سینۂ مبارک و قلب شریف

سینۂ مبارک و قلب شریف

Advertisement

 

آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا سینہ مبارک کشادہ تھا۔ آپ کا قلب شریف پہلا قلب شریف ہے جس میں اَسرارِاِلٰہیہ اور معارف ربانیہ ودیعت رکھے گئے۔ کیونکہ آپ بو جود صورتِ نوری سب سے پہلے پیدا کیے گئے۔ صدرِ معنوی کی شرح اور قلب اقدس کی وسعت کا بیان طاقت بشری سے خار ج ہے۔ چار دفعہ فرشتوں نے آپ کے صدرِ مبارک کو شق کیا اور قلب شریف کو نکال کر دھویا اور اسے ایمان وحکمت سے بھر دیا۔ اسی کی طرف اللّٰہ تبارک و تعالٰی اپنے قرآن پاک میں یوں ارشاد فرماتا ہے:
اَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَۙ (۱) کیا ہم نے تیرا سینہ نہیں کھول دیا ۔ (3 )
یہی وجہ ہے کہ جو اسر ار آپ کے قلب شریف کو عطا ہو ئے وہ کسی اور مخلوق کو عطا نہیں ہوئے اور نہ کسی اور مخلوق کا قلب اس کا متحمل ہو سکتا تھا۔حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے قلب شریف کی نسبت یوں ارشاد فرماتے ہیں کہ میری آنکھ سو جاتی ہے مگر میرادل نہیں سو تا۔ ( 4)

شکم مبارک

 

آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سواء البطن والصد ر تھے یعنی آپ کا شکم اور سینہ مبارک ہموار وبر ابر تھے۔نہ تو شکم سینہ سے اور نہ سینہ شکم سے بلند تھا۔ حضرت اُم ہانی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے شکم مبارک کو دیکھاگو یا کاغذہیں ایک دو سرے پر رکھے ہوئے اور تہہ کیے ہوئے۔ ( 1)
حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا بول وبر از بلکہ تمام فضلا ت پاک تھے جیسا کہ احادیث کثیرہ سے ثابت ہے۔ (2 )

پشت مبارک

 

آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی پشت مبارک ایسی صاف وسفید تھی کہ گویا پگھلا ئی ہوئی چاندی ہے، (3 ) ہر دوشانہ (4) کے درمیان ایک نورانی گوشت کا ٹکڑا تھاجو بدن شریف کے باقی اجزاء سے ابھرا ہو اتھا۔ اسے مہرِ نبوت یا خاتم نبوت کہتے تھے۔ کتب سابقہ میں آپ کی علامات نبوت میں ایک یہ بھی مذکور تھی۔ حلیہ مبارک بیان کر نے والوں نے اس کی ظاہر ی شکل وصورت کے بیان کرنے میں اسے کئی چیزوں (مثلاً بیضۂ کبوتر یا تکمۂ چھپر کھٹ یا گر ہِ گو شت سر خ وغیرہ ) سے تشبیہ دی ہے تاکہ لوگ سمجھ لیں ۔ سچ پو چھوتویہ ایک سرِّ عظیم ( 5) اور نشان عجیب تھاجو آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے مختص تھاکہ جس کی حقیقت کو رب العزت کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ ؎
نبوت را توئی آں نامہ درپشت
کہ از تعظیم داردمہر بر پشت

پائے مبارک

 

ہر دوپائے مبارک سِطَبر (1 ) و پُر گو شت اور خوبصورت ایسے کہ کسی انسان کے نہ تھے اور نر م و صاف ایسے کہ ان پر پانی ذر ا بھی نہ ٹھہر تا بلکہ فوراً گر جاتا۔ ایڑیاں کم گوشت ہر دوساق مبارک (2 ) باریک وسفید ولطیف گو یا شحم النخل (3 ) یعنی کھجور کا گا بھا ( 4) ہیں ۔ (5 ) جب آپ چلتے تو قدم مبارک کو قوت و تَثَبُّت (6 ) اور وقار تو اضع سے اٹھا تے جیسا کہ اہل ہمت وشجاعت کا قاعدہ (7 ) ہے۔ حضرت ابوہریرہ ( 8) رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ چلنے میں میں نے آنحضرت سے بڑھ کر کسی کو نہیں دیکھا۔ گویا آپ کے لئے زمین لپٹتی جاتی تھی۔ ہم دوڑا کرتے اور تیز چلنے میں مشقت اٹھاتے اور آپ بآسانی وبے تکلف چلتے مگر پھر بھی سب سے آگے رہتے۔ (9 ) بعض دفعہ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے اصحاب کے ساتھ چلنے کا قصد فرماتے تو اس صورت میں اصحاب آپ کے آگے ہوتے اور آپ عمداً ( 10) ان کے پیچھے ہوتے۔ ( 11) اور فرماتے ہیں کہ میری پیٹھ فرشتوں کے لئے خالی چھوڑ دو۔ ( 12)

 

حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاؤں مبارک وہ قدم مبارک ہیں کہ جب آپ پتھر پر چلتے تو وہ نرم (1 ) ہو جاتا۔ تا کہ آپ بآسانی اس پر سے گزر جائیں ۔ اور جب ریت پر چلتے تو اس میں پا ئے مبارک کا نشان نہ ہوتا۔ یہ وہی قدم مبارک ہیں جن کی محبت میں کو ہِ احد وکو ہِ ثَبِیر حرکت میں آئے۔ یہ وہی قدم مبارک ہیں کہ قیام شب میں ورم کر آتے تھے۔ یہ وہی قدم مبارک ہیں کہ مکہ اور بیت المقدس کو ان سے شرف زائد حاصل ہوا۔

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!