سیدنا فاروقِ اعظم رضي اللہ عنہ کا احساسِ ذمہ داری :

ایک مرتبہ امیر المؤمنین حضرتِسیدنا عمرفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ رات کے وقت مدینہ منورہ کے مقدّس گلی کُوچوں میں مدَنی دورہ فرمارہے تھے۔ اِس دوران آپ نے دیکھا کہ ایک عورت اپنے گھر میں چولہے پر دیگچی چڑھائے بیٹھی ہے اور اس کے بچے اردگرد بیٹھے رورہے ہیں ۔ حضرتِسیدنا فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس عورت سے دریافت فرمایا،” یہ بچے کیوں رورہے ہیں؟”اس عورت نے عرض کی ،”یہ بھوک کی وجہ سے رورہے ہیں۔” آپ نے پوچھا،” اس دیگچی میں کیا ہے؟”وہ بولی،” میں نے ان بچوں کو بہلانے کے لئے اس میں پانی بھر کر چڑھادیا ہے تاکہ بچے یہ سمجھیں کہ اس میں کچھ پک رہا ہے اور انتظار کر تے کر تے سوجائیں۔” یہ سن کر حضرت سیدنا فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ بے قرار ہوگئے اور

فوراًواپس لوٹے۔آپ نے ایک بڑی سی بوری میں آٹا ،گھی ،چربی ،چھوہارے ، کپڑے اور روپے منہ تک بھر لئے اور اپنے غلام اسلم سے ارشاد فرمایا ،”اسلم! یہ بوری ہماری پیٹھ پر لاد’ دو ۔”انہوں نے عرض کی ،”اے امیر المؤمنین !اسے میں اپنی پیٹھ پر اٹھا لیتا ہوں۔”تو آپ نے ارشاد فرمایا،” نہیں! اسے میں ہی اٹھاؤں گا ـکیونکہ اس کا سوال آخرت میں مجھ ہی سے ہو نا ہے ۔”پھر وہ بوری اپنی پشت مبارک پر اٹھا کر اس عورت کے گھر لے گئے اور اس دیگچی میں آٹا ،چربی اور چھوہارے ڈال کر اسے چولہے پر چڑھایا اور کھانا تیار کرنے لگے۔ جب کھانا تیار ہوگیا تو اس عورت کے بچوں کو اپنے ہاتھوں سے پیٹ بھر کر کھانا کھلایا۔
اس کے بعد باہر صحن میں تشریف لے آئے اور ان بچوں کے سامنے اس انداز میں بیٹھ گئے جیسے کوئی جانور بیٹھتا ہے ۔ آپ کے غلام اسلم کا بیان ہے کہ میں آپ کے رعب کی وجہ سے کچھ نہ کہہ سکا۔ آپ کافی دیر یونہی بیٹھے رہے یہاں تک کہ بچے آپ کے ساتھ ہنسنے کھیلنے لگے۔جب آپ رضی اللہ عنہ وہاں سے واپس تشریف لارہے تھے تو اپنے غلام سے دریافت فرمانے لگے ،”تم جانتے ہو کہ میں ان بچوں کے ساتھ اس طرح کیوں بیٹھا تھا؟”غلام نے عرض کی،” نہیں !” تو ارشاد فرمایا،”جب میں نے انہیں روتا ہوا دیکھا تو مجھے یہ گوارا نہ ہوا کہ انہیں یونہی چھوڑ کر آجاؤں،لہذا! جب بچوں کے چہروں پر مسکراہٹ طاری ہوئی تو میرا دل شاد ہوگیا ۔”

(کنزالعمال ، کتاب الفضائل ، باب فضل الصحابۃ ، ج۱۲، ص ۴۵۶، رقم : ۳۵۹۷۳)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ امیر المؤمنین حضرت سیدنا فاروقِ اعظم

رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنی ذمہ داریوں کا کس قدر احساس تھا کہ امیر المؤمنین ہونے کے باوجود اناج کی بوری اپنی پیٹھ پر اٹھا کر اس عورت کے گھر تک لے گئے ۔ یہ وہی سیدنا فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ ہیں جن کا فرمان ہے کہ” اگر نہر فرات کے کنارے بکری کا بچہ بھی پیاسا مرگیا تومیں ڈرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھ سے اس کے بارے میں حساب نہ لے لے ۔ ” (حلیۃ الاولیاء ، ج۱، ص۸۹)

پیارے اسلامی بھائیو!اللہ تعالیٰ نے فلاح کو پہنچنے والے (یعنی کامیابی کو پا لینے والے)مؤمنین کا تذکرہ کرتے ہوئے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا ،”

وَالَّذِیۡنَ ہُمْ لِاَمٰنٰتِہِمْ وَ عَہۡدِہِمْ رَاعُوۡنَ ۙ﴿۸﴾

ترجمہ کنز الایمان ”اور وہ(لوگ) جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی رعایت کرتے ہیں ۔”

(پ ۱۸،المؤمنون:۸)

اس آیت کی تفسیر بیان کر تے ہو ئے مولانا نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ” خزائن العرفان” میں فرماتے ہیں کہ”خواہ وہ امانتیں اللہ کی ہوں ..یا.. خلق (یعنی مخلوق)کی ،۔۔۔۔۔۔اور اسی طرح عہد (یعنی وعدے)خدا کے ساتھ ہوں ..یا.. مخلوق کے ساتھ،۔۔۔۔۔۔(اِن) سب کی وفا لازم ہے۔ ”
جبکہ علامہ قرطبی علیہ الرحمۃ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں ”یعنی ہر قسم کی ذمہ داری جو انسان اپنے ذمہ لیتا ہے، خواہ اس کا تعلق دین سے ہو یا دنیا سے، گفتار سے ہویا کردار سے، اس کا پورا کر نا مسلمان کی امتیازی شان ہے ۔”

(تفسیر قرطبی ،ج۱۲،ص۹۹، مطبوعہ مکتبہ حقانیہ پشاور)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اس آیتِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ اُخروی کامیابی کے حصول کے لئے ہمیں

چاہے کہ اپنے اوپر عائد ہونے والی مختلف قسم کی ذمہ داریوں کو اچھی طرح نبھائیں اوراپنے وعدوں کوپورا کریں چاہے ان کا تعلق اُمورِ دنیا سے ہو یا آخرت سے۔ اوریہ بھی یاد رہے کہ ہم میں سے ہر ایک ذمہ دار ہے کیونکہ کسی نہ کسی حوالے سے ہم پر کچھ نہ کچھ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں ،کہیں باپ کی حیثیت سے ، کہیں شوہر کی ، کہیں استاذ کی اور کہیں مجلس کا نگران ہونے کی حیثیت سے ،علی ھذا القیاس(یعنی اسی پر قیاس کرلیں) ۔اِس حدیث میں بھی اسی حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جسے ہمارے شیخِ طریقت امیرِ اہل ِسنت حضرت علامہ ابوبلال محمد الیاس عطارقادری رضوی مدظلہ العالی نے اپنے رسالے ” مُردے کے صدمے ”میں نقل کیا ہے کہ ” کلکم راع وکلکم مسؤل عن رعیتہ۔ تم سب نگران ہو اور تم میں سے ہر ایک سے اس کے ماتحت افراد کے بارے میں پوچھا جائیگا۔” (مجمع الزوائد ج ۵ ص ۳۷۴)

پیارے اسلامی بھائیو!ہمارے اسلاف رضی اللہ عنہم اپنی ذمہ داریوں کے حوالے سے کس قدر حُسّاس تھے اور احساسِ ذمہ داری ان میں کس طرح کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا ؟ اس کا اندازہ ذیل میں دئيے گئے واقعات سے لگائيے ۔ چنانچہ۔۔۔۔۔۔

زخمی اونٹ

ایک دن حضرت سیدنا امیر المؤمنین عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے اونٹ کے زخم کو دھونے میں مصروف تھے۔اور ساتھ ہی ساتھ یہ فرما رہے تھے کہ ”میں ڈرتا ہوں کہ کہیں قیامت میں مجھ سے اس زخم کے بارے میں پُرسش(پوچھ گچھ) نہ ہوجائے ۔”

(تاریخ الخلفاء، فصل فی نبذمن اخبارہ وقضایاہ ،ص۱۱۰)

گھر کے کام کرد یا کرتے

ابن عساکر نے حضرت ابو صالح غفاری رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ

حضرت سیدنا امير المؤمنين فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ مدینۃ المنورہ کے اطراف میں رہنے والی ایک نابینا عورت کے گھر کے کام کردیا کرتے اور رات کو( گھڑوں میں )پانی بھر دیا کر تے اور اس کی پوری خبر گیری رکھتے تھے ۔ (تاریخ الخلفاء ، ص ۶۱)

خوفِ آخرت

حضرت سیدناانس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں ایک باغ میں گیا تو میں نے وہاں امیر المؤمنین فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے سنا ،” عمر،خطاب کا بیٹا اور امیر المؤمنین کا منصب ،واہ کیا خوب !اے عمر اللہ تعالی سے ڈرتے رہو ورنہ وہ تم کو سخت عذاب دیگا۔” (تاریخ الخلفاء ،صفحہ۱۰۲)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یہ وہی سیدنافاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں، جن کے فضائل خود سرکارِ مدینہ، راحتِ قلب وسینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے ارشاد فرمائے۔ چنانچہ رسولِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے کہ” اللہ عزوجل نے عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زبان اور دل پر حق جاری فرمادیا ہے۔”

(ترمذی کتاب المناقب، ج۵، ص۳۸۳)

یعنی ان کے دل میں جو خیالات آتے ہیں وہ حق ہو تے ہیں اور ان کی زبان سے جو کلمات ادا ہو تے ہیں حق ہو تے ہیں ان کے خیالات و کلام ‘شیطانی یا نفسانی نہیں بلکہ رحمانی ہو تے ہیں۔

احساسِ ذمہ داری

ایک دن خلیفۃ المسلمین فاروقِ ثانی حضرت سیدناعمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زوجہ محترمہ نے آپ سے عرض کی،” مجھے کچھ نصیحت فرمائیے ۔” تو

آپ نے فرمایا
”سنو!جب میں نے دیکھا کہ اس امت کے ہر سرخ و سفید کی ذمہ داری میرے کندھوں پر ڈال دی گئی ہے تومجھے فوراًدُور دراز کے شہروں اور زمین کے اطراف و اکناف میں رہنے والے بھوک کے مارے ہو ئے فقیروں ،بے سہارا مسافروں ،ستم رسیدہ لوگوں اور اس قسم کے دوسرے افراد کا خیال آیا اور میرے دل میں یہ احساس پیدا ہوا کہ قیامت کے دن اللہ عزوجل مجھ سے میری رعایا کے بارے میں باز پُرس فرمائے گا اور اللہ تعالیٰ کے پیارے حبیب ،حبیبِ لبیب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ان تمام لوگوں کے حق میں میرے خلاف بیان دینگے۔یہ سوچ کر میرے دل پر ایک خوف طاری ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں میراکو ئی عذر قبول نہیں فرمائے گا اور میں اپنے آقا و مولیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے حضور کسی قسم کی صفائی پیش نہیں کر سکوں گا ۔ یہ سوچ کر مجھے خود پر ترس آتا ہے اور میری آنکھوں سے آنسوؤں کا سمندر امنڈ آتا ہے۔ اس حقیقت کو میں جتنا یاد کر تا ہوں، میرا احساس اتنا ہی بڑھتا چلا جاتاہے۔”
پھر آپ نے اپنے بچوں کی امّی سے مخاطب ہوکر فرمایا،” اب آپکی مرضی ہے اس سے نصیحت حاصل کریں یا نہ کریں۔” (تاریخ الخلفاء،ص۱۸۹)

صَلُّوْ ا عَلَی الْحَبِیبْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حضرت سیدنا امير المؤمنين عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ وہ ہستی ہیں جنہیں فاروق ِ ثانی کا لقب دیا جاتا ہے اور آپ کے دورِ خلافت کوبھی خلافتِ راشدہ میں شامل سمجھا جاتا ہے۔ پہلے پہل آپ نہایت عیش وعشرت کی زندگی بسر کیا کرتے تھے لیکن جب آپ منصبِ نگرانی پر متمکن ہو ئے تو تن دہی سے رعایا کی خدمت میں مصروف عمل ہو گئے ۔آپ

نے اپنی ذات اور ذہن کو مسلمانوں کی خیرخواہی کے لئے وقف کر رکھا تھا۔ دن بھرمدنی کام میں مصروف رہتے حتی کہ رات ہو جاتی مگر دن کا کام ختم نہ ہو تا،لہذا! رات گئے تک کام کر تے رہتے۔ جب آپ فارغ ہوجا تے تو اپنی ذاتی رقم سے خریدا ہوا چراغ منگواتے اور اس کی روشنی میں دورکعت نماز ادا فرماتے۔اس کے بعد گھٹنے کھڑے کر کے زمین پر بیٹھ جاتے اور اپنا سر دونوں ہتھیلیوں میں رکھ کر شدید گریہ وزاری فرماتے حتی کہ ساری رات اسی کیفیت میں گزر جاتی جبکہ دن میں آپ روزے سے ہوتے تھے۔

منصب ملنے پر حیرانی

خلیفہ سلیمان نے انتقال سے قبل ایک وصیت نامہ لکھا اور اس میں اپنے جانشین کا نام لکھ کر اسے مہر لگا کر بند کردیا۔اس کے انتقال کے بعدجب اس سر بمہر وصیت نامے کو کھولا گیا تو اس میں(غیر متوقع طور پر) حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ کا نام نکلا۔یہ دیکھ کر آپ حیران و ششدر رہ گئے اور فرمایا،” میں نے اللہ تعالیٰ سے کبھی اس منصب کے لئے دعا نہیں کی تھی ۔” (تاریخ الخلفاء ، ص ۱۸۵)

صَلُّوْ ا عَلَی الْحَبِیبْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

نگرانی ملنے پر خوف زدہ

حضرت سیدناحماد رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کر تے ہیں کہ جب حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ خلیفہ مقرر ہو ئے تو رونے لگے ۔جب میں نے رونے کی وجہ دریافت کی تو فرمایا،” اے حماد !مجھے اس ذمہ داری سے بڑا خوف آتا ہے۔” میں نے ان سے پوچھا،” آپ کے دل میں مال و دولت کی کتنی محبت ہے ؟” ارشاد فرمایا،” بالکل نہیں۔” تو میں نے عرض کی،”آپ خوف زدہ نہ ہوں،اللہ تعالیٰ آپ کی مدد فرمائے گا۔” (تاریخ الخلفاء ، ص ۱۸۵)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! آپ نے حضرت سیدنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ کا طرزِ عمل ملاحظہ فرمایا کہ خلافت کا اعلیٰ ترین منصب ملنے پر خوش ہونے کی بجائے احساس ِ ذمہ داری کی وجہ سے کس قدرپریشان ہوگئے اور ایک ہم ہیں کہ اگر ہمارا نام نگرانی یا کسی ذمہ داری یا بیان کرنے یادعاء کروانے کے لئے نہ آئے توہمارا موڈ آف ہو جاتا ہے۔صرف اسی پر بس نہیں بلکہ(معاذ اللہ عزوجل) حسد وبغض،چغلی و غیبت، اورعیب جوئی کا ایک سنگین سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ کاش! ہمیں بھی اِن اکابرین کے صدقے میں ایسا خوف ِ خدا عزوجل نصیب ہو جاتا کہ نہ توکسی نگرانی کی خواہش ہو تی اورنہ ہی حبّ ِجاہ (عزت پسندی)کا مرض ہو تا۔

صَلُّوْ ا عَلَی الْحَبِیبْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

پیارے اسلامی بھائیو!ہمارے بزرگوں کو اگر کو ئی منصب مل جاتا تو وہ ان کے زہد و تقویٰ میں اضافے کا سبب بن جاتا تھا۔ چنانچہ۔۔۔۔۔۔

خوشبو جاتی رہی

ایک مرتبہ حضرت سیدنا امیر المؤمنین عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے مال غنیمت کی مُشک اپنے گھر میں رکھی ہوئی تھی تاکہ آپ کی اہلیہ محترمہ رضی اللہ عنہا اس خوشبو کو مسلمانوں کے پاس فروخت کر دیں ۔ ایک روز آپ گھر تشریف لائے تو بیوی کے دوپٹے سے مشک کی خوشبو آئی ۔آپ نے ان سے پوچھا کہ” یہ خوشبو کیسی ؟”انہوں نے جواب دیا کہ ”میں خوشبو تول رہی تھی ، اس سے کچھ خوشبو میرے ہاتھ کو لگ گئی ، جسے میں نے اپنے دوپٹے پر مل لیا ۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ان کے سر سے دوپٹہ اتارااوراس کو دھویا اس کے بعد سونگھا ، پھر مٹی ملی اور دوبارہ دھویا حتی کہ اس وقت تک دھوتے رہے ، جب تک

خوشبو ختم نہ ہوگئی ۔(کیمیائے سعادت ،ج۱، ص۳۴۷)

صَلُّوْ ا عَلَی الْحَبِیبْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

شہد کے لئے اجازت لی

ایک مرتبہ سیدنا امیر المؤمنین عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو کوئی تکلیف لاحق تھی ۔بعض لوگوں نے کہا کہ اس مرض کو دور کرنے کے لئے شہد بہت مفید ہے ۔ اس وقت بیت المال میں شہد کا ایک کُپَّا موجود تھا ۔ آپ نے لوگوں سے پوچھا کہ” کیا تم مجھے اجازت دیتے ہو کہ میں اس میں سے کچھ شہد لے لوں ؟ اگر تم اجازت دیتے ہو توٹھیک ہے وگرنہ تمہاری اجازت کے بغیر وہ مجھ پر حرام ہے ۔”چنانچہ لوگوں نے آپ کی ضرورت کا احساس کرتے ہوئے اجازت دے دی۔

(طبقات الکبری ، باب ذکراس ختلاف عمر رضی اللہ عنہ ،ج۳،ص۲۰۹)

صَلُّوْ ا عَلَی الْحَبِیبْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

آمدنی کم ہو گئی

حضرت سیدنا امیر المؤمنین عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے صاحبزادے حضرت عبدالعزیز علیہ الرحمۃ سے دریافت کیا گیاکہ ”آپ کے والد کی آمدنی کتنی تھی؟” انہوں نے جواب دیا،” خلافت سے قبل چالیس ہزار دینار تھی لیکن انتقال کے وقت چار سو دینار ‘رہ گئی تھی اوراگر کچھ دن مزید زندہ رہتے تو شاید اس سے بھی کم ہو جاتی ۔”

(تاریخ الخلفاء ، ص ۱۸۷)

صَلُّوْ ا عَلَی الْحَبِیبْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ایک ہی کُر تا

حضرت سیدنا امیر المؤمنین عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالی عنہ کی بیماری کے ایامِ میں مسلم بن عبدالملک عیادت کے لئے حاضر ہو ئے تودیکھا ،”آپ رضی اللہ عنہ نے جو کُرتا پہن رکھا ہے ، فوری طور پر دھوئے جانے کا متقاضی ہے ۔” یہ حالت دیکھ کر مسلم بن عبدالملک نے ان کی زوجہ سے کہا ،”آپ یہ کر تا کیوں نہیں دھوتیں؟” انہوں نے

جواب دیا،” ان کے پاس یہی ایک کر تا ہے ،اگرمیں اسے دھونے میں لگ جاؤں تو (اس دوران)یہ کیا پہنیں گے؟”(تاریخ الخلفاء ، ص ۱۸۷)

صَلُّوْ ا عَلَی الْحَبِیبْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

انگور کھانے کی خواہش

ایک دن آپ رضی اللہ عنہ کے دل میں انگور کھانے کی خواہش پیدا ہوئی تو اپنی زوجہ محترمہ سے فرمایا،” اگر آپ کے پاس ایک درہم ہو تو مجھے دے دیں ،میرا دل

انگور کھانے کو چاہ رہا ہے۔” انہوں نے جواب دیا ،”میرے پاس ایک درہم کہاں ہے؟کیا آپ کے پاس امیر المؤمنین ہو نے کے باجود ایک درہم بھی نہیں کہ اس سے انگور ہی خرید لیں؟”آپ نے فرمایا،” انگور نہ کھانا اس سے کہیں زیادہ آسان ہے کہ کل میں جہنم کی زنجیریں پہنوں۔” (تاریخ الخلفاء ، ص ۱۸۸)

صَلُّوْ ا عَلَی الْحَبِیبْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

شاہی سواری سے اجتناب

ایک مرتبہ اصطبل کے نگران شاہی سواری کا گھوڑا لئے حاضر ہوئے تو آپ نے اس پر سوار ہو نے سے انکار کردیا اور فرمانے لگے،” میری سواری کے لئے میرا خچر ہی لاؤ، میرے لئے وہی کافی ہے ۔”اسی طرح ایک مرتبہ اصطبل کے نگران نے شاہی گھوڑوں کے لئے گھاس اور دانے وغیرہ کا خرچ طلب کیا توآپ نے فرمایا کہ” ان گھوڑوں کو بیچنے کے لئے شام کے مختلف شہروں میں بھیج دواور ان کی قیمت میں ملنے والی رقم بیت المال میں جمع کر دی جائے، میرے لئے میرا خچر ہی کافی ہے ۔”

(تاریخ الخلفاء ، ص ۲۳۴مطبوعہ میر محمد کتب خانہ)

صَلُّوْ ا عَلَی الْحَبِیبْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

حاکم کا نام محتاجوں کی فہرست میں

ایک مرتبہ امیر المؤمنین حضرت سیدنا فاروقِ اعظم رضی

اللہ تعالیٰ عنہ نے حمص کے باشندوں کو ایک مکتوب روانہ کیا اور حمص کے فقراء اور محتاجوں کی فہرست طلب کی تاکہ انہیں عطیات بھیجے جاسکیں۔ جب وہ مطلوبہ فہرست امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچی تواس میں سب سے پہلا نام حمص کے نگران (یعنی حاکم) حضرت سیدنا سعید بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا تھا۔امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ کو بڑی حیرت ہوئی کہ ہم تو انہیں مناسب مقدار میں وظیفہ دیتے ہیں ،اس کے باوجود وہ محتاج و مسکین کیوں ہیں ؟”آپ کے استفسار پر بتایا گیاکہ” جو کچھ آپ یہاں سے روانہ کر تے ہیں،وہ اسے اپنے پاس نہیں رکھتے بلکہ فقیروں اور محتاجوں میں تقسیم فرمادیتے ہیں۔”

پھر امیرالمؤمنین رضی اللہ عنہ نے حمص سے آنے والوں سے اُن کے رویہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا،” باقی تو سب ٹھیک ہے مگر ہمیں ان کی چار عادتوں پر اعتراض ہے ۔

(۱) وہ ہمارے پاس دن چڑھنے کے بعد آتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔
(۲) رات کے وقت ملاقات نہیں فرماتے۔۔۔۔۔۔۔
(۳) مہینے میں ایک دن ایسا آتا ہے کہ وہ کسی سے نہیں ملتے۔۔۔۔۔۔۔
(۴) کبھی کبھی ان پر بے ہو شی کا طویل دورہ پڑتا ہے۔۔۔۔۔۔۔

جب امیر المؤ منین فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حضرت سیدنا سعید بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملاقات ہو ئی توآپ نے اُن سے اہلِ حمص کی شکایات کے بارے میں وضاحت چاہی تو حضرت سیدنا سعید بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بطورِوضاحت عرض کی۔

(1) گھر سے چاشت کے وقت نکلنے کی وجہ یہ ہے کہ میرا کو ئی خادم نہیں ہے جبکہ میری بیوی بیمار ہے۔ لہذا! نماز ِفجر کے بعد دن چڑھنے تک گھریلو کام کاج میں خودکرتاہوں ۔
(2) رات کے وقت میں لوگوں سے اس لئے ملاقات نہیں کرتا کہ دن بھر میں لوگوں کی خدمات سرانجام دیتا ہوں اوررات کا وقت میں نے اللہ تعالیٰ کے حقوق کی ادائیگی کے لئے وقف کر رکھا ہے ۔
(3) سارے مہینے میں ایک دن گھر سے اس لئے باہر نہیں نکلتا کہ میرے پاس کپڑوں کا صرف ایک جوڑا ہے، جسے میں اُس دن دھوتا ہوں اور خشک ہو نے پر پہن لیتا ہوں۔لہذا! اس دن میں لوگوں سے ملاقات نہیں کر سکتا ۔
(4) بے ہو شی کی وجہ یہ ہے کہ حضرت سیدنا خبیب بن عدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ میرے سامنے شہید کئے گئے، میں اس وقت حالتِ کفر میں تھا۔ مجھے جب بھی یہ واقعہ یاد آتا ہے تو دل پر چوٹ لگتی ہے اور سینے سے ایک ہوک سی اٹھتی ہے کہ کاش!میں اُس وقت اسلام لاچکا ہو تا اور ان کے دفاع کی کو شش کرتا۔ یاامیر المؤمنین ! مجھے جب بھی اُن کی یاد آتی ہے تو مجھ پر رنج و الم کا پہاڑ ٹوٹ پڑتا ہے اور میرے ہوش و حواس گم ہو جاتے ہیں ۔”
یہ گفتگو سن کر سیدنافاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ اِس شدت سے روئے کہ آپ کی ہچکی بندھ گئی۔ حضرت سیدنا سعید بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وصال ہوجانے کے بعدجب بھی ان کا تذکرہ ہو تا تو سیدنافاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ پر شدید گریہ طاری ہو جاتا اورآپ ان کے لئے دعائے رحمت و مغفرت کیا کر تے۔

صَلُّوْ ا عَلَی الْحَبِیبْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *