سمندر پر چلنے والا شخص:

سمندر پر چلنے والا شخص:

حضرت سیِّدُنا عبدالرحمن ازدی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ” میں بیروت کے ساحل پر چلتے ہوئے سمندر پر بیٹھے ایک شخص کے پاس سے گزراجس کی دونوں ٹانگیں پانی میں تھیں اور وہ کہہ رہاتھا:”پاک ہے وہ ذات جس کا عرش آسمان میں اور حکم

زمین پر ہے، پاک ہے وہ ذات جس کی قدرت ہوا میں اور حکومت سمندر پرہے۔”پھر وہ خاموش ہوگیا۔میں نے اس سے دریافت کیا: ”کیاہوا،آپ اکیلے کیوں بیٹھے ہیں؟”تو وہ کہنے لگا:”اللہ عزَّوَجَلَّ سے ڈرواور حق کے سوا کچھ نہ کہو،جب سے میں پیدا ہوا ہوں کبھی بھی اکیلانہیں رہا۔بے شک میں جہاں بھی رہوں میرا خدا عَزَّوَجَلَّ میرے ساتھ ہوتا ہے اور دو فرشتے میری حفاظت اور نگہبانی کرتے ہیں۔”میں نے پوچھا:”آپ کہاں رہتے ہیں؟” جواب دیا: ”میراکوئی معروف مقام نہیں، نہ ہی کوئی مخصوص ٹھکانہ ہے۔”میں نے عرض کی: ” کہاں سے کھاتے ہیں؟”تواس نے کہا:”جب مجھے کوئی حاجت در پیش ہوتی ہے تو میں اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہِ خاص میں اپنے دل سے سوال کرتاہوں، صرف زبان سے دعا نہیں کرتا تووہ میری حاجت پوری کر دیتا ہے۔” میں نے پوچھا:”آپ کویہ مرتبہ کیسے ملا؟”تواس نے جواب دیا: ”اُس ذات عَزَّوَجَلَّ پرصدق، توکُّل اور لوگوں کو چھوڑ کر اسی کی طرف التجاء کے ذریعے۔”میں نے عرض کی:”میرے لئے دعا فرمائیں۔” تو اس نے کہا:”میں اس میدان کا شَہسوار نہیں، بلکہ آپ اس کے زیادہ حقدارہیں۔”تومیں نے کہا:”مجھے کوئی تاکیدی حکم فرما دیں۔” اس نے کہا:”اس ذات کے دروازے پر ذلت کا اظہار کرتے ہوئے کھڑے ہو جاؤ اوراس کی بارگاہ سے نہ ہٹو، وہ آپ کو اپنے محبوب بندوں کا قرب عطا فرما دے گا۔”پھر وہ شخص سمندر پر چلتے ہوئے میری آنکھوں سے اوجھل ہوگیا۔
پیارے اسلامی بھائیو!بادِ نسیم کے الفاظ کو سوائے محب کے کوئی نہیں سمجھ سکتااور بجلیوں کی گفتگو سوائے عُشَّاق کے کسی کو خوش نہیں کرسکتی۔اللہ عزَّوَجَلَّ کی قسم! یہ لوگ دارِمناجات میں محبوب کی بارگاہ میں تنہائی اختیار کرتے ہیں تو ان کو وصال کا جامہ پہنا دیا جاتا ہے،اور ان کو معاملہ کی خوشبو اورانتہائی مہنگی غالیہ(مشک ،عنبراورکافورسے بنی ہوئی ایک مرکب خوشبو)سے آراستہ کیا جاتا ہے۔ چنانچہ، اللہ عزَّوَجَلَّ قرآنِ پاک میں اولیائے کرام کی شان بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:

(2) وَالَّذِیۡنَ یَبِیۡتُوۡنَ لِرَبِّہِمْ سُجَّدًا وَّ قِیَامًا

ترجمۂ کنزالایمان :اوروہ جو رات کاٹتے ہیں اپنے رب کے لئے سجدے اورقیام میں۔(۱) (پ19،الفرقان:64)
وہ اس حال میں صبح کرتے ہیں کہ سحری ان کو لاغری و بیماری کا لباس پہناتی ہے ۔لیکن وہ اللہ عزَّوَجَلَّ کے وصال سے اور

1۔۔۔۔۔۔مفسِّرِ شہیر، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدرُالافاضل سیِّد محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیتِ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں:” یعنی نماز اور عبادت میں شب بیداری کرتے ہیں اور رات اپنے رب کی عبادت میں گزارتے ہیں اور اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے کرم سے تھوڑی عبادت والوں کو بھی شب بیداری کا ثواب عطا فرماتا ہے۔” حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ” جس کِسی نے بعد عشاء دو رکعت یا زیادہ نفل پڑھے وہ شب بیداری کرنے والوں میں داخل ہے۔” مسلم شریف میں حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے: ”جس نے عشا ء کی نماز باجماعت ادا کی اُس نے نصف شب کے قیام کا ثواب پایا اور جس نے فجر بھی باجماعت ادا کی وہ تمام شب کے عبادت کرنے والے کی مثل ہے۔”
پھر نفع وغنائم پا کر کامیاب ہیں، اور اے مسکین!توغفلت کے میدان میں سویاہواہے،اے غفلت اور نیند کے قیدی!کیاتجھے لوگوں کے ساتھ ہونے والے معاملے کا علم ہے؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *