دیدارِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ کی طالب :

دیدارِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ کی طالب :

حضرت سیِّدُنا سعد بن عثمان علیہ رحمۃاللہ المنان فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت سیِّدُنا ذوالنون مصری علیہ رحمۃاللہ القوی کے ساتھ اس چٹیل میدان سے گزر رہا تھا جہاں بنی اسرائیل ایک عرصے تک حیران و سرگرداں بھٹکتے پھرتے رہے۔ وہاں ہم نے کسی انسان کو آتے دیکھا۔ میں نے عرض کی: ”اے میرے استاذِ محترم!کوئی شخص آرہاہے۔ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: ”جاؤ! دیکھو! کون ہے،یہاں توکوئی صدیق ہی آسکتا ہے؟”میں نے دیکھا تو وہ کوئی عورت تھی۔آپ نے فرمایا:”ربّ ِ کعبہ کی قسم !یہ توکوئی صدیقہ ہے۔”چنانچہ، آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ جلدی سے اس کے پاس گئے،اور سلام پیش کیاتو کہنے لگی:”مَردوں کو کیا ہو گیا ہے کہ عورتوں کو مخاطب کرتے ہیں؟”آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:”میں آپ کا بھائی ذوالنون ہوں، تہمت والو ں میں سے نہیں ہوں۔”تو اس نے کہا:” خوش آمدید! اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ کو سلامت رکھے۔”آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے استِفسار فرمایا: ”آپ کواس ویرانے میں انے پر کس نے ابھارا؟” اس نے جواب دیا: اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اس فرمانِ عالیشان نے:

(1) اَلَمْ تَکُنْ اَرْضُ اللہِ وَاسِعَۃً فَتُہَاجِرُوۡا فِیۡہَا ؕ

ترجمۂ کنزالایمان:کیا اللہ کی زمین کشادہ نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کرتے۔(پ5،النسآء: 97)
پھر آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:”محبتِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ کے بارے میں کچھ بیان کیجئے؟”تو وہ کہنے لگی:”سُبْحَانَ اللہ عَزَّوَجَلَّ! آپ اس کو خوب جانتے ہیں،خود معرفت کی زبان میں کلام کرتے ہیں پھر بھی اس کے متعلق مجھ سے پوچھ رہے ہیں۔” آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا : ”سوال کرنے والا جواب کا حق دار ہے۔”تو اس نے چند اشعار پڑھے، جن کا مفہوم یہ ہے:
”اے میرے مالک ومولیٰ عَزَّوَجَلَّ ! میں تجھ سے شدید محبت کرتی ہوں کیونکہ تو ہی اس کا حق رکھتا ہے۔ محبت ایسا ذ کر ہے جو تیرے علاوہ سب سے بے خبر کر دیتاہے۔ تو ہی محبت کا اہل ہے لہٰذا میرے سامنے سے پردے اُٹھا دے تاکہ میں تیرا دیدار کر سکوں۔میرے نزدیک اِدھر اُدھر کی چیزوں کی کوئی تعریف نہیں بلکہ ہر چیز میں تیری ہی حمد وثناء ہے۔”

پھر اس نے یہ ا شعار پڑھے:

یَا حَبِیْبَ الْقَلْبِ مَا لِیْ سِوَاکَا
فَارْحَمِ الْیَوْمَ مُذْنِبًا قَدْ اَتَاکَا
یَا رَجَائِیْ وَرَاحَتِیْ وَسُرُوْرِیْ
قَدْ اَبَی الْقَلْبُ اَنْ یُّحِبَّ سِوَاکَا

ترجمہ:اے دل کے دوست! تیرے سوا میرا کوئی نہیں ،اپنی بارگاہ میں حاضر اس گنہگار پر رحم فرما، اے میری اُمید، میری راحت اور اے میرے سرور! دِل نے تیرے سواکسی اورسے محبت کرنے سے انکار کردیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *