سیرت کے معنی

سیرت کے معنی

لفظ ’’ سِیْرَۃ ‘‘ دراصل سَارَ یَسِیْرُ سَیْرًا وَ مَسِیْرًا سے نکلا ہے جس کے لغوی معنی ہیں : طریقہ، چلنا، نیز قصے اور واقعات بیان کرنے کو بھی سیرت کہتے ہیں ۔ (اردو دائرۂ معارف اسلامیہ، ج۱۱ ، ص۵۰۵) سیرت کے اَولین اِصطلاحی معنی حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مغازی (غزوات کے حالات) اور سوانح حیات ہیں ۔ (اردو دائرۂ معارف اسلامیہ، ج۱۱، ص۵۰۶)

قدیم محدثین وفقہاء ’’ مغازی وسیر ‘‘ کے عنوان کے تحت فقط غزوات اوراس کے متعلقات کو بیان کرتے تھے مگر سیرتِ نبویہ کے مصنفین نے اس عنوان کو اس قدرو ُسعت دے دی کہ حضور رحمت عالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ولادت باسعادت سے وفاتِ اَقدس تک کے تمام مراحل حیات ، آپ کی ذات وصفات، آپ کے دن رات اور تمام وہ چیزیں جن کو آپ کی ذات والا صفات سے تعلقات ہوں خواہ وہ انسانی زندگی کے معاملات ہوں یا نبو ت کے معجزات ہوں ان سب کو ’’ کتابِ سیرت ‘‘ ہی کے ابواب وفصول اورمسائل شمار کرنے لگے۔اسی طرح خلفاء راشدین ہوں یا دوسرے صحابۂ کرام ، اَزواجِ مطہرات ہوں یا آپ کی اولادِ عظام، ان سب کی کتاب زندگی کے اَوراق پر سیرتِ نبوت کے نقش ونگار پھولوں کی طرح مہکتے ، موتیوں کی طرح چمکتے اورستاروں کی طرح جگمگاتے ہیں ۔ اور یہ تمام مضامین سیرتِ نبویہ کے ’’ شجرۃ الخلد ‘‘ ہی کی شاخیں ، پتیاں ، پھول اورپھل ہیں ۔ (سیرتِ مصطفیصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم، ص۳۹)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *