سیاہ فام مُتَّقِی غلام کا توکُّل:

سیاہ فام مُتَّقِی غلام کا توکُّل:

حضرت سیِّدُنا علی بن بکارعلیہ رحمۃاللہ الغفار اور حضرت سیِّدُنا ابو اسحاق فزاری علیہ رحمۃالباری جو کہ اولیاء و صالحین میں سے تھے، لکڑیاں کاٹ کر اس کی کمائی سے کھاتے تھے۔ ایک دن ان دونوں نے باہم اتفاق کیا کہ کل صبح پہاڑ پر چڑھنے اور لکڑیاں کاٹنے میں ایک دوسرے کی مددکریں گے۔حضرت سیِّدُنا علی بن بکاررحمۃاللہ تعالیٰ علیہ پہاڑ پر چڑھنے میں سبقت لے گئے اور لکڑیوں کا گَٹھا بھی جمع کر لیالیکن جب ان کے رفیق نے ان کے پاس پہنچنے میں دیر کر دی تو وہ ان کو پہاڑ میں تلاش کرنے لگے۔ انہوں نے دیکھا کہ حضرت سیِّدُنا ابو اسحاق رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ چار زانو تشریف فرما ہیں اور ایک شیر کا سر ان کی گود میں ہے اور وہ خود اس شیر سے مکھیوں کو دور کر رہے ہیں۔ حضرت سیِّدُنا علی بن بکارعلیہ رحمۃاللہ الغفار نے استفسار فرمایا:”اے ابواسحاق!یہ کیاہے؟”فرمایا: ”شیر نے مجھ سے التجا کی تو مجھے اس پر ترس آگیا۔اب میں انتظارکررہا تھا کہ یہ بیدار ہواور میں آپ کے پاس جا سکوں۔ ”حضرت سیِّدُنا علی بن بکار رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ان کو اسی حالت میں چھوڑ کر آگے چلے گئے ۔ اچانک انہوں نے چٹان پر ایک تھیلی دیکھی جس میں ایک ہزار دینار تھے۔ اس پر غبار اورمِٹی پڑی ہوئی تھی۔ انہوں نے دل میں سوچا: ”میں اس کو لے جاکر صدقہ کردوں گا۔”چنانچہ، پہاڑ سے اُتر ے تو ایک سیاہ فام غلام کے پاس سے گزر ہوا جو پاؤں سے معذورتھااورچہرے کے بل گرا ہواتھا، اوراس کے چہرےکے قریب لکڑیوں کا ایک گٹھا پڑاہوا تھا،جسے وہ بیچنا چاہتا تھا۔انہوں نے سوچاکہ”اس سونے کا حق دار اس غلام سے زیادہ کون ہوسکتا ہے۔” چنانچہ، انہوں نے تھیلی سے دس دینار نکالے اور اس کے پاس آکر کہا : ”یہ لیجئے اور اپنی حالت درست کرلیجئے۔”غلام نے اپنا سر اٹھایااور کہا: ”اس سونے کو اس کی جگہ پر واپس رکھ دیں اور جو اپنے ہاتھ کی کمائی نہیں اسے صدقہ نہ کریں۔ اللہ عزَّوَجَلَّ کی قسم! میں ایک سال سے اس چٹان پر پڑی ہوئی تھیلی کے پاس سے گزر رہا ہوں مگر مجھے یہ بھی معلوم نہ ہواکہ اس میں کیا ہے؟توآپ دنیا میں کیسے راغب ہو گئے اور جس کو لینا جائز نہ تھا اس کو لے لیا؟”آپ فرماتے ہیں کہ مجھے اس کی باتوں سے بڑی شرمندگی ہوئی اور میں نے جان لیا کہ یہ اولیاء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ میں سے ہے لہٰذا میں تھیلی کو اس کی جگہ پر رکھ کر واپس آیا تو وہ اپنی جگہ پر نہ تھا۔میں نے دریافت کیاتو بتایا گیاکہ یہ ہرہفتہ ایک مرتبہ لکڑیوں کا گٹھا لے کر آتا ہے اور پھر اسے ایک درہم کے عوض فروخت کرتاہے اور اسی سے ہفتہ کے باقی ایام غذا حاصل کرتاہے اور کسی سے کوئی چیزنہیں مانگتا۔
اللہ عزَّوَجَلَّ کی قسم!یہ زاہدین کے احوال اور صالحین کی صفات ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *