت سے خوب مشہور ہوچکی اور سب کو معلوم ہوگیا کہ آپ رضی

اللہ تعالیٰ عنہ کامَشْہَد کربلا ہے۔(1)
حاکم نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ ہم کو کوئی شک باقی نہ رہا اور اہلِ بیت علیہم الرضوان باتفاق جانتے تھے کہ امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کربلا میں شہید ہونگے۔(2)
ابو نعیم نے نجی حضرمی سے روایت کی کہ وہ سفرِصِفِّیْن میں حضرت مولیٰ علی مرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کے ہمراہ تھے، جب نِیْنَویٰ کے قریب پہنچے جہاں حضرت یونس علیہ السلام کا مزار ِاقدس ہے تو حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم نے نداکی کہ اے ابو عبداللہ! فُرات کے کنارے ٹھہرو۔ میں نے عرض کیا: کس لئے؟ فرمایا : نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جبریل علیہ السلام نے مجھے خبردی ہے کہ امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرات کے کنارے شہید کیے جائیں گے او ر مجھے وہاں کی ایک مشت مٹی دکھائی۔(3)

ان خبروں سے معلوم ہوتا ہے کہ علی مرتضیٰ اور صحابہ کبارعلیہم الرضوان زمین کربلا کے چپہ چپہ کو پہچانتے تھے، انہیں معلوم تھا کہاں اونٹ با ندھے جائیں گے، کہاں سامان رکھا جائے گا، کہا ں خون بہیں گے۔ یہ شہادت کاکمال ہے ایسا اعلا ن عام ہو، اپنے پرائے سب جان جائیں،مقام بتادیا گیاہو، وہاں کی خاک شیشیوں میں رکھ لی گئی ہو، اس کے خون ہو جانے کا انتظار ہو او ر شوقِ شہادت میں کمی نہ آئے، جذبۂ جاں نثاری روز اَفْزُوں ہوتا رہے، تمام چاہنے والے پہلے سے باخبر ہوں، ہر دل اس زخم کا مزہ لے اور صبر و اِسْتِقْلال کے ساتھ جان عطا کرنے والے کی راہ میں جان قربا ن کی جائے۔ یہ مردانِ کامل اور فرزند انِ مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا حصہ اور انھیں کاحوصلہ ہے۔
؎ طعمہ ہر مرغکے انجیر نیست
پہاڑ بھی ہوتا تو وَحْشَت سے گھبرا اٹھتا اور زندگی کا ایک ایک لمحہ کاٹنا مشکل ہو جاتا مگر طالبِ رضائے حق، مولیٰ عزوجل کی مرضی پر فدا ہوتاہے، اسی میں اس کے دل کا چین اور اس کی حقیقی تسلی ہے، کبھی وحشت ،پریشانی اس کے پاس نہیں پھٹکتی، کبھی اس مصیبت عظمیٰ سے خلاص اور رہائی کے لئے وہ دعا نہیں کرتا، انتظار کی ساعتیں شوق کے ساتھ گزارتا ہے اور وقتِ مَوْعُود کابے چینی کے ساتھ منتظر رہتاہے۔

1۔۔۔۔۔۔ترجمہ کنز الایمان: اور بیشک قریب ہے کہ تمہارا رب تمہیں اتنا دے گا کہ تم راضی ہو جاؤ گے۔
(پ۳۰، الضحیٰ:۵)

1۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب الجہاد والسیر، باب من استعان …الخ، الحدیث:۲۸۹۶،
ج۲، ص۲۸۰

1۔۔۔۔۔۔المعجم الکبیر للطبرانی، الحسین بن علی…الخ، الحدیث:۲۸۱۴،ج۳،ص۱۰۷
والصواعق المحرقۃ،الباب الحادی عشر،الفصل الثالث فی الاحادیث الواردۃ فی بعض
اہل البیت…الخ،ص۱۹۳
2۔۔۔۔۔۔المسند للامام احمد بن حنبل، حدیث ام سلمۃ…الخ،الحدیث:۲۶۵۸۶،ج۱۰،ص۱۸۰

1۔۔۔۔۔۔الصواعق المحرقۃ، الباب الحادی عشر، الفصل الثالث فی الاحادیث الواردۃ فی بعض
اہل البیت…الخ، ص۱۹۳
2۔۔۔۔۔۔المستدرک للحاکم،کتاب معرفۃ الصحابۃ، باب استشہد الحسین…الخ، الحدیث:۴۸۷۹،
ج۴، ص۱۷۵
3۔۔۔۔۔۔المسند للامام احمد بن حنبل، مسند علی بن ابی طالب، الحدیث:۶۴۸،ج۱،ص۱۸۴
4۔۔۔۔۔۔دلائل النبوۃ لابی نعیم، الفصل الخامس والعشرون، باب ما ظہر …الخ،ج۲،ص۱۴۷

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!