سیِّدُناجنید بغدادی علیہ اور کالے رنگ کا آدمی:

سیِّدُناجنید بغدادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی اور کالے رنگ کا آدمی:

Advertisement

حضرت سیِّدُنا جنیدبغدادی علیہ رحمۃاللہ الھادی فرماتے ہیں کہ میں ایک سال حج کے لئے حاضر ہوا اور مکۂ مکرمہ زَادَھَا اللہُ شَرَفاً وَّتَعْظِیْماً میں ہی رہنے لگا۔ ایک دن زَمزَم شریف کے کنوئیں کی طرف گیاتاکہ پانی سے سیراب ہوجاؤں لیکن وہاں پر کوئی رسی، ڈول یا مُشکیزہ نہ تھا۔ میں اسی حالت میں کھڑا تھاکہ ایک سیاہ رنگ کا آدمی آیا، اس کے ہاتھ میں ڈول اور رسی تھی۔ اس نے ڈول کو رسی باندھ کر کنوئیں میں لٹکا دیا لیکن وہ پانی تک نہ پہنچ سکا۔تو وہ ڈول، رسی اُٹھا کر کہنے لگا: ”تیری عزَّت کی قسم ! اگر تو نے مجھے پانی نہ پلایا تومیں ضرورتجھ سے ناراض ہوجاؤں گا۔” یکایک پانی کنوئیں کے کناروں سے بہنے لگا، اس نے وضو کیا اور خود پینے کے بعد اپنے ڈول کو بھی بھر لیا، پانی دوبارہ کنوئیں کے پیندے تک پہنچ گیا۔جب وہ شخص روانہ ہوا تو میں بھی اس کے پیچھے ہو لیا اور عرض کی: ”اے میرے دوست!تم کس پر غصہ ہو رہے تھے؟”اس نے جواب دیا:”اے جنید! ایسی بات نہیں جیسے تم سمجھ رہے ہو، میں تو اپنے نفس پر غضب ناک ہو رہا تھا کہ( اگر مجھے پانی نہ ملتا تو) قیامت تک اُسے پیاسا رکھتا۔لیکن جب میرے مالک عَزَّوَجَلَّ نے مجھے اپنے دعوی میں سچا دیکھا تو میرے لئے پانی کو جاری کردیا۔”اس کے بعد وہ شخص میری نظروں سے اوجھل ہو گیا پھر کبھی نظر نہ آیا۔

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!