حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ

حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ

آپ کا نام نامی بھی عشرہ مبشرہ کی فہرست گرامی میں ہے ۔ مکہ مکرمہ کے اندر خاندان قریش میں آپ کی پیدائش ہوئی ۔ ماں باپ نے ”طلحہ”نام رکھا ،مگر دربار نبوت سے ان کو ”فیاض ”و”جود ”و”خیر”کے معزز القاب عطاہوئے ۔ یہ جماعت صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں سے سابقین اولین کے زمرہ میں ہیں ۔ (2) ان کے اسلام لانے کا واقعہ یہ ہے کہ یہ بسلسلہ تجارت بصرہ گئے تو وہاں کے ایک عیسائی پادری نے ان سے دریافت کیاکہ کیا مکہ میں ”احمدنبی”پیدا ہوچکے ہیں ؟انہوں نے حیران ہوکر پوچھا : کون”احمد نبی”پادری نے کہا:
”احمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب ۔ وہ نبی آخرالزماں ہیں اوران کی نبوت کے ظہور کا یہی زمانہ ہے اوران کی پہچان کا نشان یہ ہے کہ وہ مکہ مکرمہ میں پیداہوں گے اورکھجوروں والے شہر(مدینہ منورہ)کی طرف ہجرت کریں گے ۔ ”
چونکہ اس وقت تک حضوراکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے اپنی نبوت کا اعلان نہیں فرمایا تھا اس لئے حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پادری کو نبی آخرالزماں خاتم النبیین صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے بارے میں کوئی جواب نہ دے سکے ،لیکن بصرہ سے مکہ معظمہ
آنے کے بعد جب ان کو پتہ چلا کہ حضوراکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے اپنی نبوت کا اعلان فرمادیا ہے تو حضرت ابو بکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ بارگاہ نبوت میں حاضر ہوکر مشرف بہ اسلام ہوئے ۔ (1)
کفارمکہ نے ان کو بے حد ستایا اور رسی باندھ باندھ کر ان کو مارتے رہے مگر یہ پہاڑ کی طرح دین اسلام پر ثابت قدم رہے ۔ پھر ہجرت کر کے مدینہ منورہ چلے گئے اورجنگ بدر کے سوا تمام اسلامی جنگوں میں کفار سے لڑتے رہے ۔ جنگ بدرمیں ان کی غیر حاضر ی کا یہ سبب ہوا کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ان کو اورحضرت سعید بن زید رضی ا للہ تعالیٰ عنہ کو ابو سفیان کے قافلہ کی تلاش میں بھیج دیا تھا۔ ابو سفیان کا قافلہ ساحل سمندر کے راستوں سے مکہ مکرمہ چلا گیا اور یہ دونوں حضرات جب لوٹ کر میدان بدر میں پہنچے تو جنگ ختم ہوچکی تھی ۔
جنگ اُحد میں انہوں نے بڑی ہی جاں بازی اورسرفروشی کا مظاہرہ کیا۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کو کفار کے حملوں سے بچانے میں چونکہ یہ تلوار اور نیزوں کی بوچھاڑ کو اپنے ہاتھ پر روکتے رہے اس لئے آپ کی انگلی کٹ گئی اورہاتھ بالکل شل ہوگیا تھا اوران کے بدن پر تیر وتلواراورنیزوں کے پچھترزخم لگے۔ (2)
ان کے فضائل ومناقب میں چند حدیثیں بھی وارد ہوئی ہیں ۔ جنگ احد کے دن جب جنگ رک جانے کے بعدحضوراکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم چٹان پر چڑھنے لگے
تو لوہے کی زرہ کے بوجھ کی و جہ سے چٹان پر چڑھنا دشوار ہوگیا۔اس وقت حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیٹھ گئے اور ان کے بدن کے اوپر سے گزرکر حضوراکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم چٹان پرچڑھے اورخوش ہوکر فرمایا: ”اَوْجَبَ طَلْحَۃُ ” (یعنی طلحہ نے اپنے لئے جنت واجب کرلی۔) (1)(مشکوٰۃ ،ص۵۶۶)
اسی طرح حضوراکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے یہ بھی فرمایا :زمین پر چلتا پھرتا شہید ”طلحہ ”ہے۔(2)(کنزالعمال،ج۱۲،ص۲۷۵مطبوعہ حیدرآباد)
۲۰جمادی الاخریٰ ۳۶ھ؁ میں جنگ جمل کے دوران آپ کوایک تیرلگااور آپ چونسٹھ برس کی عمرمیں شہادت سے سرفرازہوئے۔(3)
(اکمال ص۶۰۱وعشرہ مبشرہ ص۲۴۵)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *