Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ تعالیٰ عنہ

حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ تعالیٰ عنہ

ان کی کنیت ابوخالد ہے اورخاندان قریش کی شاخ بنو اسد سے ان کا خاندانی تعلق ہے ۔ یہ ام المؤمنین حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بھتیجے ہیں ۔ ان کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ زمانہ جاہلیت میں ان کی والدہ جبکہ یہ ان کے بطن میں تھے کعبہ کے اندربتوں پر چڑھاواچڑھانے کو گئیں تو وہیں بیچ کعبہ میں حکیم بن حزام پیدا ہوگئے۔ زمانہ جاہلیت اوراسلام دونوں زمانوں میں یہ اشراف قریش میں سے شمار کیے جاتے تھے۔ فتح مکہ کے سال ۸ھ ؁ میں مشرف بہ اسلام ہوئے ۔ بہت ہی عقلمند معاملہ فہم اور صاحب علم وتقویٰ شعار تھے ۔ ایک سو غلاموں کو خرید کر آزاد کیا اور ایک سو اونٹ ان مسافروں کو دئیے جن کے پا س سواری کے جانور نہیں تھے ۔ ایک سو بیس برس عمر پائی ۔ ساٹھ برس کفر کی حالت میں اورساٹھ برس اسلامی زندگی گزاری ۔ ۵۴ھ ؁میں بمقام مدینہ منورہ ان کا وصال ہوا۔ (1)(اکمال ،ص۵۶۱)

کرامت
تجارت میں کبھی گھاٹا نہیں ہوا

ان کی مشہورکرامت یہ ہے کہ یہ تاجر تھے ۔ زندگی بھر تجارت کرتے رہے مگر کبھی بھی اورکہیں بھی اورکسی سودے میں بھی کوئی نقصان او رگھاٹا نہیں ہوا بلکہ اگر یہ مٹی بھی خریدتے تو اس میں نفع ہی نفع ہوتا کیونکہ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ان کے ليے یہ دعا فرمائی تھی: اَللّٰھُمَّ بَارِکْ فِیْ صَنْعَتِہٖ (اے اللہ!عزوجل ان کے بیوپار میں

برکت عطافرما۔) (1)(کنز العمال،ج۱۲،ص۲۶۲)
ترمذی وابوداودکی روایتوں میں ہے کہ حضوراکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ان کوایک دیناردے کر مینڈھا خریدنے کے لیے بھیجا تو انہوں نے ایک دینار میں مینڈھا خریدا اوراسے دو دینار میں بیچ ڈالاپھر واپس بازار آئے اور ایک دینار میں مینڈھا خرید کرآپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی خدمت اقدس میں آکر مینڈھااور ایک دینار پیش کر دئيے ۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے دینار کو تو خدا کی راہ میں خیرات کردیا اورپھر خوش ہوکر ان کی تجارت میں برکت کے لئے دعا فرمادی ۔ (2) (مشکوٰۃ ،ص۲۵۴،باب الشرکۃ والوکالت)

تبصرہ

تجارت میں نفع ونقصان دونوں کا ہونا لازمی امر ہے ہر تاجر کو اس کا تجربہ ہے کہ بیوپار میں کبھی نفع ہوتاہے کبھی نقصان ، مگر زندگی بھر تجارت میں ہمیشہ نفع ہی نفع ہوتا رہے اورکبھی بھی اورکہیں بھی اور کسی سودے میں بھی گھاٹا نہ اٹھانا پڑے بلاشبہ اس کو کرامت کے سوا کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا اس لئے حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ تعالیٰ عنہ یقیناصاحب کرامت صحابی اوربلند مرتبہ ولی تھے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!