Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہ

حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہ

قریش کے ایک خاندان ”بنو اسد”سے ان کا نسبی تعلق ہے ۔ یہ حضرت ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بھائی ہیں ۔ یہ ابتدائے اسلام ہی میں ایمان کی دولت سے مالامال ہو گئے تھے اور پہلے حبشہ پھر مدینہ منورہ کی دونوں ہجرتوں کے شرف سے سرفراز ہوکر ”صاحب الہجرتین”کا لقب پایا۔ جنگ بدر کے معرکہ میں انتہائی جاں بازی اورسرفروشی کے جذبے سے جنگ کی اور ۳ ھ؁ کو جنگ احد میں کفار سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش فرمایا۔

ان کی ایک کرامت یہ بھی ہے کہ یہ بہت ہی ”مستجاب الدعوات”تھے ۔ یعنی ان کی دعائیں بہت زیادہ اوربہت ہی جلد مقبول ہواکرتی تھیں ۔ (1)(اکمال ، ص۶۰۳واسدالغابہ،ج۱ص۱۳۱)

کرامت
انوکھی شہادت

آپ نے جنگ احد کے ایک دن قبل یہ دعا مانگی کہ یا اللہ ! عزوجل مجھے تیری قسم کہ جب کفار مکہ سے لڑنے کے لیے کل میدان جنگ میں نکلوں تو میرے مقابلہ میں ایسا کافر آئے جو سخت حملہ آوراورانتہائی جنگجوہو اور میں اس سے لڑتے ہوئے برابر زخم کھاتا رہوں یہاں تک کہ وہ مجھے قتل کردے اورکفار میرا شکم پھاڑ ڈالیں اورمیری ناک کان کو کاٹ کر میری صورت بگاڑدیں اورمیں جب اسی حالت میں قیامت کے دن تیرے حضور کھڑا کیا جاؤں تو اس وقت تو مجھ سے یہ دریافت فرمائے کہ اے عبداللہ! کس و جہ سے اورکس نے تیری ناک اورکان کو کاٹ ڈالا ہے ؟تو میں یہ جواب عرض کروں کہ اے اللہ!عزوجل تیرے اورتیرے رسول کے دشمنوں نے تیرے اور تیرے رسول کے بارے میں مجھے قتل کر کے میری ناک اورکان کوکاٹ کر میری صورت وشکل بگاڑ دی ہے۔ میرا یہ جواب سن کر پھر اے میرے اللہ! عزوجل تو صرف اتنا فرمادے کہ اے عبداللہ !تو سچ کہتاہے ۔
آپ کی یہ دعا حرف بحرف قبول ہوئی چنانچہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی

اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے ہی ان کی دعا پر آمین کہی تھی اور میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ جنگ احد میں کفار نے ان کو شہید کر کے ان کے شکم کو پھاڑڈالا اوران کی ناک، کان اور دوسرے اعضاء کو کاٹ کر ایک دھاگے میں پرودیا تھااور اسی حالت میں آپ حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ ایک ہی قبر میں دفن کئے گئے ۔ (1)
(کنزالعمال،ج۱۶،ص۹۸واسدالغابہ،ج۳،ص۱۳۱وغیرہ)

تبصرہ

اللہ اکبر!کس قدر ان شمع نبوت کے پروانوں کو شوق شہاد ت تھا ؟اس زمانے میں اسے کوئی سوچ بھی نہیں سکتا کیونکہ ایمانی حرارت کی بے حد کمی ہوگئی ہے ورنہ حقیقت یہ ہے ؎

شہادت ہے مطلوب ومقصود مؤمن
نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!