حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت

حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت

امیرالمؤمنین حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بوقت وفات چھ جنتی صحابہ حضرت عثمان وحضرت علی وحضرت سعدبن ابی وقاص وحضرت زبیر بن العوام وحضرت عبدالرحمن بن عوف وحضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا نام لے کر یہ وصیت فرمائی کہ میرے بعد ان چھ شخصوں میں سے جس پر اتفاق رائے ہوجائے اس کو خلیفہ مقرر کیا جائے اور تین دن کے اندر خلافت کا مسئلہ ضرورطے کرلیا جائے اوران تین دنوں تک حضرت صہیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسجد نبوی علی صاحبہاالصلوۃ و السلام میں امامت کرتے رہیں گے ۔ اس وصیت کے مطابق یہ چھ حضرات ایک مکان میں جمع ہوکردوروز تک مشورہ کرتے رہے مگر یہ مجلس شوریٰ کسی نتیجہ پر نہ پہنچی ۔ تیسرے دن حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ تم لوگ جانتے ہو کہ آج تقررخلافت کا تیسرا دن ہے لہٰذا تم لوگ آج اپنے میں سے کسی کو خلیفہ منتخب کرلو۔ حاضرین نے کہا :اے عبدالرحمن !رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہم لوگ تو اس مسئلہ کو حل نہیں کرسکے۔ اگر آپ کے ذہن میں کوئی تجویز ہوتو پیش کیجئے ۔ آپ نے فرمایا کہ چھ آدمیوں کی یہ جماعت ایثار سے کام لے اورتین آدمیوں کے حق میں اپنے اپنے حق سے دستبردار ہوجائے ۔ یہ سن کر حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اعلان

فرمادیا کہ میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حق میں اپنے حق سے دستبردار ہوتا ہوں ۔ پھر حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حق میں اپنے حق سے کنارہ کش ہوگئے ۔ آخر میں حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں نے حضرت عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنا حق دے دیا۔ اب خلافت کے حقدار حضرت عثمان و حضرت علی وحضرت عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہم رہ گئے۔ پھرحضرت عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اے عثمان وعلی! رضی اللہ تعالیٰ عنہما میں تم دونوں کو یقین دلاتاہوں کہ میں ہرگز ہرگز خلیفہ نہیں بنوں گا ، اب تم دو ہی امیدوار رہ گئے ہو اس لئے تم دونوں خلیفہ کے انتخاب کا حق مجھے دے دو۔ حضرت عثمان وحضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے انتخاب خلیفہ کا مسئلہ خوشی خوشی حضرت عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سپرد کردیا۔ اس گفتگو کے مکمل ہوجانے کے بعد حضرت عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ مکان سے باہر نکل آئے اورپورے شہر مدینہ میں خفیہ طور پر گشت کر کے ان دونوں امیدواروں کے بارے میں رائے عامہ معلوم کرتے رہے ۔ پھر دونوں امیدواروں سے الگ الگ تنہائی میں یہ عہد لے لیا کہ اگرمیں تم کو خلیفہ بنادوں تو تم عدل کرو گے اوراگر دوسرے کو خلیفہ مقرر کردوں تو تم اس کی اطاعت کرو گے۔ جب دونوں امیدواروں سے یہ عہد لے لیا تو پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مسجد نبوی علی صاحبہ الصلوۃ والسلام میں آکر یہ اعلان فرمایا کہ اے لوگو!میں نے خلافت کے معاملہ میں خود بھی کافی غور وخوض کیا اوراس معاملہ میں انصار ومہاجرین کی رائے عامہ بھی معلوم کرلی ہے۔ چونکہ رائے عامہ حضرت عثمان (رضی اللہ تعالیٰ عنہ)کے حق میں زیادہ ہے اس لئے میں حضرت عثمان (رضی اللہ تعالیٰ عنہ)کو خلیفہ منتخب کرتاہوں ۔ یہ کہہ کر سب سے پہلے خود آپ نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیعت کی اور آپ کے بعد حضرت علی اوردوسرے سب صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ
عنہم نے بیعت کرلی۔ اس طرح خلافت کا مسئلہ بغیر کسی اختلاف و انتشار کے طے ہوگیا جو بلاشبہ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایک بہت بڑی کرامت ہے۔ (1)
(عشرہ مبشرہ ،ص۲۳۱تا۲۳۴وبخاری ،ج۱،ص۵۲۴مناقب عثمان)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *