حضرت حارثہ بن نعمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ

حضرت حارثہ بن نعمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ

حضرت حارثہ بن نعمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ افاضل صحابہ میں سے ہیں ۔ جنگ بدر اور جنگ احدوغیرہ تمام اسلامی جنگوں میں مجاہدانہ شان کے ساتھ معرکہ آرائی کرتے رہے۔یہ قبیلہ بنو نجارمیں سے ہیں۔(1)
حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ان کے بارے میں ارشادفرمایا کہ میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے وہاں قرأت کی آوازسنی جب میں نے دریافت کیا کہ یہ کون شخص ہیں؟تو فرشتوں نے کہا کہ یہ حارثہ بن نعمان ہیں۔ یہ اپنی والدہ کے ساتھ بہترین سلوک کرنے والے صحابی ہیں۔(2) (مشکوٰۃ ،ج۲،ص۴۱۹باب البروالصلۃ)

کرامت
حضرت جبریل علیہ السلام کو دیکھا

ان کا بیان ہے کہ میں ایک مرتبہ حضوراکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے پاس سے گزراتو میں نے دیکھا کہ ایک شخص آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے ہیں۔ میں نے سلام کیا اوروہاں سے چل دیاجب میں واپس آیا تو حضوراکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ اے حارثہ!تم نے اس شخص کو دیکھا جو میرے پاس بیٹھے ہوئے تھے؟ میں نے عرض کیا کہ جی ہاں ! تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ارشادفرمایا کہ وہ حضرت جبریل علیہ السلام تھے اور انہوں نے تمہارے سلام کا جواب بھی دیا تھا۔(3)
(اکمال فی اسماء الرجال،ص۵۶۱)

اورایک روایت میں یہ بھی ہے کہ حضرت جبریل علیہ السلام نے حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم سے عرض کیا کہ حارثہ بن نعمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسّی آدمیوں میں سے ایک ہیں تو حضوراکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے دریافت کیا کہ اے جبریل ! علیہ السلام اس کا کیا مطلب ہے کہ یہ اسّی آدمیوں میں سے ایک ہیں؟ تو آپ نے جواب دیا کہ جنگ حنین کے دن کچھ دیر کے ليے تمام صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم شکست کھا کر پیچھے ہٹ جائیں گے مگر اسّی آدمی پہاڑ کی طرح آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے ساتھ ایسی حالت میں ڈٹے رہيں گے جب کہ کفار کی طرف سے تیروں کی بارش ہورہی ہوگی ان اسّی بہادروں میں سے ایک ”حارثہ بن النعمان” ہیں۔ (1)(اسدالغابہ،ج۱،ص۳۵۸)
یہ آخری عمر میں نابینا ہوگئے تھے اس لئے ہر وقت اپنے مصلیٰ پر بیٹھے رہتے تھے اوراپنے مصلیٰ کے پاس ایک ٹوکری میں کھجور بھرکر رکھتے تھے اوراپنے مصلے سے حجرہ کے دروازے تک ایک دھاگاباندھے ہوئے تھے جب مسکین دروازہ پر آکر سلام کرتا تو اسی دھاگامیں کھجوریں باندھ کر دھاگا کھینچ لیتے اورکھجوریں مسکین کے پاس پہنچ جایا کرتی تھیں ان کے گھر والوں نے کہا کہ اس تکلف وتکلیف کی کیا ضرورت ہے؟ آپ حکم دیں توگھر والے کھجوریں مسکین کو دے دیا کریں گے ۔آپ نے فرمایا کہ میں نے حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کو یہ ارشادفرماتے ہوئے سنا :مُنَاوَلَۃُ الْمِسْکِیْنِ تَقِیْ مِیْتَۃَ السُّوْءِ (یعنی مسکین کواپنے ہاتھ سے دینابری موت سے بچاتاہے۔)(2) (اسدالغابہ،ج۱،ص۳۵۹)

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *