دُنیا وآخرت کی پسندیدہ چیزیں:

دُنیا وآخرت کی پسندیدہ چیزیں:

حضرت سیِّدُنا محمد بن سماک رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میرے سامنے شام کے ایک پہاڑ میں رہنے والے عابد کی تعریف کی گئی تو میں اس کے پاس چلا گیا اور سلام پیش کیا، اس نے سلام کا جواب دینے کے بعد مجھ سے پوچھا: ” اے ابن سماک! آپ کو اس جگہ کون لے کر آیا؟” میں نے عرض کی: ” میں نے آپ کی تعریف سنی اور زیارت کے لئے حاضر ہوگیا۔” یہ سن

-کر اس عابد نے کہا: ”آپ کو میرے متعلق بتانے والے نے دھوکا دیا ہے، میں تو اپنے نفس کو غیرِ خدا میں مُعلَّق سمجھتا ہوں۔ اے ابن سماک! عقلمند تو وہ ہے جو ہلاکت سے پہلے خلاصی پانے اور نجات حاصل کرنے کی کوشش کرے۔” جب میں نے اس کا کلام سنا تو بے اختیار رو پڑا۔ جب میں نے واپسی کا ارادہ کیاتو پوچھا: ” آپ کی کوئی حاجت ہو تو فرمائیے؟”اس نے کہا: ”جو ایسے ویرانے میں رہتا ہو، اُسے کسی انسان سے کوئی حاجت نہیں ہو سکتی۔”پھر وہ کہنے لگا: ” اے ابن سماک ! اگرتمہیں کسی قسم کی حاجت ہوتو بتائیے؟”میں نے کہا: ” میں آپ کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم دیتا ہوں کہ جو میں پوچھوں، آپ اس کا جواب دیں گے۔آپ کو دنیا و آخرت کی کون سی چیز پسند ہے؟” تواس نے روتے ہوئے کہا: ”اگر آپ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم نہ دیتے تو میں کبھی بھی نہ بتاتا ،مجھے دنیا کی یہ چیزیں پسند ہیں: اطاعت وعبادت پر قوت، زہد، قناعت، خواہشات سے دوررہنے والا نفس اور خوف خدا سے لبریز دل۔ اور آخرت میں مجھے یہ پسند ہے کہ میں بارگاہِ خداوندی عَزَّوَجَلَّ سے یہ اعلان سنوں کہ جا،تجھے بخش دیاگیا۔”
پھر اس نے ایک آہ سرد دلِ پُردَردسے کھینچی اور زمین پر تشریف لے آیا اور سفرِ آخرت پر روانہ ہوگیا۔ مجھے اس کے حال اور معاملے سے بڑی حیرت ہوئی۔اور میں نے اس کو غسل وکفن دینے کا ارادہ کیا تو اپنے پیچھے سے ہاتف ِ غیبی کی آواز سنی: ” اے ابن سماک! فکر نہ کر، کیونکہ اس کا معاملہ تیرے سپرد نہیں۔” پھر اس کا جسم میری نگاہوں سے اوجھل ہو گیا اور اس کو غسل دیئے جانے کی آواز سنائی دی، لیکن کوئی دکھائی نہ دیا،اور میں نے کسی کہنے والے کو یہ کہتے سنا: ”اے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے دوست! تجھے مبارک ہو، قیامت کے دن تجھے خوف سے امن عطا کر دیا گیاہے۔ ”

؎ امتحاں کے کہاں قابل ہوں میں پیارے اللہ عَزَّوَجَلَّ!
بے سبب بخش دے مولیٰ عَزَّوَجَلَّ تیر ا کیا جا تا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *