تختِ بلقیس کس طرح آیا

تختِ بلقیس کس طرح آیا
ملکہ سبا ”بلقیس”کا تختِ شاہی اَسّی گز لمبا اور چالیس گز چوڑا تھا ،یہ سونے چاندی اور طرح طرح کے جواہرات اور موتیوں سے آراستہ تھا، جب حضرت سلیمان علیہ السلام نے بلقیس کے قاصد اور اُس کے ہدایا و تحائف کو ٹھکرا دیا اور اُس کو یہ حکم نامہ بھیجا کہ وہ مسلمان ہو کر میرے دربار میں حاضر ہوجائے تو آپ کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ بلقیس کے یہاں آنے سے پہلے ہی اُس کا تخت میرے دربار میں آجائے چنانچہ آپ نے اپنے دربار میں درباریوں سے یہ فرمایا:۔
Advertisement
قَالَ یٰۤاَیُّہَا الۡمَلَؤُا اَیُّکُمْ یَاۡتِیۡنِیۡ بِعَرْشِہَا قَبْلَ اَنۡ یَّاۡتُوۡنِیۡ مُسْلِمِیۡنَ ﴿38﴾قَالَ عِفْرِیۡتٌ مِّنَ الْجِنِّ اَنَا اٰتِیۡکَ بِہٖ قَبْلَ اَنۡ تَقُوۡمَ مِنۡ مَّقَامِکَ ۚ وَ اِنِّیۡ عَلَیۡہِ لَقَوِیٌّ اَمِیۡنٌ ﴿39﴾ (پ 19،النمل: 38،39)
ترجمہ کنزالایمان:سلیمان نے فرمایا اے درباریو! تم میں کون ہے کہ وہ اس کا تخت میرے پاس لے آئے قبل اس کے کہ وہ میرے حضور مطیع ہو کر حاضر ہوں ایک بڑا خبیث جن بولا میں وہ تخت حضور میں حاضر کردوں گا قبل اس کے کہ حضور اجلاس برخاست کریں اور میں بیشک اس پر قوت والا امانت دار ہوں۔ 
جنّ کا بیان سن کر حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا کہ میں یہ چاہتا ہوں کہ اس سے بھی جلد وہ تخت میرے دربار میں آجائے۔ یہ سن کر آپ کے وزیر حضرت ”آصف بن برخیا رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو اسم اعظم جانتے تھے اور ایک باکرامت ولی تھے۔ انہوں نے حضرت سلیمان علیہ السلام سے عرض کیا جیسا کہ قرآن مجید میں ہے:۔


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

قَالَ الَّذِیۡ عِنۡدَہٗ عِلْمٌ مِّنَ الْکِتٰبِ اَنَا اٰتِیۡکَ بِہٖ قَبْلَ اَنۡ یَّرْتَدَّ اِلَیۡکَ طَرْفُکَ ؕ 
                        (پ19،النمل:40)
ترجمہ کنزالایمان:۔اس نے عرض کی جس کے پاس کتاب کا علم تھا کہ میں اسے حضور میں حاضر کردوں گا ایک پل مارنے سے پہلے۔
چنانچہ حضرت آصف بن برخیا نے روحانی قوت سے بلقیس کے تخت کو ملک سبا سے بیت المقدس تک حضرت سلیمان علیہ السلام کے محل میں کھینچ لیا اور وہ تخت زمین کے نیچے نیچے چل کر لمحہ بھر میں ایک دم حضرت سلیمان علیہ السلام کی کرسی کے قریب نمودار ہو گیا۔ تخت کو دیکھ کر حضرت سلیمان علیہ السلام نے یہ کہا:۔
ہٰذَا مِنۡ فَضْلِ رَبِّیۡ ۟ۖ لِیَبْلُوَنِیۡۤ ءَاَشْکُرُ اَمْ اَکْفُرُ ؕ وَمَنۡ شَکَرَ فَاِنَّمَا یَشْکُرُ لِنَفْسِہٖ ۚ وَمَنۡ کَفَرَ فَاِنَّ رَبِّیۡ غَنِیٌّ کَرِیۡمٌ ﴿40﴾ (پ19،النمل:40)
ترجمہ کنزالایمان:۔یہ میرے رب کے فضل سے ہے تاکہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری اور جو شکر کرے وہ اپنے بھلے کو شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرے تو میرا رب بے پرواہ ہے سب خوبیوں والا۔
درسِ ہدایت:۔اس قرآنی واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے اولیاء کو بڑی بڑی روحانی طاقت و قوت عطا فرماتا ہے۔ دیکھ لیجئے حضرت آصف بن برخیا رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پلک جھپکنے بھر کی مدت میں تخت بلقیس کو ملک سبا سے دربار سلیمان میں حاضر کردیا۔ اور خود اپنی جگہ سے ہلے بھی نہیں ۔اسی طرح بہت سے اولیاء کرام نے سینکڑوں میل کی دوری سے آدمیوں اور جانوروں کو لمحہ بھر میں بلا لیا ہے۔ یہ سب اولیاء کی اُس روحانی طاقت کا کرشمہ ہے جو خداوند قدوس اپنے ولیوں کو عطا فرماتا ہے اس لئے کبھی ہرگز اولیاء کرام کو اپنے جیسا نہ خیال کرنا اور نہ اُن کے اعضاء کی طاقتوں کو عام انسانوں کی طاقتوں پر قیاس کرنا۔ کہاں عوام اور کہاں اولیائ۔ اولیاء کرام کو اپنے جیسا سمجھ لینا یہ گمراہی کا سرچشمہ ہے۔ حضرت مولانا رومی علیہ الرحمۃ نے مثنوی شریف میں اسی مضمون پر روشنی ڈالتے ہوئے بڑی وضاحت کے ساتھ تحریر فرمایا ہے۔
جملہ عالم زیں سبب گمراہ شد کم کسے ز ابدال حق آگاہ شد
تمام دنیا اس وجہ سے گمراہ ہو گئی کہ خدا کے اولیاء سے بہت کم لوگ آگاہ ہوئے
اولیاء را ہمچوخود پنداشتند ہمسری با انبیاء برداشتند
لوگوں نے اولیاء کو اپنے جیسا سمجھ لیا اور انبیاء کے ساتھ برابری کربیٹھے
ایں ندانستند ایشاں از عمیٰ ہست فرقے درمیاں بے انتہا
ان لوگوں نے اپنے اندھے پن سے یہ نہیں جانا    کہ عوام اور اولیاء کے درمیان بے انتہافرق ہے


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

بہرحال خلاصہ کلام یہ ہے کہ اولیاء کرام کو عام انسانوں کی طرح نہیں سمجھنا چاہے بلکہ یہ عقیدہ رکھ کر اولیاء کرام کی تعظیم و تکریم کرنی چاہے کہ ان لوگوں پر خداوند کریم کا خاص فضل عظیم ہے اور یہ لوگ بے پناہ روحانی طاقتوں کے بادشاہ بلکہ شہنشاہ ہیں۔ یہ لوگ اللہ عزوجل کے حکم سے بڑی بڑی بلائیں اور مصیبتیں ٹال سکتے ہیں اور ان کی قبروں کا بھی ادب رکھنا لازم ہے کہ اولیاء کی قبروں پر فیوض و برکات خداوندی کی بارش ہوتی رہتی ہے اور جو عقیدت و محبت سے ان کی قبروں کی زیارت کرتا ہے وہ ضروران بزرگوں کے فیوض و برکات سے فیض یاب ہواکرتا ہے۔ اس زمانے میں فرقہ وہابیہ اولیاء کرام کی بے ادبی کرتا رہتا ہے۔ میں اپنے سنی بھائیوں کو یہ نصیحت و وصیت کرتا ہوں کہ ان گمراہوں سے ہمیشہ دور رہیں۔ اور ان لوگوں کے ظاہری سادہ لباسوں اور وضو و نمازوں سے فریب نہ کھائیں کہ ان لوگوں کے دل بہت گندے ہیں اور یہ لوگ نور ِ ایمان کی تجلیوں سے محروم ہوچکے ہیں۔  (معاذاللہ منہم)
Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!