اسلام

شیخ الاسلام امام محمد انوار اللہ فاروقی کی تصنیف لطیف مقاصد الاسلام (۱۱حصے)

شیخ الاسلام امام محمد انوار اللہ فاروقی
کی تصنیف لطیف مقاصد الاسلام (۱۱حصے) 

تعارف و تبصرہ بقلم : پروفیسر ایم۔اے حمید اکبر،
 صدر شعبہ فارسی و اردو گلبرگہ یونیورسٹی، گلبرگہ

جب کبھی شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد انوار اللہ فاروقی علیہ الرحمہ کو اپنے مشغلہء علمی میں کوئی خاص خیال پیدا ہوتا تو آپ اسکو ایک مضمون کی شکل میں لالیا کرتے تھے‘ چونکہ ایسے مضامین بوجہ اختصار اس قابل تھے کہ عوام کے افادہ کے لئے ان کی اشاعت کی جائے اس لئے ’’مقاصد الاسلام‘‘ نامی ایک رسالہ جاری فرمایا جسکی اشاعت کوئی موقتی چیز نہیں تھی بلکہ جب کبھی کچھ مضامین جمع ہوجاتے شائع کردئے جاتے تھے اسکے مضامین کے متعلق یہ کہا جاسکتا ہے کہ مختلف قسم کے جواہر ہیں جو ایک لڑی میں پروئے گئے ہیں۔ اس سلسلہ میں آپ نے مدرسہ نظامیہ کا جابجا ذکرِ فرمایا جس سے مقصود تھا کہ قوم جامعہ نظامیہ کے حالات اور کارناموں سے واقف ہوکر اسکی دامے‘ درمے‘قدمے مددکرے مقاصد الاسلام کے اہم مضامین حسب ذیل ہیں :
۱) تمدن وتہذیب صرف انسان ہی کا حصہ ہے‘ دوسری کسی مخلوق میں یہہ صلاحیت ہی نہیں ہے۔
۲) مسئلہ تقدیر کی تحقیق
۳) ولایت کس کو کہتے ہیں اور اس کے اہل کون ہوسکتے ہیں؟۔
۴) ’’خلق الانسان علی صورتہ‘‘
۵) تصوف کیا ہے؟
 ۶) جزاء و سزا ‘ جنت و دوزخ اور قیامت کا دلائل عقلیہ سے اثبات۔
۷) مسئلہ جبر و قدر کی تحقیق۔
۸) وحدۃ وجود اور وحدۃ کاملہ۔
۹) معجزہ اور اسکی ضرورت، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات کا اثبات۔
۱۰) بعض تاریخی واقعات
۱۱) اتباع صحابہ کی ضرورت کیوں ہے؟(۱)۔
ان تحقیقی مضامین کے سلسلہ کا آغاز کیا گیا اور مقاصد الاسلام کے نام سے حضرت ممدوح کے زمانہ حیات تک اس کے گیارہ حصّے شائع کئے گئے ۔
(یہ انگریزوں کی اسلام دشمن تحریک کے خلاف حضرت شیخ الاسلام ؒ کا مجاہدانہ اقدام تھا)}از مفتی محمد عبدالحمید صاحب مرحوم شیخ الجامعہ نظامیہ حیدرآباد{ مقاصد الاسلام حصہ اول(طبع سوم) کے شروع میں سبب تالیف کے عنوان سے) ۔
مقاصد الاسلام (حصہ اول)
 طبع سوم صفحات (۱۴۲)
مباحث :  (۱) اخلاق ،  (۲) تمدن، (۳) فقہ ، 
  (۴) کلام وغیرہ، (۵) میلادِ شریف،
تعارف: مقاصد الاسلام حصہ اول (طبع سوم) کے دوسرے صفحہ پر حضرت مولانا مفتی محمد عبدالحمید صاحب مرحوم سابق شیخ الجامعہ نظامیہ رقمطراز ہیں۔
’’مقاصد الاسلام حصہ اول بار سوم شائع کیاگیا ہے جس میں ثابت کیا گیا ہے کہ تمدن کا تعلق صرف انسانوں سے ہے اور انسانی احتیاجات کی بنا پر وجود میں آیا ہے۔ کائنات میں جس قدر اشیاء پیدا کی گئی ہیں سب انسان کے لئے ہیں اور انسان ان کا حاجتمندہے۔ انسان کو اپنی حاجات کے پورا کرنے کے لئے تمدن کا قیام ناگزیر ہے اور تمدن اس وقت تک پُر امن وعافیت نہیں ہوسکتا‘ جبتک کہ خالق کائنات کی مرضی پر گامزن نہ ہو اور مرضیات الٰہی پر چلنا ہی اسلام ہے‘ اسلام ’’روحِ تمدن ہے‘ اسلام کے بغیر تمدن تنِ بے جان ہے اور فتنہ وفساد کا مرکز بھی رہیگا‘‘۔ مقاصد الاسلام کے دوسرے حصّوں میں ان تمام اُمور پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے جنکی اسوقت بھی شدید ضرورت ہے اور جنکے مطالعہ سے بہت سی پیدا کردہ مشکلات انشاء اللہ دور ہوجایں گی اور اسکا مطلب دینی دنیوی فوائد کا باعث ہوگا ۔ واللہ الھادی الی الرشاد۔
(محمد عبدالحمید عفی عنہ‘ شیخ الجامعہ)
مقاصد الاسلام (حصہ اول) کے عنوانات اور مضامین
پہلا مضمون ’’ایمان اور تمدن‘‘ 
’’واضح رہے کہ پہلا قدم اصلاح تمدن میں ایمان ہے یعنی اس بات کی تصدیق کہ خدا تعالی ایک ہے اس نے (حضرت) محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی بنا کر ان پر قرآن نازل فرمایا جس میں ہمارے نفع ونقصان کے کل ابواب مذکور ہیں‘ اگر ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کر کے اچھے کام کریں تو جنت کے مستحق ہونگے اور برے کام کریں تو دوزخ کا استحقاق ہوگا اور یہ دونوں گھر ہماری جزاء وسزا کے لئے خالق عزوجل نے تیار کر رکھے ہیں‘‘ص۲
’’ایمان‘‘ کے لغوی معنی اسطر ح بیان کرتے ہیں کہ 
’’وہ (ایمان) امن سے ماخوذ ہے اور اسکے معنی امن دینے کے ہیں اور ظاہر ہے کہ اصلاحِ تمدن کا مدار امن کے قائم رکھنے پر ہے‘ اس سے معلوم ہوسکتا ہے کہ خود لفظِ ایمان سے ثابت ہے کہ اصلاحِ تمدن لوازم ایمان سے ہے۔ یعنی جب ایمان کے معنی پورے طور پر متحقق ہوجائیں تو امن و امان کا تحقق ہوگا جس سے خود تمدن کی اصلاح ہوجائیگی‘‘۔
مگر عام ذہنوں کو سمجھانے کے لئے مولانا انواراللہ فاروقی رحمۃ اللہ علیہ پہلے تمدن کی حقیقت کو مختلف مثالوں سے واضح کرتے ہیں۔ تمدن کی حقیقت میں انسان کو مختلف حاجات سے متعلق رکھا گیا ہے۔ اور جتنی حاجتیں انسان کو لاحق ہیں کسی کو نہیں چنانچہ حاجات میں مرکزی اور ضروری چیزوں میں غذا ‘ مکان‘ کپڑا‘ زراعت وغیرہ کو شامل کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں۔
’’بہر حال انسان کو اتنی کثیر التعداد اشیاء کی طرف احتیاج ہے کہ انکی فہرست لکھنی مشکل ہے بڑے بڑے شہروں میں دیکھئے تو ایک بڑا حصہ اُنکا انکی ضرورتوں کو پوری کرنے والی اشیاء سے بھرا نظر آئیگا۔ غرضکہ ضرورتوں پر تفصیلی روشنی ڈالنے سے بداہۃً یہ ثابت ہوتا ہے کہ ممکن نہیں کہ کوئی فرد بشر و نبی ذاتی کوششوں سے اپنی ضرورتوں کو پورا کرسکے‘‘۔ص۴
’’اس باہمی گفتگو اور احتیاج کا یہہ اثر ہوا کہ ہر ایک دوسرے کی ہمدردی پر آمادہ ہوگیا چنانچہ اس ہمدردی سے تمدن کی بنیاد پڑی اور ایک ایک کام کی طرف ایک ایک جماعت متوجہ ہوگئی (جیسے کسی نے لوہا زمین سے نکالنا اپنے ذمہ لیا۔ کسی نے اُسکے آلات بنانے کی طرف توجہ کی کسی نے زراعت کا اہتمام کیا کسی نے لباس وغیرہ کا انتظام کیا)۔ غرضکہ اپنی اپنی مناسبت طبعی اور مصالحت وقت کے لحاظ سے ایک ایک کام اپنے اپنے ذمہ لیکر سب نے مایحتاج اشیاء کوہاتھوں ہاتھوںفراہم کردیا‘‘۔ص ۵
تمدن کی صلاحیت صرف انسان ہی میں ہے اور جانوروں میں یہ صلاحیت ہوتی تو وہ بھی انسانوں کو دیکھ کر ان جیسے شہر آباد کرتے یہاں ڈاروِن کی تھیوری سے اختلاف کرتے ہوئے مولانا فرماتے ہیں:
ڈاروِن کا رد
’’اگر ان میں تمدن کی صلاحیت ہوتی تو آدمیوں کے تمدن کو دیکھ کر تو کوئی شہر آباد کئے ہوتے‘ اس مشاہدے کے بعد یہ کہنا کیونکر صحیح ہوگا کہ بندر چونکہ بعض اعضاء اور حرکات میں انسان کے مشابہ ہیں اس وجہ سے آدمی انکی نسل ہے کہ صرف دم جھڑجانے کی وجہ سے اسکو امتیاز حاصل ہوگیا ہے جیسا کہ آجکل مذہب ڈاروِن کے مسئلہ ارتقاء پر زور دیا جارہا ہے۔ ادنی تامل سے یہ بات معلوم ہوسکتی ہے کہ چند چیزوں میں مشارکت اور مشابہت ہونے سے وحدت نوعی صادق نہیں آسکتی اب دیکھئے کہ بندر اور انسان کی صورت میں کس قدر فرق ہے کہ بچہ بھی اگر بندر کو دیکھے گا تو بندرہی کہیگا یہ نہ ہوگا کہ بعض اعضاء کی مشابہت سے اسکو آدمی کہہ دے۔ اسیطرح انسان اور بندر کے لوازم واحکام میں فرق بیّن ہے انسان کا بات کرنا‘اپنے مافی الضمیر کو بذریعہ خط وکتابت وغیرہ دوسرے پر ظاہر کرنا اور تمدن میں ایک دوسرے کی مدد کرنا وغیرہ وغیرہ اس قدر ہیں کہ بندروں میں ہر گز نہیں پائے جاتے‘‘۔ص۷
’’الحاصل دلائل عقلیہ اور ہزارہا سال کے تجربوں سے ثابت ہے کہ سوائے انسان کے ’’نعمتِ تمدن‘‘ حاصل کرنے کی صلاحیت ہی کسی میں نہیں اور کیونکر ہو اسکا منشاء تو وہ بے شمار حاجتیں ہیں جو اُس پر مجبور کررہی ہیں جنکا وجود سوائے انسان کے کسی میں نہیں پایا جاتا ۔ خدا تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ہمیں محتاج بناکر ایک اعلیٰ درجہ کی نعمت کا افتخار بخشا جس میں کوئی ہمارا ہمسر نہیں ہوسکتا ۔ دیکھئے یہ احتیاج کیسی قابل قدر چیز ہے کہ فخر الانبیاء علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں ’’الفقر فخری‘‘ یہی احتیاج ہے کہ دین ودنیا کی نعمتیں اسی کی بدولت حاصل ہوتی ہیں‘‘۔ص۹
اگر حق تعالیٰ ہماری فطرت میں ہر چیز کی احتیاج داخل نہ فرماتا تو تمام عالم ہمارے حق میں بیکار تھا۔اور مثل وحشیوں کے ہم بھی دولتِ تمدن سے محروم رہ جاتے مگر افسوس ہے کہ ہم اپنی احتیاجوں کا بھی احساس نہیں کرسکتے اسی کو دیکھ لیجئے کہ ہماری دینی اور دنیوی حالت کس قدر قابلِ اصلاح ہے مگر ہم کچھ ایسے خواب غفلت میں ہیںکہ یہ بھی نہیں جانتے کہ ہم اسکی اصلاح کے محتاج ہیں یا نہیں۔ اگر ہمیں اپنی حاجتوں کا احساس تفصیل کے ساتھ ہو اور اسکے ساتھ حاجت روائیوں کے کارخانہ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ محتاج بنانے والے حکیم علی الاطلاق نے کس قدر سامان حاجت روائیوںکا مہیا فرمادیا ہے۔ مثلاً ادھر تشنگی دی تو اُدھر پانی کے دریا بہادئے۔ جنکو کوئی روک نہیں سکتا۔ اور ادھر بھوک دی تو اُدھر رزق کا ایک کارخانہ کھول دیا جسکی کارگزاریوں میں آفتاب ماہتاب جیسے آیات بینات سرگرم ہیں۔
ایسے موقع پر حق تعالیٰ فرماتاہے یاایھا الناس انتم الفقراء الی اللہ ۔ یعنی اے لوگو تم (سب) اللہ ہی کی طرف محتاج ہو۔ کہ ہر حاجت ہماری خالق عزوجل ہی سے متعلق ہے۔ ص ۹ اور ۱۰
تمام انسان باہم اتفاق میں تمدن قائم کرلیتے ہیں اور اسکی مختلف تدابیر بنالیتے ہیں اور تمدن کی بنیاد فطری طور پر ڈالی جاتی ہے تو سبھی اب تمدن کو نعمت سمجھتے ہیں۔ اس پر حضرت شیخ الاسلام یوں ارشاد فرماتے ہیں۔
’’جب کل افراد انسانی تمدن کو نعمت عظمی سمجھتے ہیں تو چاہئے تھا کہ ہمیشہ اسکی حالت درست رہتی اور شہر و قریہ میں امن امان قائم رہتا جو روحِ تمدن ہے اور جس طرح اُسکی بنیاد ہمدری پر رکھی گئی تھی اسمیں تغیر آتا ‘ حالانکہ مشاہدہ اسکے خلاف پر گواہی دے رہا ہے کہ بجائے ہمدردی دل آزاری ہے اور بجائے امن قائم کرنے کے وہ تدابیر سوچی جاتی ہیں جن سے بدامنی اور بے اطمنانی پھیلے جِدھر دیکھئے ایک دوسرے کاشاکی ہے۔ محکمہ جات سرکاری میں فوجداری وغیرہ مقدمات اس کثرت سے رجوع ہوتے ہیں کہ عملہ کو فرصت نہیں ملتی جس سے ظاہر ہے کہ بجائے ہمدردی کے جو منشاء تمدن تھا باہمی خصومت قائم ہوگئی جو باعث فسادِ تمدن ہے‘‘۔ ص۱۲ اور ص۱۳
عقل کی مدد سے جب تمدن قائم ہوتا تو عقل ہی کی مدد سے تمدن میں خرابی بھی پیدا ہوسکتی ہے اس کا اظہار مولانا یوں کرتے ہیں۔
’’غور کرنے سے معلوم ہوسکتا ہے کہ تمدن کو خراب کرنے والی بھی وہی فطری حاجتیں ہیں جو باعثِ تمدن ہوئی تھیں کیونکہ جب آدمی کو کسی چیز کی حاجت ہوتی رفعِ موانعِ ہے تو وہ بمجبوری اُس کے حاصل کرنے میں عقل سے مدد لیکر اور تحصیل ذرائع کیطرف مشغول ہوتا ہے اور جب تک کامیاب نہوتسکین نہیں ہوتی غرضکہ وہی حاجت اُس کو خودغرضی پر آمادہ کرتی ہے جسکا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس وقت نہ تمدن کے خراب ہونے کا خیال آتا ہے نہ اپنے یا دوسرے کے ضرر کا۔ جب ہر شخص اپنی اپنی حاجتوں میں خود غرضی اختیار کرے تو ظاہر ہے کہ تمدنی حالت کبھی اصلاح پذیر نہیں ہوسکتی ۔ ص۱۳
خوبیٔ تمدن کے سلسلے میں مولانا یہ بھی فرماتے ہیں کہ (مفہوم)اللہ نے آدمی کے نفس ناطقہ میں تین قوتیں رکھی ہیں:
۱} قوت ملکیہ ۔حقائق امور کا ادراک ۔ علم وحکمت کی تکمیل کے لئے 
۲} قوت شہویہ یا بہیمیہ ۔ تمام نفسانی خواہشات ۔ جیسے کھانے پینے اور جماع وغیرہ۔
۳} قوتِ غضبیہ‘ یا سبعیہ۔ خطرناک اُمور پر پیش قدمی کرنا وغیرہ
افعال کے صدور کا مدار جن قوتوں پر ہے اُن کی تفصیلات میں حضرت شیخ الاسلام یوں رقمطراز ہیں۔
’’کہ جس پر قوت (شہوانیہ) بہیمیہ کا غلبہ ہو گا اس سے وہ افعال زیادہ صادر ہونگے جو بہائم سے ہوا کرتے ہیں اور جس پر قوت سبعیہ کا غلبہ ہوگا اس سے وہ افعال زیادہ صادر ہونگے جو درندوں سے ہوا کرتے ہیں اور ایسے ہی لوگ زیادہ ہوا کرتے ہیں ……  …… اور ظاہر ہے کہ حیوانات میں ان ہی افعال کی وجہ سے تمدن کی صلاحیت نہیںاس لئے تمدنی حالت ہمیشہ مخدوش رہتی ہے اور نفس ناطقہ کو قوائے بہیمیہ اور سبعیہ کے غلبہ سے اتنی مہلت نہیں ملتی کہ قوت ملکیہ سے کام لے کر صلاح تمدن وقتا فوقتا کرسکے۔‘‘ ص۱۵
’’اس خرابی کو دور کرنے کے لئے عقل نے مشورہ دیا کہ ایک قوت ایسی قائم کی جائے کہ وحشی طبیعتوں کو مقہور کر کے حالتِ تمدن کی اصلاح وقتا فوقتا کیا کرے۔ چنانچہ سب نے ایک شخص کو بادشاہ مقرر کیا اور اس بات پر راضی ہوگئے کہ اپنی جان و مال میں واجبی طور پر جو کچھ تصرف کرے سب قبول مگر ان عام وحشی طبقوں اور گرگ سیر توں سے نجات ملے اور اسکو رائے اور اجرائے احکامات میں مدد دینے کے لئے ایک جماعت منتخب کی گئی اور سلطنت کی بنیاد قائم ہوئی چنانچہ سلطنت نے وہ کام اپنے ذمہ لیا اور حتی الامکان ایسے قواعد ایجاد کئے کہ ظلم وزیادتی کی بیخ کنی اور تمدن کو خراب کرنے والوں کی سر کوبی کر کے اصلاح تمدن کی فکر کی تاکہ ہر شخص فارغ البال ہوکر امن وآشتی کے ساتھ زندگی بسر کرے اور رعایا اور سلطنت میں ہمدردی کی نسبت قائم رہے‘‘۔ ص۱۷
تیسری قوت : جو قوت ملکیہ ہے اسکو غالب کر کے جن لوگوں نے کام کئے ہیں اور وہ تمدن کے قیام میں معاون ہوئی ہو اُن کو ذکر کرتے ہوئے مولانا فرماتے ہیں۔
’’اب یہ دیکھنا چاہئے کہ سعادت ابدی حاصل کرنے والوں نے کیا کام کیا جس سے وہ دولتِ عظمی کے مستحق ہوئے۔ ادنیٰ تامل سے یہ بات معلوم ہوسکتی ہے کہ انہوں نے قوت بہیمیہ اور سبعیہ کو مغلوب کر کے قوت’’قوت ملکیہ‘‘ کو موقع دیا کہ اطمینان سے اپنا کام کرے کیونکہ بغیر اس تدبیر کے ممکن نہ تھا کہ وہ کچھ کام کرسکے‘‘ص۲۳
’’الحا صل جب انہوں نے تعصب اور عناد وغیرہ موانع سے خالی الذہن ہوکر ان امور میں مکرر مکرر غور کیا تو ان کو یقین ہوگیا کہ بے شک وہ کل احکام جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم لاتے ہیں خدا تعالی کے مقرر کئے ہوئے ہیں اور جو کچھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسکے صحیح ہونے میں ذرا بھی شک نہیں‘‘۔ص۲۷
اس طرح زمانۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں اصلاح تمدن اور ایمان کامل کا وہ نقشہ بن گیا تھا کہ مؤمنین ذرا ذرا سی لغزش پر خود بہ نفس نفیس حاضر ہوجاتے اور سزائے شرعی طلب کرتے۔
اس طرح چند تاریخی واقعات سے مولانا سمجھاتے ہیں کہ خوفِ الٰہی اور مرضی الٰہی کے دائرہ میں رہنا ہی در اصل تمدن ہے اور یہ اسلامی طریقہ تمدن میں سلامتی ہے کسی اور قانون میں نہیں مولانا نے دلائل سے اسکو ثابت کیا ہے۔ واقعات میں حضرت ابومحجن ثقفی۔ جنگ قادسیہ میں جنگ یرموک میں حضرت شرجیل اور ما عز رضی اللہ عنہما کے دولت ایمان کو پیش کرکے تمدنِ اصلی (امن و امان) صرف اسلامی نقطہ نظر میں ہے۔ ثابت کیا ہے۔
صحابی رسول کا خدا کی راہ میں خلوص عمل اور ہمارا عمل۔ صحابہ کرام کے خلوص عمل کی مثالیں دے کر مولانا نے یہہ ثابت فرمادیا کہ ایمان کا اثر کتنا گہرا ہے۔ ان مخلصین کے قوائے شہوانیہ اور غضبیہ پر ایمان کا ایسا اثر تھا کہ قوتِ ملکیہ جاگ کر بے لوث ایک دوسرے کی خدمت کے لئے تیار ہوجاتے۔ اسطرح ایمان وتمدن کا ربط ہوجاتا ہے کہ سارے معاشرے میں اسلامی تمدن کی پذیرائی ہونے لگی۔اس مضمون میں وہ اُمور بھی مولانا نے بتلائے ہیں کہ جن کے بجالانے کی فضیلت اور تاکید ہے جیسے ہر کام میں نیک نیتی صدق وغیرہ اور ان اُمور کی نشاندہی بھی فرمادی ہے جن سے بچنے کی تاکید ہے۔ جیسے وعدہ خلافی‘ عہد شکنی وغیرہ۔
اس کے بعد حکماء کے اصولِ تمدن پر نقد فرماتے ہوئے یوں رقمطراز ہیں:
’’اسمیں شک نہیں کہ حکماء بھی اصلاح تمدن کے جو اصول ایجاد کرتے رہتے ہیں ان میں بھی اکثر اسی قسم کی باتیں ہیں مگر صرف اصول قرار دینے سے قوائے شہویہ و غضبیہ کی اصلاح ممکن نہیں اسلئے کہ جو قواعد عقل سے ایجاد کئے جاتے ہیں انکے توڑنے کی تدبیریں بھی عقل ہی سے ایجاد کرلیا کرتے ہیں۔ مثلاً جھوٹ کہنا قانون میں بھی جرم ہے مگر جن کو ’’ایمان‘‘ سے کوئی تعلق نہ ہواپنا مقصود حاصل کرنے کی غرض سے جس بات کو جانیں خلاف واقعہ قانونی پیرایہ میں لاسکتے ہیں اور یہ بھی کہ اس خلاف واقعہ یعنے جھوٹ کا ثابت ہوناہی مشکل ہوگا۔ اسی پر تمام جرموں کا قیاس ممکن ہے‘‘ص۲۸
بخلاف اس کے ہر خواہش نفسانی کے وقت ایماندار کو یہ خیال ضرور آئیگا کہ آیا خدائے تعالیٰ نے اس کام کی اجازت دی ہے یا نہیں۔ص۲۲۔ (خوف الہی ) اور خدا کے حضور پیش ہونے کے یقین نے انسان کو راہ دی کہ اب جو کام بھی ہو محض رضائے الہی اور منشاء الہی کے مطابق ہو۔ مولانا اس خیال کو یوں زبان دیتے ہیں کہ
’’اس طریقے سے جتنے افعال قوائے شہویہ اور غضبیہ سے متعلق ہیں سب کی اصلاح خود بخود ہوجائیگی‘‘ص۲۶
اس طرح اصلاحِ تمدن کے لئے جرائم کا ارتکاب ایک ایمان والا کرہی نہیں سکتا اس سے ہمیشہ بچارہتا ہے۔ پر کیف ایمان کا ذاتی مقتضٰی ہی اصلاحِ تمدن ہے‘ ایمان سے بہتر اور کوئی طریقہ نہیں ہوسکتا۔ اس ضمن میں خلفائے راشدین کے واقعات سے مولانا نے واضح کردیا ہے کہ ایمان کیا چیز ہے او رکس طرح اس پر قائم رہنے سے امن وامان قائم رہ سکتا ہے۔ اس لئے مولانا نے مولوی شبلی نعمانی کی ’’الفاروق‘‘ کی ایک طویل عبارت دیکر تاریخی واقعہ سے بتلادیا ہے کہ اسلامی تمدن کا اثر غیروں پر بھی کس قدر تھا کہ حُسنِ تمدن (اسلام کے) سے خوش تھے اور ذراسی مفارقت سے ایسا روتے تھے جیسے قدیم دوست کی جُدائی پر رویا جاتا ہے۔ 
ایمان کا یہ اثر تھا کہ خلیفہ وقت کو اپنے اقتداری امر میں تصرف کرنے سے روک کر اپنے محکوم شخص کے حکم کا محتاج بنادیا جہاں بادشاہ کی یہ حالت ہوکہ رعایا کے حقوق سے اپنے حق کی زیادتی پر جو گوارا نہو تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی کسی پر ظلم و زیادتی کرسکے۔
مقاصد الاسلام حصہ اول کا دوسرا مضمون میلاد شریف سے متعلق ہے جس کا عنوان عربی میں ہے 
’’بشری الکرام فی عمل المولد والقیام‘‘
اس مضمون میں میلاد شریف اور قیام کے ثبوت میں مولانا نے مدلل بحث فرمائی ہے۔ ذکرِ میلاد سے قبل ماحول اور منظر کی عکاسی کے ساتھ قدرتی مناظر کو اس خوبی سے بیان فرماتے ہیں کہ مواد خالص علمی ہونے کے باوجود حسنِ بیان‘ نے نہایت ہی دلچسپ بنادیا ہے‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ مذہبی اور علمی مواد کو جس ڈھنگ سے پیش فرمایا ہے وہ یقینا ادبی پیرایہ لئے ہوئے ہے۔ بعد حمد و صلواۃ مولانا فرماتے ہیں:
’’اولی الابصار واہل بصیرت پر پوشیدہ نہیں کہ جب آفتاب جہانتاب عالم کو اپنے نور سے معمور کرنا چاہتا ہے تو قبل طلوع طرب وسرور کا ایک بیش بہا سامان ہوجاتا ہے۔ جدھر دیکھئے انداز ہے اور فرحت وسرور دلربایانہ ساز صحرا کا خوشنما منظر دل کو وسعت آباد بنادیتاہے۔
وحشت خیز پہاڑوں کا سماں بھی دلوں کو لبھانے لگتا ہے نسیم کی مستانہ خیز رفتار ہر شاخ وبرگ کو وجد میں لاتی ہے ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا دم بدم قالب میں جان تازہ پھونکتی جاتی ہے۔ تاریکی شب نے حو اس کو جو تیرہ وتار بنادیا تھا نورانیت فضا انکو پھر نورانی بناتی ہے۔ طیور کے نغمات افسردہ دلوں کو غنچہ کی طرح کھلاتے ہیں۔ وحوش کی گرم جو لانیاں دیکھکر غصہ وفکر دُور ہوجاتا ہے۔ غم ظلمت شب کے ساتھ منور اور دل سرور سے معمور ہوتا ہے یہ سب فیضان اس نور کا ہے جو آفتاب عالمتاب کے ساتھ ایک خاص قسم کا تعلق رکھتا ہے اب غور کیجئے کہ جب اجسام کے روشن کرنے والے آفتاب سے اس قدر فرحت ومسرت ہر طرف جوش زن ہوتو آفتاب روحانی کے قدوم میمنت لزوم سے کس قدر فرحت وسرور کاجوش ہونا چاہئے۔ دیکھئے مبداء کائنات سرورِ موجودات صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔ انا من نوراللہ وکل شیٔ من نوری یعنے میں اللہ کے نور سے بنا اور ہر چیز میرے نور سے پیدا ہوئی وہی نور ہے جسکی طرف اس آیۃ شریفہ میں اشارہ ہے۔ اللہ نورالسموت والارض مثل نورہ کمشکوۃ فیھا مصباح اور ارشاد ہے۔ قدجاء کم من اللہ نور…الخ۔ یہی مقدس نور ہے کہ جب آدم علیہ السلام کی پیشانی میں آیا اُنکو مسجود ملائکہ بنایا یہ وہ نور ہے کہ ساکنانِ ظلمت کدۂ عدم کو اس قابل بنایا کہ انوار وجود کا اقتباس کرسکیں ۔ ص۳۵
اس مضمون کے لئے مواہب لدنیہ اور شفاء قاضی عیاض‘ وخصائص کبریٰ وغیرہ کتب معتبرہ سے روایتیں لکھی گئی ہیں۔
’’اب سنئے کہ اس معنوی اور اصلی نور کے طلوع کے وقت عالم غیب وشہادت میں کس قدر اہتمام ہوا تھا‘ حضرت آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا فرماتی ہیں کہ حضرت کی ولادت باسعادت کے وقت مجھ سے ایسا نور نکلا کہ اس سے تمام عالم منور ہوگیا چنانچہ شام کے (محلات ) مکانات مجھے نظر آنے لگے‘‘۔ ص۳۵
مولانا نے اس مضمون میں میلاد شریف کے جواز میں قرآن حکیم اور احادیث شریفہ اور صحابہ ء کرام کے عمل کوبیان کرنے نہایت ہی مدلل انداز اختیارفرمایا ہے۔ متقدمین کا آج کی ہیئت میں مجالس میلاد کا نہ کرنا اور متاخرین کا قرار دادِ علماء کا اتفاق مجالسِ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وجوہات پر بلیغ نظر ڈالی گئی ہے۔ اور ہر جگہ ثبوت بھی فراہم کیا ہے۔
روز میلاد کو ’’عید‘‘ ہونے پر بھی کافی شواہد و دلائل مولانا نے دئے ہیں جس سے شکوک رفع ہوسکتے ہیں اور مسئلہ واضح ہوجاتا ہے۔ اور روز میلاد فرحت وسرور بھی (جشن منانے کی راہ متعین ہوجاتی ہے) ذکر میلاد ‘ قیام میلاد‘ عید الاعیاد‘ تعین وقت‘ فوائدِ مجالس ِ میلاد‘ برکات میلاد کے ساتھ ساتھ قصائد نعتیہ پڑھنے والوں کے انعامات واکرامات کو صحابہ رضوا ن اللہ علیھم اجمعین اور خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ عمل کو احادیث اور کتب معتبرہ سے مبر ہن فرمادیا ہے۔
آخر میں معاصرین کی کج فہمی کی بنا پر ہونے والے اعتراضات کا اشارہ بھی کیا ہے جیسے مولانا فرماتے ہیں:
’’ہمیں یقین ہے کہ ہمارے بعض معاصرین اس رسالہ کی چند حدیثوں کو درایت کے شکنجہ میں ضرور کھینچیں گے مگر چونکہ اس میں ہمارے ہم مشربوں کی طرف روئے سخن ہے اس لئے ان کے شبہات کی طرف توجہ نہیں کی گئی۔ اس پر بھی اگر شوق ہو تو ہم نے کتاب العقل ‘ اور حقیقۃ الفقہ اور افادۃ الافہام وغیرہ میں بحث درایت تفصیل سے لکھی ہے ان میں ملاحظہ فرمائیں ۔ امیدہے کہ اہل انصاف کو اس سے تسکین ہوگی۔‘‘ ص ۶۸۔
اس کتاب کے ص ۶۱ پر مولانا قرآن کی دو ۲ آیتیں پیش فرماتے ہیں جن میں ایک سے فرحت کی ممانعت اور دوسری سے فرحت کی فرضیت ثابت ہوتی ہے لیکن ان دونوں آیتوں میں تطبیق کا جو طریقہ ہے اس کو مولانا نے بہت خوبی سے نبھایا اور دلائل مختلفہ سے ثابت بھی فرمایا ہے۔
’’یہ دیکھا جائے کہ مولود شریف میں کیا کام ہوتے ہیں اور وہ شرعاً جائز ہیں یا نہیں بڑے کام یہ ہیں اظہار سرور تعین وقت، قصائد نعتیہ کا پڑھنا تقسیم شیرنی اور بخور کا جلانا وغیرہ اظہار سرور کا حال سنئے کہ باوجود یکہ حق تعالیٰ فرماتا ہے ان اللہ لا یحب الفرحین یعنی فرحت والوں کو حق تعالی دوست نہیں رکھتا مگر ۔ فضل اور رحمت الہی پر فرحت کرنے کا حکم ہے جیسا کہ قرآن شریف میں ہے قل بفضل اللہ وبرحمتہ فبذلک فلیفرحوا یعنے لوگوں سے کہہ دو کہ صرف اللہ کے فضل اور رحمت کی خوشی کیا کریں۔
مطلب ان آیتوں کا یہ ہوا کہ اگر کوئی خوشی کرے تو صرف اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحمت کی خوشی کرے اب غور کیجئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قدوم میمنت لزوم سے اس عالم کو عزت بخشا کیا بڑا فضل اور رحمت الہی ہے اس سے بڑھ کر کیا ہوکہ آپ ہمہ تن فضل اور رحمت ہیں ‘‘ ص ۶۱۔
فضل اور رحمت کو مولانا نے قرآن مجید اور احادیث شریف سے ثابت کیا ہے ۔ اس سے مولانا کی قوتِ استدلال کا پتہ چلتا ہے۔
تیسرے مضمون کا عنوان 
’’تحقیق الایمان‘‘
اس مضمون میں مولانا نے ایمان اور کامل ایمان کے لئے دلائل و براہین سے سمجھا یا ہے اور اس کے لئے تصدیق اور معرفت کے بے شمار مثالوں سے جنکو فلاسفہ اور منطق کے جاننے والوں نے پیش کیا ہے ۔ جیسے یہودیوں کو بھی رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی معرفت حاصل تھی لیکن چونکہ تصدیق قلبی نہیںتھی اس لئے وہ ایمان کی دولت سے محروم ہوئے۔کتب سابقہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نشانیاں کہ کہاں پیدا ہوں گے ‘ کیا علامات ہوں گی حضرات صدیق اکبر فاروق اعظم رضی اللہ عنھما کے بارے میں بھی علامات سے جان گئے تھے کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وزیر ہوں گے ۔ لیکن اس کے باوجود ایمان نہیں لاسکے۔ مقسوم میں نہیں تھا۔ ان کی معرفت ایسی ہی تھی جیسی ابوجہل کی کہ ابوجہل نے کہا تھا کہ ہم جانتے ہیںمحمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو کہ یہ نبی ہیں مگر (لیکن) ہم کبھی بھی ان پر ایمان نہیں لائیں گے۔
توگویا منافق کی معرفت بھی اسی درجہ میں ہے کہ بظاہر ایمان والے نظر آتے ہیں بباطن کافر ہیں تو ان کا حشر بھی دنیا میں ایمان والوں جیسا ہوگا یعنی احکام مسلمانوں کے صادر ہوں گے اور آخرت میں کافروں جیسے۔ کہ یہ کُھلے کافروں سے بھی زیادہ الم ناک عذاب کے مستحق ہوں گے۔
آخر میں صحابہ کی معرفت اور تصدیق بلا تامل اور کئی واقعات سے آنحضرت  ﷺ پر ایمان لانے اور آخر وقت تک بلا جھجک خون اور پیشاب نوش کرنا وغیرہ ان سب کو مولانا نے ایمان کامل کی علامات سے لکھا ہے اور اب چونکہ صحابہ جیسی معرفت ہم کو حاصل نہیں ہے کیسے ہو کہ رات دن وہ آنحضرت  ﷺ کے چہرئہ مبارکہ کو دیکھتے اور ہر عمل پر ان کی نظر تھی۔ بعض صحابہ مسلسل چہرئہ انور کو دیکھا کرتے اور فیض اُٹھاتے اور بعض تو ایسے بھی صحابہ جنکو اکثر فرماتے سناگیا احادیث میں واردہے کہ ہم عمر بھر کبھی آنحضرت  ﷺ کو آنکھ بھر کر نہیں دیکھ سکے۔ بہر حال ایمان کامل کہ تحقیق میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کے عمل کو مختلف احادیث کے ذریعہ مولانا نے پیش فرمایاہے۔ مضمون اپنے عنوان کے اعتبار سے تشنہ بھی نہیں ہے۔
چوتھے مضمون کا عنوان 
’’خدا اور رسول کی محبت‘‘
مولانا نے اس مضمون میں بخاری شریف کی وہ حدیث جس میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا کہ ائے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اپنی ذات کے سوا تمام چیزوں سے زیادہ ان سے محبت ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اے عمر ابھی آپ کا ایمان مکمل نہیں ہوا ۔ تم کو تمام چیزوں کے علاوہ تمہاری جان سے بھی زیادہ مجھ سے محبت ہونا چاہئے۔ تو فرمایا حضرت عمرؓ نے کہا یا رسول اللہ  ﷺ قسم ہے اُس پرورگار عالم کی جس نے آپ پر قرآن نازل فرمایا کہ میں آپ کو اپنی ذات سے بھی زیادہ تر محبوب رکھتا ہوں۔ فرمایا۔ الآن یا عمر ہاں اب تمہارا ایمان مکمل ہوا اے عمر (رضی اللہ عنہ) 
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے طبعی محبت کی بنا پر فرمایا تھا جب بات معلوم ہوئی کہ یہاں حُب اختیاری کو دخل ہے تو اختیاری حُب سے فرمایا کہ اب ہر چیز حتی کہ میری جان سے بھی زیادہ آپکی محبت عزیز ہے۔
اس حدیث کی مختلف شرحوں میں مولانا نے ابن تیمیہ کی کتاب ’’الصارم المسلول‘‘ کے حوالوں سے اثبات محبت رسول بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم اور توقیر کو فرض بتلایا اللہ کے کلام کے حوالہ سے اثبات محبت رسول بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم اور توقیر کو فرض بتلایا ۔
محبت رسول در اصل خدا کی محبت ہے اس لئے کہ خود اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے رسول کی اطاعت کو اپنی اطاعت کو فرماتا ہے۔ اس کے ضمن میں صحابہ کرام کے واقعات جو حب رسول میں پیش ہوئے اُن واقعات کو تاریخ اور احادیث کے حوالوں سے بتلایاہے اور اکابرین دین کی محبت کو اس طور سمجھایا کہ ان لوگوں نے حُب رسول میں اس حد تک اپنے کو بڑھا دیا تھا کہ کوئی حکم اپنے نفوس پر بھاری نہیں تھا یعنی کسی بھی حکم کی اطاعت اُن کے نفسوں پر آسان تھی ۔یہ حد درجہ محبت رسول ہونے کی علامت ہے۔
صحابہ کرام کے واقعات کے ساتھ ساتھ ائمہ عظام کے نزدیک بھی حب رسول کی کیا اہمیت تھی کہ ائمہ میں حضرت امام مالک کا یہ حال تھا کہ ایک راوی ایوب سختیانی سے روایت اس لئے لیا کرتے تھے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں زار زار روتے تھے بعض صحابہ کرام کا یہ حال ہوتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جب ذکر آتا تو چہرے متغیر ہوتے اور بعض کے سرخ ہوجاتے۔ مولانا فرماتے ہیں:
’’الحا صل جسطرح محبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم واجب ہے اسیطرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم و توقیر و مدح وثنا بھی واجب بلکہ فرض ہے‘‘۔ص ۱۲۵
پانچویں اور آخری مضمون کا عنوان 
’’اسلام‘‘
حضرت بانی جامعہ نظامیہ شیخ الاسلام مولانا انواراللہ فاروقی المخاطب فضیلت جنگ علیہ الرحمہ نے اس مضمون میں ’’اسلام‘‘ کے معنی سے بحث فرمائی ہے۔ اس سلسلہ میں شیعہ اور معتزلہ کے خیالات بھی بتادئے ہیں۔ پھر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ کے ساتھ ہی فقہائے اہل سنت وجماعت کے مذہب سے بھی واقف کرایاہے۔
صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کیسی ہی خلاف قیاس بات سنتے فورا تسلیم کرلیتے اس لئے کہ ان کی عقلوں نے رات دن معجزات دیکھکر یقین کرلیا تھا خدا ئے تعالی کی قدرت ہماری عقول کی پابند نہیں۔ جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم مبارک کے ساتھ آسمانوں پر تشریف لے جانا۔ حضرت عیسی علیہ السلام کا بغیر باپ کے پیداہونا‘ حضرت موسی علیہ السلام کا دریا کو عصا مارکر جدا کردینا‘ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے روبرو پرندوں کا زندہ ہوجانا وغیرہ قرآن شریف میں مذکور ہے اور وہ امور جنکی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے جسکو اسلام کا دعوی ہے وہ ظاہر و باطن کے ساتھ عقل کو بھی خدا و رسول کے حوالہ کردے گا اور تسلیم کرتا چلا جائے گا۔
مولانا نے قرآن مجید میں واقعہ حضرت ابراہیم علیہ السلام وحضرت اسماعیل علیہ السلام کو پیش کر کے استدلال فرمایا ہے کہ ایک مشفق باپ کے حکم پر فرماں بردار فرزند کا سرِ تسلیم خم کر دینا یہ ثابت کردیتا ہے کہ نبی کی مرضی کے خلاف چوں و چرا بھی نہ کیا جائے اس واقعہ کو لکھتے ہوئے مولانا فرماتے ہیں
’’دیکھئے فلما اسلما بآواز بلند کہہ رہا ہے کہ اسلام اِسے کہتے ہیں کہ ادھر پدر مشفق اپنے جگر گوشہ کو ذبح کرنے پر مستعد خنجر بکف ہیں اور اُدھر ہونہار نوجوان فرزند اپنے نازک گلے کو خنجر بُراں کے تلے رکھ کر کہہ رہے ہیں کہ اے حضرت امتثالِ امر میں دیر نہ کیجئے اور یہ خیال تک نہیں کہ آخر جرم ہی کیا ہے جسکی سزادی جارہی ہے نہ طبیعت میں خلجان کہ خواب کی باتوں پر تشدد کیسا کسی کی معمولی عقل یہ ہر گز قبول نہیں کرسکتی کہ بے گناہ نوجوان لڑکا یوں ذبح کیا جائے مگر سبحان اللہ کیا اسلام تھا کہ صاحبزادے نے باوجود استمزاج ومشورہ لینے کے یہ بھی نہ کہا کہ حضرت خواب کے لئے تعبیر بھی ہوا کرتی ہے۔ جیسے دودھ کی تعبیر علم ہے۔ نبی کے خلافِ مرضی چوں و چرا کرنے کی مجال نہ پاکر اپنے ظاہر و باطن اور عقل کو تسلیم کرادیا۔
اب دیکھئے اسلام کیسی چیز ہے کہ جسکے مقابلے میں جان بھی کوئی چیز نہیں سمجھی جاتی چنانچہ صحابہ رضوان اللہ علیھم کی یہی حالت تھی کہ کیسی کیسی سختیاں ان پر مخالفین اسلام ڈالتے تھے۔ ص ۱۲۹ ص۱۳۰
مولانا نے اس مضمون میں گستاخ رسول کی سزا قتل قراردی ہے اور علمائے اعلام سے ثابت فرمایا ہے۔ اس آخری زمانے میں اپنی عقل سے تفسیر کرنے والوں (غالباً سر سید کی طرف اشارہ ہے) کے بارے میں لکھتے ہیں ’’الغرض عقل سے خدا اور رسول کے کلام کا مقابلہ کرنا اور اپنی عقل کو ترجیح دے کر نصوصِ قطعیہ کا انکار کرجانا نہ تفویض ہے نہ انقیاد، پھر معلوم نہیں کہ اسلام کے کیا معنی لئے جاتے ہیں‘‘ ص۱۳۲۔
مقاصد الاسلام (حصہ دوم )
(صفحات ۲۰۸)
مباحث:۔ معجزات‘ کرامات اور مرزا قادیانی کا معقول ردّ اس میں عقل ودرایت سے مرزا صاحب قادیانی و سر سید صاحب کا ردّ۔ معجزات وکرامات کی عالمانہ بحث کی گئی ہے۔
مولانا نے درایت اور عقل کی فضیلت کو قرآن وحدیث کی روشنی میں واضح فرمادیا ہے پھر فلاسفہ اور حکمائے مشہورہ کی خصوصیات بیان کی ہیں جیسے افلاطون کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ افلاطون تلذذات عقلی اور علمی میںاس قدر محو اور مستغرق تھا کہ اس نے عمر بھر تجرد کی زندگی اختیار کی اور سیر و سیاحت ہی کرتا رہا کہ اس کو تلذدات عقلی میں اتنا لطف ملا کہ تلذات جسمانی کی طرف اُسکی توجہ ہی نہ رہی ایسے ہی کئی اور معروف حکماء کا استغراق ان کی زندگیوں کے تجربہ جو مختلف کتابوں (حکمت کی کتابوں) میں مرقوم ہیں تفصیل سے لکھا ہے۔
حکماء اور فلاسفہ (عقلاء) اور عقلائے اسلام میں فرق واضح کرتے ہوئے مولانا نے لکھا ہے کہ ’’فلاسفہ زمین و آسمان میں سوچ لگاتے ہیں اور لذات جسمانی سے دور رہتے ہیں لیکن اس کے بر خلاف عقلائے اسلام قدرت کی صنعتوں میں نظر کرنے کے ساتھ ساتھ لذاتِ جسمانیہ سے بھی تعلق رکھتے ہیں۔ وہ کھڑے بیٹھے‘ لیٹے اللہ کے ذکر میں رہتے ہیں۔ اللہ کے ذکر سے غافل بھی نہیں رہتے نماز کا وقت آگیا تو انہیں خدا یاد آگیا اور چلے نماز کی ادائی کے لئے۔ رمضان کا مہینہ آگیا خدا یاد آگیا اور پھر روزے رکھ لئے اسی طرح حج کا موسم آیا خدا کی یاد ہوئی اور پھر فرض بھی ادا ہوا۔ مولانا اس کتاب کے ص ۱۹ میں فرماتے ہیں ’’غرضکہ ہر وقت اور ہر حالت سے متعلق جو کچھ قرآن شریف میں احکام مذکور ہیں ان مواقع میںخدائے تعالیٰ انہیں یاد آجاتا ہے اور ان احکام کی ادائی بصدقِ دل کیا کرتے ہیں‘‘
قرآن حکیم میں اللہ نے جن عقلمندوں کی تعریف فرمائی ہے وہ معمولی عقل والوں کی توصیف بلکہ ان پاکیزہ قلوب حضرات کی عقل کی تعریف فرمائی ہے جو ہمیشہ دنیا کے کام میںمصروف رہیں تب بھی اللہ کے ذکر سے غافل نہیں رہتے انہی کی درایت کو پسند فرمایا گیا ہے۔
حضرت مولانا شیخ الاسلام نے لکھا ہے کہ عقلی دلائل قائم کرکے اسلامی باتوں کی تکذیب کرنا یہ طریقہ کفار ہے سر سید احمد خان جو فلسفہ جدیدہ کے دلائل کے سامنے خاموش ہوگئے تھے اور انہی کی ہمنوائی کررہے تھے اس رویہ پر حضرت شیخ الاسلام نے سخت تنقید فرمائی ہے۔ فرماتے ہیں:
’’چنانچہ سر سید احمد خان صاحب نے اکثر امور میں اسکی موافقت کی مگر غضب یہ کیا کہ ایک کتاب ہی لکھ ڈالی جس کا نام ’’تحریر فی اصول التفسیر‘‘ ہے مقصود اس سے یہ ہے کہ جو بات عقل کے خلاف ہو اس میں تاویل کر کے ہم اسکو عقل کے مطابق کر دینگے…ص۴۳
اسی صفحہ پر آگے لکھتے ہیں’’اس کتاب سے مسلمانوں کو سخت تکلیف پہونچتی ہے‘‘
مولانا نے اس کتاب میں نبوت اور معجزات جو نبوت کے لئے نشانیاں ہیں اور یہ معجزے مافوق الفطرۃ ہیں اس کا انکار کرنے والی جماعت جس کے سرخیل سر سید احمد خاں ہیں ان کا ردّ بلیغ فرمایا ہے۔ اور مدعیان نبوت مرزا حیریتؔ (دبی زبان دعوی نبوت کیا) اور مرزا قادیانی کے دعوؤں کو جھوٹا اور بے بنیاد ثابت کردیا ہے خاص کر سر سید اور ان کے ہم خیال شبلی نعمانی صاحب کے خیالات پر تنقید فرمائی ہے۔ سر سید کی تفسیر القرآن میں معجزہ کے انکار اور ملائکہ کے وجود کے انکار اور شیاطین کی اصلیت سے انکار ان تمام باتوں کو عقلائے یونان ‘ یورپ اور امریکہ کے کئی دانشوروں کی کتابوں اور مسمریزم وہپناٹزم کے بے شمار واقعات ومشاہدات کی روشنی میں سر سید کے خیالات باطل کا رد فرمایا۔ اور ساتھ ہی قرآنی آیات اور احادیث شریفہ سے اپنے تبصرہ کو مبرہن فرمایا ہے اور اس خوبی سے کہ محلِ اعتراض باقی نہیں رہا۔
سائنس دانوں اور فلاسفہ جدیدہ کے بعض متواتر تجربات جو محیرالعقول کے علاوہ خوارق عادات بھی ہیں اسکو تو سر سید صاحب مان لیتے ہیں اور خدا نے اپنے نبی کو معجزہ دے کر بھیجا اور خوارق عادات اپنے خاص بندوں سے صدور فرمائے تو اس کے لئے عقلی دلائل قائم کر کے مخالفت کرنا شروع کی جبکہ معجزہ شق القمر دیگر انبیاء کے معجزات وغیرہ پر تاویلیں کرنے لگے۔ مولانا نے لکھا ہے کہ دیگر اقوام پر جب معجزات انبیاء کرام اور خاص کر ہمارے آقاکے معجزات بیان ہونے لگے تو کئی کفار حلقہ بگوش اسلام ہوتے نظر آتے ہیں اور یہ کیسے مسلمان ہیں کہ مسلمان ہو کر معجزات کا انکار قرآن کے معنی میں تحریف ۔
جگہ جگہ اس کتاب میں مولانا نے سر سید کی گرفت فرمائی ہے اور اس خوبی کے ساتھ کہ علمی وجاہت مجروح نہیں ہوتی۔ شبلی نعمانی صاحب کی کتاب الکلام کے اقتباسات بھی کہیں کہیں سر سید کے ہم خیال ثابت کرنے کے لئے نقل کئے ہیں اور جن جن جملوں سے غلط فہمیاں اہل اسلام کو ہوتی ہیں ان کی طرف اشارہ فرماکر مناسب جواب بھی دیا ہے۔
حضرت شیخ الاسلام نے سر سید صاحب کے غلط استدلالات جیسے شاہ ولی اللہ صاحب محد ثؒ کی کتابوں سے معجزات کی نفی کرنے کی کوشش وغیرہ پر نفیس رد فرمایا ہے۔ بلکہ حضرت شاہ ولی اللہ صاحبؒ کی اس عبارت جو تفہیمات الہیہ سے ماخوذ ہے ’’واما شق القمر فعندنا لیس من المعجزات‘‘ حیدرآباد میں مناظرہ بھی ہوا تھا اس میں مولوی احمد علی صاحب احراری مرحوم نے ثابت کردیا کہ اس عبارت کا مطلب یہ ہے کہ شق القمر چھوٹے چھوٹے معجزوں کی قسم سے نہیں‘‘ ص۸۵۔۸۶ (یعنی یہ بہت بڑا معجزہ ہے)
بہر کیف حضرت نے عقل کو رہنما بنانے کے نقصانات اور کلام الٰہی کو رہنما بنانے کے فوائد بھی گنائے ہیں مولانانے سر سید کو اہل قدامت باطلہ میں شمار کیا ہے ان کی تفسیر کو توہین اور تضحیک قرار دیا ہے۔ اس کتاب میں جہاں سر سید، شبلی کی ناقص عقلوں کی مذمت کی ہے وہیں پر مرزا حیرت‘ مرزا قادیانی اور اسماعیل دہلوی کے امکانِ کذبِ باری پر بھی ضرب کاری لگایا ہے۔ اس کے لئے صفحہ۱۲۵ ملاحظہ کریں جس سے نتیجہ نکلتا ہے کہ سر سید اور اسماعیلی خیالات فاسدہ نے مرزا قادیانی کو دعویٔ نبوت کے لیے راہ کھول دی۔
مقاصد الاسلام (حصہ سوم )
(صفحات :۱۲۶)
مباحث :
اس حصہ میں حسب ذیل مضامین ہیں
۱) انسان کی ترکیب۔ 
۲)اوصاف نفسِ ناطقہ و اوصاف باریٔ تعالیٰ۔ 
۳)معرفتِ الٰہی۔ 
۴)خلق آدم علی صورتہ کے معنیٰ۔
 ۵)مقصود داز تخلیقِ انسان 
۶)پیدائشِ روح کا حال۔ حضرت آدم علیہ السلام کی پیٹھ سے ذریت کیونکر نکالی گئی۔
۷) صورتِ نوعیہ کیونکر محفوظ رہتی ہے۔ بعض کو وعدئہ میثاق یاد ہے۔
۸) روح کی صورتیں ہر موطن میں مختلف ہیں۔
۹) بحث مسئلہ تقدیر۔ اعیانِ ثابتہ‘ ایجاد و احداث۔
۱۰)جبر وقدر ۔ قدم عالم اور اس کا جواب۔
۱۱) شبلی نعمانی صاحب کے خیالات اور ان کا جواب اور عدم تناہی کا ابطال۔
۱۲)قیاس کی غلطی۔ نفسِ ناطقہ کی دلچسپی‘ فناء عالم‘ ایجاد عالم کا سبب
۱۳)مادّہ ایتھر
۱۴) کچے صوفیوں کا تصوف
۱۵) اصلی تصوف
حضرت مولانا نے اس حصہ میں مندرجہ بالا عنوانات پر سیر حاصل بحث فرمائی ہے کہتے ہیں کہ جب تک آدمی کو کسی شئے کی حقیقت حال سے پوری واقفیت نہیں ہو جاتی اُس وقت تک اسکے اچھے یا برے ہونے کا فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔ جیسے اگر کسی جاہل (دیہاتی) کو لعل و یاقوت سامنے رکھ دیا جائے تو وہ اُس کو کانچ کے ٹکڑوں ہی سے تعبیر کرے گا اس لئے کہ اُس کو لعل وہیرے کی اصلیت ‘ ماہیت اور اہمیت سے واقفیت نہیںہے۔ اکثر آدمی خود اپنی شخصیت سے بھی بے خبر رہتے ہیں اور اپنی قدر نہیں جانتے کہ حق تعالیٰ نے آدمی کو اشرف المخلوقات اور نسخۂ جامعہ بنایا ہے۔
انسان کی ترکیب میں یہ ہے کہ وہ عالم اصغر ہے۔ دو چیزوں سے مرکب ہے: (۱)جسم اور (۲)جان۔ (نفسِ ناطقہ۔ روحِ انسانی)۔ نفس ناطقہ موجود اور حی ہے اس کے کام یہ ہیں کہ جسم کی ضرورتوں کو وقتاً فوقتاً حسب ضرورت پہچاننا الغرض طبیعت جن جن اُمور کو طلب کرتی ہے ان کو مہیا کردینا بھی اس کا کام ہے۔
نفس ناطقہ جسم سے کس طرح متعلق ہے۔ مولانا نے ص۱۱ پر یوں لکھا ہے۔
’’اب دیکھئے کہ نفس ناطقہ باجود یکہ غیر محسوس ہے اور کسی آنکھ میں صلاحیت نہیں کہ اس کو دیکھ سکے مگر جس کو عقل ہے وہ قرائن دیکھکر یقین کرلیتا ہے کہ ہم میں وہ موجود ہے اور اس کی کنہ ذات کو ہم ہر گز ادراک نہیں کرسکتے بلکہ صرف یہ سمجھتے ہیں کہ وہ موجود اور تمام عوارض جسمانیہ سے منزہ ہے‘ نہ جسم ہے‘ نہ عرض نہ والد ہے نہ مولود ‘ نہ وہ کھاتا ہے نہ پیتا ہے نہ جسم میں وہ داخل ہے نہ خارج نہ متصل نہ منفصل باوجود اس کے جسم سے اُس کو ایک ایسا تعلق ہے کہ اسکی حقیقت نہیں معلوم ہوسکتی اور جسم انسانی کی وسیع مملکت اس کے قبضہ میں ہے جس میں کوئی اس کا شریک نہیں‘‘ 
اس عالم کے چلانے والے خدا کے وجود کو ثابت کرنے کے لئے مولانا انسانی جسم کو ایک عالم قرار دیتے ہیں اور اس کے تمام اعضاء اس ملک جسم کی رعایا اور اس میں اپنا خلیفہ ’’روح‘‘ کو  (جو صفات الہیہ سے متصف ہے) بادشاہ بناکر بھیجا ہے۔ اور وہ تمام حاجات عالم جسم کو کنٹرول کرتا ہے۔ اب اس ایک چھوٹے سے جسم میں غور کریں توعقل کو بنادیکھے ہی ایسے مدبّر (نفس ناطقہ )کا یقین ہوجاتا ہے کہ بغیر اس کے حکم کے جسم حرکت ہی نہیں کرسکتا اور وہ سارے حوائج جسمانی کو چلاتا ہے تو پھراتنے بڑے عالم کا کام بغیر مدبر کے کیسے چل سکتا ہے لہذا خدا ہی سارے عالم کو چلاتا ہے۔ اسی لئے انسان اگر اپنے نفسِ ناطقہ کو پہچان لے تو پھر خدا کی پہچان اُس کے لئے آسان ہوجائے۔ من عرف نفسہ فقد عرف ربہ کا یہی مطلب ہے۔ نفس ناطقہ کے صفات (روح کے صفات) کو صفات باریٔ تعالی کی مثل اس لئے فرمایا کہ انسان کو اللہ کا عرفان آسان ہوجائے۔
ان اللہ خلق آدم علی صورتہ کا مطلب یہ ہیکہ جیسے بعض علماء نے لکھا کہ صورت کی ضمیر آدم علیہ السلام کی طرف ہے یعنی حق تعالی نے آدم علیہ السلام کو ان ہی کی صورت پر پیدا فرمایا ۔ وہ جانتے ہیں کہ آدمی کی خصوصیات ملائکہ اور دیگر مخلوقات میں نہیں ہیں۔ عالم میں یہی ایک نسخہ جامع اس انداز پر پیدا کیا گیا ہے کہ اس کا کوئی مثل اور نظیر نہیں‘ یعنی انسان جیسا کوئی نہیں جسکو اپنی صورت پر پیدا کیا۔ عالم کے لئے رب ہونے کو یوں واضح کرتے ہیں۔
’’اگر حق تعالی انسان کو عالم ایک مختصر نسخہ جامعہ نہ بناتا اور روح کا تصرف اس میں نہ ہوتا تو یہ نہ معلوم ہوسکتا کہ عالم کا ایک رب ہے جو اُس میں متصرف اور علم وقدرت وغیرہ صفات کے ساتھ متصف ہے‘‘ ص ۱۹
مولانا نے اس کتاب میں لکھا ہے کہ ’’صورت روحانی ہماری ‘ آدم علیہ السلام سے پیشتر بن چکی ہے۔ اور ہمارا تعلق جو آدم علیہ السلام کی جزئیت کا ہے وہ جسمانی ہے‘‘۔ص۳۴
اسطرح واضح فرمادیا ہے کہ ہماری اصل صورت وہی ہے جو روحانی ہے۔
مولانا نے اپنے مدعا کو ثابت کرنے کے لئے جن علوم کی مدد لی ہے ان میں علم طبیعات‘ علم تفسیر‘ علم حکمت‘ علم حقائق اور دیگر ضروری علوم شامل ہیں۔
عہد میثاق ایسا گزرا جیسے ابھی کا ذکر بھی کرتے ہوئے بعض بزرگوں کے واقعات لکھتے ہیں کہ بعض بزرگ نے فرمایا کہ جیسے کل ہی ہوا ہے۔ بعض حضرات تصفیہ باطن کی وجہ سے یاد رکھتے ہیں چنانچہ مولانا نے تفسیر روح المعانی کے حوالہ سے لکھا ہے کہ ذوالنون مصری رحمۃ اللہ علیہ سے کسی نے پوچھا کہ عہد میثاق آپ کو یاد ہے کہا وہ مجھے ایسا یاد ہے کہ گویا اب میرے کان میں اُس کی آواز موجود ہے‘‘ص۴۳
بعض دنیوی لذتوں میں گھِر کر عہد میثاق بھول جاتے ہیں اور وہ جسمانی متعلقات ہوتے ہیں۔روحانی ہوں تو پھر بھولے نہ جائیں۔ مولانا نے اس حصہ میں ’’کن‘‘ کا خطاب‘ اعیان ثابتہ وغیرہ پر مدلل بحث فرمائی ہے۔
فرماتے ہیں: ’’غور کیجئے ’’کن‘‘ خطاب موجود چیز سے ہوسکتا ہے یا معدوم سے اگر موجودسے ہو تو تحصیل حاصل ہے‘‘۔ص۴۸
حضرت شیخ الاسلام تقدیر کے مسئلہ میں مولانا روم کی مثنوی سے بھی کچھ شعر نقل فرمائے ہیں ’’کن‘‘ کے خطاب کے سلسلے میں بڑی اچھی بات حضرت نے پیش فرمائی ہے۔
رقم فرماتے ہیں:’’مگر محققین نے دیکھا کہ خدائے تعالی کا خطاب معدومات کے ساتھ اور ان کا جواب نصوص قطعیہ سے ثابت ہے اس ضرورت سے انہوں نے شئے کی دو قسم کی ایک موجود خارجی (۲) دوسرے شئے ثبوتی جو خارج میں معدوم اور علم الہی میں ثابت ہے اور اعیانِ ثابتہ معدومہ کے قائل ہوگئے۔ص ۷۱
اس سلسلہ میں شیخ محی الدین ابن عربی اور امام غزالی کے اقوال کوجگہ دی ہے مولوی شبلی نعمانی صاحب کی کتاب ’’الکلام‘‘ جو عقائد اسلامی کے نام سے لکھی گئی ہے‘ مولانا نے اس کا مفصل رد فرمایا ہے یہ کہہ کر کہ اگر یہ کتاب کسی اور کی ہوتی تو ہمیں کوئی مضائقہ نہ تھا‘ یہ کتاب تو شمس العلماء کی لکھی ہوئی ہے اور مسلمانوں پر اس کا بہت بُرا اثر مسلمانوں پڑسکتاتھا۔ا سلئے مولانا نے اس کتاب کے مندرجات میں خدا کی خالقیت کا جو انکار ملتا ہے اُسکو الحادی ثابت فرماکر مسلمانوں کے لئے ایمانی نقطۂ نظر واضح فرمادیا ہے۔
مولوی شبلی صاحب ‘ شاہ صاحب اور امام غزالی کی عبارتوں سے غلط مفہوم اور بے جامعانی کا بھی قلع قمع کردیا اور ثابت فرمایا کہ یہ کتاب اسلامی نام کی آڑ میں الحادی اور غیر اسلامی ہے ۔ آخر میں تصوف کو ہمارے دین میں اعلیٰ درجہ کا علم قرار دیکر کچے صوفی پکے ملحد کی خوب خبرلی ہے اور تصوف کو قرآن‘ حدیث اور شریعت حقہ کا لُب لباب فرمایا ہے۔ جسے آخری صفحات میں لکھتے ہیں:
’’غرض کہ تصوف کچھ اور ہی چیز ہے جسکو قرآن و حدیث اور شریعت کا لب لباب کہنا چاہئے‘ اسکو نہ فلسفہء قدیمہ سے کوئی تعلق ہے نہ فلسفہ جدیدہ سے کوئی مناسبت‘ص۲۵ اور ۱۲۶
مقاصد الاسلام (حصہ چہارم )
 (صفحات:۱۲۰)
مباحث:
(۱)اس حصہ میں تحصیل علوم عربیہ حسبِ نصاب نظامیہ پر پاکیزہ بحث ہے۔ 
(۲)علم اور اہل علم کی فضیلت، زکوۃ کی ترغیب‘ فضائل علم سے متعلق چالیس احادیث‘ علوم عربیہ اور دنیاوی ترقی۔
(۳)حج کے فضائل اور اسکی ترغیب ۔ اسلام پر بے دینوں کا حملہ
(۴) چکڑ الوی کا رد‘ اطاعت رسول‘ کلام مجید اور فقہ‘ اتحاد مذاہب عالم کا جواب‘ ندوۃ العلماء کا قیام اور بعض وجوہ کی بناء پر اسکی مخالفت۔
(۵) توہین شیطان۔ شفاعتِ علمائے موجودہ۔
(۶)طلبائے مدرسہ نظامیہ کی چند تقاریر وغیرہ
یہ تمام مضامین عالمانہ تحقیق کی ساتھ لکھے گئے ہیں
پہلا مضمون:
مدرسہ نظامیہ کے نصاب کی اہمیت و افادیت پر ہے۔
اس مضمون میں مولانا نے یہ لکھا ہے کہ انسان کی شرافت محض ’’علم‘‘ سے ہے علم اور مختلف علوم کی بتدریج ترقی وضرورت پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔ ان مختلف علوم میں انسانی طبیعتوں کی مناسبت سے جس کو جس فن میں کمال حاصل ہونے کی صلاحیت ہے اُس فن میں کمال پیدا کیا۔ کسی جماعت نے علم تفسیر و قرآن میں کسی نے علم حدیث وفن رجال میں او رکسی نے قواعد لغت وغیرہ علوم میں ترقی کر کے مشقیہ علم کو فروغ دیا ۔ بعدہ ناسخ و منسوخ ‘ علم الاخلاق‘ تصوف وغیرہ میں کتابیں لکھیں۔ لیکن دوسری صدی میں احتمالات پیدا ہونے لگے ۔فلسفہ کا رنگ زیادہ ہوتا جارہا تھا جس کا اثر علم حقائق پر پڑرہاتھا اس کے منفی اثر کو زائل کرنے کے لئے علمائے اسلام نے علم الکلام کے ذریعہ فلسفیانہ موشگافیوں کا رد کیا۔ اسی لئے علم میں کامل شخص اس کو کہا جاتا ہے جو ان تمام ضروری علوم میں مہارت رکھتا ہے۔
تدریس کے قابل کتابیں تیار ہوئیں‘ کافیہ ‘ شافیہ‘ تلخیص‘ شروح وحواشی کا دور بھی آیا پھر مولانا نظام الدین لکھنوی نے ایسا مفید نصاب ترتیب دیا جس میں ہر فن کی کتاب کو شامل نصاب کردیاچنانچہ ہزارہا علماء اسی نصاب کی بدولت لائق فائق اور مشہور انام بھی ہوئے۔
اس نصاب کی افادیت بیان کرتے ہوئے مولانا نے ص ۵ پر لکھا ہے۔ اس نصاب میں ایک عمدہ فائدہ یہ ہے کہ ملکہء جامعیت علمی حاصل ہوجاتا ہے۔ دوسری ولایتوں میں طلبہ کو جامعیت بہت کم حاصل ہوتی ہے۔ 
شائد ہزاروں میں کوئی ایسا ہوگا جو ایام طالب علمی میں سب فنون میں کمال حاصل کیا ہو‘‘ص۵اس نصاب کی غرض و غایت یہ بتاتی ہے کہ ہمارے دین پر حملے بہت ہوتے ہیں ایک بات میں دوسری بات پیدا کرنے کی صلاحیت‘ مناظرہ کی قوت پیدا ہوسکے تاکہ حملہ کرنے والوں کو مُسکتِ جوابات دئے جاسکیں اور یہ کام اس نصاب کی تکمیل کرنے والے علماء ہی کرسکتے ہیں اور اُن کا یہ فرض منصبی بھی بنتا ہے۔
حضرت مولانا انواراللہ رحمۃ اللہ علیہ نے اس نصاب کی مقبولیت کا ذکر بھی اُنہی کے زمانہ کے ایک بزرگ جو مشائخین عظام سے ہیں ان کے خواب کے ذریعہ بھی کرتے ہیں کہ انہوں نے خواب میں دیکھا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم جلسہ دستارِ فضیلت کی شب میں ہی کل اسناد طلبہ کے طلب فرماکر دستخط فرمارہے ہیں۔ آگے فرماتے ہیں کہ یہ نصاب کس قدر قابل قدر ہے۔
علم کی اہمیت علماء کے علاوہ عوام میں ہونا چاہئے کہ پہلے عوام میں بھی علم کی قدر تھی والیانِ مملکت کو بھی شوقِ علم تھا۔ اس لئے اس علم کی ترقی و ترویج ہوتی رہی اور آج تنزلی کے اسباب یہی ہیں کہ لوگوں میں قوتِ تمیز اٹھتی چلی گئی اور پہلے کی طرح علم کی مجلسوں میں ہزاروں لوگ جمع ہوتے نظر نہ نہیں آتے ۔
اس مضمون میں مولانا نے ندوہ کے تقلیل مدت ختم نصاب کے لئے صحیح رُخ متعین فرمایاہے۔ اور یہ مشورہ بھی دیا ہے کہ اگر کوئی مکمل مطلوبہ نصاب کی تکمیل کرنا چاہتا ہے تو اس کو محروم نہ کیا جائے۔
مدرسہ نظامیہ کے اس نصاب کو اہل ندوہ نے ’’الندوۃ‘‘ پرچہ میں شعبان ۱۳۲۲؁ھ میں شائع کردیا تھا اور اس نصاب کی خرابی بیان کی تھی تو طلبائے نظامیہ نے برھم ہوکر بُرے الفاظ سے انکو یاد کیا۔ اس جذبہ کو دیکھکر مولانا نے یوں لکھا۔
’’اس اُمتِ مرحومہ میں ایسے افراد پیدا ہوں جو قوم کے پیشوا بنیںاور ان کے دین کی حمایت کر کے مخالفوں کے مکائد سے انکو بچائیں۔
دوسرا مضمون
’’علم اور علماء کی فضیلت‘‘ 
مدرسوں اور دارالاقامتوں کی ضرورت پر پُر مغزمضمون ہے۔
اہل سنت وجماعت صرف اور صرف علم سے دوری کی وجہ خانوں میں بٹ گئے ہیں اس لئے کہ اہل اسلام باشندگان ہند دکن بھی سبھی اہل سنت وجماعت ہی سے تھے‘ کوئی یورپین یا امریکی ان مخالفین کی تحریکوں میں شریک نہیں ہوئے سبھی اہل سنت و جماعت سے نکل کر اُن خوش نما نعروں کے تلے جمع ہوئے اور پچاس سال کے ( اب تقریباً ۱۵۰؍ سال کا عرصہ) عرصہ میں مختلف مذاہب باطلہ بن گئے۔ اس مضمون میں دین کے طالب علم کی فضیلت ‘ علم کی فضیلت بیان کیا ہے۔ اور پختہ مساجد‘ گنبدیں بنانے کے مقابلہ میں مدرسوں کی مدد زیادہ کی جانی چاہئے۔ خیرالخیرین یعنی دو اچھے کام جب جمع ہوجاتے ہیں تو کون سا کام پہلے کرنا چاہئے قوم میں تمیز ا ب اُٹھتی چلی جارہی ہے۔ مولانا نے ثابت فرمایا ہے کہ اس زمانے میں افضل مدرسہ اور دار المساکین کے بجائے دارالاقامہ دینی طالب علم کے لئے قائم ہونا ہے۔ علم کے بجائے مال جمع کرنے والوں کی مذمت بھی بیان کی گئی ہے اور ساتھ ہی زکوۃ کی فرضیت کے بارے میں لکھا ہے مصارف زکوۃ کے درجہ بتائے گئے ‘ علوم دینیہ کے طلبہ اور اشاعتِ علوم میں صرف کرنا زیادہ بہتر ہے۔
اس ضمن میں مولانا نے چہل حدیث علم اور علماء کی فضیلت میں لکھے ہیں اس فرض کی حدیث شریف ہے کہ جو شخص چالیس حدیث یاد کرلے تو اس کا حشر علماء کے ساتھ ہوگا۔
تیسرا مضمون
 ’’العجّ للحج‘‘
خوشبو ئے حج‘ توشہء حج‘ ترغیب حج‘‘ سے متعلق ہے۔
مولانا نے اس مضمون میں حج کی فضیلت، راستہ کی تکالیف کے باوجود اس اہم فرض کی ترغیب میں بے شمار آیات واحادیث سے مضمون کو مدلل فرمایا ہے۔ اس ضمن میں مولانا نے خود اپنے واقعات بھی پیش فرمائے ہیں اس مضمون کے لکھنے تک آپ نے (۴) حج ادا فرمائے چنانچہ لکھتے ہیں
’’مجھے بھی بفضلہ تعالی اس سفر مقدس کا چار بار اتفاق ہوا‘‘ ص ۴۱
مولانا نے اپنے زمانہ میں ہونے والے مصائب کا تجربہ اور اس کا حل بہت خوبی سے عازمین حج کو بتلایا ہے وہاں کے بدؤوں کا رویہ اور ان کے مقررہ سے کچھ زائد نہ دینے پر حاجیوں کو پریشان کرنا وغیرہ۔ خود مولانا کے ساتھ بھی رہنے والے بدؤوں کو مولانا نے مقررہ سے زائد دینے پر ان کی اطاعت و فرماں برداری ایسی کی کہ کوئی غلام بھی اس سفر میں ہمت نہ کرسکے۔ یہ اندیشے مولانا کے زمانہ کے ہیں لیکن اب وہاں کافی سہولتیں ہیں ملک عرب کی خوش حالی نے حاجیوں کے لئے بہت سہولتیں مہیا کررکھی ہیں۔
مولانانے اس مضمون میں لکھا ہے کہ’’مولوی محمد حسین صاحب انجینئر نے جو پرچہ اتحاد عالم ص ۳ میں طواف خانۂ کعبہ اور حجر اسود کا بوسہ ‘ رمیِ جمار اور حالت احرام کا ذکر کر کے ان تمام اُمور کو ملانہ اسلام کا عمل‘ طوفانِ بے تمیزی اور بد تہذیبی وغیرہ کے الفاظ لکھے ہیں تو اس سے ان خیالات فاسدہ کی خوب خبرلی ہے۔ اسطرح اہل قرآن اور مخالفین اسلام کو جیسے عبداللہ چکڑالوی وغیرہ کو دائرہ اسلام سے خارج کردیا ہے۔ انداز بہت نرالا ہے۔ لکھتے ہیں۔
’’اب بھی اگر مسلمان لوگ ان کو مسلمان اور اہل قرآن سمجھیں تو انکی عقل کی خوبی ہے‘‘ ص ۹۰
اس مضمون کے آخر میں مولانا نے استعانت بالاولیاء ‘ عرس اولیاء اور زائرین کے فوائد روحانی ‘ شفاعت‘ وسیلہ وغیرہ اُمور پر اثبات میں مدلل بحث فرمائی ہے۔
ندوۃ العلماء کے قیام اور مخالفت پھر طرفین سے رسالہ بازیاں وغیرہ کا ذکر کیا ہے۔ قرائین سے پتہ چلتا ہے کہ مولانا نے دیوبندی اور بریلوی اختلافات کی طرف بھی اشارہ فرمادیا ہے۔
مولانا نے مخالفین اسلام کے مقابلہ میں پیٹھ نہ پھیرنے کی قرآنی آیات سے دلائل دئے ہیں ۔ اورفرماتے ہیں کہ دینی مدارس کے فارغین کا اس پر عمل ہونا چاہئے ۔ مناظرہ کی طرف رغبت اور اس کے خلاف کو جُبُن (بزدلی) قرار دیا ہے۔ مولانا لکھتے ہیں:
’’کہ جب دینی مدارس میں علوم اسلامیہ کی تحصیل کے لئے گئے اور مخالفین اسلام کے مقابلے کا سامان اور آلات فراہم کرلیا تو گویا یہ وعدہ کیا کہ ہم ان کے مقابلے میں پیٹھ نہ پھیریں گے…… باوجود آلات واسباب مناظرہ جمع کرنے کے کیوں جبن (بزدلی) اختیار کیا۔ الخ ص ۹۵۔
مگر افسوس کہ مولانا کی اس خواہش کے مطابق اس ضرورت کی تکمیل نہ ہوسکی۔
چوتھا اور آخری مضمون ’’تذنیب ‘‘ کے عنوان سے ہے۔
جس میں مدرسہ نظامیہ کے تحتانی طلبہ سے عام جلسوں میں اس غرض سے تقاریر کرائی جاتی ہیں کہ ان پر رعب مجلس نہ رہے۔ اس تقریر میں کسی قدر مذاق علمی ہونے کی باعث شامل کتاب کیا گیاہے۔ جس میں انہوں نے انسان کے استحقاقِ خلافت کا ذکر کیا ہے۔
مقاصد الاسلام (حصہ پنجم) 
(صفحات :۲۴۹)
مباحث:
تصوف کی تعریف ۔ صوفی کے اصطلاحی معنی۔ ضرورت عبادت الہی۔ معرفتِ الہی۔ جزاء وسزاء۔ جنت ودوزخ کے متعلق ایک عقلی بحث، جزا وسزاء کا عقلی ثبوت (متکلم) تصوف کا اصل اصول، آنحضرت ﷺ کی فقروالی زندگی۔ اہل بیت اور خلافت‘ شان نزول سورئہ قدر وکوثر‘ مدارج حضرت امام حسین علیہ السلام۔ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا فقر‘ حضرت علی وعمر رضی اللہ عنہما کے حضرت ابوبکر وعمرو علی رضی اللہ عنھم کے اتحاد واتفاق پر صحابہ کا اجماع، فقر و زہد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ وعلی کرم اللہ وجہہ کے ’’اورع‘‘ ہونے کے متعلق شیعہ وسنی کا اتفاق۔ حضرت ابوبکر و علی رضی اللہ عنہما کا قبولِ خلافت سے انکار ،خلافت کی ذمہ داریوں سے خوف۔ معنی حدیث من کنت مولاہ فعلی مولاہ‘ محاربہ صفین وجمل‘ ہر فتنہ کی پیشن گوئی، علم قرون اولیٰ تا قیامت ۔ خلفائے ثلاثہ کی خلافت مدت، خلافت راشدہ‘ ارتداد صحابہ کی تردید‘ اثبات بیعت علی رضی اللہ عنہ با خلفائے ثلاثہ‘ فضیلت شیخین۔ اتفاق علی رضی اللہ عنہ برخلافت ابوبکررضی اللہ عنہٗ ایکدلی واتفاق صحابہ وقت ابوبکر رضی اللہ عنہ ‘ اعتراف اسلام صحابہ وقت عمر رضی اللہ عنہ‘ حقانیت خلافت صدیق پر قرائن‘ شجاعت علی کرم اللہ وجہہٗ واقعہ اخراج ابوذر‘ واقعہ در قلعہ خیبر‘ عبداللہ بن سباکی فتنہ انگیزی اور زندقہ، احراق قائلین الوہیت علی، اثبات الوہیت میں ابن سبا کی حکمت عملی، یہودیت ابن سبا اور اُس کا ملعون ہونا، خوف از عالم منافق۔ قصہ بولس (یہودی بادشاہ) حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانے میں دولت مندی وغیرہ۔
مولانا نے شبلی نعمانی کو کے اس خیال کو فلسفہ اور تصوف کے ڈانڈے ایک جگہ ملتے ہیں۔ دلائل سے غلط ثابت فرماتے ہوئے لکھا ہے۔
’’شاید بعض متصوفین کے لحاظ سے انہوں نے فرمایا ہوگا‘ جن کے نزدیک عبادت الٰہی کی ضرورت نہیں ورنہ کجا تصوف اور کجا فلسفہ‘ دونوں میں کسی قسم کا تعلق نہیں‘ کیونکہ تصوف اس علم کا نام ہے جس میں صرف وہ امور مذکور ہوتے ہیں جو تقرب الی اللہ کے باعث ہوں اور لوازم تصوف ایسے سخت واقع ہوئے ہیںکہ اہل فلسفہ ان کو سن لیں تو گھبراجائیں۔ص۱۔۲۔
مولانا کے خیال میں او ل صوفی اسکو کہا جاتا ہے جو زرق برق زینت کے لباس کو ترک کرکے صوف یعنی صرف کمبل پر قناعت کرتے تھے صوفی کہلاتے تھے۔ مگر اصل تصوف کے بارے میں مولانا فرماتے ہیں کہ اصل تصوف تو وہ ہے کہ جس نے ان کو اس حالت ظاہری پر مجبور کیا تھا اور صوفی وہی ہوگا جس کو وہ حالت نصیب ہو۔ ص۳۔
حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ تعالی عنہ کا ارشاد نقل فرماتے ہیں:۔ من عاش فی ظاھر الرسول فھو سنی ومن عاش فی باطن الرسول فھو صوفی  رواہ ابونعیم فی الحلیہ۔ یعنی جو ظاہر رسول اللہ  ﷺ پر ہو وہ سنی ہے اور جو باطن رسول اللہ  ﷺ کے مطابق زندگی بسر کرے وہ صوفی ہے ص۴۔ 
اس عبارت کو نقل کرکے مولانا لکھتے ہیں کہ :
’’جب حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کے ارشاد سے یہ ثابت ہے کہ صوفی کا باطن آنحضرت ﷺ کے باطن کے تابع ہوتا ہے تو معلوم ہوا کہ صوفیہ کے باطنی حالات علی قدر مراتب وہی ہوں گے جو آنحضرت ﷺ کے تھے غرض کہ یاد الہی میں رہنا صوفیہ کا فرض منصبی ہے‘‘۔ ص۵
مولانا نے ’’عبادت الہی ‘‘ کی ضرورت کے ساتھ ساتھ معرفت الٰہی اور اس کے حصول کے طریقوں میں یہ صرف انسان ہی کو حاصل ہوتی ہے اس لئے اس کی فضیلت بھی ہے کہ اللہ تعالی نے زمین و آسمان کی چیزوں کو انسان کے لئے مسخر فرمادیا ہے۔ معرفت کے لئے اللہ نے انبیاء کرام کو مبعوث فرمایا کہ اللہ کی عبادت اس کو پہچان کر کریں۔ عبادات الہی ومعرفت پروردگار میں کامل ہونے والوں کے لئے جنت کی خوشخبری ہے ورنہ دوزخ۔ جس کے لئے جزاء وسزاء مقرر کی گئی ہے۔
حضرت مولانا نے جنت کے حالات اور دوزخ کے حالات جو نبی کریم ﷺ نے بیان فرمائے ہیں اُن کو بڑی عمدگی اور ترتیب سے نقل فرمایا ہے جس سے بندئہ خدا کو دوزخ سے خوف ہوسکے اور جنت کے انعامات و اکرامات اور ہر قسم کی آرائش سے وہ اللہ کے فضل سے بہرہ مند ہوسکے۔
جنت کے حالات میں احادیث شریفہ سے مختلف انعامات کو نقل فرمایا ہے جس میں جنت کے ۱۰۰درجے ہیں‘ جنت میں چار سمندر ہیں‘ پانی ‘ شراب‘ دودھ اور چوتھا شہد۔ میوؤں کا ہر قسم کے ہر موسم میں دستیاب ہونا ۔ درخت‘ محلات‘ باغ‘ شباب ۳۰‘ ۳۲ سال کے لوگ ہونگے۔ جنت میں ہر ایک کو حسن یوسفی عطا ہوگا۔ لباس فاخرہ‘ زیورات حورانِ بہشت‘ جنتی آدمی کی بے پناہ قوت ‘ جنتی خدام کی تعداد ستر ہزار اور ہمہ اقسام کے کھانے‘ ذائقہ‘ ۳۰۰قسم کے شربت اور ہر شربت کا ذائقہ جدا جدا ‘ ہفتہ میں ایک بار دیدار الہی اور شرف ہم کلامی‘ جنتی بازار جس میں عام اجازت ہے جسکو جو چیز پسند آئے (بغیر بیع وشرا) وہ لے لے۔ جنت میں غم وحزن نہیں‘ اہل جنت کو بے انتہا خوشی ہوگی کہ اللہ کا ارشاد ہوگا کہ ہم تم پر بھی غصہ نہیں کریں گے اپنے احباب سے ملاقات کرنا ہوتو‘ مختلف سواریوں کے علاوہ تخت وہاں اُڑالے جائیں گے اور وہاں اپنی اپنی سر گزشت بیان کریںگے۔
قرآن وحدیث کی روشنی میں دوزخ کا حال بھی حضرت مولانا نے رقم کیا ہے ۔ شدید حرارت ہوگی رنگ سیاہ‘ اور گہرائی اتنی اگر پتھر پھینگا جائے تو ستر برس گزرنے پر بھی تہ تک نہ پہونچیگا۔ پیپ اور لہوکے بڑے بڑے تالاب‘ بھوک کی شدت جس میں غذا زہریلی اور کانٹے دار‘ پانی گرم اور کبھی زقوم پلا یا جائے گا جسکی کیفیت یہ ہوگی کہ اگر دنیامیں اس کا قطرہ ٹپک جائے تو تمام روئے زمین کے لوگوں پر زندگی تلخ ہوجائے۔ کافروں کی زبان کی درازی اس قدر ہوگی کہ لوگ اس پر چلیں گے۔سانپ بڑے بڑے اونٹوں کی مانند بچھو خچرکی طرح ‘ فرشتوں کی ڈراؤنی صورتیں اگر دنیا میں کوئی دیکھ لے تو روح قبض ہوجائے۔
آخرت کے عجائب اور لذائذ ومصائب کے لئے جن باتوں کا تذکرہ مولانا نے کیا ہے اُسکو ایک متکلم کی حیثیت سے آپ نے خواب کے ذریعہ ہونے والے مشاہدات سے ثابت فرمایا ہے۔ عالم آخرت کو باور کرنے کے لئے مولانا یو ں لکھتے ہیں:۔
’’اب غورکیجئے کہ جب ہم نے ایک ایسے عالم کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ جسمیں ہر قسم کی جسمانی لذتیں اور مصیبتیں اور ایسے عجائب وغرائب اشیاء میں جن کا وجود اس عالم محسوسات میں نہیں اور من وجہ اس عالم محسوسات کے وہ مشابہ ہیں اور من وجہ مخالف تو ہم اگر عالم آخرت کو باور کرلیں کہ بعضے اُمورمیں وہ اس عالم کے مشابہ ہے اور بعض میں مخالف اور وہاں ایسے عجائب وغرائب اُمور ہیں کہ نہ کبھی دیکھے گئے نہ سنے گئے تو عقل کو اسکے باور کرنے میں کیا تامل ہے‘‘۔ ص۲۴۔۲۵۔
عبادت کے متعلق مولانا یہ نتیجہ پیش کرتے ہیں کہ عبادت بغیر کسی معاوضہ یا بدلے کے ہونی چاہئے چنانچہ ص۲۷ پر مولانا رقمطراز ہیں:
’’لذّات جسمیہ کے خیال سے عبادت کرنے کو بزرگان دین جائز نہیں رکھتے اور کہتے ہیں کہ خدائے تعالی خود مستحق عبادت ہے۔ اس لئے بلا لحاظِ معاوضہ عبادت ہونی چاہئے‘‘۔ص۲۷۔
ایمان کی حالت کو مثالوں سے سمجھا تے ہوئے مولانا فرماتے ہیں کہ ایمان یقین ہی کا نام ہے جس پر آثار مرتب ہوتے ہیں۔ اس ضمن میں چند احادیث بھی مولانا پیش فرماتے ہیں:۔ جیسے حدیث شریف کی عبارت ہے الیقین الایمان کلّہ کنز العمال کی کتاب الاخلاق میں روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا مجھے اپنی امت پر کسی بات کا خوف نہیں سوائے ضعفِ یقین کے اور فرمایا نبی کریمﷺ نے کہ خدا سے حُسن یقین مانگا کروص۳۱۔ اس سلسلہ میں مولانا نے شیخ اکبر محی الدین ابن عربی کی معرکہ آرا کتاب ’’فتوحات مکیہ‘‘ ( جس کا درس خود حضرت مولانا اپنے متوسلین میں دیا کرتے تھے) سے بھی پیر اور مُرید کے واقعہ میں یقین کو پیدا کرنے کی ترغیب دی گئی ہے کہ مرید غریب تھے پیرنے حکم دیا کہ دوسرا نکاح ‘ پھر بھی غربت پھر حکم دیا تیسرا ‘ پھر چوتھا اسطرح یقین کامل ہوگیا اور غربت چلی گئی۔
الغرض مولانا نے ’’یقین‘‘ کو سمجھانے کے لئے مختلف پیرائے استعمال کئے ہیں اور صوفیائے کرام کو اس میں یعنی اس یقین میں کامل بتلاتے ہوئے لکھتے ہیں۔
’’غرض کہ ہمارے دین میں یقین ایک ضروری چیز ہے اسی وجہ سے صوفیائے کرام کوخاص قسم کی توجہ اس کے حاصل کرنے کی طرف تھی اور اس باب میں وہ تمام فرق اسلامیہ میں ممتاز ہیں جیسا کہ کتب تصوف اور ان حضرات کے تذکروں سے واضح ہے‘‘۔ ص ۳۶ ۔ مولانا آگے لکھتے ہیں۔
’’یہ بات ہر شخص جانتا ہے کہ یقین ایک کیفیت قلبی کانام ہے جسکی نوعیت وجدان سے معلوم ہوتی ہے‘‘۔ ص۳۶۔
اس کے تسلسل کو باقی رکھتے ہوئے مولانا نے حدیث احسان کا بھی ذکر کیا ہے۔ اور اس آیت سے اُس احسان کی طرف بھی اشارہ فرمایا ہے۔ واعبد ربک حتی یأتیک الیقین جو درجہ ایمان سے بالا تر ہے۔
آنحضرت  ﷺ کی فقروالی زندگی کو مولانا نے اختیاری فقر لکھا ہے۔ اضطراری نہیں‘ اس سلسلہ میں مواہب لدنیہ ، بخاری ‘ مسلم کی احادیث نقل فرمائی ہیں۔ ایک مرتبہ بھوک کی حالت میں آنحضرت ﷺ حضرت صدیق اکبرؓ اور حضرت عمر ؓ کو ہمراہ لے کر ایک انصاری صحابی کے ہاں تشریف لے گئے وہاں انصاری صحابی نے خوش ہو کر کہا کہ آج مجھ جیسا خوش قسمت دنیا میںکوئی نہیںجسکے گھر ایسے مہمان ہوں۔ ضیافت فرمائی۔ گوشت وغیرہ بھی پیش فرمایا۔ تو آنحضرت ﷺ نے وہاں بھی حضرت بی بی فاطمہ رضی اللہ عنھا کا خیال فرماتے ہوئے روٹی پر گوشت رکھ کر فرمایا کہ یہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس لے جاؤ کئی روز سے انہیں گوشت نہیں ملا ہے۔
فقروالی زندگی میں شکم پر پتھر باندھنے کے واقعات‘ حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ کا حضور ﷺ کو بھوک کی حالت میں بیٹھ کر نماز پڑھتے دیکھنا اور خوب رونا‘ حضرت کا بستر ہمیشہ دوہرا کرلیاجاتا تھا۔ ماحصل یہ کہ آنحضرت  ﷺ کی زندگی بالکل فقروالی تھی۔
ان روایات کو پیش کرنے کہ بعد مولاناآجکل کی پیری مریدی پر اظہار خیال فرماتے ہوئے لکھتے ہیں:۔
’’یہاں یہ خیال نہ کیا جائے کہ حضرت کا فقر اضطراری تھا اس لئے کہ یہ واقعات اوائل اسلام کے نہیں ہیں جومکہ معظمہ میں سختیوں کا زمانہ تھا بلکہ مدینہ منورہ کے ہیں جہاں انصار نے مہاجرین کو اپنے املاک میں شریک کرلیا تھا ۔ جب انہوں نے مہاجرین کے مال کو دریغ نہ کیا تو آنحضرت ﷺ کے ساتھ ان کا کیا حال ہوگا۔ اس زمانہ میں مریدوں کا اعتقاد جیسا ہوتا ہے معلوم ہے باوجود اس کے ان کے پیر نذرانوں سے امیر بنے رہتے ہیں‘‘ص۵۔
آنحضرت  ﷺ فقروالی زندگی کے باوجود ایسے سخی بھی تھے کہ کسی سائل کو واپس نہیں فرمایا۔ اگر کبھی کچھ نہ ہوتا تو فرماتے کہ قرض لے لو‘ ہم ادا کریں گے۔ بلکہ کبھی ایسا بھی دیکھا گیا کہ حضور ﷺ قرض دار کو قرض کے ادائی کے علاوہ عطیات بھی عنایت فرماتے تھے۔
آنحضرت ﷺ کی بے مثال سخاوت کے کئی واقعات کو پیش فرماکر مولانا چیلنج کے روپ میں کہتے ہیں کہ کوئی اور تو اور بادشاہ وقت بھی اتنی بخششیں کی ہوں تاریخ نہیں پیش کرسکتی۔ چنانچہ ص ۴۹ پر لکھتے ہیں۔
’’اب کہئے کیا کوئی قفیر اتنی بخشش کرسکتا ہے؟ فقیر کو جانے دیجئے کیا کوئی تاریخ داں کسی بادشاہ کو نظیر میں پیش کرسکتا ہے جسکی سخاوت اس حد تک پہونچ گئی ہو ممکن نہیں ۔ اس لئے کہ سلاطین تو فقر وفاقہ کو شقاوت سمجھتے ہیں اور کثرت خزائن کو سعادت‘ پھر ایسا کونسا بادشاہ ہوگا جو سعادت کو چھوڑ کر شقاوت حاصل کرے۔ یہ حضرت ہی کا کام تھا کہ جتنامال آگیا جلدی سے اُسے خرچ کردیا کہ فقر کی دولتِ بے زوال ہاتھ سے جاتی نہ رہے‘‘۔
مولانا فرماتے ہیں:
’’فقر ہر ایک کے بس کی بات نہیں بلکہ بعض کو تو کفر تک پہنچا دیتا ہے۔ کاد الفقر ان یکون کفراً ہاتھ کشادہ مت کرو جو کہا گیا ہے ان کے لئے ہے جن کا قدم تو کل میں راسخ نہیں ہے۔ تونگری اور فرحت نفس میں یہ ہوتا ہے کہ آدمی رجوع الی اللہ نہیں رہتا۔ غافل ہوجاتا ہے۔ اس لئے آنحضرت ﷺہمیشہ تعلق باللہ میں رہتے جبکہ خود اوراپنے اہل بیت کے ساتھ فقر ہی پسند فرمایا ہے۔ اور آنحضرت ﷺ یہ دعا کرتے تھے۔ اللھم اجعل رزق آل محمد قوتا۔ یعنی اے اللہ محمد ﷺ کے آل کا رزق بقدر سدّ رمق مقررفرما۔
اس کتاب میں مولانا نے آنحضرت ﷺ کے ارشادات کہ خلافت ۳۰سال تک چلے گی اور بعد ملوکیت آجائیگی۔ نقل فرمایا ہے ‘ چنانچہ حضرت حسنؓ کو چھ ماہ کا خیال‘ بعد میں صلح اور خلافت سے دستبرداری۔ تاریخ کامل کے حوالہ سے سورہ کوثر و اناانزلنا کا شانِ نزول۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسولِ کریم ﷺ نے خواب میں دیکھا تھا کہ بنی اُمیہ یکے بعد دیگر ے منبر شریف پر بندروں کی طرح کود رہے ہیں۔ لیلۃ القدر بھی اسی وقت نازل ہوئی۔ ہزار مہینے سے بہتر کا مطلب یہی بنی امیہ کی خلافت کے ہیں۔ تاریخ الخلفاء میں لکھا ہے یہ روایت جامع ترمذی میں ہے چنانچہ شمار کیا گیا تو بنی اُمیہ کی خلافت برابر ہزار مہینے رہی۔ 
حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کا مشیت کو سمجھنا‘ اور یزید بادشاہ بن بیٹھنے کے بعد یزید اور اسکی بد اطواریاں پیش نظر ہوگئی تھیں۔ اور مشیت بھی یہی تھی کہ آپ وہاں سے نکل جائیں پھر باوجود کہ صحابہ مانع ہوتے تھے۔
حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی شہادت اور ان کی فضیلت میں احادیث بیان فرماتے ہیں اس کے بعد حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کس درجہ کی تھی‘ مولانا اس کا ذکر یوں کرتے ہیں۔ ’’اس سے ظاہر ہے کہ سید الشہدائے وقت سے ایک بات فروگزاشت ہوگئی تھی مگر حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے مدارج میں منجانب اللہ اس کی بھی تکمیل ہوگئی‘‘ص۶۲۔
آگے ص۶۳ پر تاریخ کامل کا حوالہ دیتے ہوئے واقعہء کربلا کا ذکر کیا ہے اور حضرت امام عالی مقام کی شہادت اور اسکی فضیلت پر لکھتے ہیں۔
’’غرض کہ اس باب میں سید الشھداء حمزہ رضی اللہ عنہ سے بھی آپ بڑے ہیں ص ۶۳ مدارج امام حسین علیہ السلام بیان کرتے ہوئے مولانا کہتے ہیں بے بسی اور ظلم کی حالت میں مومن کو یقینا ماتم کرنا چاہئے اور جب یہ معلوم ہوکہ اُن کو کامیابیاں‘ نعمتیں درجات بلند اور فرحت کو معلوم کرکے خوشی منائی جانی چاہئے۔ لہذا واقعہ کربلا صرف ماتم اور صرف جشن نہیں ہے۔ مولانا نے طرفدارانِ یزید کو خوارج میں شمار کیا ہے۔
اکابر صحابہ کا فقر خلفائے ثلاثہ اور حضرت علی رضی اللہ عنھم کے اتحاد و اتفاق پر بے شمار دلائل دئے گئے ہیں خلفائے راشدین میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے لے کر حضرت علی رضی اللہ عنہ تک کسی نے بھی اپنے صاحبزادوں کو خلیفہ نہ بنایا حالانکہ سبھی خلفاء کے فرزندان موجود تھے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ یزید کی بادشاہت کے لئے بیعت کر رہے تھے خلفاء راشدین میںسے کسی کا بھی عمل نہ رہا ۔ اس کتاب میں مولانانے اُن واقعات کو بھی نقل فرمایا جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ خلافت جیسے عہدہ کا انکار فرماتے رہے۔ 
مولانا نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے واقعات جو شیعی کتابوں میں بھی ہیں‘ ان کی روشنی میں ثابت فرمادیا ہے کہ حضرت علی ؓ کو خلفائے ثلاثہ سے کبھی کوئی اختلاف نہ رہا ۔ اگر ہوتا تو چونکہ آپ ؓ باب العلم‘ فضائل و صفات کے ساتھ امام الاولیاء بھی تھے اپنے الہامات کے ذریعہ معلوم ہوجاتا کہ کون غلطی پر ہے اور آپ اُن کو ٹوک بھی دیتے مگر ایسا نہیں ہوا۔ تو مطلب واضح ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ خلفاء کے ثلاثہ سے راضی تھے۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مولابھی کہا گیا ہے۔ جیسا کہ حدیث شریف ہے میں جس کا مولا ہوں حضرت علیؓ بھی اس کے مولی ہیںمولی بمعنی مددگار‘ اس لئے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے وزارت کو (مددگاری) امارت پر ترجیح دے رہے تھے کہ وزیر مددگار ہی ہوتا ہے امیر کا۔
حضرت صدیق اکبر کی خلافت کے وقت ابو سفیان رضی اللہ عنہ کا حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف آنا اور یہ کہنا کہ زیادہ مستحق خلافت آپ ہی ہیں۔ ناسخ التواریخ‘ نہج البلاغہ وغیرہ کتب سے حضرت مولانا نے واقعات لکھے ہیں۔
جنگ جمل کی خبر آنحضرت ﷺ نے دی تھی جس کے ایک طرف حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور دوسری طرف حضرت علی رضی اللہ عنہ ہونگے۔ اس پوری روایت کو کنزالعمال کی کتاب الفتن سے نقل فرمایا ہے۔
غرض کہ آنحضرت  ﷺ نے ہر فتنہ کی خبر دی ہے اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بغاوت حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی جنگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ۔
کنزالعمال کی روایتوں میں یہ بھی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرما یا کہ ۳۰۰ سے زائد جو فتنہ پرداز ہوں گے اُن کے نام مع ولدیت بتاسکتا ہوں۔ اور فرمایا کہ سب سے پہلا فتنہ عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا قتل ہے۔ اور آخری فتنہ خروج دجال ۔
ابونعیم نے حلیۃ الاولیاء میں یہ حدیث نقل کی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا حق تعالیٰ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو امام الاولیاء مقرر فرمایا ہے۔ اس حدیث کو نقل کر تے ہوئے مولانا محمد انوار اللہ فاروقیؒ لکھتے ہیں:
’’اسی وجہ سے تقریبا کل سلاسل اولیاء اللہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے واسطے آنحضرت  ﷺ تک پہونچتے ہیں۔ اس لئے ضروری تھا کہ تعلیم روحانی خاص طور پر آپ کو ہوتی چونکہ ’’خلافت کبری‘‘ کے لوازم بھی اسی سے متعلق ہیں۔ اسی لئے وقت خاص میں اس کا حال بھی (شہادت علیؓ) آپ کو ضرور معلوم کرا یا گیا ہوگا۔
حضرت صدیق اکبرؓ اور حضرت بی بی فاطمہ رضی اللہ عنہا کے مابین تاریخ فدک کے سلسلے میں جو روایات ملتی ہیں۔ اس کے خلاصہ میں مولانا فرماتے ہیں۔
’’اگر فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بمقتضائے بشریت اس مقدمہ میں کسی قسم کا رنج بھی تھا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کے خلوص کے اثر سے وہ دفع ہوگیا تھا۔ جیسا کہ تحفہء اثنا عشریہ میں لکھا ہے کہ قطع نظر بیہقی وغیرہ کتب اہل سنت کے کتب شیعہ مثل عجاج السالکین وغیرہ سے ثابت ہے کہ ابوبکررضی اللہ عنہ کو جب فاطمہ رضی اللہ عنہا کا رنج اور خفگی معلوم ہوئی تو آپ ؓ ان کے پا س چلے گئے اور کہا کہ اے صاحبزادی رسولﷺ کی، آپ فدک کے باب میں جو کہتی ہیں سچ ہے مگر میں نے آپ کے والد ﷺ کو دیکھا ہے کہ آپ صاحبوں کے اور عملہ کی قوت کے بعد فقراء ومساکین میں فدک کے محاصل کو تقسیم فرمایا کرتے تھے۔ فرمایا : آپ بھی اسی طرح تقسیم کیا کرو۔ انہوں نے کہا خدا کی قسم یہ میرے ذمہ ہے، میں ایسا ہی کرونگا۔ فرمائیں: خدا کی قسم ایسا ہی کروگے؟ کہا: خدا کی قسم ایسا ہی کروں گا۔ اس پر فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا : یا اللہ تو گواہ رہنا اوریہ اقرار لے کر اُن سے راضی ہوگئیں، چنانچہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے وہ عہد پورا کیا۔ ص۱۹۸۔
غرض کہ مولانا نے شیعہ کے اعتراضات کے جوابات خود شیعہ ہی کی کتابوں سے دیے گئے، اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور حضرت علیؓ کے مابین جو خلوص تھا اس کو مختلف کتابوں سے ثابت فرمادیا ہے۔
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے وقت بلوائیوں کو اس عمل سے روکنے کے لئے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا اپنے دونوں صاحبزادوں کو مسلح ہمراہ بٹھادینا اور محمد بن ابوبکر کا پیچھے کی دیوار سے بلوائیوں کو کودنے کا مشورہ دینا، پھر شہادت حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے بعد اپنے دونوں صاحبزادوں کو سخت برہمی کرتے ہوئے طمانچہ اور سینے پر مارنا وغیرہ ان واقعات سے ثابت فرمایا : حضرت علیؓ شہادت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے ہر گز ہر گز راضی نہیں تھے۔ کلینی، نہج البلاغہ، ناسخ التواریخ وغیرہ کتب ان واقعات کے ماخذ ہیں۔
حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے اخراج کا واقعہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے ان کی طبیعت کے لحاظ سے ان کو کہیں تشریف لے جانے کہا۔ لہذا تشریف لے گئے جہاں آنحضرت ﷺ کی پیشن گوئی کے پیش نظر انکی موت واقع ہوگی اور تجہیز و تکفین کے لئے وہ لوگ آئیں گے جو عراق سے حجاز کی طرف جاتے ہوں گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ حضرت ابوذرؓ نے اپنی صاحبزادی سے کہا کہ ایک بکری ذبح کرنا کچھ لوگ آئیں گے اور بعد انتقال میری تجہیز وتکفین کریں گے۔ ان کو تمام کام کے بعد کھانے کے لئے کہنا اسیطرح ہوا۔
حضرت علیؓ کی شجاعت اور بہادری کے واقعات میں جنگ خیبر میں قلعہ کا دروازہ اکھاڑ کر اس سے سپر کا کام لینا۔ وہ ایسا دروازہ تھا جسکو  ستر آدمی بھی ہلانہ سکتے تھے، حضرت علیؓ کی شجاعت کا کیا عالم ہوگا کہ وہ تن تنہا صرف اس دروازہ کو اٹھالئے بلکہ سپر کا کام لیا۔
کتاب کے آخری حصہ میں مولانا نے ’’ عبداللہ بن سبا‘‘ کی فتنہ انگیزیوں اور زندقہ کو واضح فرمادیا ہے۔ کہ یہ حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے زمانہء خلافت میں اسلام قبول کیا تھا۔ اصل میں یہودی تھا اسلام کی بنیادیں ہلانے کی غرض سے اسلام میں داخل ہوا اور بڑا ہوشیار لکچرار آدمی تھا، ذہین تھا۔حضرت علیؓ کو خدا کہنے کہلوانے کیلئے مختلف تدابیر کرتا رہا۔ حضرت علیؓ نے اس کے اس طرح کہنے پر اس کو جلانے کا حکم دے دیا تھا۔ معافی چاہ کر وعدہ کیا تھا کہ اب میں کبھی ایسی حرکت نہ کروں گا۔ لیکن حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد اس کا فتنہ بہت تیز ہوتا گیا۔ عبداللہ بن سبا فرقہ غالیان شیعہ کا پہلا شخص ہے جو حضرت علیؓ کو خدا کہا تھا۔ کتب شیعہ سے بھی ثابت ہے کہ ابن سبا یہودی تھا۔ 
مولانا نے اسکی دوست نما دشمنی کو اسطرح لکھا کہ سو اس نے خلاف دین روایتیں تراشیں۔ اصل دشمنی ابن سبا کو یہودیت کی وجہ سے اسلام اور پیغمبر اسلام سے تھی۔
مولانا نے ابن سبا کے اسلام دشمن ہونے کو بولس صاحب (بادشاہ یہودیت) کے عیسائی بن کر عیسائیوں میں گھس آنا اور اپنی عیسویت کو تباہ وتاراج کرنا ، ٹھیک یہی طریقہ عبداللہ بن سبا نے اختیار کیا تھا۔ اس کو مختلف کتابوں سے ثابت فرمادیا۔
بولس صاحب یہود نے بیت المقدس کو خیر باد کہہ دیا جو تمام انبیاء کا قبلہ تھا ،ایک طرف کمرہ میں جاکر بیٹھا عیسائی بہت خوش ہوئے کہ ایک بادشاہ ہی ہمارے دین کو قبول کرلیاہے ، مگر وہ اس کی سازش کو سمجھ نہ سکے۔ وہ مذہب عیسوی سے بہت لوگوں کو باغی بنادیا۔ اور اسطرح اس کی بھی ایک جماعت بن گئی۔ بولس صاحب نے حضرت عیسی کو خدا سمجھنے پر مجبور کردیا۔ لیکن ان عیسائیوں میں ایک کامل الانسان شخص تھے انہوں نے علاحدگی اختیار کی اس واقعہ کے بعد مولانا آج کے متصوفین کے عمل پر کہتے ہیں کس قدر ان کا جاہلانہ طرز ہے کہ رسول خدا کو بشر اور خدا کے بندے ماننے کو تیارنہیں حالانکہ عبدہ و رسولہ بھی پڑھتے ہیں۔
غرض کہ ابن سبا نے ایک کمیٹی بنائی جس کا خود میر مجلس تھا اور منافقانہ اسلام ظاہر کرکے فتنہ انگیزی اور دین میں رخنہ اندازی شروع کی بعد میں یہودیوں کی ایک جماعت اس طرح داخل اسلام ہو کر رخنہ اندازی میں لگی رہی۔ 
مقاصد الاسلام (حصہ ششم) 
(صفحات:۲۹۹)
مباحث:
(۱) عبداللہ بن سبا کے حالات ، فتنہ کی ابتداء
(۲) وقائع متعلقہ شہادت حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ ۔
(۳) آرزؤے تبادلہ اہل شام یا شیعہ، مسئلہ رجعت
(۴) فرق قائلین، رجعت، علم باطنی، حصول ولایت
(۵) فضیلت تقوی، تقیہ کا اصل راز و حقیقت
(۶)شیعہ و خوارج کی تراشی ہوئی روایتیں۔
(۷)مسئلہ جبر وقدر، مناظرئہ امام اشعری وجبّائی
اس کے علاوہ مختلف مضامین صراحت کے ساتھ مذکور ہیں۔
تاریخ کامل سے، عبداللہ بن سبا کا یہودی ہونا ثابت ہے۔ ابن سبا حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے زمانہء خلافت میں اسلام قبول کر کے حجاز، بصرہ ، کوفہ، شام وغیرہ کا سفر گمراہ کرنے کی غرض سے کیا، لیکن اس کا مکر کہیں چل نہ سکا، مصر جاکر وہاں کے لوگوں سے موافقت پیدا کرلیا۔ حضرت عیسی علیہ السلام کے دوبارہ آنے کی تصدیق کے بعد فوری لوگو ںکے ذہن کو اس طرف موڑدیا کہ آنحضرت ﷺ مرتبہ میں حضرت عیسیؑ سے بدرجہا بڑے ہیں، تو آنحضرت ﷺ بھی دوبارہ آسکتے ہیں یہ خیالات لوگوں میں پھیلاتا رہااور حضرت علیؓ کو آنحضرت کا وصی بتلاکر لوگوں میں اس فتنہ کو بڑھاوا دیا۔ چونکہ اعلیٰ درجہ کا لکچرار تھا اپنی سحر بیانی سے ہر ایک بات ذہن نشین کروادیاتھا۔ ابن سبا ہی حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کا ذمہ دار ہے۔ چنانچہ مولانا اس کتاب کے صفحہ ۷ پر لکھتے ہیں۔
’’یہ فتنہ جس میں حضرت عثمان غنیؓ کی شہادت ہوئی نہایت خطرناک تھا جس سے اور فتنوں کا دروازہ کھل گیا۔ اور نیز فریقین کی کتابوں سے ثابت ہے کہ اسکا بانی مبانی ابن سبا تھا جس کے یہودی ہونے میں کسی کو شبہ نہیں اور یہ بھی فریقین کی کتابوں سے ثابت ہوچکا ہے کہ اس فتنہ کی ابتداء مسئلہ وصی اور خلافت بلا فصل سے ہوئی۔ ہر چند یہ مسئلہ علی کرم اللہ وجہہ کے لئے مفید تھا۔ مگر بجائے اس کے کہ آپ کو اس سے نفع حاصل ہوتا، سخت صدمہ پہونچا………‘‘ص۷
مولانا نے اس کتاب میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے کارنامے اور دین اسلام کے لئے آپ نے اپنی دولت بے بہا پیش فرمادی، تاریخ کامل، اور ناسخ التواریخ وغیرہ تاریخی کتابوں سے اور کنزالعمال وغیرہ سے حضرت عثمان غنیؓ کے بے شمار فضائل اور خود حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے توصیفی الفاظ ثابت فرمادئے ہیں۔ 
مولانا ان تمام روایتوں کو پیش کرکے، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یوں لکھتے ہیں۔
ان روایتوں سے ثابت ہے کہ آپ نہایت فیاض اور اسلام اور مسلمانوں کے نہایت خیر خواہ تھے۔ ص۱۳
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کا واقعہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا اپنے دونوں صاحبزادگان کو وہاں ٹہرانا، چالیس روز تک محاصرہ، ۱۸بیس روز کے بعد کھانا، پانی وغیرہ بند کردینا۔ ان تمام واقعات کو تاریخ کی روشنی میں مولانا ثابت فرماتے ہیں اور یہ واضح کرتے ہیں کہ عبداللہ بن سبا نے جس ذہانت سے مسلمانوں میں خون ریزی جاری رکھنے کا سامان مہیا کیا تھا وہ کس درجہ افسوس ناک تھا۔ جبکہ قاتلین سے پوچھا گیا تھا تو تقریبا ۲۰ہزار کا لشکر جو حضرت سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کی فوج میں شامل ہوگیا تھا پکارپکار کر کہہ رہاتھا کہ ہم قاتل ہیں وغیرہ۔ اور شیعان علی کا رویہ، بظاہر تو شیعہ لیکن درباطن دشمنی تھی۔ بالآخر حالات یہاں تک سنگین ہوگئے تھے کہ خود حضرت علیؓ کے لشکر میں شامل حضرات صحابۂ کرام بھی شبہ میں تھے کہ آخر حق پر کون ہے۔ حضرت علی کے لشکر میں فوجیوں کی عدم اطاعت، اور مسئلہ رجعت کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ، کبھی انتقال نہیں فرماسکتے یہاں تک کہ حضرت علیؓ کو ابن سبا نے خدا کہا تو حضرت علیؓ نے سجدہ کیا ثابت فرمادیا کہ میں تو بندہ ہوں سجدہ بھی کرتا ہوں اپنے خدا کو۔ اور اسطرح حضرت علیؓ نے ابن سبا کو جلادینے کا حکم فرمادیا تھا۔ بعد میں سفارش کے بعد ترک مقام کر کے رہنے کے لئے کہا گیا تھا۔
جب سنا کہ حضرت علیؓ کی شہادت ہوگئی پھر تو اس کی تحریک زور پکڑی اور مسئلہ رجعت کی طرف لوگوں کو اُکساتا رہا اس مسئلہ کے قائلین بھی جمع ہوتے گئے۔ وحی اور امامت کے مسئلہ میں بھی ابن سبا نے خوب گل کھلائے ہیں۔
اولو الامر کی اطاعت میں کلینی کی روایت پیش کرتے ہوئے مولانا علم باطن کی حقیقت پر روشنی ڈالتے ہوئے رقمطراز ہیں ’’اگرچہ بعض علماء ظاہر میں علم باطن کا انکار کرتے ہیں۔ مگر مذاہب اربعہ کے محققین علماء اس کے قائل ہیں بلکہ مرید ہوکر فیوض وبرکات حاصل کرتے رہے ہیں۔ در اصل علم باطن وہ علم ہے جو سینہ بسینہ چلا آتا ہے۔ ہر پیر اپنے جانشین کو علاوہ اتباع ظاہر شریعت کے خاص خاص باتوں کی وصیت کرتا ہے جو علمائے ظاہر کے مسلک کے مخالف ہیں مگر اہل طریقہ ان وصایا پر عمل کرنے کو نہایت ضروری سمجھتے ہیں کیونکہ در اصل وہ قرآن وحدیث کا لب لباب ہے‘‘۔ ص۵۶
خلافت کے مسئلہ میں کہ کلینی کی روایت کہ اللہ نے امانت کو اہل کے حوالہ کرنے کا حکم دیا ہے، مولانا اس کا ذکر کر کے لکھتے ہیں۔ 
’’امام کو چاہئے کہ امانت کو اپنے بعد کے امام کو پہنچادے کسی دوسرے کو نہ دے، اسی وجہ سے اولیاء اللہ کا دستور ٹھیرا ہوا ہے کہ بغیر اہلیت کے خلافت کسی کو نہیں دیتے اگر چہ اپنا لڑکا ہی کیوں نہ ہو، اس لئے کہ ہر کس و ناکس کو اسرار پر مطلع کرنا دین کو تباہ کردیتا ہے‘‘ ص۵۷
کلینی کی مختلف روایات سے ثابت ہوجاتا ہے کہ امامت کو سلطنت لازم نہیں ۔
اسی کلینی کے حوالہ سے رسول پاکﷺ کا ارشاد کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ طلب دنیا میں آخرت کا ضرر ہے اور طلب آخرت میں دنیا کا ضرر، تو ہم کو چاہئے کہ دنیا کا ضرر اختیار کرلیں، کیونکہ وہ اسی لائق ہے کہ اسکو ضرر پہنچایا جائے اور اسی کتاب میں ہے کہ دنیا کی محبت ہر گناہ کا سرہے۔ اور جس شخص نے ریاست طلب کی، ہلاک ہوگیا۔ ان تمام روایات کو بیان کرتے ہوئے مولانا لکھتے ہیں:
’’اب غور کیجئے کہ ائمہ اطہار کے پیش نظر جب یہ اُمور تھے اور بحسب صلاحیت فطری ان پر ان حضرات کا پورا عمل تھا اور اعلیٰ درجہ کے زاہد تھے تو کیونکر خیال کیا جائے کہ ان حضرات کو سلطنت اور دنیا طلبی مقصود تھی۔ ص۶۷
اِن صوفیۂ کرام واہل بیت عظام کے اعمال صالحہ پر نظر پڑتی ہے تو مولانا ان حضرات پر ہونے والے خطرات اور اس کے وجوہات اس طرح بیان کرتے ہیں۔
’’ہر چند یہہ حضرات سلطنت اور دنیا طلبی سے متنفر تھے، مگر چونکہ کمال تقدس کی وجہ سے طالبینِ حق، جوق جوق، ان حضرات کے ہاتھ پر بیعت کرتے تھے، اس لئے سلاطین کو یہ خیال پیدا ہوتا تھا کہ کہیں دعوائے سلطنت نہ کر بیٹھیں اسی وجہ سے درپے آزار رہتے تھے‘‘ ص ۶۸
ائمہ اطہار کے ارشادات جن سے صاف ظاہر ہوجاتا ہے کہ  ’’اولیاء اللہ جو اپنی کتابوں میں اپنے حالات اور تجربہ بیان کرتے ہیں یہ ائمہ اطہار ہی کی تربیت اور تعلیم کا اثر تھا اور اصل شیعہ اہلبیت کرام یہی حضرات ہیں‘‘۔ص۷۰
اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ اولیاء عظام شیعہ ہیں، شیعہ کے لفظ میں یہ معنی ہے کہ پہلے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے محبین میں سے تھے، شیعان علی کہلاتے تھے، بعد میں وہ جو حضرت علیؓ کے مخالفین ابن سبا کی لگائی ہوئی آگ سے متاثرتھے، وہ بھی بظاہر شیعان علیؓ میں شامل ہوئے مگر حقیقت میںدشمنانِ حضرت علیؓ سے تھے اب جو شیعہ کا لفظ عرف عام میں استعمال ہوتا اس کے معنی یہی ہیں کہ وہ دشمنانِ حضرت علیؓ ہیں۔ اور اولیائے کرام حقیقت میں محبان علیؓ ہیں۔ اور حقیقت میں شیعان علیؓ یہی ہیں۔
صوفیۂ کرام کی خصوصیات میں مولانا نے لکھا کہ اصول تصوف میں قوت القلوب، رسالہ قشیریہ اور احیاء العلوم وغیرہ کتب صوفیۂ میں صفات عالیہ جو پائے جاتے ہیں وہ صرف صوفیۂ کرام میں ہیں، کسی دوسرے فرقہ میں نظر نہیں آتیں۔ مولانا فرماتے ہیں کہ ان کتب (مذکورہ) کو دیکھنے سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی کو اپنے کاموں میں صرف فرمایا اور حدیث جابرؓ پر اور ان حضرات کے حالات پر نظر ڈالنے سے یہ بات مبرہن ہوجاتی ہے کہ ان تمام اُصولوں پر حضراتِ صوفیۂ کرام نے پورا پورا عمل کیا اس سے ظاہر ہے کہ اگر الفاظ اور اصطلاح سے قطع نظر کیا جائے تو حقیقی شیعہ صوفیہ کرام ہیں۔
مولانا نے اس حصہ میں ، تقوی کی فضیلت ، اللہ ہی کی طرف توجہ اور اخفائے اسرار سینہ بسینہ وغیرہ پر زیادہ تر کلینی کے حوالے دئے ہیں ، تقیہ کے اصل راز کے علاوہ حد توکل ویقین کے ضمن میں روایات پیش کئے ہیں اور فرماتے ہیں کہ یہ روایات کتب شیعہ کے علاوہ کتب اہل سنت میں بھی موجود ہیں۔
تصوف :۔ ص۸۳ پر کلینی میں روایت ہے کہ ابوعبداللہ علیہ السلام فرماتے ہیں کہ سرّ کا شائع کرنے والا شکی ہے اور جو اس کا اہل نہ ہو اس کے روبرو ظاہر کرنے والا کافر ہے اور جو شخص عروئہ وثقی کو مضبوط پکڑے اسکو نجات ہے، نضر جو راوی حدیث ہیں کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا، عروۃ الوثقی کیا ہے، فرمایا ’’تسلیم‘‘ انتہی۔ ص ۸۳ ۔ ۸۴
اس روایت کو بیان کرنے کے بعد مولانا نتیجہ خیر گفتگو فرماتے ہیں کہ ’’یعنی جو کچھ پیر کامل نے بیان کیا وہ قبول کرلیا جائے۔ ائمہ کرام جو مکاشفات اور مشاہدات بغرض تعلیم مریدوں سے بیان فرماتے تھے کہ سالک کو ایسے ایسے امور پر اطلاع ہوا کرتی ہے، بعضے لوگ سمجھ میں نہ آنے کی وجہ سے کسی ذی علم کے روبرو اس غرض سے بیان کردیتے تھے کہ شاید وہ کسی قسم کی توجیہ کرکے سمجھا دے۔
اس سے ظاہر ہے کہ اس کو مرشد کے کلام میں شک ہے اس لئے صاف فرمادیا کہ اسرار کو شائع کرنے والا شکی ہے اور نااہل کے روبرو بیان کرنااس وجہ سے کفر ہوگا کہ اس قسم کی باتو ںکو سن کروہ خود بھی گمراہ ہوگا اور لوگوں کو بھی گمراہ کریگا چنانچہ بعضے متصوفہ کا حال دیکھا جاتا ہے کہ تصوف سے استدلال کرکے نماز وروزہ وغیرہ اوامر ونواہی کو معاذ اللہ فضول بتاتے ہیں اور شریعت کی توہین کرتے ہیں جو یقینا کفر ہے۔ غرضکہ مرید صادق کو ضروری ہے کہ اسرار کو جو پیر کامل بیان کرے، تسلیم کرے اور فرائض اور کثرتِ نوافل سے تقریب الہی حاصل کرتا جائے تا کہ اسکو بھی وہ درجہ حاصل ہو جسکا حال حدیث قدسی میں مذکور ہوا کہ خدائے تعالی اسکی سمع، بصر وغیرہ ہوجاتا ہے۔ ص ۸۴۔۸۵۔
فضیلت اولیاء طریقت اہلبیت میں مولانا لکھتے ہیں کہ:
’’یہ وہی حضرات راسخ الاعتقاد ہیں، جنہوں نے پیرانِ عظام کے ارشادات کو تسلیم کر کے تصوف میں علما و عملا کمال پیدا کیا اور اسرار وانوار حاصل کئے اور ائمہ کرام نے ان کی تعلیم معنوی میں دلدہی کی۔ ص۸۵
ابن سبا اور اس کی کمیٹی کے لوگوں نے کیا کچھ نہیں کیا۔ یہودی تھا، انتقام کی غرض سے منافقانہ اسلام قبول کرکے خوب فتنہ برپاکیا آج ساڑھے تیرہ سو برس کے بعد بھی یہ فتنہ کم ہوتا نظر نہیں آتا مولانا لکھتے ہیں۔
’’ابن سبا آدمی کیا بلا کا پتلا تھا اُس نے ایک تدبیر ایسی سوچی کہ مسلمانوں کی ذلت تو کیا ان کے نبی کریم ﷺ کے اہل بیت کی ذلت وتوہین قیامت تک ہوا کرے اور خود مسلمانوں کی شہادت سے وہ مستند ہو اور انکو احساس تک نہ ہو کہ ہم کیا کررہے ہیں‘‘ ص۱۳۳
خلفائے ثلاثہ اور حضرت سیدنا علیؓ کے مابین اختلافی روایات تمام کی تمام ابن سبا کی اور اسکے ساتھیوں کی تراشی ہوئی روایتیں ہیں، اور یہ ایسی روایتیں ہیں کہ کوئی اہل ایمان اس کو تسلیم نہیں کرسکتا۔ روایات میں تضحیک کا پہلو بھی ہے، حضرت علیؓ کی الوہیت، رجعت اور وحی جیسے مخالفِ اسلام عقائد تھے جن کو ابن سبا نے ذہن نشین کرادیا تھا مولانا نتیجہ کچھ اس طرح نکالتے ہیں۔
’’اگر صرف نہج البلاغہ، اور ناسخ التواریخ وغیرہ کتب سیر وتواریخ حضرات شیعہ میں تعمق نظر اور غور سے دیکھ لئے جائیں اور قرائن سے پوری پوری مدد لیکر آزادانہ رائے قائم کی جائے تو صاف معلوم ہوگا کہ یہ کارخانہ ابن سبا کا جمایا ہوا ہے۔ ص۱۳۹
مولانا فرماتے ہیں کہ ابن سبا نے بولس صاحب (بادشاہ یہود) کی طرح خوب ہی یہودیت کے جواہر دکھائے غرض ہر قسم کے انتشار اور شر کا بانی ابن سبا ہی تھا۔
حضرت علیؓ نے تکفیر سے منع فرمایا۔ خوارج باوجود یکہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو کافر کہتے تھے مگر آپ نے ان کو بھی کافر نہیں فرمایا۔ ابن سبا نے مختلف تدابیر سے صحابہ پر لعنت کرنے کی جو تجویز کی اس میں علاوہ اس کے کہ مسلمانوں میں مخالفت پیدا ہو اور ایک بڑا نقصان یہ بھی ہے کہ حدیث کے مطابق آدمی بدترین خلق بن جاتا ہے۔
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر لعنت کی نوعیت سے متعلق مولانا فرماتے ہیں : ’’ص۱۶۹ تہذیب التہذیب میں لکھا ہے کہ حریز ابن عثمان محدث، حضرت علی کرم اللہ وجہہ پر ہر روز صبح وشام، ستر ستر بار لعنت کرتے تھے جب وجہ پوچھی گئی تو کہا کہ انہوں نے میرے ماں باپ، دادا، کنبے کو قتل کر ڈالا۔ یہ غصہ کا اثر تھا کہ باوجود یکہ محدث ہیں اور فن حدیث میں ید طولیٰ رکھتے ہیں مگر مغلوب الغضب ایسے کہ روزانہ ستر ستر بار ملعون ہو نا قبول یعنی حضرت علی کرم اللہ وجہہ پر لعنت ضرور کریں گے نعوذ باللہ من ذلک ومن المہالک اسی طرح بعض سادات باوجود سنی ہونے کے صرف اسی وجہ سے معاویہ رضی اللہ عنہ کو لعنت کرتے ہیں کہ اپنے جد امجد علی کرم اللہ وجہہ کی انہوں نے مخالفت کی تھی، اگرچہ جواز لعنت پر بہت سے واقعات سے استدلال کرتے ہیں کہ وہ ظالم تھے اور ایسے تھے اور ویسے تھے مگر دراصل منشاء اس کا غصہ اور تعصب وحمیت خاندانی ہے حالانکہ تعصب اہل بیت کرام کے نزدیک سخت مذموم ہے۔
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر لعنت کرنے والوں نے جو استدلالات پیش فرمائے ہیں، مولانا اس میںکلام فرماتے ہوئے عدم لعنت پر حضرت معاویہؓ کے دلائل پیش فرمادئے ہیں اور قرآن مقدس کی آیت سے ص۱۷۷ پراستدلال فرماتے ہیں۔ آیت یہ ہے : والذین جاؤا من بعدھم………انک رؤف رحیم۔گناہ بھی صادر ہوجائے تو بعد والے لوگ انکی مغفرت کی دعا کیا کریں۔
لعنت کے بارے میں مولانا لکھتے ہیں کہ فیصلہ کرنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔ ص۱۸۳، ۱۸۴۔
بہر حال تعصب کی حالت میں جو استدلال کئے جاتے ہیں، وہ ہرگز قابل اعتبار نہیں تعصب کا پردہ جب آنکھوں پر پڑجاتا ہے تو حق بات کبھی نہیں سوجھتی اس وجہ سے اہل سنت وجماعت نے تعصب کو ایک طرف رکھکر جس قدر آیات واحادیث اس باب سے متعلق ہیں ان کو پیش نظر رکھا اور اجتہاد کرکے فیصلہ کردیا کہ معاویہ رضی اللہ عنہ وغیرہ صحابہ پر زبانِ لعن وطعن نہ کھولی جائے۔ اور یہ بھی تصریح کردی کہ صحابہ کے باہمی جنگ وجدال، کتبِ تواریخ میں نہ دیکھے جائیں۔ یہ اس لئے کہ مقتضی اکثر طباع کا یہ ہے کہ ایک آدھ بات دیکھکر فیصلہ کردیتے ہیں اور شدہ شدہ تعصب کی نوبت پہنچ جاتی ہے، حالانکہ فیصلہ کرنا مجتہد کا کام ہے۔ص۱۸۴
حضرت رسول اکرم ﷺ کے قرابت داروں سے محبت میں سارے قریش کے قبیلہ والے صحابہ حضور ﷺکے قربت دار تھے سب سے محبت رکھنے کہاگیا ہے چاہے وہ ہاشمی ہو کہ اُموی ’’البتہ مدارج میں فرق ہے‘‘ بے شک اہل بیت کرام سے زیادہ محبت کی ضرورت ہے۔ مگر اس سے یہ لازم نہیں آسکتا کہ اوروں سے بغض رکھا جائے۔ ص۱۹۰۔
مولانا فرماتے ہیں ’’دیکھئے معاویہ رضی اللہ عنہ علاوہ اس کے آنحضرت ﷺ سے نسبی قرابت قریبہ رکھتے تھے حضرت کے سالے (برادر نسبتی) بھی تھے پھر ان پر لعنت کرنا کیوں کر جائز ہوگا۔ ص۱۹۱۔ …… رہا یہ کہ ان حضرات میں باہمی کچھ شکر رنجیاں واقع ہوگئی تھیں تو وہ دوسری بات ہے اگر ان کے ساتھ محبت ہے تو صحابی ہونے کی حیثیت سے نہ معاذ اللہ اس وجہ سے کہ علی کرم اللہ وجہہ کے وہ مخالف تھے۔ آنحضرتﷺ بھی یہ فرمایا ہے صحابی ہونیکی وجہ سے محبت ہوناچاہئے۔ص ۱۹۱
کسی سید صاحب کی کتاب (جواز لعنِ معاویہؓ) کا اشارہ کا مولانا نے جواب بھی دے دیا ہے۔ص۱۹۲ پر عفو ودرگزر کی اہمیت وافادیت پر نتیجہ حضرت علیؓ کے واقعات۔
مولانا مختلف روایات سے یہ اخذ کرتے ہیں کہ عفو اعلیٰ درجہ کا خلق ہے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے عفوودرگزر کی مثالیں پیش کر کے سیدنا علیؓ کے فضائل گِنائے ہیں، اور آپ نے اپنے مخالفین پر بھی کبھی لعنت نہیں فرمائی ہے۔ بغوا علینا اخواننا(یعنی مرے بھائیوں نے مجھ پر بغاوت کی ہے) کہہ کر اظہار محبت کیا تھا(اشقیاء کے بجائے اخواننا فرمایا)
حضرت علیؓ نے اپنے قاتل کو بھی ملعون نہیں کیا۔ مولانا نے اس کا اظہار ان الفاظ میں کیا ہے۔ ’’اب غور کیجئے کے قاتل پر جب یہ لطف وکرم ہوتو حضرت معاویہؓ وغیرہ مخالفین کو تو آپ نے اپنا بھائی فرمایا۔ص۲۰۸ سے آگے ص۲۰۹ پر مولانا فرماتے ہیں ’’اگر باوجود ایسے قرائن واضحہ کے ہم ایسے اکرم الناس سے حسن ظن نہ کریں تو پھر حسن ظن کا موقع ہی ہمیں کہا ں ملے گا۔ص۲۰۹حضرات شیعہ نے سیدنا علیؓ کے اکثر کارناموں کو جو خلفائے ثلثہ کے ساتھ پیش آئے تھے ان سب کو حضرت علی ؓ کا ’’تقیہ‘‘لکھا ہے۔
لیکن حضرت مولانا نے حضرات شیعہ ہی کی کتابوں مثلا کلینی، وغیرہ سے تقیہ کے معنی متعین کر کے حضرات شیعہ کے اس الزام کو غلط ثابت فرمایا ہے، تقیہ دراصل کذب کا نام ہے جسکی اجازت سخت ترین ضرورت کے وقت ہے۔ حضرت علیؓ نہایت صادق شخص تھے۔
مولانا ص۲۲۱ پر لکھتے ہیں:
’’آپ غور کیجئے کہ تقیہ جو خلاف واقعہ ظاہر کرنے کا نام ہے اس پر صدق کیونکر صادق آئے گا۔ اس سے ثابت ہے کہ تقیہ آپ کے نزدیک قریب قریب کفر کے ہے۔ وضعِ احادیث میں خوارج وشیعہ دونوں طرف سے زور ہوا تو ہزارہا احادیث موضوع شامل ہوگئے، اسی وجہ سے محدثین کو تنقیح و تنقید کی ضرورت ہوئی۔
اس وضعِ احادیث کے عمل کا اثر کس قدر منفی ہوتا گیا اس کا اظہار مولانا یوں فرماتے ہیں ’’غرضکہ طرفین سے حدیثیں مع اسناد باضابطہ وقتاً فوقتاً تیار ہوتی گئیں اور جن علماء کو حدیث میں تبحر نہ تھا انہوں نے ان حدیثوں کو اپنی کتابوں میں درج کردیا چنانچہ وہی حدیثیں استدلال میں پیش ہوتی جاتی ہیں‘‘ص۲۲۷۔
حدیثوں کے وضع میں شیعہ یا خوارج ہی پیش پیش تھے، مگر الحمدللہ اہل سنت وجماعت اس کا رِ شیعہ سے دور تھے۔
اس حصہ میں ابن عباس اور خوارج، حضرت علی اور خوارج کے علاوہ خوارج اور قیس کے درمیان مناظرہ بھی ہوا ہے اس کو بھی مولانا نے نقل فرمایا ہے اور اس قسم کی روایتیں کرنے والے کو بے اصل قرار دیا ہے۔ غرض خوارج کی بے تکی روایات جو حضرت سیدنا علیؓ اور اہل بیت کرام کے خلاف ہیں اسی طرح شیعہ اہل بیت کو شیعہ کی صحابہ کرام کے خلاف روایات ہیں۔ اس کا اثر یہاں تک ہوا مولانا لکھتے ہیں:’’ائمہ اہل بیت کو شیعہ معصوم جانتے ہیں، اسکے جواب میں بعضوں نے یزید کو حد سے زیادہ بڑھادیا، چنانچہ منہاج السنہ صفحہ۲۳۸ جلد دوم میں لکھا ہے کہ بعضے افراد قائل ہیں کہ یزید صحابی تھا اور بعض خلفائے راشدین میں اس کو شمار کرتے ہیں اور بعضوں نے تو اسکو نبی مان لیا ہے‘‘ص۲۴۳
مولانا ص۲۴۵ پر لکھتے ہیں’’اب کہیے کہ اس قسم کے خرافات جو تراشے گئے ہیں کیا ان کا کوئی اصل نکل سکتا ہے۔ اسی قسم کی حدیثیں طرفین سے بنائی گئیں۔ اور آپ نے دیکھ لیا کہ طرفین سے کس قدر افراط وتفریط ہے۔
طرفین کی اس معرکہ آرائی میں اہل سنت وجماعت داخل نہیں۔
مولانا فرماتے ہیں:
ص ۲۴۷ ’’ہر چند کسی کتاب سے اس کا پتہ نہیں چلتا کہ ابتداء اس جنگ دائمی کی کب سے اور کیونکر ہوئی۔ مگر میری دانست میں موجد اس کے امویہ اور خوارج ہونگے اس لئے کہ ان کی طبیعتوں میں عداوت کا سخت جوش ہے‘‘۔ص۲۴۷
مولانا آگے لکھتے ہیں:
’’غرضکہ طرفین سے افراط وتفریط دل کھول کر ہوئی، جس قدر حضرات شیعہ صحابہ اور خلفاء پر حملے کرتے ہیں، اس سے زیادہ خوارج وغیرھم حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور اہل بیت کرام رضی اللہ عنہم پر کرتے ہیں اور طرفین کا یہ اصول ٹہرا ہوا ہے کہ جو حدیث اپنے مفید مطلب جس کتاب میں ملے اس کو استدلال میں پیش کرتے ہیں اور جو حدیث وغیرہ اپنے مخالفِ مدعا ہو اس کورد کردیتے ہیں، گو کیسی ہی قوی الاسناد اور صحیح ہو‘‘ ص۲۴۸
مولانا اہل سنت وجماعت کی انفرادیت اور حقانیت پر یوں خامہ فرسائی کرتے ہیں ’’ص۲۴۸ بخلاف اس کے اہل سنت وجماعت کہ خیر الامور اوساطھا کا شرف ان کو حاصل ہے جو روایتیں فضائل اہل بیت وخلفاء وصحابہ میں طرفین سے پیش ہوتے ہیں سب کو تسلیم کرتے ہیں بشرطیکہ صحیح اور قوی الاسناد ہوں نہ انکو کسی حدیث کے رد کرنے کی ضرورت ہے نہ تاویل سے غرض کیوں نہ ہو جس طرح دین اسلام افراط وتفریط سے مبریٰ ہے اسی طرح مذہب اہل سنت وجماعت بھی بری ہے۔ص۲۴۸
اسی طرح مختلف حیثیتوں سے اہل سنت وجماعت کو متوسط اور افراط تفریط سے بری ثابت فرمادیا ہے۔
بشریت کا نظریہ :۔ اہل سنت وجماعت اور ابن عبدالوہاب نجدی کے درمیان بشریت مصطفی کے نظریہ کو مولانا اس طرح واضح فرماتے ہیں : وہابیہ کہتے ہیں کہ محمد ﷺ بھی ہم جیسے ایک معمولی آدمی تھے۔ اہل سنت وجماعت کہتے ہیں کہ بے شک آدمی ہیں مگر تمام آدمیوں سے بلکہ تمام عالم سے افضل ہیں، خدا تعالی نے آپ کو رحمۃ للعالمین بنایا اور علم اولین وآخرین آپکو عطا ہوا اس کے سوا اور بہت ساری خصوصیتیں ہیں جن کو حقانی علماء خوب جانتے ہیں‘‘ص ۲۵۲۔
مسئلہ جبرو قدر:۔ میں بھی مولانا نے اہل سنت وجماعت کو درجہ توسط میں ثابت فرمایا ہے مسئلہ تقدیر پر مولوی شبلی صاحب اہل سنت کے خیالات پر تنقید کرتے ہیں، مولانا جواب میں ارشاد فرماتے ہیں ص۲۶۴’’یہ بات واضح رہے کہ مسئلہ تقدیر میں گفتگو کرنے کا حکم نہیں، آنحضرت ﷺ اس مسئلہ میں گفتگو کرنے والوں پر خفا ہوا کرتے تھے۔ ص۲۶۴۔ حضرت علیؓ سے بھی قدر کا مسئلہ جب پوچھا گیا تو فرمایا کہ وہ اندھیری راہ ہے اس میں مت چلو، وہ خدا کا بھید ہے اس کے سمجھنے کی تکلیف مت اٹھاؤ۔
اس سے معلوم ہوا کہ یہ مسئلہ ہر ایک کی سمجھ کا نہیں۔ اہل سنت کا مذہب یہی ہے کہ قضا و قدر کے مسئلہ میں چوں وچرا نہ کیا جائے۔
قضا وقدر کے متعلق مولانا نے معتبر روایات پیش کرتے ہوئے ثابت کیا ہے کہ مولوی شبلی صاحب کی منہاج الکرامہ اور رسالہ فیض عام وغیرہ میں جتنے اعتراض اس مسئلہ میں عقلی طور پر پیش کئے گئے ہیں ان کا منشاء یہ ہے کہ یا تو ائمہ کے اقوال انہوں نے دیکھے نہیں یا دیکھ کر ان کو مانا نہیں بخلاف اہل سنت کے کہ انہوں نے قرآن وحدیث اور اقوال ائمہ کو تسلیم کرلیا۔ ص۲۸۲۔
اس سلسلہ میں رسالۂ فیض عام کا ایک مناظرہ بھی ہے۔ جو مسئلہ قضا وقدر اور خلق افعال پر ہوا تھا۔ مولانا نے اس مناظرہ کو لغُو اور گمراہی پر منحصر کیا ہے۔ مولانا نے امام جعفر صادقؓ وغیرہ کی تصریحات سے ثابت فرمایا کہ اللہ تعالی ہی خالق خیر وشر ہے۔اسی طرح مسئلہ خلق افعال اور قادر مطلق پر شبلی صاحب کے خیالات کو غلط ثابت کردیا ہے۔ آخر میں مولانا فرماتے ہیں:
ص۲۹۶ ’’غرضکہ قدریہ بندے کو فاعل مختار اور اپنے افعال کا خالق کہتے ہیںاور جبر یہ کہتے ہیں کہ بندہ مجبور محض ہے جس طرح لکڑی پتھر کوقدرت نہیں اسی طرح بندے کو بھی قدرت نہیں۔
آگے لکھتے ہیں:
غرضکہ مذہب اہل سنت متوسط اور افراط وتفریط سے بری ہے، نہ مطلق مجبور نہ مطلق مختار۔ کچھ مختار اور کچھ مجبور ہے، 
خلاصہ:۔ مولانانے اس حصہ میں ابن سبا کی کارستانیوں کا مکمل بیان کیا ہے۔ آخر میں خلاصہ یوں لکھتے ہیں: 
’’الحا صل ادنیٰ تامل سے یہ معلوم ہوسکتا ہے کہ ابن سبا کو منظور تھا کہ مسلمانوں میں مخالفت قائم کرے اور علی کرم اللہ وجہہ اور اہل بیت کرام کی محبت کو دام تزویر (فریب) بنائے تو اسکو یہ ضرورت ہوئی کہ خلفائے ثلثہ کی توہین کرے اور احادیث وواقعات تراشے اور دیکھا کہ تمام صحابہ بلکہ خود علی کرم اللہ وجہہ نے بھی ان کے ہاتھ پر بیعت کی تھی تو علی کرم اللہ وجہہ کی طرف تو تقیہ کی نسبت کی اور کل صحابہ کی تکفیر ہی کردی اور اسی کے مناسب روایتں تراشیں اور خوارج چونکہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے دشمن تھے اس لئے ان کے مقابلے میں انہوں نے بھی اپنے مفید مدعا حدیثیں اور واقعات تراش لئے اور طرفین سے خوب سب وشتم ہوئی اور ہورہی ہے۔ اہل سنت وجماعت کو چونکہ طرفین سے اعتقاد ہے اور کُل صحابہ کے ممنون احسان ہیں۔ ص۲۹۸،۲۹۹۔ اسی لئے صحابہ اور خلفائے راشدین میں اہل بیت کرام کی فضیلت میں حدیثیں قبول کرتے ہیں ان میں کسی کی تکفیر نہیں کرتے۔
مقاصد الاسلام (حصہ ہفتم)
  (صفحات :۱۸۷)
اس حصہ میں عجائب جسمانی کے طبی حالات۔ اسلام اور طب، قیامت ، وید آسمانی کتاب نہیں ، آریہ مذہب فطرت کے خلاف ہے۔ مذہب ارتقاء کارد، تجدد امثال، معدے کے حیرت انگیز حالات، وحی کے اقسام،مردے پر عذاب، محبت وشوق کے معنی، عشق حقیقی، عارفوں کی اجمالی حالت، شریعت کی ضرورت، ارادتِ مرید، مشاہدئہ جناب قدس، خوارقِ عادات ،اسرارِ طبیعت، واعظوں کو کرامات ومعجزے بیان کرنے کی ضرورت ونیز بہت سے مضامین مختلف نہایت متانت سنجیدگی سے بیان کئے گئے ہیں جو سراسمیگان وادی اشتیاق کے لئے رہبر کامل ہے۔
مولانا انوار اللہ فاروقیؒ نے اس حصے میں، عجائب جسمانی اور اس کے طبی حالات، اسلام اور ڈاکٹری تعلیم پر مفصل بحث کی ہے۔ معدے کے حیرت انگیز حالات میں اس کی قوت ہاضمہ وغیرہ پر ڈاکٹر ہکسلی کے رسالہ علم فزیولوجی (Physiology) مترجم رحیم خاں صاحب آنریری سرجن سے ثبوت فراہم کیا ہے۔
غذا اور اس کی حقیقت پر بحث کرتے ہوئے فنِ نباتات پر لکھی گئی عربی کتاب ’’الدر اللامع فی النبات‘‘ کے مختلف حوالوں سے مولانا نے اس مضمون کو ترتیب دیا ہے۔ انسان کی تخلیق مٹی سے کس طرح ہوئی اس پورے نظام کو قرآن حکیم کے علاوہ جدید سائنسی علوم کی روشنی میں دکھانے کی مولانا نے مکمل سعی کی ہے اور ساتھ ہی ڈارون کے نظریہ ارتقاء کا شاندار رد بھی کیا ہے۔ انسان کو تمام مخلوقات پر شرف و بزرگی حاصل ہے۔ اس کا ثبوت مولانا نے روز مرہ ہونے والے واقعات کی روشنی میں دیا ہے۔ اللہ رب العزت کے فرمان کے بموجب، زمین و آسمان کی تمام چیزیں انسان کے لیے بنائی گئی ہیں۔ مولانا نے مختلف انعامات خدا وندی کو اس حصے میں بیان کیا ہے۔ جیسے زمین انسان کے لیے غذائی اجناس فراہم کرتی ہے، آسمان سے چاند، سورج اور ستاروں کی روشنی، پھلوں اور پھولوں میں مزہ اور رنگت عطا کرتی ہے۔ زمین میں جانوروں کو انسان کی خدمت کے لیے مہیا کیا گیا، بعض سواری کے لیے کچھ بار برداری کے لیے اور کچھ جانوروں کا گوشت انسان کی غذا کے لیے مختص کیا گیا اور بعض انسانوں کی اندرونی اور بیرونی حفاظت کے لیے جیسے کتوں کو گھر کے باہر حفاظت کے لیے اور بلیوں کو گھر کے اندرونی حصے میں زہریلے کیڑوں وغیرہ سے حفاظت کے لیے قدرتی طور پر انسانوں کے ملازم بنائے گئے۔ جانوروں کی ان فطری مناسبتوں کا ذکر مولانا نے اس رسالے میں بڑے دلچسپ پیرائے میں کیا ہے۔ مہاراج دیانند سرسوتی جی نے جانوروں کو غذا کے طور پر استعمال کرنے کو نقصان عظیم اور ظلم قرار دیا ہے، جس کو مولانا انوار اللہ نے عقلی اور حسابی دونوں اعتبار سے مہاراج موصوف کے حساب کو غلط ثابت کردیا ہے۔ اس ضمن میں ویدوں کے مختلف اقتباسات پیش کرکے ان کے مضامین کو تضادات کا شکار اور فطرت کے خلاف بتلاتے ہوئے مولانا نے یہ ثابت کردکھایا ہے کہ وید آسمانی کتاب نہیں ہے۔
مادی اور جسمانی حالات کے تذکرے کے بعد مولانا نے اس حصے میں، روحانی ترقی کے سلسلے میں شیخ بوعلی سینا کی کتاب شفا اور کتاب النجاۃ سے چند ضروری اور اہم امور کا خلاصہ لکھ دیا ہے تاکہ معرفت الٰہی کے حصول میں یہ معاون ثابت ہوسکے۔ مولانا نے اس کے لیے، معجزات و کرامات کے ساتھ ساتھ عارفین کے مفصل حالات بھی لکھے ہیں۔ چونکہ مولانا کے زمانے میں کچھ عقل پرست لوگوں نے معجزات و خوارقِ عادات، فرشتوں کے وجود وغیرہ کے انکار میں کتابیں لکھنا شروع کیا تھا جس کا اثر مسلمانوں میں عام ہوتا دکھائی دے رہا تھا اس لیے اس غیر اسلامی نظریے کے تدارک میں مولانا انوار اللہ نے معجزات و خوارق عادات اور کراماتِ اولیاء کا خاص طور پر اس حصے میں ذکر کیا ہے۔ آخر میں واعظین سے خواہش کی ہے کہ وہ اپنے وعظوں میں معجزات و کرامات کا زیادہ سے زیادہ ذکر کریں تاکہ ایمان مستحکم ہوسکے جس کا بہترین ذریعہ یہ ہوگا کہ بزرگانِ دین کے واقعات بیان ہوں اور ان واقعات سے درسِ حیات مل سکے۔ مولانا لکھتے ہیں:
’’ایسے موقع میں واعظوں کا فرض ہے کہ پہلے ایمان کو قوی کرنے کی فکر کریں اور اس کی تدبیر یہی ہے کہ بزرگان دین کے حالات بیان کئے جائیں تاکہ ان کے کمالات کے مقابلے میں اپنے نقص پر نظر پڑے اور دلوں میں ولولے پیدا ہوں‘‘۔ 
مقاصد الاسلام کا حصہ ہفتم (۱۸۴) صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کے مضامین مولانا نے نہایت سنجیدگی سے بیان کئے ہیں، جو حق کے متلاشی عقل والوں کے لیے رہبر کامل کی حیثیت رکھتے ہیں‘‘۔ 
مقاصد الاسلام (حصہ ہشتم) 
(صفحات : ۲۸۵)
اس حصہ میں تفسیر سورہ ناس سے متعلق چند ارشادات ومضامین ودریافت اصل ہر شئے واعظین کو شیطان کے مکائد بیان کر نے کی ضرورت، اصلاح تمدن، عدم امکان، ہمسری مخلوق با خالق سلطنت اسماء حسنی، ابطالِ تناسخ، سلطنت نفسِ ناطقہ، عبودیت، تفسیر وسواس، تصرف شیطان اور نفس ، اعلی درجہ کا شکر، وسوسہ کا اثر افعال پر ،نفس، حق العباد، سماع موتی، ایمان واسلام واحسان، جن، سرقہ جسم انسانی، غوث الثقلین رضی اللہ عنہ کی سلطنت، کرامات اولیاء اللہ، مسئلہ وحدۃ الوجود وخلقِ افعال، برقی روشنی وغیرہ مضامین نہایت سنجیدگی سے بیان کئے گئے ہیں۔
فہرست مضامین:
 تفسیر قل
 دریافت اصل ہر شئی
 ضرورت ترکِ لوازم بشریت برائے ترقی
تفسیر اعوذ 
 انسان کے ساتھ شیطان کی دشمنی 
 پناہ میں آنے کا طریقہ 
اونٹ آنحضرت  ﷺ کی پناہ میں آیا 
واعظین کو شیطان کے مکائد بیان کرنے کی ضرورت  
وعید کی پروانہ کرنے کی قباحت اس سلسلے میں چند احادث لکھتے ہیں،  اصلاحِ تمدن (معاشرہ) 
 ضرورت ترغیب وترہیب 
 جنت اور دوزخ سے انکار کا منشا 
بحث الباء
 عدم امکان ہمسری مخلوق با خالق
 عالم عبادت 
کلامِ نفسی، کلام لفظی
مثالِ اعیانِ ثابتہ  
وجود محسوس نہیں  
مرشد کے کام 
سلطنت اسماء حسنی، الوہیت 
ربوبیت انسان سے متعلق
 غذائے آنحضرت  ﷺ 
شکر مخلوق ، استقامت
کوئی چیز فی نفسہ بری نہیں(۷۹) 
جواب اہل تناسخ (ص۸۰) 
 تفسیر لفظ الناس (ص ۸۴)
 تصغیر اسماء، تفسیر ملک
سلطنت نفس ناطقہ (ص۸۷) 
بر وقت تعجب، تفسیر لفظ ’’الہ‘‘ (۱۰۵) 
 خدائے تعالیٰ کی پناہ، ربوبیت عام 
تفسیر لفظِ ’’شر‘‘ (۱۰۸) 
 اسباب (ص ۱۱۱) 
 عداوت شیطان، مکائد شیطان، معنی عبودیت (۱۱۸) 
 تفسیر وسواس (ص ۱۲۰)
تصرف شیطان در نفس (ص۱۲۱)
 خوفِ الہی (ص ۱۲۷)
 لذت گناہ، اعلی درجہ کا شکر  
فرق خلق افعال وارتکاب افعال (ص ۱۳۸) 
 بری چیز کی تخلیق بری نہیں (ص ۱۴۸) 
سید الاستغفار کے معنی (ص ۱۴۲) 
تفسیر لفظ ’’خناس‘‘ (ص ۱۴۴) 
شیطان سے ڈرنا چاہئے (ص۱۴۴) 
نفس وسوسہ کوئی بری چیز نہیں (ص۱۴۷)
 توبہ (ص ۱۵۲)،  توبہ اور بیعت (ص ۱۶۰) 
 اثر بیعت (ص ۱۶۲) 
 عدم ضرورت عبادات (ص ۱۶۳) 
 موصول صلہ ، مراقبہ (ص ۱۷۰)
 اثرِ افعال بر نفس (ص ۱۷۳)
 گناہ میں دو جہتیں ہیں (ص ۱۷۴)
 توبہ سے حق العباد معاف نہیں ہوتا، صدر، حقیقت ہر ایک چیز (ص ۱۷۷)
 جسمِ انسانی انسان کا غلاف ہے (ص ۱۷۷) 
 سماعِ موتی (ص ۱۷۸) 
قبر میں مردہ کو اٹھاکر اس سے سوال، ایمان واحسان میں اسلام کی ضرورت (ص ۱۸۴) 
 تفسیر الجنہ (ص ۱۸۹) 
 پیدائش جن (۱۸۶) 
 سرقہ جسم انسانی (ص ۱۹۰) 
 اولیاء کا وقتِ واحد میں متعدد مقامات میں رہنا (ص ۱۹۳) 
 پل صراط کا باریک اور ایک وادی ہونا، عادات وخلاف عادت 
 درازی عمر جن، تاثیر اسماء وغیرہ و جن
 غوث الثقلین رضی اللہ عنہ کی سلطنت (ص ۲۱۳) 
خیال منفصل، کرامات اولیا ء اللہ (ص۲۲۱)
 مسئلہ وحدۃ الوجود د(ص ۲۵۴) 
مسئلہ خلق افعال (ص ۲۶۷)،  برقی روشنی (ص ۲۸۵)
حضرت مولانا نے سورہ ناس کی تفسیر فرماتے ہوئے لفظِ قل، پر مفصل علمی بحث فرمائی ہے تاکہ دین کے طلباء میں جامعیت پیدا ہوسکے۔ چنانچہ کتاب کی ابتداء میں بعد حمد وصلوۃ کے فرماتے ہیں:
’’سورئہ ناس سے متعلق چند اشارات ومضامین ہدیہ طلباء کئے جاتے ہیں۔ اگر غور فکر سے اس کو دیکھے تو غالبا اس امر کی صلاحیت پیدا ہوگی کہ تعمق نظر سے مضامین پیدا کرسکیں۔
لفظ ’’قل‘‘ اجوف ہے (یعنی ف کلمہ حروفِ علت : ا،و،ی میں سے کوئی ہو) عوام  قل میں صرف دو(۲) حروف تسلیم کرتے ہیں لیکن علمائے صرف(قَولَ) سے تَقُوْلُ  پھر  قوُلُ  پھر  قُل صیغہء امر کس طرح بنتا ہے مولانا فرماتے ہیں
’’الحاصل مصدر سے پہلا صادر فعل ماضی ہے جس میں کچھ زیادتی ہوکر مضارع بنا غرضکہ قال سے مضارع تقول بنا اور مضارع سے قل امر۔
غرضکہ مضارع اور امر میں مناسبت ہونے کی وجہ سے امر مضارع سے بنایا گیا اس طور پر کہ پہلے علامت مضارع حذف کی گئی کیونکہ اب وہ امر بننے والا ہے۔ اگر پہلے لوازم وخصوصیات باقی رہیں تو کوئی چیز نہیں بن سکتی۔ اسی وجہ سے اگر کوئی شخص کمال حاصل کرنا چاہے تو اس کو ضروری ہوگا کہ اپنی حالت سابقہ کے لوازم وآثار کو دور کردے مثلاً طالب عالم اگر عالم بننا چاہے تو جتنے لوازم وآثار جہالت کے ہیں جیسے تضیع اوقات، سستی، کاہلی، خود پسندی وغیرہ جب تک ترک نہ کرے عالم نہیں بن سکتا۔ جسطرح تقول کا (ت) جو لوازم مضارع سے ہے جب تک دور نہ کیا جائے وہ امر نہیں بن سکتا، اسی پر ہر قسم کی ترقیات کو قیاس کرلیجئے مثلاً جب تک لوازم ورسومِ بشریت فنا نہ ہوں ملکیت میں گذر ممکن نہیں۔
الغرض تقول کا (ت) امر بنانے کے لیے حذف کیا گیا۔ اب رہ گیا قْوْلُ مگر یہ خیال نہ کیا جائے کہ اب وہ مصدر بن گیا اس لئے کہ فرع اپنی اصل نہیں بن سکتی اور قطع نظر اس کے اس قْوْلُ کا پڑھنا ہی ممکن نہیں کیونکہ ابتداء میں سکون محال ہے۔ اس پر کھلی دلیل یہ ہے کہ جبتک ہم عدم میں تھے ساکن تھے کسی قسم کی حرکت ہم میں نہ تھی، پھر جب حق تعالی کو منظور ہوا کہ ہم وجود میں آئیں تو کُن کا ارشاد ہوا جس نے ہم میںابتداً کسی قسم کی حرکت پیدا ہوئی پھر پیاپے حرکات شروع ہوگئے کہ آج حلقہ بناء کل مضغہ وغیرہ یہاں تک کہ پورے انسان بن گئے، اگر وہ ابتدائی حرکت نہ ہوتی اور سکون ہی سکون ہوتا تو ہم اس درجہ تک کبھی نہ پہنچ سکتے۔
الغرض ابتداء بسکون ہونے کی وجہ سے صیغہء امر کا ممکن نہ تھا اس لئے اس کے پہلے ایک متحرک حرف لانے کی ضرورت ہوئی اور وہ حرف ایسا تجویز کیا گیا کہ عالم حروف یعنی منہ میں سب سے پہلے اس کا وجود ہو جو حلق کے انتہائی حصے سے نکلتا ہے، (جس طرح حروف یعنی منہ میں سب سے پہلے اس کا وجود ہو جو حلق کے انتہائی حصہ سے نکلتا ہے) جسطرح ابتداء بسکون محال ہونے کی وجہ سے ممکن نہ تھا کہ قْوْلُ ظہور میں آئے۔ اسی طرح عالم جو سکون عدم میں تھا بوجہ سکون ممکن نہ تھا کہ موجود ہوسکے۔ اس لئے پہلے اسی عالم میںسے ایک مقدس ذات کو متحرک فرمایا یعنی ہمارے نبی کریمﷺ کے نور مبارک کو جس کو تمام عالم پر ایسا تقدم ہے جیسے ہمزہ کو عالم حروف پر، اگر ہمزہ قْوْلَ کے پہلے نہ لایا جاتا تو  قْوْلَ کا عالم حروف میں ظہور محال تھا، اسی طرح اگر آنحضرت  ﷺ کا نور مبارک متحرک نہ ہوتا تو عالم کا ظور محال تھا جیسا کہ حدیث شریف : لولاک لما خلقت الافلاک میں ظاہر ہے۔ اور جسطرح ہمزہ کی کوئی شکل نہیں جیسا کہ کتب صرف میں مصرح ہے کہ کبھی بشکل واؤ لکھا جاتا ہے اور کبھی بشکلِ یاء وغیرہ، اسی طرح اس مقدس نور عالم امکان کو ص۸ ،۹،۱۰ الحاصل اس ضرورت سے امر کے آخر میں کون آگیا اب اس کی کوئی شکل نہیںجیسا کہ اس حدیث شریف سے مستفاد ہے: انا من نور اللہ وکل شیٔ من نوری غرضکہ اس متحرک ہمزہ نے گویا صیغہء امر کو وجود بخشا، جسطرح اُس مقدس نور نے عالمِ امکان کو۔ ص۸،۹ اور ۱۰ 
الحاصل اس ضرورت سے امر کے آخر میں سکون آگیا اب اُقُوْلْ بنا۔ دو ساکن ایک جگہ جمع ہوئے ایک ساکن حذف کیا گیا کیونکہ دو ساکنوں کے ملنے سے کوئی کام نہیں ہوسکتا۔ اگر ایک ساکن ہو اور دوسرا متحرک ہو تو متحرک کے طفیل میں ساکن بھی کچھ کرے گا جسطرح نابینا دیکھنے والے کے طفیل میں منزلِ مقصود تک پہنچ سکتا ہے۔
غرضکہ التقائے ساکنین سے واؤ گر گئی اور اُقُلْ ہوا، چونکہ قاف متحرک ہوچکا تھا اس لئے اب ہمزہ کی ضرورت نہ رہی اور وہ بھی حذف کردیا گیا اور قُلْ باقی رہ گیا۔
مولانا اس بحث کو مزید دلچسپ بناتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:
’’اگر چہ یہ تقریر بظاہر دل لگی سی معلوم ہوتی ہے، کیونکہ صرفی مباحث میں الہیات واخلاقی مسائل کی جوڑ لگادی گئی ہے مگر اہلِ بصیرت جانتے ہیں کہ ہمارے دین میں ایسے اُمور کی تعلیم دی گئی ہے، چنانچہ اس آیہ شریفہ سے مستفاد ہے۔ فاعتبروا یا اولی الابصار دیکھئے کل عقلمندوں اور اہل بصیرت کو عبرت حاصل کرنے کا حکم ہورہا ہے‘‘ ص۱۱
کوئی چیز فی نفسہ بری نہیں:
موجود ہونے کے اعتبار سے کوئی چیز بری نہیں ہوسکتی کیونکہ شر محض عدم ہے اور نفسِ وجود خیر محض ہے البتہ صفات وحالات کے اعتبار سے برائی آتی ہے مگر وہ بھی عام نہیں ہوتی بلکہ بعض کی نسبت وہ چیز بری ہوتی ہے اور بعض کی نسبت اچھی، مثلاً نجاست انسان کے حق میں بری ہے اور اسی کو گائے وغیرہ رغبت سے کھاتے ہیں۔
ایک ہی چیز کسی کے حق میں زہر ہے اور کسی کے حق میں تریاق، اس سے معلوم ہوا کہ کوئی موجود چیز شر محض اور ہر طرح سے بری نہیں ہوسکتی، ورنہ خالقِ عزوجل اسے پیدا ہی نہ فرماتا۔ ایک جو اعداد بنانے والا ہے جسطرح اسکو کل اعداد کے ساتھ الفت ومعیت ہے اسی طرح خالق عالم کو اپنے مصنوعات کے ساتھ بحیثیت خالقیت، محبت اور تعلق خاص اور معیت ہے۔ اسی وجہ سے ربوبیت الہی عام ہے، خواہ مومن ہویا کافر سب کو رزق دیتا ہے‘‘۔
بحث الف اور لام:ص۸۱ 
’’الف بالذات تمام عالم حروف پر محیط ہے، اور اس عالم کا کوئی فرد ایسا نہیں جسکو اس اعتبار سے تعلقِ خاص اس کے ساتھ نہ ہو مگر اس میں لام کو جو خصوصیت ہو وہ کسی کو نہیں۔ کیونکہ اس کے دل میں الف ہے جس طرح الف کے دل میں لام ہے۔ اس خصوصیت کے لحاظ سے جب الف ولام ملتے ہیں تو اقسام کے لطائف وظرائف پیدا ہوتے ہیں مثلا (لا) میں ’’لام‘‘ باوجود یکہ مقدم ہے مگر کتابت میں الف ہی مقدم ہے اسکی وجہ بجز اس کے اور کیا ہو کہ گویا ’’لام‘‘ نے کمالِ محبت سے الف کی عظمت کو پیش نظر رکھکر اپنی صدارت اس کو دیدی یہ مقتضی دلی محبت کا ہے۔ بخلاف اس کے آجکل دیکھا جاتا ہے کہ دوستوں میں کیسی ہی خصوصیت باہمی ہو مگر جہاں تک کوئی بات خلافِ مرضی ہوئی کہ لام کاف لکھنے لگے الف لام کی اس ترکیب سے گویا ایک مقراض تیار ہوئی جس سے اہل ایمان ماسوی اللہ کے تعلقات کو قطع کردیتے ہیں۔ اور لاالہ الا اللہ میں ایسے مستغرق ہوجاتے ہیں کہ ماسوی اللہ کی بالکل نفی ہوجاتی ہے۔لمؤلفہ
اگر خوابی پیوند باکبریا
بمقراضِ لا قطع کن ماسوی
ص ۸۲
الف لام کے ساتھ جب ملتا ہے تو ان دونوں کے ملنے سے عجیب عجیب حالات پیدا ہوتے ہیں، کبھی تو اسم جنس پر داخل ہو کر اس کو ایک معین شخص بنادیتے ہیں کبھی افراد و اشخاص سے کوئی تعلق نہیں صرف جنس یا ماہیت کے معنی میں اس کو خاص کردیتے ہیں اور کبھی تمام افراد کے معنی اس میں پیدا کردیتے ہیں جیسا کہ عالم معانی میں مصرح ہے، یہ قوت تصرف ان کی زبان حال سے کہہ رہی ہے کہ جب دوشخصوںمیں اتحادِ قلبی ہے تو وہ بہت کچھ تصرفات کرسکتے ہیں۔
دو دل یک شود بشکند کوہ را
پراگندگی آرد انبوہ را
مولانا اتحاد میں معنی آفرینی کرتے ہوئے آگے ارشاد فرماتے ہیں۔ ص۸۳
’’دیکھئے مسلمانوں کی جب تک یہ حالت تھی کہ ہر ایک کو دوسرے کے ساتھ قلبی محبت تھی، اُن کا بڑھتا قدم کبھی پیچھے نہ ہٹا او رجب سے یہ صفت جاتی رہی ہٹتا قدم آگے نہ بڑھا۔ص ۸۳
غرضکہ الف لام کے اتحادِ قلبی سے اگر کوئی سبق حاصل کرے تو فلاحِ دارین حاصل کرسکتا ہے۔ لام کو الف کے ساتھ جو اتحاد قلبی ہے اُس کا یہ اثر ہوا کہ باوجود یکہ حروف تہجی میں لام، الف سے بہت دور واقع ہے، لیکن اُسکی محبت قلبی نے الف کے ساتھ اُس کا ملادیا اور ان دونوں سے وہ کارِ نمایاں وقوع میں آئے کہ تمام حروف تہجی اگر ملیں تو بھی اس قسم کا ایک کام نہیں کرسکتے اسی پر قیاس کیجئے کہ جس بندہ کے دل میں خدا اور رسولﷺ کی کامل محبت قلبی ہو اور ہمیشہ ان کا خیال ان سے وابستہ رہے تو اس کے فیوض وبرکات اعلیٰ درجہ کے ہوں گے۔ اسی وجہ سے جب بندہ ترقی کرتا ہے تو حق تعالیٰ اُس سے وہ کام لیتا ہے جو خاصہ جناب کبریا ہے یعنی خوارق و عادات اُس سے صادر ہونے لگتے ہیں۔
کوئی چیز فی نفسہ بری نہیں:
خدا ئے تعالیٰ نے جس چیز کو پیدا کیا خواہ وہ اچھی سمجھی جائے یا بری اس کا پیدا کرنا برا نہیں ہوسکتا۔ بلکہ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ جس چیز کو خدائے تعالیٰ سے پیدا کیا وہ بری نہیں ہوسکتی۔ کیونکہ برائی اور بھلائی باعتبار آثار و لوازم کے ہوا کرتی ہے۔ نفس شئے کو اس سے کوئی تعلق نہیں۔ اس لئے کہ یہ امور اسکی ذات سے خارج ہیں۔ مولانا یہاں آگ کی مثال دیتے ہوئے سمجھاتے ہیں کہ آگ کو نہ برا کہا جائے نہ بھلا کسی کے حق میں جلادے تو بری ہے اور کھانا پکادے تو بھلی۔ پھر سانپ کسی آدمی کو کاٹے تو صحت مند کے لئے مضر مگر یہی سانپ کسی جذامی کو کاٹ لے تو صحت مند ہوجاتا ہے۔ اور جذامی سانپ کا عاشق بن جاتا ہے تلاش کرنے لگ جاتا ہے۔
کوئی فعل بھی فی نفسہ برا نہیں:
فعل بھی فی نفسہ ایک موجود چیز ہے جسکی برائی یا بھلائی باعتبار آثار ولوازم کے ہوگی۔ بسا اوقات اچھے کام بھی کسی وجہ سے برے اور برے کام اچھے مثلاً کثرت عبادت سے بہتر کوئی چیز نہیں، مگر ریا وغیرہ کی وجہ سے وہ بری ہوجاتی ہیں۔ص۱۴۰ 
کلید درِ دوزخ است آں نماز
کہ ازبہر مردم گذاری دراز
لیجئے نماز جو باعثِ دخولِ جنت ہے وہ دوزخ کی کنجی ہوتی جارہی ہے۔ اسطرح برا کام اچھا، اس کے لیے مولانا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا واقعہ لکھتے ہیں کہ وہ اسلام سے پہلے حضور  ﷺ کے لئے برے ارادے سے نکلے جب دیکھا حضور پاک  ﷺ کو تو ایسے فدا ہوئے کہ زندگی میں جنت کی بشارت پاگئے اور یہ فعل تمام اعمالِ حسنہ سے بہتر قرار پایا۔
یہ ایک ہی فعل ہے، یعنی چل کر راہ طے کرنا ایک اعتبار سے بدترین فعل تھا۔ اور ایک اعتبار سے بہترین فعل ہوا غرضکہ نفسِ فعل نہ برا ہے نہ اچھا بلکہ باعتبار وجود کے اُس کو اچھا بھی کہہ سکتے ہیں۔ تو اس اعتبار سے آدمی کو جس فعل میں تلذذ ہو اُسے نعمت کہنے میں کوئی تامل نہیں۔ص ۱۴۱ 
یہ صحیح ہے کہ شرعاً ممنوع ہونے کی وجہ سے اُسکا نتیجہ برا ہوگا اس اعتبار سے اسکو برا کہنا بھی ضروری ہے۔ص ۱۶۳ 
مولانا نے حضرت جامیؔ علیہ الرحمہ کی کتاب ’’نفحات الانس‘‘ میں نفس کو متَّہم بنانے کا واقعہ لکھا ہے کہ سالکانِ طریقت ایسے بہت گزرے ہیں کہ دوسرے کے گناہ کو اپنے ذمہ لے کر اُس کا بار اٹھایا کرتے تھے۔
نقل فرمایا کہ ہمارا طریقہ متابعت رسول اللہ  ﷺ کو مضبوط پکڑنا اور صحابہ کے آثار کا اقتدا کرنا ہے۔ اسی طریقے میں تھوڑے عمل سے زیادہ فتوح ہوتی ہے۔
یہہ واقعہ لکھ کر مولانا دورِ حاضر کے سست، کاہل الوجود متصوفین پر تنقید فرماتے ہیں ص۱۶۳: ’’ہمارے زمانے کے بعض حضرات صاف کہتے ہیںکہ ہمیں نماز، روزہ وغیرہ عبادات کی ضرورت نہیں ہم نے ترکِ وجود کردیا ہے اور اس پر اس شعر سے استدلال کرتے ہیں۔
نمازِ عاشقاں ترکِ وجود است
نمازِ زاہداں سجدہ سجود است
اور مریدین بھی اپنے پیر کے مسلک پر مرفوع القلم ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ اگر فی الحقیقت مرفوع القلم ہیں یعنی ادراک جاتا رہا ہے اور اچھے برے میں تمیز باقی نہیں جس طرح مجذوبوں کا حال ہے تو اُن کا مرفوع القلم ہونا درست ہے اور اگر یہ حالت نہیں ہے چنانچہ اس سے ظاہر ہے کہ وہ اپنے دعوے پر دلائل قائم کرتے ہیں تو وہ عنداللہ مرفوع القلم نہیں ہوسکتے۔
اسی طرح ’’نفحات الانس‘‘ اور تنبیہ المغترین وغیرہ کے حوالہ سے لکھا ہے کہ صوفیہ کے اخلاق میں سے کثرت توبہ اور استغفار بھی ہے۔
واقعہ لکھ کر ص ۱۶۵ پر مولانا فرماتے ہیں: دیکھئے امام شعرانیؓ اولیاء اللہ میں سے ہیں اور تمام صوفیہ سلف کے حال سے خبر دے رہے ہیں کہ سب استغفار اور توبہ کرتے تھے تو ہم لوگوں کو گناہ سے احتراز اور اس سے توبہ کرنے کی کس قدر ضرورت ہے۔
ص ۱۶۶ پر فتح باب کے اسباب میں استغفار و توبہ کو کس قدر اہمیت حاصل ہے واقعہ درج کرکے مولانا لکھتے ہیں:
’’دیکھئے ان حضرات کو خطرات اور خیالات پر توبہ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ برخلاف اسکے کھلے کھلے گناہ جن کے خلاف مرضی الہی ہونے میں ذرا بھی شک نہیں ہوسکتا، اُن گناہوں سے توبہ نہ کی جائے تو کہئے کہ فتح باب جو پیری مریدی سے مقصود ہے کیونکر ہوسکے۔
اولیا ء اللہ وقتِ واحد میں متعدد مقامات میں رہ سکتے ہیں:
ص ۱۹۲ پر مولانا نے اہل یورپ کے جن و ارواح کے وجود کو مان لینا واقعات سے ثابت فرمایا ہے اس سے اولیاء اللہ کے متعدد جگہ حاضر ہونے کو حضرت امام سیوطیؒ کی کتاب ’’القول المنجلی فی تطور الولی‘‘ سے ثابت فرمایا ہے۔
ص۱۹۳ میں لکھا ہے کہ ایک مسئلہ میرے پاس پیش ہواکہ ایک مجلس میں کسی نے کہا آج رات شیخ عبدالقادر طجطولحی (میرے پاس) تشریف لائے تھے اور رات بھر رہے، دوسرے نے کہا کہ یہ کیا ہے، وہ تو رات بھر میرے یہاں تھے اُس نے کہا غلط کہتے ہو۔
غرضکہ طرفین سے گفتگو بڑھی اور یہاں تک نوبت پہنچی کہ دونوں نے قسم کھائی کہ اگر وہ بزرگ آج رات میرے یہاں نہ تھے تو میری بیوی پر طلاق اور فیصلہ اس پر ٹھیرا کہ خود انہی حضرت سے پوچھ لیاجائے کہ آپ کہاں تھے۔ جب پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ اگر چار شخص بھی دعوی کریں کہ میں ان کے پاس تھا تو وہ صحیح ہے علماء میں گفتگو شروع ہوئی کہ کس کی بیوی پر طلاق واقع ہوئی۔ امام سیوطیؒ نے یہ فیصلہ کیا کہ کسی پر طلاق نہیں ہوئی۔ کیونکہ ایک شخص وقتِ واحد میں کئی مقامات میں کرامت سے رہ سکتا ہے۔
طبقات کبریٰ میں ابوالعباسؓ کے حال میں لکھا ہے کہ وہ صاحب کرامات تھے۔ ان کے شاگرد عبدالغفار اپنی مصنفہ کتاب ’’وحید التوحید‘‘ میں لکھتے ہیں کہ جمعہ کے روز ہم شیخ کی خدمت میں حدیث پڑھ رہے تھے اور ان کی باتوں پر ہمیں لذت حاصل ہوتی تھی ایک لڑکا وضو کرنے آیا، شیخ نے کہا : ائے مبارک، کہاں جاؤگے، کہا: مسجد کو۔ فرمایا: قسم ہے (میں) نے نماز پڑھ لی لڑکا جب مسجد کو گیا تو لوگ نماز پڑھ کے مسجد سے نکل رہے تھے۔ اور لوگ اُن پر سلام کررہے ہیں۔ یہ سن کر میں نے شیخ کے پاس آکر حال دریافت کیا، فرمایا کہ مجھے قوتِ تبدل صورت دی گئی ہے۔
اسطرح حج میں بزرگوں کو دیکھا گیا اور یہاں بھی، کعبہ کو اہل اللہ کا طواف کرتے دیکھا گیا، کعبہ اپنی جگہ بھی حاضر ہے اور یہاں بھی، اہل اللہ کو مطاف، عرفات پر بھی دیکھا گیا۔ ایسے بے شمار واقعات ایک جسم کئی جگہ حاضر ہونے کے لکھا ہے۔
ص ۱۹۷ پر لکھا ہے کہ شیخ عبدالقادر جیلانیؒ سے قضیب البان موصلیؒ کا حال دریافت کیا گیا فرمایا وہ ولی مقرب وصاحبِ حال وقدم صدق ہیں، کسی نے کہا: ہم نے تو کبھی نہیں دیکھا کہ انہوں نے نماز پڑھی ہو، فرمایا: وہ وہاں نماز پڑھتے ہیں، تم اُن کونہیں دیکھ سکتے،میں اُنہیں دیکھتا ہوں کہ موصل میں یا اور کسی شہر میں نماز پڑھتے ہیں تو وہ باب کعبہ پر سجدہ کرتے ہیں۔
جنتی جہاں چاہے جاسکتا ہے دیدارِ الہی مومن کوہی ہوگی اور جن و ملائکہ کو نہیں اس لئے مومن جنوں کو دیکھیں گے جن مومن کو نہیں دیکھ سکتے وغیرہ۔ یہ کرامت ، شرافت کی وجہ سے ہے یہی چیززندگی میں دنیا میں عطا ہوجاتی ہے تو ولایت سے اکثر جگہ حاضر ہوسکتے ہیں۔
ص۱۹۴ :طبقات کبری میں لکھا ہے صفی الدین بن ابی المنصور نے اپنے رسالہ میں لکھا ہے کہ شیخ مفرج کا عجیب واقعہ یہاں گزرا کہ ایک شخص نے حج سے آکر اپنے احباب میں ذکر کیا کہ شیخ مفرج کو میں نے عرفات میں دیکھا۔ دوسرے نے کہا: وہ تو دماتین سے کہیں نہیں گئے دونوں میں گفتگو یہاں تک بڑھی کہ ایک نے قسم کھا ئی او رکہا: اگر میں جھوٹ کہہ رہا ہوں تو میری عورت پر طلاق دونوں نے شیخ کے پاس جاکر کہا کہ ہم دونوں نے اس معاملہ میں طلاق کی قسم کھائی ہے۔ فرمایا: کسی کی عورت پر طلاق نہیںمیں نے پوچھا کہ جب ایک شخص سچا ہے تو دوسرے کی عورت پر طلاق پڑنی چاہئے۔ اُس وقت مجلس میں بہت سے علماء حاضر تھے۔ شیخ نے فرمایا کہ اس مسئلہ میں تم لوگ گفتگو کرو۔ ہر ایک نے اپنی اپنی رائے بیان کردی مگر تشفی نہ ہوئی۔ آخر میں مجھ سے فرمایا کہ تم وضاحت سے بیان کرو میں نے کہا جب کسی کی ولایت متحقق ہوجاتی ہے تو وہ ہر صورت کے ساتھ متشکل ہوسکتا ہے اور اپنی روحانیت کی وجہ سے متعدد جہات میں وقتِ واحد میں جاسکتا ہے او یہ سب کام اس کے ارادہ سے ظہور میں آتے ہیں اس وجہ سے جو صورت کہ عرفات میں دیکھی گئی حق تھی اور جو صورت کہ دماتین میں دیکھی گئی وہ بھی حق تھی۔ شیخ نے فرمایا: اور امام یافعیؒ کا قول نقل کیا ہے کہ اس قسم کی بات بعید نہیں ہے۔
فقہاء نے تصریح کی ہے کہ کعبہ معظمہ کو لوگوں نے دیکھا ہے کہ بعض اولیاء اللہ کے طواف کے لئے گیا حالانکہ اُس وقت وہ مقام سے منتقل نہیں ہوا تھا۔
ص ۲۱۱ میں شیخ اکبر قدس سرہ نے فتوحات کے بابِ مقامِ معرفت محبت میں لکھا ہے کہ اشبیلیہ میں ایک عارفہ تھیں جنکا نام فاطمہ بنت مثنی تھا۔ ان کی حالت بیان کرتے لکھا ہے کہ ایک روزانہوں نے کہا کہ میر ے حبیب نے مجھے سورۃ فاتحہ دی ہے جو مر ی خدمت کر تی ہے چنانچہ اس سورۃ فاتحہ کو بھیج کر خاتون کے شوہر کوجو دوسرے گاؤں میں تھا بلالیا۔
ص۲۱۳دائرۃ المعارف میں معلم بطرس بستانی سے روایت نقل کی ہے کہ ایک شخص حضر ت عبد القادرجیلانی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضرہوکر کہاکہ میر ی ایک لڑکی گھر کے چھت پر چڑھی تھی وہاں سے وہ غائب ہوگئی آپ نے فرمایاکہ آج رات کو تم محلہ کرخ کے ویرانہ میں جاؤ اورپانچویں ٹیلہ کے پا س بیٹھو اورزمین پر یہ کہتے ہو ئے ایک دائرہ اپنے اطراف کھینچ لوکہ بسم اللہ علی نیت عبدالقادر جب اندھیراہو جائے گا توجن کی ٹکڑیاں مختلف صورتوںمیںتم پرگزریں گی کہ جن گزرتے رہے اور بادشاہ اجناء نے خدمت کے لئے کہا تو فوری لڑکی اور سرکش جن کوحاضر ہونے کہا سرکش جن لڑکی کو لے کر حاضر ہوا قتلِ جن کا حکم ہوا لڑکی کو اس شخص کے حوالہ کیا گیا۔
۲۱۶ پر حضرت شیخ الاسلام رقمطراز ہیں کہ
’’میرے ایک دوست ہیں جنکو میں چالیس سال سے جانتاہوں کہ نہا یت متقی محتاط اور باخدا شخص ہیں جن کے تقدس پر صدہالوگ گواہی دیتے ہیں اور ان کا فرزند ، جنکی نشوو نماصلاح و تقویٰ میں ہوئی ان دونوں سے خود میںنے سناہے اور میں یقینا کہتاہو ں کہ ان کے صد ق بیانی میں مجھے ذرابھی شک نہیں ۔ ان کا نام کسی مصلحت سے میں ظاہر نہیں کرسکتا ۔ ان دونوں صاحبوں کا بیان ہے صاحب مرقوم الصدر نے اپنے چھوٹے لڑکے کی شادی کی اسکے ساتھ ہی دولہ بیمارہوا چونکہ صاحب موصوف خودبھی عامل ہیں انہوںنے دریافت کیا تومعلوم ہوا کہ جن مسلط ہوگیاہے۔ بہت کچھ تعویذ فلیتے کئے کچھ فائدہ نہیں ہوا آخر لوگوں کی نشاندھی پر حضرت میراں داتارقدس سرہ کی خدمت میں مع بیمار حاضر ہو ئے جن کا مزار اناؤہ شریف اسٹیشن اونچا علاقہ گجرات میں واقع ہے۔
واقعہ لکھا کہ جن کہتا ہے کہ میں نے منع کیا تھا کہ وہ لڑکی نہ بیاہی جائے اسکی اطلاع میر محمود پہاڑی شریف کو دی ہے۔ آخر کار ایک کمیٹی ہوئی جسکے میر مجلس حضرت خواجہ اجمیریؒ اور چھ ارکان جن میں: ۱)حضرت باباشرف الدین صاحب برھمادی، ۲)حضرت نصیر الدین چراغ دہلوی، ۳)حضرت ابوسعید بغدادی، ۴)حضرت بابا شرف الدین پہاڑی شریف حیدرآباد۔ اہل کمیٹی نے زور دیا کہ ایسی حرکت اب ہرگز کبھی نہ ہوگی۔ مگر اس نے نہ مانا اور کہا کہ میں اس کمیٹی کے حکم سے راضی نہیں شہنشاہ کے پاس اس مقدمہ کی مثل روانہ کردی جائے۔ چنانچہ بغداد شریف کہ مثل روانہ کردی گئی اور مجلس برخواست ہوئی۔ تیسرے اجلاس میں حضرت غوث الثقلین کا فرمان صادر ہوا کہ توکیا سمجھتا ہے اگر میں چاہوں تو تجھے جلا کر خاک سیاہ کردوں مگر تونے جب ان کو اطلاع کردی تھی ……ہمارے لوگوں کی شان میں تونے جو بے ادبی کی ہے اس کی پاداش میں یہ سزادی جاتی ہے کہ پابزنجیرکرکے اجمیر کے فلاں پہاڑمیں پانچ سال بامشقت محبوس رکھاجائے گا اور روشن علی صاحب داروغہ مجلس کو حکم دیاگیا کہ دو دفعہ مشقت لی جائے ۔ اور طر ف ثانی پر ایک ہزار روپئے جرمانہ کیاگیا اسکے بعد بیڑیاں اور ہتھکڑیاں ڈالی گئیں وغیرہ…
مقاصد الاسلام (حصہ نہم)
صفحات(۳۲۴)
مقاصد الاسلام (حصہ نہم) معجزاتِ نبوی کا حسین گلدستہ ہے، جس میں مولانا انوار اللہ فاروقیؒ نے احادیث صحیحہ پیش کرکے مفید عام نتائج برآمد کئے ہیں۔ مولانا کے عہد میں کچھ لوگ تبرکات سے عقیدت و محبت رکھنے کی بجائے طرح طرح کی توجیہات و شبہات پیدا کررہے تھے۔ مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے ہم خیال افراد معجزات کا منظم طور پر نہ صرف انکار ہی کررہے تھے بلکہ معجزات و خوارق عادات کو جادو اور سحر کا مفہوم دے رہے تھے اور کم علم افراد بدعقیدہ ہوکر حصولِ برکات کے بڑے ذخیرے سے محروم ہوتے جارہے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ مولانا انوار اللہ نے اس کتاب میں معجزات کے منکرین کا مدلل جواب بھی دیا ہے اور ساتھ ہی ساتھ تقاضائے وقت کے پیش نظر بڑی کاوش اور مستعدی سے معجزات نبوی کا ایک طویل سلسلہ اس حصہ میں قائم کردیا ہے جس کے مطالعے سے یقینا اپنے نبی سے سچی محبت اور تعظیم و توقیر کے پہلو کو بھی تقویت ملتی ہے۔ یہی مولانا کی تحریر کا عین مقصد بھی ہے۔
مولانا انوار اللہ فاروقیؒ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ مبارک کے اثرات میں لکھا ہے کہ کھجور کی ڈالی تلوار ہوگئی۔ لکڑی کے تلوار بن جانے کو مولانا نے جدید سائنس کے اصولوں سے ثابت کیا ہے۔ اس کے علاوہ کئی اور معجزات اس رسالے میں بیان کئے گئے ہیں جن میں دستِ مبارک سے چہرے کا روشن ہوجانا اور اس کی برکت سے قرآنِ حکیم کا حفظ ہوجانا، حضرت جریر رضی اللہ عنہ کا شہسوار بن جانا، جنون کا دفع ہوجانا اور اسی دستِ مبارک کی برکت سے بھوک ختم ہوجانا وغیرہ۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیارات و تصرفات کا ثبوت اور اس کی حقیقت کتاب و سنت سے ثابت ہے۔ حضور کے دئے ہوئے کنکریوں سے کنویں کا پانی سے بھرجانا، انگلیوں سے چشمے جاری ہونا، خارج شدہ آنکھ کا پھر سے اپنے مقام پر لگ جانا، اکیس کھجوروں کا دستِ مبارک مس کرنے کی برکت سے دس ہزار کی تعداد میں ہوجانا، ایک سیر جو کی غذا میں اَسی ہزار آدمیوں کا سیر ہوجانا، لاغر اور قریب المرگ بکری کا دودھ دینا، ایک مشتِ خاک سے کافروں کا اندھا ہوجانا، چھڑی کے اشاروں سے بتوں کا گرجانا، کنکریوں کا بات کرنا اور چاند کا دو (۲) ٹکڑے ہوجانا وغیرہ جیسے معجزات اس رسالے میں جمع کئے گئے ہیں۔ یہ تمام معجزات دراصل خدائی طاقت و تصرف سے انجام پارہے تھے جیسا کہ مولانا لکھتے ہیں:
’’ظاہرا ان (معجزات) کا ظہور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دست و زبان وغیرہ جوارح سے ہوتا تھا مگر دربا طن وہ خدائے تعالیٰ کا فعل تھا‘‘۔ (۳۹)
یہ امر مسلم ہے کہ فطرتی امور میں تبدیلی نہیں ہوسکتی لیکن اللہ نے چاہا تو ناممکن بھی ممکن ہوسکتا ہے چنانچہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا تصرف ان فطرتی امور میں بھی جاری و نافذ تھا۔ مولانا انوار اللہ رقم طراز ہیں:
’’دیکھئے قانون میں بھی اقتدار شاہی، قوانین سے مستثنیٰ ہوا کرتا ہے چونکہ حضرت کا تصرف حق تعالیٰ ہی کا تصرف تھا اس لیے فطرتی امور میں اس کا اثر ہوتا تھا‘‘(۲)۔ 
غرض، اس حصے میں مولانا انوار اللہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ان اختیارات و تصرفات کو عطائے خداوندی سے بتایا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح کی قدرت دئے جانے کے مقاصد بھی نہایت شرح و بسط سے مولانا نے لکھے ہیں۔ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے لعابِ دہن وغیرہ سے برکت حاصل کرنے کے سلسلے میں صحابہ کرام کے چند واقعات بھی اس رسالے میں ملتے ہیں۔ مولانا نے یہ بھی لکھا ہے کہ درخت اور پہاڑ بھی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل بجا لاتے ہیں۔ 
صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین، خلاف عقل یا اپنی مزاج کے خلاف بھی کوئی بات رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سن لیتے تو اختلاف کئے بغیر ہی بلا تامل رسول خدا کی بات مان لیتے تھے، مولانا انوار اللہ کہتے ہیں کہ چونکہ صحابہ کرام سعیدِ ازلی تھے، ایسے خلافِ عقل و مزاج واقعات سے ان کے ایمان میں تذبذب نہیں آسکتا تھا۔ تبرکات رسول اختیارات و تصرفات رسول کے واقعات صحابہ کرام دیکھ دیکھ ان پر ایمان لاچکے تھے اس لیے مولانا انوار اللہ فاروقیؒ، مسلمانوں سے مخاطب ہوکر کہتے ہیں کہ صحابہ کرام ان تبرکات کو مان کردیندار، ایمان دار ہوگئے تھے تو پھر آج کے ملاؤں کی بات سن کر صحابہ کرام کی خلاف ورزی کرکے برکات سے محروم کیوں ہوتے ہیں۔
اس رسالے کے ذریعے مولانا نے مسلمانوں کی اصلاح کی خاطر، ان کو صحابہ کرام کے جذبہ ایمانی سے جڑے رہنے اور اللہ رب العزت کے عطا کردہ تبرکات کے اس عظیم ذخیرے سے ہر وقت استفادہ کرتے رہنے کا خیر خواہانہ مشورہ بھی دیا ہے۔
تین سو سات (۳۰۷) صفحات پر مولانا نے معجزات و تبرکات رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو احادیث صحیحہ کے ساتھ ساتھ اس رسالے میں، الخصائص الکبری، کنزالعمال، سیرۃ النبویہ، شفا شریف، شمس التواریخ، مواہب اللدنیہ اور اس کی شرح سے واقعات نقل کئے ہیں اور ہر واقعے کے بعد مولانا نے بڑی خوبی اور انتہائی متانت سے واقعات پر تبصرہ اور ان کا شاندار تجزیہ بھی کیا ہے۔ اس دوران مذاہب باطلہ کا رد اور اہل سنت و جماعت کے مسلک کی تائید میں اقوال بزرگان دین بھی پیش کئے گئے ہیں۔ تمام مضامین تحقیقی ہیں، جن کا انداز سخن، سادہ اور اخلاص سے بھرپور ہے۔ 
مقاصد الاسلام (حصہ دہم )
(صفحات ۱۸۰)
اس حصہ میں واقعات لشکر حضرت اسامہ ؓ ،مخالفت حضرت صدیق اکبرؓ ازہمہ صحابہ کمال ایمان وپیروی صدیق ؓ وتلقین مسائل تصوف وجہاد بامانعین زکواۃ مسئلہ اتباع پر حکم روانگی افواج پر ملک کسر یٰ  قیصر ۔ مقابلۂ ابن عمر ؓ ازروبلیس…حکم حضرت عمرؓ نسبت سوختن مکان سعد بن وقاصؓ، حال سعدبن وقاصؓ، کیفیت مکانات آنحضرت ﷺ، واقعات عدل فاروقی، حالات زہد فاروقی، صبر واستقلال خالدؓ ووجہ آن ۔ ثبوت مراقبہ معنی مراقبہ مسئلہ بیعت وجہ حدوث ۔ بیعت مشائخین ۔ واقعہ آیت انَّ اللہ اشتریٰ،معنی ومارمیت اذرمیت الخ گر فتن عمر ؓ نصف مال ازعمرو بن عاصؓ نفوس قدسیہ صحابہ ۔ فتح قلعہ حلب ۔ تجلی الہی وقت جنگ، حسرت بر عدم شہادت واقعہ آراستہ کردن ۔ معاذؓفرزند خود نوبانعرابرائے مقابلہ شحص قوی ، واقعہ حلب وحالات یوقناء یوحنا، مسئلہ ندائے یامحمدﷺ اسلام یوقنا،ؓ قوت تصرف آنحضرت دراں عالم ، اسلام روماس و زوجہ اوندائے وامحمدﷺ …درجنگ مسیلمہ کذاب ، واقعہ مر ج القبائل وابوالہول ، حالات فتح دمشق،  واقعہ غزوہ یرموک ، واقعات فتح انطاکیہ ، خواب بنی ہرقل ، نسبت زوال سلطنت خودوفاداری صحابہ ؓوحالات صحابہ رضوان اللہ علیھم اجمعین دربارہ حمایت دین، واقعات تمنائے شہادت ، شجاعت قوت مروت ، تواضع وفصاحت وکمال عقل وراستبازی وحلم عفو  وسخاوت آنحضرت ﷺ اخلاص و توکل صحابہ، مراعات ابوعبیدہؓ بہ اہل حمص، نفوس قدسیہ صحابہ، اثر خط عمرؓ ، اسلام جارج قاصد ہامان وغیرہ وغیرہ ،مضامین نہایت متانت وسنجیدگی کے ساتھ بیان کئے گئے ہیں ۔
اس (دسویں ) حصہ کا مسودہ مولانا انواراللہ فضیلت جنگ علیہ الرحمہ کی حیات میں ہی تیار ہواتھا ، چونکہ مولانا جمادی الاول ۱۳۳۶؁ء میں وفات پاگئے اور بعد وفات حسرت آیات مولانا حبیب الرحمن صاحب شروانی کی منظوری سے اشاعت العلوم شبلی گنج سے شائع کیاگیا۔
صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کے حالات وآداب جب کہ خدا اور رسول سے کیسا عشق اور یقین کامل تھا حضرت سیدناابوبکر صدیق ؓ کے دورخلافت میں ہو نے والے واقعات اور عشق رسالت میں ڈوبے ہوئے فیصلے اور ایمان کامل کے اثرات باوجود صحابہ کرام کے بظاہر مخالفت کے سیدناصدیق اکبر ؓ کا یقین کامل جیسے حضرت اسامہؓکو رسول کریم ﷺ نے ایک لشکر کے سپہ سالار بناکر شام کی طرف روانہ فرمایا تھا آنحضرت کی علالت کی خبر سن کر پہلی ہی منزل میں رکے رہے اور پس و پیش ہونے لگے بالآخر آنحضرت ﷺ کی وفات شریف کے تیسر ے ہی روزحضرت صدیق اکبرؓ نے اس لشکر کی روانگی کا حکم فرمایا ، چاہے حالات کسی طرح بھی ہو ں فرمان پیغمبر کی خلاف ورزی نہیں کرسکتا ، اللہ ہی ہمارامحافظ ہے، دین کے کاموں میں عقل کو کوئی دخل نہیں، گوحضرت صدیق اکبرؓ کا اس لشکر کو روانہ کردینا ، عام حالات میں مناسب نہیں معلوم ہوتا مگر یہ دنیوی عقل کے خلاف تھا حضرت صدیق اکبر ؓ نے ثابت فرمایا۔ دین کی کامیابی عقل کو تباہ کرکے رسول گرامی  ﷺ کی پیروی کرنے میں رکھی ہے اس ضمن میںمولاناروم کا شعرپیش کرتے ہیں :
عقل قربان کن بہ پیشِ مصطفی
پیرو اُوباش تایابی ہدیٰ 
مولاناانواراللہ فاروقی ؒ، حضرت صدیق اکبرؓ کے اس عمل کو اسطرح منتج کرتے ہیں انہوںنے (حضرت صدیق اکبرؓ) دیکھا کہ آنحضرت ﷺ نے وفات کے قریب حالتِ مرض میں جب اس لشکر کو روانہ فرمایا تو اسمیں کوئی مصلحت ضرورہے ۔ اور کم سے کم خلیفہ وقت کا تو امتحان ہے کہ عقل کو ترجیح دیتے ہیں تو ہمیشہ کیلئے عتاب الہی میں آگئے اورامرِنبوی کو ترجیح دی توخدائے تعالیٰ کو راضی کرلیا ،پھر  جس سے خدا راضی ہو کون اس کا مقابلہ کرسکے۔ 
مسیلمہ کذاب کے علاوہ دوسرے چند لوگوںنے دعویٔ نبوت کیا تھا اورعرب کے اکثر لوگ علا حدہ علاحدہ جماعتیں بنالئے تھے مدعیان نبوت کی تائید کررہے ہیں، غرض جب ہر طرح صدیق اکبرؓ حضرت اسامہ ؓ کو روانہ کرنے کے لئے مستعدرہے تو پھر دیگر صحابہ کرام و حضرت عمرؓ وغیرہ بھی خلیفہ وقت کی تائید کرگئے، حضرت صدیق اکبرؓ ؓ کے عزم کو مولانا یوں محسوس کرتے ہیں لکھتے ہیں: 
’’غرضکہ انہوں نے عزم کرلیا کہ صحابہ تو کیا اگر تمام عالم ایک طرف ہو اور رسو ل اللہ ﷺ کے کئے ہو ئے کام میں دست اندازی کرنا چاہے تو تن تنہا سب کا مقابلہ کرلوں گا اور باوجود اس تنہائی کے نصرت اپنی ہی ہوگی‘‘(ص۶)
آگے مولانا نے حضرت سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے فضائل وکمالات تاریخی واقعات، احادیث وغیرہ پیش فرمائے جس میںآنحضرت ﷺکا مصلّے پر بلانا گویا اپنا سجادہ نشین بنادیااور مجمع عام میں تلقینات وتعلیمات فرمائیں جیسے حضرات صوفیہ کرام اپنے مریدین کو تخلیہ میں تلقین کرتے ہیں ۔
خلفائے عظام کوراشدین کہنے کی وجہ: ص۱۰پر مولانا لکھتے ہیں آپ نے (یعنی حضرت صدیق اکبرؓ) اور دیگر خلفاء نے وقتاً فوقتاً عملی طریقے سے ارشاد ات کئے اسی وجہ سے ان حضرات کو خلفائے راشدین کہتے ہیں جن کا کوئی کام رشد و ارشاد سے خالی نہیں ۔
حضرت سیدنا ابوبکر صدیق ؓ کے زمانہ میں مانعینِ زکوۃ کے خلاف حکم فرمایاکہ ان سے جہاد کیا جائے ۔ اس وقت نامور صحابہ کرام وغیرہ ان مرتدین کے قتل سے منع کررہے تھے کہ وہ اہل قبلہ ہیں ، نماز اداکرتے ہیں کلمہ پڑھتے ہیں وغیرہ لیکن حضرت صدیق اکبرؓ نے فرمایا کہ جونماز اور زکوٰۃ میں فرق کرتا ہے میں بے شک اس کو قتل کردوں گا۔ 
خلاف عقل ہونے میں حضرت کا یہ دوسرا حکم تھا اور کل صحابہ کرام کی دلیلیں بھی عقل کے مطابق ضرورتھیں لیکن کُل صحابہ کرام نے حضرت صدیق اکبرؓ کی دلیل پر عمل کیا جسکا اظہار مولانا ان الفاظ میں کرتے ہیں’’ہرچند کُل صحابہ کی دلیلیں نہایت زوردار اور عقل کے مطابق تھیں مگر صحابہ نے حـضرت ابوبکر ؓ کی دلیل اور دعواے الہامی ہی پر عمل کیا ، اور آخریہی ثابت ہو ا کہ اس باب میںانکو شرح صدر ہو ا تھا‘‘ اسی مقام کی بات ہے جو کسی بزرگ نے کہا ہے ۔ 
سجادہ رنگین کن گرت پیر مغاں گوئد 
کہ سالک بے خبر نہ بودزراہ ورسم ومنزلہا
مولانا نے یہاں کسی بزرگ  نے کہا لکھا ہے ، کسی مصلحت کی بناپر مولانا نے ان بزرگ کا نام نہیں لیا، کہ وہ بزرگ حضرت حافظ شیرازی ؒہیں ۔
حضرت صدیق اکبرؓ نے اس طرح عملی طریقہ سے تعلیم دی کہ مرید صادق الاعتقاد کو چاہئے کہ اپنے مر شد کے قدم بقدم پیروی کرے۔ اس اتباع کو اتباع پیر بتلاتے ہو ئے ، مولانا لکھتے ہیں جس قسم کی اتباع حضرت صدیق اکبرؓ نے کیا ، ممکن نہیں کہ ہر شخص اپنے پیر کی اتباع کرے ۔ ہزاروں بلکہ لاکھوں میں چند ہی افراد ہوتے ہیں جو اس قسم کی اتباع کرکے درجہ ولایت اور صدیقیت کو پہنچتے ہیں ۔ 
تیسرا حکم ملک قیصروکسریٰ پر چڑھائی کا: یہ بھی عام عقلوں کے خلاف معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کی فوج قیصروکسریٰ کی فوج کے مقابلہ میں ہزارواں حصہ بھی نہیں اورآلات جنگ وغیرہ بھی ان کے مقابلہ میں کچھ نہیں غرض کئی حیثیتوں سے وزن کم ہی تھا لیکن صدیق اکبرؓ کی صداقت اور یقین بول رہا تھا کہ آقا ئے دوجہاںﷺ نے فرمایاہے کہ اس میں فتح ہماری ہو گی بس حکم دے دیا اور وہ علاقہ بھی فتح ہوگیا ۔
جنگ فلسطین کا واقعہ : اس جنگ میں حضرت عمروبنؓالعاص کے ساتھ نوہزارفوج تھی اور مقابل میں روبلیس جوہر قل کی طرف سے اس جنگ پر مامور تھا اس کے ساتھ نود ہزار، گویا اسلامی فوج کے مقابلے میں۱۰دس گنا فوج تھی لیکن اسلامی فوج کو ہی فتح حاصل ہوئی اور دس ہزار سپاہی ان کے مارے گئے ۔ ہرقل کو اس کی خبر ہوئی تو اس نے ہر طرح سے تیاری مزیدکر کے بھیج دیا ادھر سپہ سالار لشکر حضرت ابو عبیدہؓ نے حضرت صدیق اکبر ؓ کو اس معاملہ کی خبر کردی ایک ہزار کے مقابلہ میں صر ف ایک اسلامی سپاہی کاحساب ہے توحضرت صدیق اکبرؓ نے پھر بھی حکم فرمایا کہ جنگ کی جائے کامیابی ہمارے ہاتھ ہے کیونکہ حضرت صدیق اکبرؓ کو آنحضرت  ﷺ کے فرمان کا یقین کامل تھا کہ وہ ملک ضرورفتح ہوگا۔ 
اس معرکہ کا ذکر کر تے حضرت مولانا فرماتے ہیں صحابہ کرام سے خوارق عادات ہمیشہ ہوتے رہے ہیںلیکن کچھ لوگ اس کا انکار کرتے ہیں چنانچہ لکھتے ہیں ، اس زمانہ کے لوگ خوارق عادات کا انکار کرتے ہیں، ان تاریخی واقعات پر گہر ی نظرڈالیں تو یہ کہنا پڑیگا، ان معرکوں میں ہر مسلمان سے روزانہ خوارق عادات ظاہر ہوتے تھے ، بشرطیکہ عقل سلیم سے کام لیا جائے (ص۱۸) غرض کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کا مقتضائے عشق وہاں تک رسائی کرتا ہے جہاں عقل کے پر جل جاتے ہیں۔
غرض کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کے واقعات اور ان کا عشق رسول ﷺ اور جذب شوق شہادت ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیںکہ حضرت ابن عمر ؓ اور ابن عاصؓ صرف ملاہی نہیں تھے بلکہ بہادر اسلامی سپاہی بھی تھے۔صحابہ کرام کی تعظیم فرض ہے جس طرح اولاد پر مانباپ کی تعظیم لازم ہے ۔ بلکہ صحابہ کرام کی توقیر زیادہ اس لئے کرنا چاہئے کہ ان سے دین کی دولت ہمیں ملی ہے۔ 
حضرت سیدنا عمررضی اللہ عنہ کا دورحکومت اورصحابہ: حضرت سعدبن ابی وقاصؓکوکوفہ کی بنیاد ڈالنے کہا جاتا ہے تو حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نے مدائن میں کسریٰ کا دروازہ لاکر خودبھی مکان بناکر اس شاندار دروازہ کو اپنے اس نوتعمیر مکان میںلگا دیتے ہیں جب حضرت سیدنا عمررضی اللہ عنہ کومعلوم ہو اتوآپ نے فوری حضرت سعدؓ کے مکان کو جلانے کا حکم فرمایا اورفرمایا کہ صرف دوحجرے تمھارے لئے کافی ہیں۔ جب مکان جلایاجارہا تھا ، توحضرت سعدؓ نے بھی کچھ نہیں فرمایا حالانکہ بہت بڑے آدمی تھے بڑے درجہ کے تھے،لیکن بات یہ ہے کہ ان  حضرات کے نفوس قدسیہ تھے۔ انہوں نے اپنی حمیت، غیرت ، شجاعت سبھی کچھ اسلام کے نذر کردیاتھا۔
حضرت سعد ؓ نے اولو الامر کی اطاعت میں خدا ورسول کی اطاعت سمجھ رہے تھے،حضرت سیدنا عمررضی اللہ عنہ نے عملی طریقہ سے امت کی اصلاح فرمادی۔ حضرت سیدنا عمررضی اللہ عنہ جانتے تھے کہ حضورﷺ کے مکان کیسے تھے اس لئے حضرت سعدؓ کے مکان کو جلانے کا حکم دیاتھا۔
آنحضرت ﷺ کے مکان:
اس کتاب میں مولانا نے آنحضرتﷺ کے مکانات کے سلسلے میں تاریخی کتابوں کے حوالوں کے ساتھ لکھا ہے کہ حضور پاکﷺ کے خاص حجرہ مبارک کی یہ کیفیت تھی کہ جلانے کی چند لکڑیاں گاڑدی گئی تھیں اور انسے کنبلوں کو باندھ دیا تھا۔وفات شریف تک حضرت کا یہی حجرہ خاص تھا، اورجوازواج مطہرات(رضی اللہ عنہن)کے حجرے تھے ان میں چارحجروںکی دیواریں کچی اینٹ کی تھیں اور چھت کھجور کی شاخوں کا جس پر کیچڑ کاگلابہ کر دیاگیاتھااور پانچ حجروں کی دیواریںبھی نہ تھیں صرف کھجورکی شاخیںگاڑکر ان پر گلابہ کر دیاگیا ۔
حضرت امام حسین علیہ اسلام فرماتے ہیںکہ انکی بلندی اتنی تھی کہ میراسر ان کی چھت کو لگتا تھا، غرض اسطرح حضرت سیدنا عمررضی اللہ عنہ خلاف شریعت کوئی کام نہیںدیکھ  سکتے تھے ۔
حضرت سیدنا عمررضی اللہ عنہ کے فضائل وکمالات:۔روض الریاحین، ازالۃ الحق اور کنزالعمال جیسی کتابوں سے روایات پیش فرماتے ہیں،عدل فاروقی ، اور زہد فاروقی وغیرہ کے ضمن میں مولانا نے کئی واقعات کے علاوہ خود حضرت سیدنا عمررضی اللہ عنہ کے گھر کے فرزندان کے واقعات بھی پیش فرمادیئے ہیں جوکسی طرح رعایت کا درجہ نہیں رکھتے۔
صبرو استقلال حضرت خالد ؓ:۔جب ملک شام حضرت خالدؓ  کی جاں بازیوں سے فتح ہو اتو لو گ مبارکبا د دینے لگے اور کسی شاعر نے ان کی توصیف میں چند شعر بھی پڑھے تو حضرت خالدؓنے ان کو دس ہزار درہم انعام دیے جب سید نا عمرؓ کو اس کی اطلاع ہو ئی تو اس وقت حضرت ابوعبیدہ ؓ کو لکھا کہ حضرت خالدبن ولیدؓ کو مجمع عام میں دریافت کروکہ دس ہزار کہاں سے لائے تھے ۔ چنانچہ ایساہی کیاگیا اور جملہ بیس ہزار درہم بیت المال میں جمع کرادئے گئے ایک مرتبہ حضرت عمرؓ نے خطبہ کے دوران فرمایا کہ حضرت خالدؓ پر میں خفا نہیں ہوںمیں نے اس لئے یہ کام کی کہ لوگوںکو یہ یقین ہونا چاہئے کہ فتح و نصرت اپنی جانبازیوں سے نہیں، بلکہ اللہ کی نصرت کی وجہ سے ہوئی تاکہ لوگ خدا کو نہ بھولیں۔ حضرت خالدبن ولیدؓ سے مجمع عام میں ٹوپی اتارلی گئی اور ناروا طریقے سے کھینچ کرلایاگیا۔ لیکن صبر واسقلال سے حضرت خالدؓ نے اس لئے گردن جھگادی کہ وہ جانتے تھے کہ خلیفہ وقت کی اطاعت سب سے اہم فریضہ ہے مولانا ان تمام واقعات کے بعد لکھتے ہیں۔ ص۱۶کیا وہ تاثیر بندوں کے فعل میں ہوسکتی ہے ۔ یہ اللہ کے ہی فضل کی شان ہے کہ سب کو مقہور او رمسخر بنادے کیوں نہ ہو حضرت عمرؓ ،نبی کریم ﷺ کے خلیفہ جانشین اور ظل اللہ تھے اسی وجہ ان کواس قسم کے حکم کرنے میں تامل نہیں ہو نا ہے ۔ 
نائب حق آں عمرؓ بے قال وقیل 
کار پیغمبر کند بے جبرئیل 
حضرت خالدؓ اس وقت {اطیعواللہ ورسولہ، ان اللہ مع الصابرین} اس آیت کے مراقبہ میں تھے کہ اللہ رسول کی اطاعت،  خلیفۂ وقت کی اطاعت میں ہے ، اس میں جھگڑانہ کرو ، اور نہ ہی بزدل ہو جاؤ اور تمھاری ہو ا جاتی رہے ، صبر کرو کہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ مراقبہ خاتقاہو ںمیں رہنے والے صوفیوں کاکام ہے۔ مراقبہ کے معنی بتلاتے ہو ئے مولانا لکھتے ہیں کہ۔ ص۴۹ مراقبہ کسی خاص مضمون پر آدمی پوری توجہ اور غور کرنے تو اس کو اصطلاح صوفیہ میں مراقبہ کہتے ہیں۔
حضرت خالدؓ تواسی مراقبہ میں تھے مراقبہ کا ثبوت اور اس کے معنی مسئلہ بیعت وغیرہ کو مولانا عہد صحابہ سے ثابت کرتے ہیں اور اللہ ہی ہر کام کا خالق ہے واقعات سے ثابث کرتے ہیں۔
فتح قلعہ حلب:۔حضرت عمرؓ،حضرت عمربن عاصؓ سے مال طلب کرکے نصف مال بیت المال میں جمع کر ادیتے ہیں قلعہ حلب کو فتح کر نا اس میں دوبھائی یوقنا اور یوحناکو اسلام کی طرف رغبت ہونا، سرکارمدینہ کا خواب میں حاضر ہو کر ان کو اسلام کی حقانیت پیش کر نا وغیرہ ۔
تجلی الہی وقتِ جنگ:۔ بعض صحابہ کرام نے تو جنگ کے عالم میں اگرفوج بھاری نظر آتی تو حضرات صحابہ کرام نے تجلی الہی پاکر اپنے سپہ سالارسے حکم جنگ چاہنا ہے حضرت خالدؓ کے حکم کے لحاظ سے لوگ خاموش کھڑے تھے تو حضرت ضرارابن ازور ؓ نے کہا کہ یعنی حق تعالیٰ کی ہم پر تجلی ہوگئی ہے۔ اس موقع پر توقف سے کیا تعلق حملہ کا حکم دیجے۔
مولانا ،صحابہ کرام کے احوال پر روشنی ڈالتے ہوتے فرماتے ہیں کہ صوفیہ کرام بھی احوال صحابہ پر عمل کر تے ہیں۔ یقین کے لئے اقوال صحابہ بھی پیش کر تے ہیں جو اوپر مذکورہوا۔ یہ سب عشق رسول اور جذبہ شوق شہادت کی کرشمہ سازی ہے۔ 
حسرت بر عدم شہادت:۔ مولانا فرماتے ہیں،جہاں عشق نہیں وہاں تجلی کا رازکون جانے۔ص۷۳ ، اگرصحابہ کرام رضوان  اللہ علیھم اجمعین شہادت نہ پاتے تو حسرت کر تے کہ ہم کو دید ار الہی کے لئے تاخیر ہوئی جاتی ہے۔
حضرت معاذؓ اور ان کے فرزند نوبالغ:۔ حضرت معاذؓ کی جانثاری تو کجا آپ کے نوجوان فرزند جوابھی بالغ بھی نہیں ہے۔ جذبہ شوق شہادت لے کر میدان کارزار میں آتے ہیں، اور ایک قوی شخص کے ساتھ مقابلہ کر تے ہیں۔ 
ندائے یامحمد ﷺ:۔ مولانانے، اس کتاب میں صحابہ کر ام کے ایسے واقعات جو عین حالت  جنگ میں یا کسی بھی مصیبت کے وقت رسول اللہ ﷺ کو پکارنا، یامحمداہ  یامحمداہ  ﷺ  ہماری فریادرسی فرمائیے وغیرہ کئی صحابہ کرامؓ کے حالات یں تاریخی شواہد پیش فرمائے ہیں۔اس طرح کے پکار نے اورمدد طلب کر نے کو جو لوگ شرک سمجھتے ہیں ، مولانا ان سے دریافت فرماتے ہیںکہ کیا صحابہ کرام بھی شرک کرتے ہیں؟ 
قوت تصرف آنحضرت  ﷺ:۔  آنحضرتﷺ نے یوقنا کو بشارت میں اسلام کی اہمیت بتلانا اور یوقنا کو عربی زبان سکھلانا ، جسکی وجہ سے وہ اسلام قبول کرتاہے۔ روماس اور اسکی زوجہ کوبھی بشارت کے ذریعہ دین اسلام کی ترغیب ہوتی ہے اور یہ دونوں اسلام قبول کرتے ہیں۔ان واقعات کولکھ کر مولانا، حضورپاک ﷺ کے اختیارات کو ثابت فرماتے ہوئے لکھتے ہیں ’’حکومت اسے کہتے ہیں کہ ادھر حکم ہوا اور ادھر تعمیل ہو گئی۔ کیا یہ بغیر تصرف کے ممکن ہے۔ پھر تصرف بھی کہاں عالمِ ارواح میں جہاں دلوں پر تصرف ہواکرتے ہے۔ کیونکہ درحقیقت دل تابع روح ہے، جسکواصطلاح میں نفس  ناطقہ کہتے ہیں ‘‘۔
آنحضرت ﷺ کے تصرف کا ذکر ان الفاظ میںکرتے ہیں۔’’غرض کئی طرح سے ثابت ہے کہ آنحضرتﷺ  کے تصرفات اس عالم میں بھی جاری ہیں جن کا اثراس عالم میں نمایاں ہوتاہے ‘‘ص۹۲
اس کتاب میں مسیلمہ کذاب کے ساتھ جنگ،  دمشق کی فتح کے حالات اور واقعہ غزوہ یرموک ، فتح انطاکیہ اور ہرقل کی سلطنت کے زوال کے ساتھ ،حمایت دین میں صحابہ رضوان اللہ علیھم اجمعین کے واقعات اور تمنائے شہادت وغیرہ خوبی سے بیان کئے ہیں جس سے اسلام کی حقانیت اورشوق شہادت کے ساتھ یقین کامل نصیب ہوتاہے۔ صحابہ کے اس خلوص کا ذکران الفاظ میں مولانافرماتے ہیں، ص۱۳۲’’صحابہؓ خلوص سے دین کی حمایت کرتے تھے اس سے ان کے مدارج بڑے اور اس خلوص کا یہ اثر ہوا کہ دور درازتک اسلام پھیل گیا اور اقوام کے دلوں میں ان کی عزت وہ ہوئی کہ کسی قوم کو نصیب نہیں۔ اس کے بعد جب خلوص جاتارہا توبجائے ترقی ، تنزل شروع ہوا اورمسلمانوں کی وہ عزت جواسلام کے زمانہ میں دوسرے قوموں کے دلوں میں تھی جاتی رہی۔غرض کہ جوکام خلوص سے کیا جائے اس میں ایمانی فائدہ ہے‘‘ص۱۳۲
آنحضرت ﷺکی شجاعت قوت:۔ آخرمیں مولانا نے، آنحضرت ﷺ کی شجاعت ، مروت، تواضع، فصاحت کلام،حلم، عفو، وسخاوت، کے ضمن میں احادیث اور تاریخی واقعات پیش فرماکر مدلل فرماتے،حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ کی شجاعت کا یہ عالم کہ میدان کارزار (جنگ بدر)میں حضورﷺ سب سے آگے اور کبھی ایسا  ہوتاکہ ہم حضورﷺپناہ میں آجاتے تھے۔ ابورکانہ کو قبل بعثت اور رکانہ کوبعد بعثت آپ نے پچھاڑدیا۔ رکانہ نہایت ہی پہلوان تھا،شرط لگادی تھی کہ اگر مجھے گرادیں گے تو میںاسلام قبول کروںگا چنانچہ شکست کھا گیا اوراسلام قبول کرلیا۔ 
مروت:۔ مولانانے آنحضرتﷺ کی مروت کا واقعہ بچپن میںجب آنحضورﷺ ہر روز صبح لڑکوں کے ساتھ ابوطالب کھلاتے تو حال یہ تھا کہ کبھی عام بچوں کی طرح کھانا ایکدوسرے کے سامنے سے کبھی نہ لیتے جبکہ دوسرے لڑکوں کاحال عجیب تھا نتیجۃ انحضور ﷺ کو کھانا نہ ملتا اور بھوکے رہ جاتے توابوطالب نے علاحدہ انتظام فرمایا۔ 
مولاناؒص۱۳۷پر لکھتے ہیں ’’اب غور کیجئے کہ لڑکپن میں جب یہ حالت ہو تو ایام نبوت میں کیاحال ہوگا۔ 
تواضع:۔اکثر جہاں جگہ ملتی بیٹھ جاتے۔ مسکینوں کے گھر جاتے ، بیماروں کی عیادت فرماتے اور فرماتے کہ میں ایک بندہ ہو ں جس طرح غلام کھاتے پیتے،اٹھتے،سب اسطرح میں بھی سب کچھ کرتاہوں۔
فصاحت:۔مولانا نے کنزالعمال کی روایت سے لکھتے ہیں کہ حضرت عمرؓ دریافت کرتے ہیں آپ ہر قبیلہ کے او رہر مقام کے محاوروںمیں گفتگو فرماتے ہیں اتنی فصیح بلیغ کہ ہم سب دنگ رہ جاتے ہیںتو فرماتے کہ حضرت جبرئیل نے ان سب کی تعلیم دی ہے۔
عقل:۔ اہل یورپ بھی تسلیم کرتے ہیں پیغمبر اسلام نہایت عقلمند شخصیت تھے۔
صدق و راستبازی:۔قبل نبوت بھی آپکو امین وصادق کہا جاتارہا۔ ایک مرتبہ آپ نے کفار قریش کو جو جانی دشمن بھی تھے فرمایا کہ اگر میں یہ کہوں کہ ایک عظیم لشکر چلا آرہاہے توکیا تم یقین وتصدیق کروگے سب نے بالاتفاق کہہ دیا کہ بے شک ہم تصدیق کریں گے۔ کیونکہ آپ کبھی جھوٹ نہیں کہتے۔ص۱۳۸
حلم:۔ جنگ احد میں دندان مبارک شہید ہوا ، چہرہ مبارک پر شدید زخم آیا یہ امرصحابہ پر نہایت شاق گزرا سبھوں نے دریافت فرمایاکہ آپ اس کا بدلہ لیتے نہیں ان کے حق میں بددعاکیجئے فرمایا کہ میں رحمت بن کر آیا ہوں زحمت نہیں یا اللہ میری قوم کو ہدایت فرما وہ جانتے نہیں کہ میں ان کاکیسا خیرخواہ ہوں۔
عفوودرگزر :۔دشمن قابو میں ہے کہ ایک جگہ آرام فرمارہے تھے وہاں درخت کے نیچے سرکارمدینہ ﷺ کو آرام کرتا دیکھ کر ایک دشمن نے تلوار کھینچی تھی حضور ﷺ بیدار ہوئے اور دیکھا تو اس کے ہاتھ سے تلوار جھوٹ گئی ، وہی تلوار لیکر حضور  ﷺ فرمایاکہ بول اب تجھے کون بچاسکتا ہے تو اس نے رعایت چاہی تو حضور  ﷺ نے اسے معاف کردیا۔
سخاوت:۔ جوآتاتقسیم فرمادیتے اگر نہ ہو تا سائل کو واپس کرنے کے بجائے فرماتے کہ ضرورت کی چیزلے لوقرض ہے تو ہم اداکریں۔ قرض کے علاوہ بخشش بھی فرماتے۔ حضرت انسؓ کی روایت ہے کہ کسی نے آنحضرت  ﷺ سے کچھ سوال کیا تو آپ نے بکریوں کا اتنابڑا ریوڑدیدیاکہ وہ شخص انتہائی خوش خوش دوڑااور اپنی قوم میں آنحضور ﷺ کی خوب توصیف کی اور کہا کہ لوگو۔ پیغمبر اسلام کی فرماں بر داری کرو۔
مولانا فرماتے ہیں، غرض کہ یہ سخاوت آنحضرتﷺ ہی کا حصہ تھا یہ ایک ہی ایسی صفت ہے کہ آدمی کو محبوب بنادیتی ہے۔ دیکھئے حاتم کے نام پر اب تک محبت آتی ہے۔ اور قارون کانام سن کر بغض پیداہو جاتاہے۔ حالانکہ ان دونوں سے اس وقت کو ئی تعلق نہیں بخلاف اس کے جب آنحضرتﷺ کی دادودہش اور جودوسخاوت کامشاہدہ ہوتا ہو گا تو کہیں کیسی امیدیں آپ سے وابستہ ہوتی ہونگی۔ 
کتاب کے آخری صفحات میں مولانا نے اخلاص و توکل صحابہ اورصحابہ کرام کے نفوس قدسیہ واقعات کی روشنی میںمشائخین عظام اس قسم کے آداب میں غلو اور التزام کرتے ہیں وہ شارع علیہ الصلواۃ والسلام کے مرضی کے خلاف نہیں بلکہ باعثِ ترقی مدارج ہے اب ان حضرات کو ان امور کے لحاظ سے بدعتی کہنا بے موقع ہو گا۔ خدائے تعالیٰ ہم لوگوں کو دین میں بصیرت عطا فرمائے جس سے ہم مستحسن اور غیرمستحسن امورمیں فرق کرسکیں۔ ص۱۴۷،  جب کبھی صحابہ کرام عبادت میں (مقررہ عبادت کے دائرہ)سے اضافہ کرنا چاہتے جیسے بغیر سحر کے روزہ، راتوں میں عبادت اس طرح مشقت ہو، رسی بندھی ہوئی ہوتاکہ نیندنہ لگے وغیرہ امورپر حضورؓ نے قید لگائی اورکہا کہ اسکی تمہیں ضرورت نہیں۔جومقررہ عبادت میںان کو بجالاؤ برخلاف اس کے تعظیم وتوقیر کا کو ئی دائرہ رسول پاکﷺ نے صحابہ کو نہیںدیا بلکہ صحابہ کرام آداب میں اپنے اقوال و واقعات بیان کرتے ہیں تو رسول اللہ  ﷺ وہاں پابندی نہیں لگاتے جیسے حضرت عثمان غنی ؓ کایہ فرمانا کہ جب سے حضرت نے اس ہاتھ سے مصافحہ کیا ہے آج تک اس کے ہاتھ سے شرم گاہ کو چھوانہیں وغیرہ ان اعمال سے منع نہیں فرمایا بلکہ یہ اعمال ترقی ومدارج کا ذریعہ ہیں اس کی وجہ مولانا کے الفاظ میں یوں ہے اس کی خاص وجہ یہ ہیکہ آنحضرت ﷺ محبوب رب العالمین ہیں جس قدر محبوب کی عظمت زیادہ ہو اور زیادہ ادب کیاجائے باعث خوشنودی محب ہوتی ہے۔ آخرمیں انتم اعلم بأموردنیاکم یعنی دنیا کے امور میں تم ہی زیادہ جانتے ہو پر تحقیق فرمائی ہے، دنیاسے بے رغبتی کی دلیل ہے۔ مولانا فرماتے ہیں کہ یہی وجہ ہے کہ صحابۂ کرام اور اولیائے عظام دنیاو مافیھا سے بالکل علاحدہ رہتے تھے ۔
مقاصد الاسلام (حصہ یازدہم)
(صفحات ۱۱۸)
یہ بات حقیقت پر مبنی ہے کہ دین اسلام میں ترقی درجات کے حصول کے لیے بے پناہ آداب کی ضرورت ہے، جن میں سب سے اہم، شانِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں تعظیم و تکریم ہے۔ صحابہ کرام، آدابِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے خوب واقف تھے اس لیے ان کے ہر عزم اور کار میں کامیابی و کامرانی مقدر ہوچکی تھی۔ جبکہ منافقین، قرآن حکیم میں فضائل رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم دیکھتے اور صحابہ کرام کے آداب ملاحظہ کرنے کے باوجود، ان کے دل میں عظمت رسول کا کوئی اثر و نفوذ نہیں تھا اس لیے وہ داخل جہنم ہوگئے۔
مولانا انوار اللہ فاروقیؒ کے عہد میں وہابی فرقہ توہینِ رسالت میں پیش پیش تھا۔ چنانچہ وہابیوں کی اس بے ادبی کو دیکھ کر مولانا نے یہ رسالہ مقاصد الاسلام (گیارہواں حصہ) لکھا، جس میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل اور صحابہ کرام کی تعظیم و طریقہ تکریم سے متعلق کئی واقعات ملتے ہیں، جن کے مطالعے سے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور ان کی عظمت دلوں میں قائم ہوجاتی ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ اقدس میں توہین کرنے والوں کو خوف دلاتے ہوئے مولانا لکھتے ہیں:
’’وہابیوں کو خوف کرنا چاہیے کہ باوجود یکہ قرآن و احادیث میں حضرت کے فضائل دیکھتے ہیں اور مسلمانوں سے سنتے ہیں۔ مگر ان کو نظر انداز کرکے ایسے آیات و احادیث کو تلاش کرتے ہیں جن میں ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بظاہر کسرِ شان ہوتی ہے۔ کیا یہ نماز، روزہ اور ایسی شہادت رسالت کام آئے گی‘‘(۳)۔ 
اس حصے میں مولانا نے یہ لکھا ہے کہ ہر زمانہ میں مسلمانوں کو جہاد و غیرہ میں جو کامیابی نصیب ہوتی رہی وہ صرف تعظیم رسول اور صحابہ کرام کی برکت کی وجہ سے ہوئی، کیوں کہ صحابہ کرام خود کمال درجے کے ادب کرنے والے تھے اور جب بے ادبیوں نے سر ابھارا تو کامیابی اور ترقی کی بجائے ناکامی اور تنزلی مسلمانوں کے حصے میں آتی رہی۔ مولانا لکھتے ہیں کہ صحابہ کرام چونکہ ادب کی ابتداء کرنے والے تھے اب قاعدے کی رو سے جن امور سے ابتداء ہوتی ہے وہی قابل استناد ہوتے ہیں، لہٰذا آدابِ رسول کے معاملے میں صحابہ کا طرز عمل ہی اختیار کیا جائے اور اسی پر عمل پیرا ہونے میں ہماری بھلائی ہے۔
صحابہ کرام کے واقعات میں لکھا ہے کہ ایک صحابی رسول‘ ابومسلم خولانی رضی اللہ عنہ کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی گواہی دینے پر آگ میں ڈال دیا گیا اور آگ ان پر کچھ اثر نہ کرسکی۔ اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے مولانا لکھتے ہیں:
’’دیکھئے ایسے مقام میں کہ جہاں جان کا خوف بلکہ قطعی مایوسی تھی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر گواہی دینی ایک مشکل کام تھا، مگر انہوں نے جان کی کچھ پرواہ نہ کی اور صدقِ دل سے گواہی دی، اس کا یہ اثر ہوا کہ آگ نے مادرِ مہربان کی طرح اپنے گود میں انہیں بٹھلایا اور اپنے فطرتی اثر کو ان کے نزدیک آنے نہ دیا۔ اس سے ظاہر ہے کہ رسالت کیسا عظیم الشان رتبہ ہے کہ اس کے ماننے والوں کے سب مسخر (غلام) ہوجاتے ہیں مگر ہر کس و ناکس اس کو کیا جانے۔ منافق باوجود یکہ نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ میں مسلمانوں کے ساتھ شریک رہتے تھے اور حضرت کی رسالت کی بھی گواہی دیتے تھے۔ مگر رسالت کی ان کو کچھ قدر نہ تھی۔ اس وجہ سے وہ دوزخی ٹہرے‘‘(۴)۔ 
مولانا انوار اللہ فاروقیؒ نے اس حصے میں احادیث اور سیرت کی مختلف کتابوں سے ثابت کیا ہے کہ ، فرشتے، جن، درخت، پتھر، جانور سبھی تعظیم رسالت بجا لاتے تھے سوائے سرکش جنوں اور انسان کے، فضائل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں یہ بھی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم منور کا سایہ زمین پر نہیں گرتا تھا۔ اس کی توجیہہ میں مولانا نے سورج، پتھر اور کائنات کے مختلف اجسام پر بحث فرماتے ہوئے بہت سائنٹفک طریقہ استدلال اختیار کیا ہے اور اس سلسلے میں متعلقہ کئی علوم کی وضاحت بھی کی ہے۔ چنانچہ ان میں سے اکثر علوم کا تذکرہ مولانا نے ’’مفتاح السعادت‘‘ نامی کتاب سے نقل کیا ہے۔ جیسے
(۱) علم طب: جس میں بدنِ انسانی کے احوال سے بحث کی جاتی ہے۔
(۲) علم تشریح : جس میں اجزائے بدن اور اس کی ترکیب سے بحث کی جاتی ہے۔
(۳) علم الاسارید: اس فن میں ان خطوط کے متعلق بحث ہوتی ہے جو ہتھیلیوں، قدموں اور پیشانی پر ہوتے ہیں۔
(۴) علم الاکتاف : جس میں، بکری کے شانے کی ہڈی پر پائی جانے والی شکلوں اور لکیروں سے بحث کی جاتی ہے اس فن کا جاننے والا جب اس ہڈی کو سورج کے سامنے اس میں روشنی دیکھتا ہے تو اس کو تمام دنیا میں وقوع ہونے والے واقعات جیسے قحط، ارزانی اور جنگ وغیرہ نظر آتے ہیں اور یہ علم حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب ہے۔
(۵) علم قیافتہ البشر: اس میں دو شخصوں کے نسبی تعلق اور ان کے احوال و اخلاق کا پتہ چلتا ہے۔
(۶) علم الریافہ : اس علم کے ذریعہ پانی کا حال معلوم ہوتا ہے کہ زمین میں کتنی گہرائی پر پانی ہے اور کتنی مقدار میں مہیا ہوسکتا ہے۔
(۷) علم اختلاج: اس میں اعضاء کے پھرکنے کے احوال معلوم ہوتے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ آئندہ کن امور کا وقوع ہوگا۔
بعض مذکورہ علوم میں خود مصنف، مولانا انوار اللہ فاروقیؒ کے تجربات بھی اس کتاب میں شامل ہیں، جن سے واضح ہوتا ہے کہ انہوں نے ان مختلف علوم کی تحصیل میں بھی کوئی کسر باقی نہ رکھی۔
آخر میں فضیلتِ میلاد شریف پر ولادتِ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے واقعہ کو جدید علوم، خاص کر ڈاکٹری اصولوں کی روشنی میں مولانا نے حیرت انگیز طور پر ثابت کیا ہے۔ اس کتاب کا مجموعی تاثر یہی ہے کہ کائنات کے مختلف اجسام میں قدرت نے ایسے ایسے حیرت زدہ علوم  ودیعت کئے (رکھ دئے) ہیں تو باعثِ تخلیقِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ ستودہ صفات میں کس درجے قدرت نے علوم و فنون، اسرار و معارف رکھے ہوں گے۔ اس لیے حضور اقدس  ﷺسب سے افضل ہیں اور سب سے زیادہ تعظیم و تکریم کے مستحق ہیں۔
مولانا نے میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بطور عید مقرر نہ کرنے کی بڑی سبق آموز اور دل افروز وجہ بیان کی ہے۔ مولانا کے الفاظ ملاحظہ ہوں:
’’عید میلاد مقرر نہ کرنے میں یہ سر (راز) معلوم ہوتا ہے کہ اگر وہ روز عید مقرر کاہو جاتا تو ہر شخص ادائے فرض کے لحاظ سے مراسمِ عید بجا لاتا، جس طرح حج طوعاً و کرہاً کیا جاتا ہے اور محب اور غیر محب میں فرق کرنا مشکل ہوتا ہے‘‘۔
ایک سو آٹھ (۱۰۸) صفحات کی اس کتاب میں کئی علمی مباحث ہیں، جن کے دیکھنے سے مولانا کے علمی تبحر اور ان کے طریقہ استدلال کی انفرادیت سامنے آتی ہے۔ جو قاری کی دلچسپیوں میں اضافے کا باعث ہے۔
’’مقاصد الاسلام‘‘ (گیارہواں حصہ) مولانا الحاج سید حبیب اللہ قادری صاحب (رشید پادشاہ صاحب) سابق امیر جامعہ نظامیہ کے حسب الحکم، اشاعت العلوم حیدرآباد سے رجب المرجب ۱۴۰۸؁ھ مطابق مارچ ۱۹۸۸؁ء میں دوسری بار چھپ کر منظر عام پر آیا ہے۔ اشاعت العلوم جامعہ نظامیہ، شبلی گنج حیدرآباد سے بآسانی مل جاتا ہے۔
کتاب کی زبان، سلیس اور عام فہم ہے۔ کہیں کہیں طنزیہ عبارتیں بھی آگئی ہیں لیکن یہ طنز عام طنز نگاروں کی طرح نہیں ہے۔ مولانا کے طنز میں، محبت اور خیر خواہی کا جذبہ کار فرما ہوتا ہے۔ انسان دوستی کا تقاضا بھی یہی ہے جو ان کے اسلوب تحریر سے واضح ہے۔ 
انواراحمدی
 صفحات (۳۱۶)
اس کتاب میں نبی کریم ﷺ کے فضائل اور درود وسلام کے فوائد اورصحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کے آداب اور چند ضروری مسائل کے تحقیقات ہیں، یہ کتاب اپنی خوبی و پسندیدگی کے باعث زبان زدعام ہے۔
انواراحمدی کامتن ۶۲بندوں پر مشتمل ایک مسدس نظم ہے اس کے چند اشعار کی تشریحات مولانا نے مدینہ طیبہ ہی میں مکمل فرمائی۔ یہ کتاب مولانا کے جذبات حبّ نبی کا آئینہ ہے جس کے ایک ایک لفظ سے عشق رسول مترشح ہوتاہے۔ اس کتاب کی اہمیت او رافادیت کے لئے مولاناکے پیرومرشد حضرت حاجی امداداللہ مہاجرمکی رحمۃ اللہ علیہ کی تقریظ کے الفاظ کافی ہیں : انواراحمدی نام بھی حضرت ہی نے تجویزفرمایا اور یہ بھی ارشاد فرمایا کہ اس کتاب کے ہر ہر مسئلہ کی تحقیق محققانہ حقانی میں تائید پائی گئی کہ تقریظ کے الفاظ اس طرح ہیں ’’اس کا ایک ایک جملہ اورفقرہ امداد مذہب اور مشرب اہل حق کی کررہاہے اورحق کی طرف بلاتاہے اللہ  تعالی اس کے مصنف کے علم اور عمل اور عمر میں برکت دے‘‘۔
اس کتاب کی زبان ابتدائی زمانے کی زبان ہے اس لئے نسبتاً ان کی دوسرے کتابوں کے کسی قدر قدیم لگتی ہے۔ 
اس کتاب کے مطالعہ سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ مولانا کی زبان ابھی ارتقائی مراحل میں تھی، اس لئے اس کتاب کی زبان میں دکنی اثرات پائے جاتے ہیں۔
اہم موضوعات:۔کثرت دردوسلام علامتِ اہلِ سنت و جماعت ہے ، حضرت شیخ الاسلام نے حدیث شریف ’’وسیلۂ عظمی‘‘ کے حوالہ سے نقل کی ہے۔ قال النبی ﷺ اکثرو امن الصلوٰۃ علی لان أول ما تسئلون فی القبر عنی (رواہ البخاری)
ترجمہ: فرمایا نبی کریمﷺ نے کہ زیادہ مجھ دورود پڑھا کر و کیونکہ سب سے پہلے قبر میں تم لوگوں سے میرے ہی بارے میں سوال ہوگا۔ 
(بخاری علیہ الرحمہ نے اس کی روایت کی)
مولانا فرماتے ہے کہ امیتوں کا بکثرت دردو شریف پڑھنا آنحضرت ﷺ کو منظور ہے۔ اسی وجہ سے کثرت درود شریف علامت اہل سنت و جماعت ٹہرائی گئی، چنانچہ امام سخاوی نے قول بدیع میں روایت کی ہے روی ابوالقاسم التیمی فی الترغیب لہ من طریق علی بن الحسین قال علامۃ اہل السنۃ کثرۃ الصلوٰۃِ علی رسول اللہﷺ  یعنی رسولﷺ پر کثرت سے درود بھیجنا اہل سنت کی علامت ہے۔اور ظاہرہے جسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا  و ماینطق عن الہوی ان ھوالاوحی یوحی : مفہوم یہ کہ حضورﷺکی بات وحی الہی ہوتی ہے تو معلوم ہواکہ کثرت درودشریف حق تعالیٰ کو بھی منظور ہے۔
الحاصل صرف ایک بار درودشریف اسقاط فرضیت کے خیال سے پڑھ لینا او رایسی تقریریں بنانا کہ جس سے مسلمانوں کی رغبت کم ہوئے خلافِ مسلک اہل سنت وجماعت ہے۔اور خلاف مرضی آنحضرت  ﷺ کے بلکہ خلاف مرضی حق تعالیٰ کے بھی ہے۔
حق تعالیٰ نے جملہ اہلِ ایمان کو لازم الوثوق و سلمو تسلیما تاکیداً فرمایا کہ آنحضرت ﷺ پر ہمیشہ سلام عرض کیا کریں تاکہ ہروقت اخلاصِ عقیدت کا اظہار بارگاہِ سرورعالمﷺ میں ہواکرے اسی واسطے ہر نمازمیں خواہ فرض ہو یا نفل ایک دوبار سلام عرض کرنا ضروری ٹھیرایاگیا گویا ہر نماز میں سلام کا آنحضرت ﷺ  پر مقرر ہونا دلیل اس بات پر کہ کثرت اس سلام کی حق تعالیٰ کو نہایت پسند ہے اور یہی وجہ ہے کہ جوشخص آنحضرت ﷺ پر سلام کرے حق تعالیٰ اس پر سلام کرتاہے۔ جیسا کہ حدیث شریف ہے حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ سے روایت ہیکہ رسول اللہ ﷺ کسی نخلستان میں داخل ہو ئے اور درازسجدہ کیا یہاں تک کہ مجھے خوف ہوا کہ شاید انتقال ہوگیا۔پھر قریب ہوا تو دیکھا کہ حضورﷺ نے سرِ مبارک اٹھایا اور ساری سرگزشت کے بعد اور فرمایاکہ جبرئیل علیہ السلام نے مجھ سے کہا کہ خوش خبری دیتاہوں میں آپ کو کہ حق تعالیٰ آپ کو فرماتاہے من صلی علیک صلوٰۃ صلیت علیہ ومن سلم علیک سلمت علیہ (رواہ احمد) یعنی جو شخص آپ پر درود شریف پڑھے صلٰوۃ بھیجتا ہوں میں اس پر اور جو شخص آپ پر سلام کرے سلام کرتا ہوں اس پر۔روایت کی اسکو امام احمدؒنے)
محبت نبی کے بغیرایمان نہیں :۔حضرت شیخ الاسلام فرماتے ہیں ہماراتو دین وایمان حضرت ﷺ ہی کی محبت کے ساتھ وابستہ ہے دیکھ لو خود حضور اقدس ﷺ کیا فرماتے ہیں۔ عن انس قال قال النبی ﷺ لایومن احدکم حتی اکون احب الیہ من والدہ ولدہ والناس اجمعین (رواہ الشیخان واللفظ للبخاری) ترجمہ: رسول پاک ﷺ نے فرمایا کہ کوئی بھی تم میں سے ایماندار نہیں ہوتاہے جب تک اس کے دل میں میری محبت اس کے باپ بیٹے اور سب لوگوں سے زیاد نہویعنی تمام عالم سے زیادہ جب تک آنحضرت ﷺ کی محبت نہ ہو ایمان ہی نہیں۔ غرض ایمان اگرحاصل کرنا ہو تو آنحضرت ﷺ کی محبت حاصل کرنا چاہئے اور حصول محبت کی مفتاح (کنجی ) ذکرہے چنانچہ ابن قیم ؒنے  حاوی الارواح الی بلاد الاقراح میں لکھا ہے۔  وقد جعل اللہ لکل مطلوب مفتاحا ومفتاح الولایۃ والمحبۃ الذکر‘‘  یعنی حق تعالی نے ہر ایک مطلب کے لئے ایک کنجی مقرر کی ہے اور قر ب ومحبت کی کنجی ذکرہے۔ اس سے معلوم ہواکہ ایمان حاصل کرنا ہوتو آنحضرت ﷺ کا ذکر بکثرت کرنا چاہئے تاکہ محبت آنحضرت ﷺ کی پیدا ہو اور اس کی بدولت ایمان حاصل ہو اور اگر ایمان ہے( یعنی کسی سے محبت ہوجاتی ہے تو اس کا ذکر کرکثرت سے ہوتا ہے )کے مصداق خود ذکرہونے لگے گا۔
دنیا کی ہر چیزعظمت رسولﷺ کو گواہی دے رہی ہے: اس کارخانۂ قدرت میں جملہ عناصر، اجسام، جمادات سے لے کر ملکوت اورزمین سے لیکر آسمان اور ازل سے لے کرابدتک ہر چیز عظمت رسول ﷺ کی گواہی دے رہی ہے جن کے ثبوت میں مولانا نے بے شمار احادیث دلیل کے طور پر پیش فرمایا ہے اب رہے جن وانس یہ بیچارے معر ض امتحان میںکچھ ایسے پڑے ہیںکہ ان کو اس قسم کے امورکا مشاہد ہ ہے کہ جسکی بدولت واقعی حالت پر مطلع ہو ں نہ ایسی عقل رسا کہ جس سے حقائق اشیاء اور مدارج وجود کو معلوم کرسکیں۔ اگر غافل ہیںتویہی دوہیں سوائے ان کے ہر چیز یادالہی میں مصروف ہے۔ کما قال تعالٰی وإن من شئی إلایسبح بحمدہ ولکن لاتفقھون  تسبیحھم : یعنی ہر چیز اللہ تعالی کی تسبیح اور حمد میں مصروف ہے۔مگر تم اس کو نہیں سمجھتے۔ جب خود اپنے پروردگار سے غفلت کرنے اور مالک حقیقی کے حقوق کوضائع کر نے میں انہوں نے کوتاہی نہیں کی تو دوسرے ابواب پھر کس شمارمیں۔ بایں ہمہ ان کو جس ذریعہ سے تو حید پہنونچائی گئی اسی ذریعہ سے آنحضرت ﷺ  کی عظمت بھی معلوم کرائی گئی۔ چنانچہ ابتدا ًابوالبشر حضرت آدم علیہ السلام نے اپنے فرزند شیث علیہ السلام کو اس عظمت کی خبردی پھر یہ خبر وراثۃً بنی آدم میں شائع ہوتی رہی اور اگر کبھی بے دینی نے اس کو چھپادیاتو انبیاء علیہم السلام اس کی تجدید کرتے رہے۔ یہاں تک کہ خود آنحضرت ﷺ اس عالم میں تشریف فرماہوئے آنحضرت ﷺ نے  ارشاد ربانی  لتؤ منوا باللہ ورسولہ وتعزروہ وتوقرؤہ وغیرہ کو عموماً پہنچادیا۔ اب اگر اس پر بھی کوئی شخص نہ مانے تو مختار ہے کسی کا جبر نہیں کہ خوامخواہ مان ہی لے مگر عاقل کو چاہئے کہ پہلے اس اختیار کے انجام کو سونچ لے کہ حق تعالیٰ فرماتا ہے فمن شاء فلیؤمن ومن شاء فلیکفر انا أعتدنا للظالمین نارا۔ ترجمہ: پھر جو کوئی چاہے مانے (ایسے) ظالموں کے لئے ہم نے آگ تیار رکھی ہے۔
الحاصل اگر عام جن وانس حضور ﷺ کی عظمت کو نہ مانیں تو انہی کا نقصان ہوگا۔ ان کے اس ظالمانہ رویے سے آنحضرت ﷺ  کی عظمت میں کو فرق نہیں آسکتا۔
تحریری صلاحیت:۔ حضرت شیخ السلام کی تحریر میں سنجیدگی، سادگی اوروقارپایاجاتاہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مولاناخود عالم متبحر تھے، او رتفسیر، حدیث، فقہ، اور اصول کے علاوہ تاریخ وسیر کے ساتھ ساتھ علم کلام، فلسفہ جدید و قدیم، سائنسی علوم میں بھی خاصا درک حاصل تھا۔اس لیے مولانا نے موضوع کے اعتبار سے مقصد اور مخاطب کے پیش نظر الفاظ کا انتخاب فرمایاہے۔ عربی اور فارسی کے الفاظ بھی موزونیت سے استعمال فرمائے ہیں۔
اس میں شک نہیں کہ بعض مسائل ایسے کہ عوام الناس کی عقلیں ان کے سمجھنے سے قاصر ہیں اسی وجہ اس قسم کے مسائل کے لئے ایک علم ہی جدا مقر ر کیاگیا جس کو علم حقائق کہتے ہیں اس فن کی جو کتابیں ہیں جیسے فصوص الحکم ،فتوحات مکیہ وغیرہ جن کے دیکھنے سے واضح ہے کہ ہر عامی تو کیا اکثر علماء بھی اس کو نہیں سمجھ سکتے اسی وجہ سے بعض علماء نے شیخ محی الدین ابن عربی ؒ وغیرہ کی تکفیر کی ہے اور بمصداق الانسان عدوما جھل کے ان پر دشمن ہو گئے اورخود وہ حضرات بھی یہی کہتے ہیں نحن رجال ولایحل النظر فی کتبنا  یعنی ہم لوگوں کی کتابیں دیکھنا ہر کسی کو جائزنہیں۔
حقیقۃ الفقہ 
اس کتاب میں محدثین اور فقہاء کے فرائض منصبی اور انکے کارنامے اورحدیث، فقہ واجتہاد کی ضرروت نہایت مدلل طورپر ثابت کی گئی ہے۔ خصوصاً امام صاحب کی جانفشانیاں اور فضائل جو اکابر محدثین کے اقوال سے ثابت ہیں نہایت شرح و بسط کے ساتھ لکھی گئی ہیں۔
جسطرح ہمارے دین کے شرعی نظام ظاہر کی تدوین زیادہ تر حضوراکرم ﷺ کے بعد ہو ئی گو اساس بالاصالت میں وہ حضورﷺ ہی کے عہدمبارک سے وابستہ تھا۔ فقہ دراصل اسلامی قانون ہے۔ اس کی ترتیب  پیغمبر اسلام ہی  کے عہدسے شروع ہوگئی تھی۔ زمانہ مابعد میں اس کے متعلق بڑی بڑی کتابیں مرتب ہوئیں۔ ص ۲۰۴… (ازبشیر مخفی القادری) 
ڈاکٹر حمیداللہ نے اپنے مقالے  میں صراحت کی ہے کہ فقہ کی تدوین آنحضرت ﷺ  کے زمانے سے شروع ہوگئی تھی اس بحث و تحقیق میں تم العلوم حضرت علامہ نواب فضیلت جنگ مولانا الحاج شاہ انواراللہ خان صاحب مرحوم حیدرآبادی کی معر کۃ الآرا کتاب ’’حقیقۃ الفقہ ‘‘قابل ذکرہے۔ ص۲۰۵ ۔
اصل میں اس کتاب کو لکھنے کی ضرورت یوں پیش ہوئی کہ حضرات اہل حدیث (وہابیہ) فقہ کی مخالفت اور فقہاء کرام کو برابھلا کہہ رہے تھے اور ان کو خواہ مخواہ بدنام کرنے کی کوشش میں سرگرم تھے اور فقہ پر عمل کرنے کو گمراہی بتلارہے تھے۔اورامام اعظم علیہ الرحمہ  پر افتراء بازی کہ انہیں صرف (۱۷) حدیثیں یاد تھیںوغیرہ، اور مسلمان عام طور سے ان کے مغالطے کا شکار ہوتے جارہے تھے۔حضرت شیخ الاسلام نے، اصلاح اور ازالہ فساد کی خاطر دوحصوں میں یہ کتاب لکھی جس کے ابتداء میں تاریخ فقہ اورتدوین فقہ میں فقہاء کرام کی جانفشانیاں اور خاص کرامام اعظم ابوحنیفہ ؒ کے فضائل مناقب جو اکابر محدثین کے اقوال سے ثابت ہیں نہایت تفصیل سے لکھے ہیں۔ 
حقیقۃ الفقہ (حصہ اول)
(صفحات ۴۱۴)
کئی مسائل میں ہمیں ان کی عقل بے اصل تحقیقات پر ہنسنے کاموقع حاصل ہوگیا ہے جس سے جواب ترکی بہ ترکی ہوجائے گا ص۲۶۔ صحیح حدیثوں کی روایت کے تسلیم کرنے کیلئے بچے کی مثال کہ مجرد خبر پر تصدیق کرلیتاہے کہ یہ ماںباپ ہیں ، دادا ہیں اور ان کے رشتہ دار وغیرہ بزرگو ںکی محبت اور وقعت دل میں ہوتی ہے مخالفت کا خیال تک دل میں نہیں آتا۔ غرضیکہ اپنے بزرگوں کی بات کا یقین کرلینا آدمی کی فطری بات ہے۔ فاضل اور دیندار کو بھی غیر مذاہب کی کتابیں جادۂ اہلِ سنت سے ہٹادیتی ہیں مثلاً مامون جیسے حافظ قرآن فقہ اور حدیث میں متدین فاضل کو ایک فاسد الاعتقاد ابن ابی داؤد کی صحبت اور فلسفہ کی کتابوں کے مطالعہ نے بے باک بنادیا۔ اور اہلِ سنت سے منحرف کرادیا ۔
بری صحبت کااثر:۔ 
بے ادب خود را نہ تنہا داشت 
بدہ بلکہ آتش درہمہ آفاق زد
  اہل سنت وجماعت ہی صحیح مذہب اور اصل دین ہے۔ دوسرے مذاہب اختراعی ہیں ۔ص۴۴، ۴۵
ایسے ہی افراد سے دین لینے کی شرعاً وعقلاً ضرورت ہے۔
قرآن اجمال ہے اوراس کی تفصیل احادیث شریف میں۔ حدیث کی ضرورت کہ حدیث سے قرآن جواصل دین ہے محفوظ ہوجاتاہے۔ ص۶۳
کنزالعمال میں یہ روایت ہے جس کاحاصل مطلب یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فر ما یا کہ مجھے خوف اس بات  کا ہے کہ۔ منافق لوگ قرآن کو سیکھ کر اہل علم سے جھگڑ ے کریں گے۔جس کا خوف حضرت کو تھا وہی بات پیش آئی چونکہ منافقوں کو صر ف جھگڑے کرنا اور اسلام میں رخنے ڈالنا منظور ہو تا ہے۔ اس لئے وہ فقط قرآن ہی کی طرف متو جہ ہو کر اس کو سیکھ لیتے ہیں اور علماء کے ساتھ مجادلے رسالہ بازیاں کرتے ہیں۔ اگر قرآن کے ساتھ حدیث بھی سیکھیں تو ان کو ایسے جھگڑوں کا موقع نہ ملے، حدیثوں میں قرآن کے پورے پورے معنی بیان کردئے گئے۔ اس وجہ سے منافق حدیثوں سے گھبراتے ہیںاور سرے سے اس کو بے اعتبار بنانے کی فکر کرتے ہیں۔ بخلاف اہلِ سنت کے کہ ہر مسئلہ قرآن اور تمام حدیثوں سے جو اس باب میں وارد ہیں جو ثابت ہو اس پر عمل کرتے ہیں۔ص۶۳
احادیث کی اشاعت میں صحابہ کا اختلاف بعینہ ایسا تھا جیسا کہ قرآن شریف کے جمع کرنے میں ہوا تھا کہ حضرت صدیق اکبرؓ جمع نہ کرنے میں احتیاط سمجھتے تھے اس وجہ سے کہ آنحضرتﷺ کے وقت میں جمع نہیں ہوا تھا اور حضرت عمر ؓ جمع کرنے میں احتیاط سمجھتے تھے تاکہ تلف نہ ہو جائے ۔ الحاصل جس طرح حضرت عمر ؓ کی رائے پر عمل ہونے کی وجہ سے قرآن شریف محفوظ ہو گیا اسی طر ح اکثر صحابہ کی رائے پر عمل ہونے سے احادیث محفوظ ہوگئیں۔
جب روایتیں ہر طرف بکثرت ہونے لگیں تو منافقوں اور زندیقوں کو موقع مل گیا اورملتے جلتے مضامین کی حدیثیں بنابنا کر روایتیں کر نے لگے۔ اس طوفان بے تمیزی کی دفع کرنے کی غرض سے محدثین نے راویوں کی تحقیق شروع کردی۔ اور جم غفیر محدثین کا، ان کے پیچھے پڑ گیا۔ اور شہر شہر کو چہ بکوچہ ان کی تلاش و تفتیش ہونے لگی ۔ ان ہزاروں محققین سے وہ کہاں چھپ سکتے تھے آخر ان کی جعلسازیاں طشت ازبام ہوگئیں اور ان مفتریوں کی فہرستیں نام بنام اسلامی دنیا میں شائع ہوئیںاور اب تک کتب رجال میں چھپ کر شائع ہوتی جاتی ہیں۔
مرزاقادیانی کا ذکر:۔ کہ احادیث میں شبہات پیدا کرنے کی مختلف تدابیر قادیانی نے بھی کی جس کا حل حضرتؒ نے ’’افادۃ الافہام‘‘ میںلکھاہے 
روایت اور درایت اسلامی، اوردرایت میں تفاوت۔  ایک عام شخص اورموجد کی درایت میں فرق ہے کثر ت مزاولت(مشق) اور ایک عام آدمی کی درایت میں فرق ہے، ص۲۸،۲۷۔
علامہ ابن جوزی اور ان کے خیالات کی تشریح ،توضیح  ابن جوزی رحمۃ اللہ علیہ کی عقل، اسلامی عقل ہی اصل ہے ص۷۱، ۷۰۔
دینی عقل او رمعمولی عقل :۔ ہمارا دین  دین اسلام کی بنیاد معمولی عقلوں کے خلاف او دینی عقل کے مطابق ہے۔ہمارے دین میں عقل کو دخل نہیں ، مثلاً جبرئیل علیہ السلام وحی لائے تو نبی کریم ﷺ نے کو ئی عقلی ثبوت ان سے طلب نہیں کیا اور یہ نہیں فرمایا کہ کیونکر معلوم ہو کہ تم فرشتے ہو اور خدا ئے تعالیٰ نے اپنا کلام تمہارے ساتھ بھیجا ہے بلکہ خود آنحضرتﷺ  کے سینہ مبارک میں ایک انشراحی کیفیت پیدا ہو گئی جس سے حضرت نے ان کی تصدیق فرمائی۔ (اسی طرح صحابہ کرام نے بھی کوئی عقلی ثبوت نہیں مانگا بلکہ ایسے امورطلب کئے جنکاو قوع خلاف عقل اور خارق عادت ہو۔ مثلا چاند کا دوٹکرے کردینا جمادات کا گواہی دیناوغیرہ چنانچہ جو کچھ انہوں نے چاہاآنحضرتﷺ نے کردکھا یاص۷۲ ، ہر چند ہر ایک واقعہ کا ثبوت تواتر سے نہیں ہے۔ مگر جو حدیثیں اس باب میں وارد ہیں ان سے نفس معجزہ پر تواترمعنوی ثابت ہے شرح صدر من جانب اللہ ص۷۳ غالباً کتاب حقیقۃ الفقہ تحریر کرنے کی وجہ یہی ہو گی کہ فقہ حنفی کی شہرت دیکھ سکے۔
الغرض کہ زنادقہ وغیر مخالفین اسلام نے جو حدثین بنائی تھیں محدثین نے روایت اسلامی او ردوسرے قرائن ودلائل سے مدد لے کر ان حدیثوں کو موضوع قراردیا۔ مگر اس سے بڑھ کرایک آفت کاسامنا محدثین کو ہوا وہ یہ کہ بعض بزرگوں نے بھی کمال خوش اعتقادی سے حدیثین بنائی چنانچہ ابن جوزی علیہ الرحمہ نے موضوعات میں لکھا ہے کہ ابوعصمہ نوح ابن مریم مروزی سے پوچھاگیا کہ حضرت آپ نے ہر ایک سورہ کی فضیلت میں جو روایتیں کی ہیں کہ عن عکرمہ ابن عباس ؓ یہ آپ کو کہاں سے مل گئیں، عکر مہ کے شاگردوں  کے پاس تو ان روایتوں کا وجود نہیں۔ کہا بات یہ کہ میں نے لوگوں کو دیکھاکہ ابوحنیفہ کی فقہ اور ابن اسحا ق کے مغازی میں ہمہ تن مشغول ہیں اس لئے حسبتہً للہ یہ حدیثیں بنائیں تاکہ ان فضائل کو دیکھ کر لوگ قرآن شریف زیادہ پڑھا کریں گے۔ خلاصہ میں لکھا ہے کہ وہ قاضی تھے ابن حبان سے ان کا حال پوچھا گیا۔توکہاصرف ایک صدق تو ان میں نہیں۔ باقی کل فضائل کے جامع ہیں۔ ابن مبارک علیہ الرحمہ سے ان کا حال پوچھا گیا۔ کہا لاالہ الااللہ کہا کرتے تھے یعنی مسلمان ہیں یہ سب صحیح مگر تھے بڑے جو شیلے کہ فقہ حنفیہ کی شہرت او ردرس تدریس کو دیکھ نہ سکے اور حسبتہً للہ حدیثیں بنا ڈالیں۔
حدیثوں کی روایت میں حددرجہ احتیاط فرزندوں و شاگردوں نے حدیث کی روایت ترک کر دی ،بڑے صلحاء مستجاب الدعوات کی روایت ترک کردی معمولی معمولی بات کی وجہ سے دادا کی زیارت کرنی چھوڑدی اس قدر احتیاط کرنے والے محدثین بھی  امام اعظم علیہ الرحمہ کی تعریفیں کیا کرتے تھے۔ ص۷۹، ۷۷۔
بہت سے محدثین نے امام ابوحنیفہ ؒ سے روایت نہیں کی اس وجہ سے کہ ان کو اہل رائے سمجھتے تھے ص۷۹۔ ان حضرات  نے احتیاط کا حق اداکردیا۔ ص۸۰
ابن جوزی ؒ کا حال،ص۸۲ ان کی طبیعت کا اندازتلبیس ابلیس سے معلوم ہو سکتاہے۔ص۸۲ان کا مجرد قول قابل قبول نہیں ہوسکتا ص۸۳ جرح وتعدیل ص۸۴:۔ تدوین فقہ کا دور، امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے لئے صحیح صحیح حدیثیں ملتی گئیںص۸۸، کذاب اور وضاع کی نئی نئی باتیں جس کی خبر حضوراکرم ﷺ نے دی ہے مسلم شریف کی حدیث اور حضرت ابو ہریرہ ؓ راوی۔ص۸۸ مولانا کی انفرادیت ہے کہ فقہ کی بنیاد احادیث پر رکھی گئی ہے اس سے حدیث اور فن حدیث اور محدثین کی تکریم معلوم ہوتی ہے۔
جس زمانے میں نیک و بد کی تمیز اٹھ گئی تھی اسی کے متصل حضرت اما م اعظم ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ ہیں خوش قسمتی سے آپ کو تدوین فقہ کے وقت نہایت آسانی سے صحیح صحیح حدیثیں مل گئیں۔ ص۸۸
شمس العلماء مولوی شبلی سیرۃ النعمان سے ان کے اقوال جو امام اعظم علیہ الرحمہ کی طرف داری کے جو ش میں فن حدیث ومحدثین پر حملے ہوتے ہیں شاید بعض احناف اس سے خوش بھی ہو گئے ہوں گے۔ 
فقہ کا دارو مدار حدیث پر ہے ص۹۰:۔ شبلی پر گرفت ص۹۲، افسوس ہے اس مقام میں مولوی شبلی صاحب محققانہ انداز سے بہت دور ہوگئے۔ ابن سیرین کا قول سمجھ نہ سکے وغیرہ ابن سبا جواصل میں یہودی تھا ص۹۶۔ حضرت علی ؓ کا ابن سبامع اس کی جماعت کو جلا وطن کردینا جس طرح ہمارے زمانے میں اختراعی مذاہب والے مصروف ہیں۔ (جمع سے اشارہ قادیانی، وہابی، دیوبندیوں کی طرف معلوم ہوتاہے) صدق ایک علحدہ صفت ہے۔ ص۱۰۰( ابن معین کا قول ہے کہ عبدالرزاق مر تد بھی ہو جائیں تو ہم ان کی حدیث کو نہ جھوڑیں گے ) مولوی شبلی نعمانی کی تحریر کا پوری ایک صدی گزر جانے کے بعد بھی کتابت کا طریقہ مروج نہیں ہواتھا۔ کا جواب لاجواب ص۱۰۲ کتابت حدیث نہ کرنے کی وجہ بڑی عمدہ بتائی مولانا نے عبدالکریم وضاع وحدیث کے قول پر محققانہ تبصرہ، ص۱۰۶،۱۰۷ فرقوں کی ماہیت ص۱۱۱ شبلی کا قول ص۱۱۱،۱۱۴ او راسکا رد ۔
فقہا کی ضرورت ص۱۱۴:۔ ہر ذی علم اس بات کو جانتا ہے کہ قرآن و حدیث میں اکثر مقامات ایسے ہیں کہ ہر شخص ان کو کما حقہ سمجھ نہیں سکتا۔اسی وجہ سے فقہا کی ضرورت ہوئی جن میں عمر بھر کی محنت اور جانفشانی کے بعد توضیح مشکلات اور تطبیق اختلاف کی صلاحیت پیداہوئی اب اگر کوئی اجنبی بمجرد اس کے کہ کو ئی حدیث سمجھ میں نہ آئے اور اختلاف میں تطبیق نہ دے سکے اور اس کو موضوع قراردیدے تو اس کا قول قابل التفات نہیں ہوسکتاص۱۱۴۔ صحابہ اور تابعین کی روایت بالمعنی پر اعترض اور اس کا جواب ص۱۱۵ ، امام اعظم رحمہ‘ اللہ سے روایت بالمعنی میں کب کلام کیا ص۱۱۶ مولوی شبلی نے احادیث کو ساقط الاعتبار کرنے کی تدبیریںکیں ہیں دین میں ظنِ غالب کا اعتبار ص۱۱۸تعصب کو دور کرکے ان حضرات کے کارنامو ں کے ساتھ دوسرے تمام ادیان اور اسلامی فرقوں کے کارناموں کا مقابلہ کیا جائے تو صاف معلوم ہوگا کہ اپنے نبی کے کلام پاک کی حفاظت کا افتخار جو اہل سنت وجماعت کو حاصل ہے وہ کسی کو حاصل نہیں ص۱۱۹۔ محدثین  احادیث کو یاد رکھ کر فقہا تک پہنچائے ص۱۴۸( اور فقہانے غور خوض کر کے مقصود شارع کا تعین کیا اور مسلمانوں کوراہ صحیح بتلادی)ص۱۲۸ طبقہ صحابہ میں فقہا صرف  چھ تھے (۱) حضرت عمرؓ (۲) حضرت علیؓ(۳) حضرت ابن مسعودؓ (۴) حضرت ابی ابن کعب(۵) حضرت معاذ بن جبلؓ (۶) حضرت زیدابن ثابت رضی اللہ عنہم۔ اور ان کے الگ الگ واقعات۔ص۱۳۰،۱۳۱۔
اکابرمحدثین کے نزدیک فقہ کی قدرومنزلت:۔دیکھئے اکابر محدثین کے نزدیک فقہ کی یہ قدر و منزلت تھی کہ اکابر محدثین کی صحبت اور سند عالی پر فقہا کی صحت کو ترجیح دیتے تھے اور ہر محدث کو فقیہ نہیں کہتے تھے بلکہ خاص خاص محدثین پر فقہ کا اطلاق کیا جاتا جیسے مسروق، جابر ابن زید ،حسن بصری، شعبی، عمرو بن دینار، علی ابن مسہر، حماد، امام مالک، سفیان ثوری، عبداللہ ابن مبارک، وغیرھم رحمھم اللہ جیسا کہ تذکر ۃ الحفاظ وغیرہ سے ظاہرہے۔ ص۱۳۱
تذکرۃ الحفاظ میں فقیہ عراق علقمہ کے حال میں لکھا ہے کہ وہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ارشد تلامذہ میں تھے قابوس ابن ابی طیبان کہتے ہیں کہ میں نے والد سے پوچھا کہ آپ صحابہ کو چھوڑ کر علقمہ کے پاس کیوں جاتے ہو کہا میں نے بہت سے صحابہ کو دیکھا ہے کہ ان کے پاس جاتے اور ان سے فتویٰ پوچھتے تھے۔ 
دیکھئے صحابہ باوجود اس جلالت شان کے جو لازمہ صحابیت ہے حضرت علقمہ ؒ سے فتوی پوچھتے تھے حالانکہ وہ تابعی ہیں، وجہ اس کی یہی تھی کہ وہ فقیہ تھے ۔ص۱۳۱۔
تذکرۃ الحفاظ میں عبدالرحمن ابن غنم کے حال میں لکھا ہے کہ وہ فقیہ شام ہیں عمر رضی اللہ عنہ نے انکو اس غرض سے شام بھیجا تھا کہ لوگو ں کو فقہ سکھا ئیں۔چنانچہ تابعین شام  نے ان سے فقہ سیکھی ۔
دیکھئے حضرت عمرؓ کے زمانے میں فقہ کا یہ اہتمام تھا۔  
محدثین او رفقہا کے کام ص۱۳۲، ۱۳۳:۔ فقہ کی ضرورت ص۴۳۱،۱۴۰ کے آگے بھی امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ علیہ کی شخصیت پر اقوال اکابر محدثین۔ امام بخاری اور فقہ۔ص۱۴۰،۱۴۱۔
لفظوں کی تحقیق اور معنی کے فرق سے مفہوم حدیث میں تفاوت طبیعت خداداد ۔یہ ایک ایسی صفت ہے کہ نہ تعلیم سے حاصل ہوسکتی ہے نہ اکتساب سے اس خداداد صفت نے فقہاء کو محدثین میں ممتازکردیاتھا۔ چنانچہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا من یرداللہ بہ خیرا یفقہ فی الدین(رواہ البخاری)۔ یعنی خدائے تعالی جس کی بھلائی چاہتا ہے اس کو دین میں سمجھ دیتاہے۔ اہل علم اصحاب ابوحنیفہ اور ہم عطار ہیں۔ محدثین نے اعتراف کیا کہ ہم عطار میں او رآپ ( ابوحنیفہ اور اصحاب ابی حنیفہ اطباء ہیں)
فقہ کی اہمیت:۔ محدث اگر کسی حدیث کو موضوع کہہ دے تو ان کی مراد اسناد کا انکار مقصود ہوگا اور اگر فقیہ انکارکردے (موضوع لہ)تو مقصود متن حدیث ہوگا۔ اجتہاد کے لئے جن علوم کی ضرورت ہے۔صحابہ کا اجتہاد انہی کی اتباع مجتہدین نے کی ۔
اہل رائے کا اجتہاد داو رقیاس بھی دین میں ایک باوقعت چیز ہے، مانعینِ زکواۃ سے جہاد بھی قرآن وحدیث میں نہیں لیکن اجتہاد صحابہ سے ثابت ہوا، غیر مقلدین کا رد کہ ابو حنیفہ کو حدیث آتی ہی نہ تھی۔ فہم مضامین ہر کسی کاکام نہیں۔ 
اجتہاد کا باب (مفہوم وسیع ہے)ضرورت اجتہاد پر نبی کریمﷺ کا قول اور قیاس کا ثبوت قیاس کی چند نظائر، اہل حدیث فقہ توہین میں اول من قاس ابلیس‘ نہایت جرأت سے کہاکرتے تھے ۔
امام اعظمؓ جو اصحاب رائے کے سر گروہ مانے جاتے ہیں اس کی وجہ یہی تفاضل رائے ہے یعنی اکابر محدثین نے دیکھا کہ صاحب الرائے تو سبھی ہیں مگر اس قابل کہ اصحاب الرائے کہے جائیں، ابو حنیفہ او ران کے اتباع میں اس وجہ سے ان کا لقب ہی ٹہرادیا مگر اہل حسد نے بجائے مدح، اس میں مذموم معنی پیدا کئے، جیسے اہل کتاب انحضرت ﷺ کو راعنا کہہ کر اس سے مذموم معنی مراد لیتے تھے۔
فقہ کی حقیقت اورروح (دوراول میں) حضرت عمرؓ کا قیاس حضرت عمرؓ کی وقعت وبرکت، اسلام میں پہلا مہتم بالشان واقعہ امر خلافت کا طے کرنا تھا حضرت عثما ن غنیؓ کا قیاس ، حضرت علی کا قیاس، ام سلمہ کا قیاس، ابن شہابؓ کا قیاس، ابن عباسؓ کاقیاس، و دیگر صحابہ کا قیاس، جواز قیاس پر حدیث (حضرت معاذ بن جبل ؓ)اورمولانا شاہ ولی اللہ صاحبؒ نے تصریح کی ہے کہ صحابہ عموماً رائے اورقیاس سے کام لیا کرتے تھے  تبیاناً لکل شیٔ سے مجتہد کی رائے اور قیاس کی ضرورت ثابت ہوتی ہے ، قیاس کی ضرورت (قرآن ) تفسیردرمنثور ۔امام سیوطی، قیاس کی جگہ کاثبوت حکم علت پر متفرع ہوتا ہے ۔ابن مبارک کاقیاس اور حضرت بی بی عائشہ رضی اللہ عنھا ، ابن مبارک اور سفیان ثوری کا قیاس، لوگوں نے اس کے خلاف میں عورتوں کو عیدین میں جانے کی اجازت حدیث سے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ ابن مبارک اور سفیان ثوری نے اسکے خلاف میں عورتوں کو منع کرنے کہا اس وجہ سے کہ اس میں فساد ہے۔ اس سے ظاہرہے کہ قرون ثلثہ میں احکام معلل بعلت سمجھے جاتے تھے اس لئے فقہا کی ضرورت سمجھی جاتی تھی ، حکم علت کے ساتھ ساتھ ہوتاہے۔ اور مجتہد علت تلاش کرنے کے مجاز ہیں حدیث شریف ابن عباس ؓنے سنائی کہ ایک فقیہ شیطان پر ہزار عاید سے زیادہ سخت تر ہے فقیہ کی تعریف و توصیف احادیث میں واردہے۔ اس کو اعلی درجہ کی سمجھ درکارہے۔ اور مجاہد، عطا اور طاوس اور عکرمہ رحمہم اللہ جیسے اکابر محدثین کو ابن عباس نے فقیہ نہیں سمجھا اس وجہ سے انہوں نے علت کی تشخیص نہیں کی۔
صحابہ کرام کا قیاس واجتہاد احکام علت ملحوظ ہوتی ہے۔ صحابہ کرام کے زمانے سے اجتہادجاری ہے۔ 
تدوین فقہ اور امام ابوحنیفہ علیہ الرحمہ سب سے پہلے فقہ مدون کر نے والے وہ ابوحنیفہ ؒ اوراقوال بزرگانِ ملت ومحدثین فضائل امام اعظم ابوحنیفہ ؒ۔
عبدالوہاب مروز ی کہتے ہے کہ جب شفیق بلخی علیہ الرحمہ مکہ معظمہ کو آئے تو ہم ان کی مجلس میں اکثر جایا کرتے ان کی عادت تھی کہ ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی تعریفیں کثرت سے کیاکرتے ایک بار ہم نے کہا حضرت کب تک ان کی تعریف وتوصیف کروگے ایسی باتیں بیان کیجئے جس سے ہمیں کچھ نفع ہو فرمایا افسوس کہ تم لوگ ابو حنیفہ کے ذکر کو اور ان کے مناقب کو افضل الاعمال نہیں سمجھتے اگر ان کو دیکھتے اور ان کے ساتھ بیٹھتے تو یہ بات کبھی نہ کہتے۔ 
یحییٰ ابن آدم رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ شعبہ کے روبرو جب ابو حنیفہ کا ذکر آتاتو تعریف تو صیف میں بہت اطناب کرتے حالانکہ امام صاحب کے وہ استادتھے۔ ابو حنیفہؒکی تعریف اتنے اکابرین دین نے کی ہو جن کی روایتوں پر کل صحابہ کا مدارہے جن کی توہین اس آخر زمانہ کاکوئی مولوی کرے تو وہ کیونکر قابل التفات ہو ۔مداحین امام اعظم ابوحنیفہؒ کے اسماء گرامی جن میں اکثر کی روایات کل صحاح میںموجود ہیں آئمہ ثلثہ بھی مداحین میں تھے ۔
امام اعظم پانچویں طبقہ میں ہیں اور امام بخاری نویں طبقہ میں، محدثین کے او ر ان کے شاگر دوں کی روایتوں کو علاحدہ کردیں تو صحاح ستہ کی احادیث شمار میں صفر کے برابر ہونگی، امام اعظم کے ؒعلم کاحال، اکابر محدثین کی شہادتوں سے ثبوت۔ امام صاحب کا تابعی ہونا، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو کئی بار دیکھنا ثابت ہے۔ خارجیوں کا امام اعظم ؒکا محاصرہ کرنا  اور بعد تفہیم کے آپ کا مذہب اہل سنت وجماعت قبول کرنا۔ توصیف امام اقوال بزرگانِ ملت، عبداللہ ابن اجلح کہتے ہیں کہ امام صاحب علم میں غواص تھے جب غوطہ مارتے تو عمدہ عمدہ درویاقوت نکالتے، علی ابن ہاشم کہتے ہیں کہ امام ابوحنیفہ کنزالعلم تھے جو مسائل اعلیٰ درجہ کے علماء پر سخت وہ ان پر سہل تھے امام زفررحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ابوحنیفہ ؒ جب کلام کرتے تو یہ معلوم ہوتا تھا کہ کو ئی فرشتہ ان کو تلقین کررہاہے۔ علم کا مدار ، عقل فہم اور حافظہ پر ہے۔شہر کوفہ کی اہمیت : صحابہ اور حضرت علی ؓ کا دارالخلافہ تھا خود امام بخاری باربار کو فہ اور بغداد حاضر ہو تے رہے۔ 
امام صاحب کے چارہزار اساتذہ اور اسماء اساتذہ کی فہرست تا بعین او رصحابہ کرام کے شاگرد ہیں جن کی کل روایتیں صحاح ستہ میں موجود ہیں ۱۰ صفحات پر ان کے نام مشتمل ہیں۔ 
جرح، تعدیل کا مدار تخلیق پر ہے، امام صاحب کے اساتذہ چونکہ صحابہ کر ام تھے، اصول حدیث کے تحت صحابہ کل عدول ہیں ان کے ذریعہ حدثیںپہنچیں لہٰذا ان احادیث کی صحت میں کلام نہیں ہوسکتا امام صاحب کی عظمت پر اکابر محد ثین کی رائے۔امام اعظم کا لقب امیر المومنین فی الحدیث (یعنی ابن مبارک)نے دیاہے۔ چونکہ روایت کاکام آپ نے اپنے زمانہ نہیں لیا تھا اس لئے وہ روایتیں آپ سے مروی نہیں۔ امام صاحب کے اقوال کا اثر، امام صاحب کے اقوال دراصل حدیث کی تفسیر ہیں۔ (ابن مبارک) ہر محدث تفسیر حدیث میں ابوحنیفہ کا محتاج ہے۔ اکابر محدثین امام صاحب کی تعظیم وتو قیر او رثنا وصفت جو اس قدر کرتے تھے اس کا سبب یہی تھا کہ علاوہ و فورعلم حدیث کے اما م صاحب کا تفقہ مسلم او رشہرہ آفاق تھا جس کی طرف محدثین محتاج تھے۔ اما م باقر رضی اللہ عنہ کے نزدیک امام صاحب کا مقام ابوحنیفہؒ خدا کی رحمت ہیں۔ فقہ پر اقتدار سفیان ثوری جو ایک دریا تھے اور محدث تھے،ان کا کہنا کہ ابوحنیفہ سیدالفقہا ہیں اور جوان ہر تہمت لگاتاہے وہ حاسد یاشریرشخص ہے۔ حضرت داودطائی کاقول۔ فقہ حنفیہ کس قدر موافق حدیث اور مذہب حنفیہ کس قدر قابل وثوق ہے۔ اکابردین کے اقوال سے ثابت ہے کہ تفقہ میں امام صاحب کی کوئی نظیر نہ تھا۔ امام اعظم کاتقویٰ خوف الٰہی کے موضوع پر بہترین تقریر (امام اعظم کے تقویٰ و پرہیز گاری بتلانے سے پہلے خوف الہی کاماحول پیدا کررہے)۔
محدث دکن حضرت مولانا سید عبداللہ شاہ صاحب نقشبندیؒ(تلمیذحضرت شیخ الاسلامؒ) کا کارنامہ زجاجۃ المصابیح (5جلد)  فقہ حنفی کے تحت احادیث جمع کرنا غالباً انہی نکات کی وجہ سے ہوگا۔ علم کیا ہے اور آج کل کی اصطلاح میں جس کانام علم رکھا گیا ہے چند کتابیں ادبیات وغیرہ کی پڑھ لیں اور مولوی عالم اور مولوی فاضل ہوگئے۔ خواہ مسلمان ہو ں ہندو وغیرہ سوایسے علم پر آثارمرتب نہیں ہوتے۔ (مولانا رومی فرماتے ہیں علم رابر دل زند یارے شود، علم رابرتن زند بارے شود) ورنہ درحقیقت وہ علم ہے اس کو تخیل یاظن کہنا چاہئے۔علم وہ ہے کہ کو ئی شخص کسی جرم کا مرتکب ہو اور جانتاہے کہ جو جرم اپنے سے صادر ہوا وہ سنگین ہے۔ اور اس کا بھی اس کو علم ہو کہ بادشاہ نے اس قسم کے جرم کی سزا سخت مقرر کی ہے۔ اور اس کا بھی علم ہوکہ باشاہ کو اپنے جرم کی اطلاع ہوگئی ہے تو اس پر یہ آثار (خوف) کے ضرور مرتب ہو ں گے اس کو فکر ضرور ہوجائے گی اور خوف شاہی کے مارے آب وخور ناگوار ہو جائے گا او رکسی کام سے اس کو دلچسپی نہ رہیگی ۔ مولانا فرماتے ہیں۔ اب غور کیجئے کہ جن پرلفظ علماء کا اطلاق صحیح طورپر ہوسکتا ہوکیا ممکن ہے کہ ان کو خشیت اورخوف الہی نہ ہو پھر جس دل میں واقعی خوف ہو گا اس کے آثار بھی نمایاں ہونگے چنانچہ کسی بزرگ نے کہا ہے۔ دوستان من کہ ہوس دارم بنالیدن ولے در چوں درسینہ باشد نالہ زار آورد ۔جن اکابردین پر خوف طاری تھا۔ بے شمار واقعات احیاء العلوم وغیرہ سے لکھے ہیں۔ پھر بعدمیں امام صاحب کے خوف وخشیت کاحال لکھا ہے۔ یحییٰ قطان کہتے ہیں کہ اگر کوئی ابوحنیفہ کا چہرہ دیکھ لیتا تو اس کو صاف معلوم ہوتاکہ خدائے تعالیٰ کا ان کو خوف ہے۔ یعنی اثار خوف الٰہی آپ کے چہرے سے نمایاں تھے۔ حدیث شریف کا ذکر ابوحنیفہ ؒ کے بارے میں واقعات لکھ کر مولانا فر ماتے ہیں۔ ادنی تامل سے یہ بات معلوم ہوسکتی ہے کہ خوف الٰہی ایک نعمت عظمیٰ ہے۔ جو ہرکس و ناکس کو نصیب نہیں ہوسکتی چالیس سال تک عشاء کے وضو سے فجر کی نماز پڑھی۔اسدابن عمر کہتے ہیںکہ ابوحنیفہ نے چالیس برس عشاء کے وضو سے صبح کی نماز پڑھی۔ مولوی شبلی نعمانی نے ان کو مبالغہ او رافسانے سے تعبیر کیاہے۔ اس کا جواب امام صاحب کے ورع کا حال۔ورع۔کی مثالیں۔آپ کے تمول کی مثالیںسخاوت۔
امام اعظم کی تقریر کاحال:امام صاحب کی للہیت اور قوت کلام کا اثرتھا۔ قوت استدلال علم کے چہرہ کا نقاب ابوحنیفہ کی تقریر سے اٹھ گیا۔اب یہ دیکھنا چاہئے کہ وہ کونسا نقاب جس کو محدثین نہ اٹھا سکے۔ فقہ حنفیہ کی تشریح ۔ بسا اوقات آپ کے استاد حماد ؒ بھی اپنی رائے رجوع کرکے آپ( امام صاحب) کی رائے اختیار کرتے۔ فقہ کی احتیاج حدیث کے باوجود۔ ابن مبارک کہتے ہے کہ ابو حنیفہ کے حلقہ میں اکابر کو دیکھا کہ صغار او رکم وقعت معلوم ہوتے تھے۔ شاہ ولی اللہ ؒ کا قرینہ اور مولانا کی وضاحت۔
امام صاحب کی تحقیق شہرہ آفاق ہو گئی تھی ۔ اس لئے ہر ملک کے اہل حدیث کا مجمع امام صاحب کے یہاں رہاکرتا۔ حاسدین اور غبی طلبہ کا گروہ حلقۂ امام صاحبؒ کے پاس جانے سے روکتا تھا۔ 
تدوین فقہ:۔ امام صاحب کے شاگردوں اوران کی تعداد اس قد زیادہ تھی کہ کسی امام کی نہ ہو ئی ۔ چالیس شخص جو درجہ اجتہاد کو  پہنچے ہو ئے تھے اتنے علما ء میں ہر مسئلہ میں تحقیق ہو تی او رسب کے اتفاق سے جب طے ہو تاتو اس وقت کتاب میں لکھا جاتاتھا۔ 
کل اکابر محدثین جو تحصیل فقہ کی غرض سے امام صاحب کے حلقہ میں بیٹھتے۔ حضرت ابن مبارکؒ کہ جن کی دعاؤں سے نابینا بینا ہوجاتے۔عمر بھر امام صاحب کے ساتھ رہے۔ نام سن کر ائمہ حدیث ادب کیا کرتے تھے ۔
امام صاحب کے اجتہاد کے وقت کل روئے زمین کے احادیث کا سرما یہ امام صاحب کے حلقہ میں پہونچ چکا تھا۔ 
عبد اللہ بن داؤد الخیری کہتے ہیں کہ اسلام او ر اہل اسلام پر واجب کہ نماز میں ابو حنیفہ کے لئے دعا کیا کریں کیونکہ انہوں نے احادیث اور فقہ کو محفوظ کردیا۔ 
فقہ کو محفو ظ کرنا تو ظاہر ہے۔ احادیث کو اس طرح محفوظ کیا کہ مختلف احادیث سے جو مضمون مستفاد ہوتا ہے اجتہاد کر کے ماحصل جولب لباب احادیث اور مقصود شارع ہے اس کو محفوظ کرلیا۔ 
فقہ حنفیہ کی شہرت:۔ دور درازسے سفر کر کے محدثین آیا کرتے۔ 
امام اعظم علیہ الرحمہ، کا طریقہ اجتہاد۔ امام صاحب کو حضرت صد یق اکبرؓ کے ساتھ ایک خاص طور کی مناسبت معنوی تھی۔ اس زمانہ کے مولویوں کا اعترض اور سترہ ۱۷ حدثیں یاد تھیں کہنا اس کاجواب۔ غیر مقلدین حضرات ہم پر خفاہیں۔ 
حضرت شیخ الاسلام کی اس بے نظیر کتاب پر خواجہ غلام غوث صاحب بغدادی خلف خواجہ محمد مخدوم صاحب نے قطعہ تاریخ لکھی۔ 
حقیقت فقہ کی روشن ہو ئی جب اس رسالہ سے 
بڑھی انوار سے اس کے جو بزم فقہ کی رونق
کہی تاریخ اس کی عشقؔ نے برجستہ وموزوں
حقیقت فقہ کی لکھی کلام حق پسندوحق
 ۷ ۲ ۳ ۱ ھ    
  حقیقۃ الفقہ (حصہ دوم)
(صفحات ۲۵۶)
فقہ حنفی کی تدوین۔ شہرت او رمقبولیت اور اس پر اجماع ص۱، ص۳۔اصول مدون کرنے کاکام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ سے لیا تراسی ہزار مسائل کا استنباط۔ 
امام ابو یوسف ؒ نے اختلاف کیا اس کی وجہ یہ تھی کہ جن مسائل کے طے کر نے کے وقت حاضر نہ رہے ہو ں ان میں وہ خود اجتہاد کئے ہوںگے پھر وہ خود بھی مجتہد تھے۔ غیرحاضر ی کی وجہ سے جو اقوال سمجھ میں نہ آسکے مجبوراً خلاف کیا ہوگا۔( ابو یو سف مجتہد فی المذہب ہیں مجتہد مطلق نہیں)ص۹،۸۔ 
محدثین کتب فقہ کو وقعت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں:۔ عبداللہ بن داودالخیری کہتے ہیں کہ ’’جو شخص چاہے کہ جہل کی ذلت سے نکل کر فقہ حاصل کر ے اس کو چاہئے کہ ابو حنیفہ کی کتابوں کو دیکھے‘‘۔ مولانا فرماتے ہیں دیکھئے انہوں نے فقہ حنیفہ کو علم اور اس کے نہ جاننے کو جہل قرار دیا۔ حرملہ کہتے ہیں کہ امام شافعی ؒ فرماتے ہیں کہ جوشخص ابو حنیفہؒ کی کتابیں نہ دیکھے اس کو  فقہ میں تبحر نہیں ہو سکتا۔عبد اللہ بن مبارک نے ایک روایت بیان کی حدثنا زائدہ عن ہشام عن الحسن قال انظر و اممن تاخذون ہذ الحدیث فانہ دینکم۔ یعنی حسن بصریؒ نے اپنے شاگردوں سے کہا کہ حدیث کو دیکھ سمجھ کے لیا کرو کیو نکہ وہ تمہارا دین ہے۔ ابن مبارک نے یہ روایت بیان کر کے کہا کہ جب حدیث کو فقہ سے لینے کی ضرورت ہے تو رائے تو بطریق اولیٰ فقہ سے لی جائے۔ پھر کہا ’’جب کوئی ثقہ تم سے ابو حنیفہ کا قول بیان کر ے تو اس کو معتبر سمجھو‘‘ اس کے بعد مولانا فرماتے ہیں، دیکھئے ابن مبارکؒ نے فقہ کو کس قدر مہتم بالشان سمجھا کہ اس کو بھی مثلِ حدیث کے فقہ سے لینے کی ضرورت بیان کی۔ 
آخر ی زمانے والے مولوی چند کتابیں پڑ ھ کر ان کا لفظی تر جمہ کر کے فقہ کو مخالفِ حدیث بتائیں تو یہ کس قسم کی بات ہو ئی۔ 
مولانا اکابر محدثین کے اقوال فقہ کی تائیدمیں پیش کرکے لکھتے ہیں۔ اگر اہل انصاف غور فر مائیں تو بآسانی معلوم ہوسکتا ہے کہ جب اکابر محدثین نے رد و قدح، تحقیق و تنقید کے بعد فقہ کو تسلیم کر لیا تو اب ازسر نواس امر کی تحقیق کہ کو نسا مسئلہ موافق حدیث ہے اور کونسا مخالف تکلیف مالایطاق ہے۔ تلقیح میں ابن جو زی نے لکھا ہے کہ خزانِ علم یعنی حدیث کے خزانہ چھ شخص ہیں۔اعمشؔ، امامؔ مالک، امامؔ اوزاعی،مسعرؔبن کدام، شعبہؔ، اور ثوریؔ رحمہم اللہ۔ اور یہ تمام حضرات امام صاحب کے تفقہ کے قائل اور مداح اور بعض تو مقلدرہے۔جس سے فقہ کی تو ثیق بخوبی ہوگئی۔ ص۲۳۔
مقاتل بن حیان کہتے ہیں کہ میں نے تابعین او ران کے بعد لوگوں کو دیکھا مگر ابو حنیفہ کے جیسا شخص نہیں دیکھا ، جس کو ان کی سی بصیرت او رادراک و غوامض ہو۔ وہ امام صاحب کے قول پر فتویٰ دیتے اور کہتے کہ یہ شیخ کو فی کا قول ہے ص۳۷۔ تہذیب التہذیب میں عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کے حال میں لکھا ہے کہ ابن مبارک رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ’’خوف الٰہی کا اُن پر یہ غلبہ تھا کہ وہ باتیں کرتے اور اشک ان کے رخساروں پر جاری رہتے تھے۔ اشعث بن حر ب کہتے ہیں کہ ان کی حالت سے یہ نمایاں تھا کہ قیامت ان کے پیش نظرہے‘‘۔ اسکے بعد مولانا رقمطراز ہیںکہ اب قیاس کیجئے کہ دین کو کس قدر احتیاط ہو گی ایسے محتاط شخص جب ہر بات میں امام صاحب کے قول پر عمل کرتے تھے تو غور کیجئے کہ فقہ حنفیہ میں کس قدر احتیاط ملحوظ ہے۔ اس کا انکار نہیں ہوسکتا کہ اس زمانے میں بڑے بڑے محدثین اور فقہا مثل امام مالک ؒو ثوری رحمہ اللہ وغیرہ موجود تھے مگر ان کو امام صاحب کے علم پر اعتماد تھا۔ اس وجہ سے وہ ہر مسئلہ امام صاحب سے پوچھ کراس پر عمل کر تے تھے۔ اس کانام تقلید شخصی ہے جسکو آخر ی زمانہ والے شرک بتاتے ہیں۔ محدثین کے اقوال پیش کرکے مولانا ثابت کرتے ہیں کہ وہ مقلد بھی تھے ۔
ایک روایت ہے کہ جب مغیرہ کوئی فتویٰ دیتے اور لوگ ان سے جھگڑتے تو وہ کہدیتے کہ یہ قول ابوحنیفہ کا ہے۔ مولانا لکھتے ہیں کہ’’ اس سے معلوم ہو تاہے کہ صرف نام سن کر جھگڑنے والے خاموش ہو جاتے تھے۔ کیونکہ امام صاحب کی شہرت ہوگئی تھی اور محدثین کہا کرتے تھے کہ اُن کی جو بات ہوتی ہے پختہ ہوتی ہے اس روایت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مغیرہ علیہ الرحمہ امام صاحب کے مقلد تھے‘‘۔
ابو معاویہ کہتے ہیں کہ ’’ہمارے شیوخ فتویٰ تو دیتے مگر ان پر ہیبت طاری ہو تی تھی پھر جب سنتے کہ ابوحنیفہ نے بھی یہی فتویٰ دیاہے تو خوش ہوجاتے راوی نے ان سے پوچھا وہ کون لوگ ہیں کہا ان میں سے ابن ابی لیلی ہیں‘‘۔ 
مولانا لکھتے ہیں۔ دیکھئے ابن لیلی باوجود یکہ امام صاحب کے سخت مخالف تھے مگر انکی بھی نظر امام صاحب ہی کے فتوی کی طرف لگی رہتی تھی او ربجائے اس پر کہ مخالفت کا اثر کوئی اس پر ڈالیں اس سے مستفید ہوتے تھے اس سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ امام صاحب کا قول کس قدر مستحکم ہوتاہے۔ ص۳۹، ۳۸۔
عیسی بن یونس رحمۃ اللہ علیہ امام صاحب کے قول پر فتویٰ دیا کرتے تھے۔ عیسی بن یونسؒ وہ شخص ہیں کہ حماد اور ابن مدینی جیسے اکابر محدثین ان کے شاگرد ہیں اور کل صحاح ستہ میں ان کی روایتیں موجود ہیں۔ جیسا کہ خلاصہ میں ہے ایسے جلیل القدر امام المحدثین بھی امام صاحب کے مقلدہیں۔ 
امام صاحب کے کلام فقہ کا آفاق میں پو رے طور پر نفاذ مکی، ابن ابراہیم حدیث اور فقہ میں امام صاحب کے شاگرد تھے اور حنفی مذہب میں نہایت متعصب تھے‘‘ص۴۵۔ اس روایت کو لکھنے کے بعد مولانا فرماتے ہیں۔ ’’ایسے جلیل القدر محدث جن کی شاگرد ی پر امام بخاری ؒ کو نازہے۔ جب حنفیت میں متعصب ہوں تو ہم لوگ کیوں موردِ طعن بنائے جاتے ہیں‘‘۔ 
عبداللہ بن مبارک ؒ نے ایک روز معترضین کے جواب میں فرمایا تم نہیں جانتے کہ ابوحنیفہ ؒ سے زیادہ کو ئی مستحق اقتدا نہیں۔وہ متقی سر اپا مغز، پارسااور فقیہ تھے۔ اس قول پر مولانالکھتے ہیں۔ ’’جب امیر المومنین فی الحدیث نے تمام محدثین میںسے امام صاحب کو منتحب کرکے اس بات کا مستحق قرار دیا کہ انہی کی اقتدا کی جا ئے تو اب کسی عامی کو تو کیا محدث کو بھی حق نہیں کہ ان کی تقلید سے روکے۔ ص۸۸
ابو یوسفؒ کہتے ہیں کہ امام صاحب ایک بار مسجد الحرام میں بیٹھے تھے لوگ آتے اور مسائل پوچھتے اور آپ جواب دیتے جاتے تھے اتنے میں امام جعفر صادقؒ وہاں تشریف لائے اور یہ حالت کھڑے دیکھ رہے تھے کہ امام صاحب کی نظر آپ پر پڑی اور فراست سے دریافت کر کے کھڑے ہوگئے اور کہا یا ابن رسول ﷺ اگر پہلے سے مجھے معلوم ہوتا کہ کھڑ ے ہو ئے ہیں خدائے تعالیٰ مجھے اس حالت میں نہ دیکھتا کہ میں بیٹھا رہوں اور آپ کھڑے ہوں۔ آپ نے فرمایا اے ابو حنیفہ بیٹھ جاؤ اور لوگوں کو جواب دو میں نے اپنے آباء واجداد کو بھی اسی حالت میں پایاہے۔ دیکھیٔ امام صاحب جو جواب دیتے جاتے تھے وہ سب مسائل فقہیہ تھے جن کو تقلیداً سب مان رہے تھے اور امام جعفر صادقؒ نے بھی اس کی تحسین کی غرض کہ علماء کا کثرت سے امام صاحب کے مقلد ہونا اس بات پر قطعی دلیل ہے کہ متدین علماء نے ایسے زمانہ میں آپ کو مجتہد مطلق مان لیا تھا جو شباب علم کا زمانہ تھا۔ اہل انصاف سمجھ سکتے ہیں کہ جب خیر القرون میں امام صاحب کی تقلید نہایت سر گرمی سے ہوئی اور اس زمانہ کے اہلِ احتیاط محدثین نے اس کوجائز رکھا اور خود بھی کرتے رہے تو اس بے علمی کے زمانہ میں جس کی خبر احادیث میں دی گئی ہے، کس قدر اس کی ضرورت ہے۔ آخری زمانہ کی نسبت احادیث میں مصرح ہے کہ اس میں دین عجائزاختیار کیا جائے اور ظاہر ہے کہ دین عجائز صرف تقلید میں ہو اکرتا ہے۔ص۵۵
تفسیری شان:۔ اطیعواللہ واطیعوالرسول واولی الامرمنکم کی تشریحات: الحاصل تمام روئے زمین پر اہل سنت کے چارہی مذہب مشہورہیںص۵۸ غیر معتبر قرآن بھی سنائے تو نہ سناجائے ص۵۹۔ 
مولاناکہتے ہیں اگر انصاف سے دیکھا جائے تومعلوم ہوسکتا ہے کہ یہ چند صحاح ستہ کی حدیثیں اس وقت غنیمت اور کافی سمجھی  جاتی کہ کل احادیث کا حاصل اور خلاصہ ہمارے پاس نہ ہوتا۔مگر جب اکابر دین کی شہادتوں سے ثابت ہو گیا کہ فقہ حنفیہ تقریباً کل حدیثوں کا ملخص ہے تو مقتضائے عقل یہی ہے کہ اس کو قائم مقام کل حدیثوں کے تصورکرلیں یہ بات میں اپنی طرف سے نہیں کہتا بلکہ خود محدثین نے کہا ہے کہ ابوحنیفہ ؒ نے احادیث کو محفوظ کردیاص۷۵، ۶۹۔ بخاری شریف کی حدیثیں اور فقہ حنفیہ :۔ حدیث مرسل (امام بخاری کے پاس ساقط الاعتبارہیں)جبکہ فقہا کے ہاں صحیح نہیں۔ حضرت بصریؒ کا مرسل کر نے کی وجہ۔ حدثنی سے مراد جس نے سنا اس کا نام معروف۔ قال رسول اللہﷺ سے مرادیہاں حضرت علی سے چارسے زائد، ستریا پھر اس سے بھی زیادہ صحابہ کرام سے حدیث سنی تو ارسال کرتے ہیں (یعنی راویوں کانام نہیں لیتے ) ایسے کمال تدین والے محدث کا ارسال بھی فقہاء کرام کے پاس قابل قبول ہے۔ 
معتزلہ کی کارستانیاں ص۹۷، ۹۸:۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کی نبوت کا زمانہ قیامت تک ہے۔ ص۹۸ امام بخاری کے شرائط پر گفتگو۔ ایک شخص کی بات کااعتبار کیاگیا (سوائے فاسق کے) فقہاء کرام کے نزدیک صحیح حدیث کے شرائط ص۱۵۳، ۱۵۲۔
مولانا کے زمانہ میں مولانا مولوی محمد حسن الزماں صاحبؒ فن حدیث میں ید طولیٰ رکھتے ہیں۔ ص۱۵۶
فن حدیث پر بھی مولانا کی نظر ہے۔ چنانچہ امام بخاری کی شروط (صحیح احادیث کے لئے) پر مفصل بحث کی ہے۔مولانا محمد حسن  الزماں کی کتاب ( جس میں کوئی نہ کوئی راوی اہل بیت سے ہو) اور اس پر ہنگامے پھر مولاناکی وضاحت ص۱۵۸ اور ص۱۵۹ کہ ان کے پیر حضرت حافظ محمد علی خیرآبادیؒ اور دیگر حضرات بھی حنفی تھے۔ اولیاء کرام کی تقلید کا انداز(ص۱۱۵) اہل بیت کے مذہب کے موافق عمل کرنا ہے تو حضرت علی ؓ کی شان میں جو وارد ہے کہ انا مدینۃ العلم وعلی بابھا ان علوم سے بہریاب ہو تا یہ خواہش بھی حنفی مذہب کی تقلید سے پوری ہوسکتی ہے۔ اس لیے کہ حضرت علیؓ کو فہ میں تشریف رکھتے تھے ۔ آپ کے علوم اسی جگہ زیادہ شائع ہوئے او رخود امام اعظم بھی کو فی ہیں۔ امام اعظم کوحضرت علیؓ اور اہل بیت سے کافی محبت تھی خو د فرماتے ہیں کہ مجھ سے اہل حدیث اسلئے اختلاف کرتے ہیں کہ میں اہل بیت کرام سے محبت کرتاہوں حضرت علیؓ کی خلافت ثابت کر تاہوں اور وہ نہیں کرسکے ص۱۱۴،۱۱۵۔ اسی نسبت کی وجہ سے منصور نے آپ کو دائم الحبس کردیا اور وہیں آپ نے انتقال فرمایا اب کس کا رتبہ ہے کہ امام صاحب کے مقابلہ میں اہل بیت کی محبت کا دعوی کرسکے آپ نے تو اس محیت میں اپنی جا ن تک فدا کردی ۔فقہ حنفی میں اہل بیت بھی شامل ہے۔ ص۱۱۶
امام بخاری پر گفتگو کر تے ہوئے تنوع ( مثبت اور منفی) ص ۱۱۷ فقہاء کرام نے اجتہاد کے وقت صحیح حدیثوں کو پیش نظر رکھاص ۱۱۷،۱۱۸ ۔ اور عامل بالحدیث اصل میں کون ہیںص۱۹۸۔ اگر امام بخاری کی شروط کا اعتبار کیا جائے تو خلفائے راشدین اور صحابہ کرام کا طریقہ اجتہاد متروک ہوجائے گا۔ جبکہ مجتہدین حضرات صدیق اکبرؓاور عمرؓ کی اتباع کے مامور ہیں۔ حدیث شریف میں ہے علیکم بسنتی و سنۃ الخلفاء الراشدین من بعدی۔ مولانا پھر وضاحت کرتے ہیں کہ کونسا طریقہ محمود اور واجب الاتباع ہے۔ اس سے فقہاء کرام کے طریقہ اجتہاد کا اثبات بھی ہوتاہے۔ حرمت تقلید پر ابن حزم کا استدلال اور مولانا کے جوابات۔ص۱۲۱، ۱۲۵، ۱۲۴۔
غیر مقلدین کے اکثر اعتراضات کے شافی جوابات (ابن حزم کے حوالوں سے اعتراضات ) فقہ مدون کرنے کی وجہ، ضرورت تقلید۔ علم وعمل میں تضاد کی کیفیت ( دیکھنے کو تو علم کی تحصیل ہے مگر عمل کی حالت نا گفتہ بہہ) تقلید دفع شر وفساد ہے ص۱۳۶،۱۳۷۔
محدثین کی تقلید(ص۱۴۲ )امام بخاری کی صحیح بھی تقلید پر مبنی ہے۔ امام بخاری نے بھی اپنے اساتذہ کی تقلید میں بہت سے راویوں کی توثیق کی اب غور کیجئے کہ اس تقلید کو کس درجہ کا رسوخ اور وثوق ہے کہ اس کی بنیاد پر ان کی حدیثیں صحیح اور واجب العمل مانی جاتی ہیںص ۱۴۵۔ امام بخاری کا تقویٰ اور تقدس تدین اور علم  امام بخاریؒ کو محدثین نے اپنا امام بنایا تھا۔ امام بخاری کے زہد، تقویٰ تقدس، ورع اور اجتہادی شان کی وجہ سے وقت کے اکابر محدثین نے اپنا امام تسلیم کیا۔ اور احادیث کے واجب العمل ہو نے کو مان لیا اس طرح محدثین بھی امام بخاری کے مقلد ہوئے تو بالکل اس طرح امام اعظم کے تقدس تدین اور شان اجتہاد کی وجہ سے امام بخاری کے اساتذہ کے اساتذہ نے امام اعظم کو اپنا امام تسلیم کیا اور تقلیدکی پھر کیا وجہ ہے کہ امام بخاری کی تقلید واجب اور امام صاحب کی تقلید حرام ہوجائے، حالانکہ دونوں کی تقلیدیں ایک ہی قسم کی ہیں کہ امام بخاری صاحب مقلد بخاری شریف کو واجب العمل قرار دیتے ہیں، اور امام صاحب کے مقلد فقہ کو جو خلاصۂ احادیث ہے۔امام صاحب کاعہدۂ قضاء کو قبول نہیں کرنا اور قید میں رہنا اورکوڑے لگائے جانا۔ 
امام اعظم کے مخالفین ، حاسدین نے ہر صورت بدنام کرنے کی کوشش بھی کی لیکن ناکام رہے۔ امام اعظم کے اوصاف حمیدہ ، اکابر محدثین کی تعریفیں۔ جیسے ابوداؤد کا قول ہے کہ ابوحنیفہ میں کلام کرنے والا یا حاسد ہے یا ایسا شخص ہے کہ علم کی قدر نہیں جانتا۔ یحيٰ ابن آدم کا قول بھی مذکور ہوا کہ امام صاحب کے حاسد بکثرت تھے باوجود اس کے فقہ جو آفاق میں مشہور ہوئی اس کا سبب ان کا خلوص تھا ص۱۶۵۔ بعض محدثین کو بھی حسد ہوگیا تھا اگر کو ئی محد ث امام اعظم کے حلقہ میں شریک ہو تا تھا تو ان کو صغیف بنا یا جاتا تھا محد ثین کے د فتر سے ان کا نام خارج کر دیا جاتا تھا۔ مختلف ملکوں کے لوگ مختلف وجوہ سے امام اعظم کی مخالفت او ران سے بغض رکھتے تھے۔ اس میں امام اعظم کا ایک یہ بھی قول ہے کہ فرماتے ہیں کہ جانتے ہو کہ اہل شام کیو ں ہم سے بغض رکھتے تھے، وجہ یہ ہے کہ ہم کو علی کرم اللہ وجہہ کے ساتھ ایک خصوصیت ہے اگر ہم اس وقت موجود ہوتے علی کرم اللہ وجہہ کے لشکر میں رہ کر معاویہ ؓ سے جنگ کرتے اور جانتے ہو کہ اہل حدیث کیوں ہم سے بغض رکھتے ہیں، اس و جہہ سے کہ ہم اہل بیت رسول اللہﷺ کو دوست رکھتے ہیں اور علی کرم اللہ وجہہ کی خلافت ثابت کرتے ہیں ، اور وہ نہیں کرتے ص۱۷۳۔ حسد اور بغض کا یہ عالم تھا کہ امام صاحب کے حلقہ میں جانا تو در کنار روایت میں ان کا نام سننا بھی ناگوارتھا۔ کیسے ہی جلیل القدر محدث ان کی روایت بیان کر یں قابل اعتبار نہیں سمجھی جاتی تھی۔ امام صاحب کی امام باقرؓ سے مدینہ میں ملاقات اور مسائل میں صفائی (قیاس کی حقیقت) اور گفتگوسے اطمنان کے بعد امام باقرؒ نے امام صاحب کی پیشانی پر بوسہ دیا۱۷۶۔ مولانا فرماتے ہیںکہ اس سے ظاہر ہے کہ امام باقر رحمۃ اللہ علیہ عام شہرت کی وجہ سے امام صاحب سے بدظن تھے مگر تحقیق کرکے صفائی کرلی اور کمال درجہ کا اخلاص ظاہر فرمایاص۱۷۶۔ جن جلیل القدر محدثوں کو مخالفوں نے امام صاحب سے بدظن کردیاتھا بالمشافہ ملاقاتوںسے تصفیہ ہوگیا اور بعضوں نے تو توبہ بھی کی ص۱۷۸۔البتہ جن لوگوں نے انصاف سے کام نہیں لیا وہ اپنے مخالفانہ اقوال پر اڑے رہے مگر ظاہر ہے کہ بے انصاف حاسد وں کی مخالفت نہ شرعاً قابل اعتبار ہے نہ عقلاًص۱۷۹۔بعض گفتگو میں قائل ہو جاتے تو کو ئی ان کے زانو پر بوسہ دیتے تھے کو ئی ہاتھ چومتے اور پھر جاتے وقت ان حضرات نے کہا کہ آپ سید العلماء ہیں، ہم نے نادانستگی سے آپ کی نسبت جو کچھ کہا ہے وہ معاف کر دیجئے ص۱۸۰۔ امام صاحب نے کہا  غفراللہ لنا ولکم اجمعین، الغرض حق پسند اور اہل انصاف علماء نے امام صاحب کی ثنا وصفت کو اور معترضین کی جرح کے مقابلہ ان کی تعدیل کو لازم سمجھاص۱۸۹۔اکابر محدثین ابتدا ء میں مخالفت کرتے تھے جب حقیقت منکشف ہو جاتی تو بہ کر کے رجوع کرتے تھے۔امیر المومنین فی الحدیث حضرت عبداللہ بن مبارک علیہ الرحمہ نے ان کو حدیث دانی ہی کی وجہ سے امام اعظم کہا ہے ص۲۰۱ ایک جماعت محدثین نے خبردی ہے کہ مناظرہ(جو صرف احقاق حق کیلئے کیا جاتاہے) اس میں امام صاحب پر کوئی غالب نہیں آتا تھا۔ اس سے بھی ان کی حدیث دانی ظاہر ہے، کیونکہ اگر حدیث ہی جانتے نہ تھے تو دلیل کیا پیش کرتے ہوںگے۔ موازنہ امام صاحب اور امام بخاری ص۲۰۳:۔ امام احمدؒ آٹھویں طبقے میں ہیں آپ کو سات ۷ لاکھ صحیح حدیثیں یاد تھیں اور امام بخاری جو نویں طبقے میں شمار ہوتے ہیں صرف ایک لاکھ صحیح حدیثیں ملی تھیں۔ صرف ایک ہی طبقہ کے فرق سے علم میں اتنی کمی آگئی تو امام احمدسے اوپر امام اعظم ؒ تو پانچوں طبقے میں ہیں ان کے علم کا کیا حال ہو گا محدثین نے تو صاف کہہ دیا کہ صحابہ کا کل علم امام صاحب اور ان کے اصحاب میں موجود تھا جس سے ثابت ہے کہ فقہ حنفیہ سے کوئی حدیث خارج نہ رہی اسی وجہ سے اکابر محدثین اور خزان حدیث نے ان کے اقوال پر فتویٰ دیا اور ان کی فقہ کی توثیق کی رائے کا معنی، جو رائے نص قطعی کے مخالف ہو اُس سے احتراز ضروری ہے، رائے بھی دو قسم کی ہیں ایک مذموم جو نص قطعی کے خلاف ہو محمود جو ایسی نہ ہو۔ خود امام صاحب کا قول ہے کہ اللہ کے دین میں کوئی بات رائے سے کہنا درست نہیں اس سے بچو اور سنت کی اتباع کرو حضرت عمرؓ جب فتویٰ دیتے تو فرماتے ھذا رائی عمرؓ فان کان صوابًا فمن اللہ  وان کان خطاء فمن عمر۔ یعنی یہ عمرؓ کی رائے ہے اگر صواب پر ہے تو اللہ کی طرف سے ہے اور اگر خطاء پرہے تو پھر عمر کی طرف ہے۔ خلفائے راشدین کی رائے کو پیش کر کے ثابت کردیا ہے جب صدیق اکبرؓ باوجود صد یقیت کے جب صاحب رائے ہوں توابو حنیفہ کا صاحب رائے ہونا کیوں قابل طعن ہو۔
کل صحابہ کرام اہل حدیث تھے لیکن اہل رائے یا اہل فقہ صرف چند تھے کنزالعمال کی روایت میں ہے کہ انکا فتوی جاری تھا۔ حضرت صدیق اکبرؓ کے زمانے میں جوصحابہ فتویٰ کے لئے منتخب تھے ان کی وجہ تخصیص یہی صفت تھی کہ وہ اہل الرائے تھے ۔ یہ صفت علی اتم امام صاحب میں موجود تھی چنانچہ امام باقرؓ امام جعفر صادقؓ امام مالکؓ اسحاق بن راہویہؓ ،سفیان ثوریؒ ، ابن مبارک ، یحیی بن آدم، وکیع ، امام شافعی وغیرہ اکابرمحدثین کی گوا ہی سے ثابت ہے ابن مبارک نے فرمایا کہ لا تقولوا رائی ابی حنیفہ ولکن قولوا تفسیر الحدیث ذکرہ الکردری رحمہ اللہ یعنی ابو حنیفہ رائے مت کہو بلکہ اس کو تفسیر حدیث کہو۔ آخر میں حضرات غیر مقلدین سے گزارش کی ہے کہ جب امیر المومنین فی الحدیث وغیرہ شیوخ محدثین کی گواہیوں سے ثابت ہوگیا کہ لا کھوں احادیث صحیحہ تلف ہوگئیں اور اکابر محدثین نے فقہ پر عمل کرتے ہوئے آئے اب اہل اسلام تقلید سے کیوں روکے جاتے ہیںاور اسلام کی خیر خواہی میں علماء کو بھی مشورہ دیتے ہیں۔ 
کتاب العقل 
(صفحات  ۳۲۸)
حضرت شیخ الاسلام کی یہ کتاب ۱۳۲۳ء میں طبع ہوئی مولوی عبدالمعبود صاحب معینؔ نے قعطہ تاریخ لکھا ہے جس کے ہر مصرعہ سے کتاب العقل کی طباعت کا سنہ نکلتاہے۔ 
چوں بیفشاندہ مرشدی انوار
زر انوار در کتاب العقل
اے معین باز بر کاشاد خدا
 باب اسرار بر کتاب العقل 
اس کتاب میں عقل کی حقیقت کھول دی گئی ہے۔ دینی امور میں عقل کا کس حدتک دخل ہے حکمت قدیمہ اور فلسفہ جدیدہ کا اثر جن مسائل پر پڑتاہے، ان کے جواب عقل سے دئے گے اور بتلایا ہے کہ دین جس عقل کے مطابق ہے وہ یہ معمولی عقل نہیں ہے بلکہ مہذ ب عقل کے مطابق ہے حضرت مولاناکویہ کتاب لکھنے کی ضرورت اسلئے پیش آئی کہ بقول مصنف علیہ الرحمہ اکثر طبیعتوں میں خود رائی اور خود پسندی آگئی ہے ہر ایک کو اپنی عقل پر ناز اور اپنی طبیعت پراعتماد ہے اور یہ ذہن میں سمائی ہو ئی ہے کیسی ہی مشکل بات ہو ہم سمجھ سکتے ہیں۔ چنانچہ اس بنا پر جو بات قرآن وحدیث میں خلاف عادت دیکھتے ہیں اس کو خلاف عقل سمجھ کر کچھ نہ کچھ تاویل کر لیتے ہیں اس طرح عقلوں میں تفاوت کی وجہ سے دین میں بے انتہا اختلافات ہو ں گے جس کا اثر دین پر برا ہی پڑے گا اس لئے حضرت شیخ الاسلام نے اس کتاب میں یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ انسا نی عقل چاہئے کتنی ہی ترقی یافتہ کیوں نہ ہو غلطی کر سکتی ہے۔ مولانا نے ابتداء میں حکماء قدیم پر مسلمہ مسائل اور ان کے اصول کو بیان کر کے عقل کی غلطی دکھائی ہے اس کے بعد حکماء جدید کے اصول سے بحث کرتے ہوئے یہ بتا یا ہے کہ جو کچھ انسانی عقل پیش کرتی ہے اس کو بھی مخالفین اپنے اعتراضات سے بے کار ثابت کر تے ہیں۔ حضرت شیخ الاسلام نے اس کتاب میں علم، عقل، دل، نفس، وجود بصارت، قوت کشش زمین، ہوا کا دباؤ، سمندرکا مدوجنرر، بارش اوربخارات، حرکت زمین وغیرہ جیسے عنوانات پر بحث فرمائی ہے اور ہر جگہ عقل انسانی کو عاجز اور محتاج بتایا ہے۔ اور یہ حقیقت ہے کہ عقل دائرہ محسوسات سے باہر کا علم و ادراک نہیں کرسکتی چنا نچہ مولانا اپنے رسالہ مقاصد الاسلام حصہ سوم ص۳۴پر لکھتے ہیں۔ ’’حالانکہ عقل دائرہ محسوسات سے قدم باہر نہیں رکھ سکتی جس کو ہم نے کتاب العقل میں ثابت کیا ہے‘‘ مولانا کتاب العقل میں لکھتے ہیں جب تک کو ئی چیز محسوس یا وجدانی نہ ہو اس کا ادراک عقل ہر گز نہیں کرسکتی اس کے ثبو ت مولانا نے دو فر ضی مناظرے بینا اور نابینا بہرے اور گونگے پیش کئے ہیں۔ 
دینی امور میں عقل کی حقیقت:۔ حضرت شیخ الاسلام فرماتے ہیں کہ جب اہل اسلام کے نزدیک یہ بات مسلم ہے کہ ہمارا دین وہی ہے جو قران وحدیث سے ثابت ہے تو قرآن وحدیث جو راہ بتلا ئیں اس راہ پر عقل کو چلانا اور اسکے مطابق اعتقاد رکھنا لازم ہے کیونکہ تصد یق بھی اس چیز کی مطلوب ہے جس کو عقل باورنہ کرے ورنہ ان امور کی تصدیق طلب کرنا جو عقل کے مطابق  ہو ں تحصیل حاصل ہے مثلاً کوئی کسی سے کہے کہ آفتاب روشن ہونے کی تصدیق کرواور اس پر ایمان لاؤ تو یہ درخواست فضول سمجھی جائیگی اس سے معلوم ہوا کہ قرآن وحدیث میں معمولی عقل کے خلاف امور بھی ہیں۔ اور ان سب کو صدق دل سے ماننے اور تصدیق کرنے والے کو مومن اور ایماندار کہتے ہیں جنکی تعریف میں حق تعالی یومنون بالغیب فرماتاہے۔ اور چونکہ خلاف عقل امور کی تصدیق کر نا نہایت سخت کام ہے۔ اورعاقل پر خلاف عقل امور کی تصدیق شاق گزرتی ہے۔ اس لئے حق تعالیٰ نے اپنے فضل وکرم سے انبیاء علیھم السلام کو معجزے عنایت فرمائے تاکہ خلاف عادات واقعات جوسراسر عقل کے خلاف ہیں دیکھ کر عقل عاجز آجائے اور یہ بات ثابت ہو جا ئے کہ حق تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے جو چاہتا ہے کر سکتا ہے جس طرح چا ند کا دوٹکڑے ہوجانا، کنکریوں کا بات کر نا، جانوروں کا سر بسجود ہونا، انگلیوں سے چشمہ جاری ہونا، درختوں کا آدمیوں کی طرح بلانے پر حاضر ہونا اور پھر اسی مقام پر واپس جانا، ایک مشت خاک سے ایک بڑے لشکر کو ہزیمت دینا وغیر ہ امور جسکو معمولی عقل محال سمجھتی ہے جب بے تکلف ادنیٰ اشاروں سے واقع کرکے بتلادیے گئے تو عقل کو خداو رسول خدا کی بات میں شک وتردد کا موقع نہ رہا۔ الغرض جولوگ انصاف پسند تھے انہوںنے اپنی عقلوں کو خدا و رسول کے کلام کے آگے مسخر کردیاتھا،اور جن کی طبیعتوں پر عصبیت وعناد غالب تھے صرف نفسانیت سے انہوں نے نہ مانا اور معجزات کو سحر بتلایا۔ جن کی عقلیں سلیم تھیں انہوںنے کیسی ہی مخالف عقل باتیں پیش ہوئیں فوراً مان لیا۔ خود معراج کا واقعہ کس قدر حیرت انگیزہے کہ صحابہ کرام نے تسلیم کر لیا۔ آنحضرت ﷺ کا تشریف فرما ہو نا صرف اسی غر ض سے تھا کہ دلوں سے اس معمولی عقلوں کو کے تسلط کو جس میں ایک عالم مبتلا تھا دور کرنے ایمان کی سلطنت قائم فرمادیں چنانچہ معجزات کے ذریعہ عقل کو ہزیمیت دیکر ایمان کی سلطنت دل میں قائم فرمائی بالفاظ دیگر ایمان مدعی ہے اور عقل مدعٰی علیہ۔
نفس اور اس کی تعریفات:۔ مولانا نے نفس کے متعلق مختلف فکر و نظر کے علماء کی تعریفیں بیان کر تے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کوئی تعریف کسی سے میل نہیں کھا تی اور اب تک نفس کی صحیح تعریف کا تعین نہیںہوسکا ، اسلئے کہ ہماری عقلیں محسوسات کی پابند ہیں اور دلیل یہ کہ نفس کا علم خود نفس کونہیں ہوتا۔ اگر یہ تسلیم بھی کیا جا ئے کہ قبل علم اعضاء نفس کو اپنا علم ہو تاہے تو اس علم میں کلام نہیں پھر غورطلب بات یہ ہے کہ نفس کو انا انا کہتے ہوئے ہزاروں سال گزرگئے مگر اب تک اسکو یہ بھی خبرنہیں کہ میں کہا ہوں۔کسی کا نفس کہتا ہے کہ میں جزلایتجزی (ناقابل تقسیم) ہوں قلب کا نہ جسم ہوں نہ جسمانی۔ 
کوئی کہتا ہے کہ اجسام لطیفہ ہوں نورانیہ ، علویہ، خفیفہ، زندہ، متحرکہ تمام اعضاء میں ایسا سرایت کیاہواہوں جیسے پھول میں پانی۔
کوئی کہتاہے میں قوت دماغ  ہوں، کوئی کہتاہے دم ہوں جو ہر وقت آتاجاتاہے۔
کوئی کہتا فاریت ہوں جو سرایت کئے ہوئے جسم میں ہے۔ 
کوئی کہتاہے پانی ہوں، ان مذاہب مشہورہ کے سوا اور بہت سے اقوال بھی ہیں۔ اس کے باوجود یہ اختلاف علٰحدہ ہے کہ نفس مجرد ہے یامادی ، عین مزاج ہے یا غیر حادث ہے یا قدیم اور بعد فنائے بدن باقی رہتاہے یا نہیں وغیرہ الحاصل ان تمام اقوال سے ثابت ہے کہ بڑے بڑے علماء کے نفس بآواز بلند کہہ رہے ہیںکہ اپنا حال ہمیں کچھ معلوم نہیں اگر برائے نام کچھ کہہ بھی دیاتو وہ تخمین اور اٹکل ہے جیسے کوئی غائب چیز کی خبر تخمین پر دیتاہے۔ دلیل اس بات پر کہ خود حکماء کے نفس اپنی لا علمی ظاہر کر رہے ہیں یہ ہے کہ جتنے اقوال حکماء کے ہیں وہ خود ان کے نفس کے ادراکات ہیں۔ جب حکماء کے نفوس کا یہ حال ہو تو دوسروں کے نفس تو اتنا بھی نہ بتاسکیں گے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ نفس محسوس نہیں اور جو چیز محسوس نہ ہو اس کا علم واقعی نہیں ہوسکتا کیونکہ عقل کا مدار محسوسات پر ہے۔ جس طرح نفس کو اپنی ذات کا علم نہیں اسیطرح اپنی صفات کا بھی علم پور ے طور پر نہیں نفس کی صفت علم ہے چنانچہ علم کی حقیقت اب تک نہ کھلی کہ وہ کیا چیزہے۔ 
انوارالحق(رد قادیانیت)
(صفحات ۱۱۶)
اس کتاب میں تائید الحق ، مصنفہ حسن علی قادیانی کا جواب ہے۔ نیز ازالۃ الاوہام، مولفہ مرزا قادیانی کے بعض مباحث پر کافی روشنی ڈالی گئی ہے۔ ابطال فرق باطلہ، امتیاز فسق و باطل ، مرزا کی گالیاں، امر بالمعروف کے شرائط، مرزاصاحب کی تمہید عیسویت کا بطلان، مرزاصاحب کا کل مسلمانوں کو مشرک قراردینا، علامات قیامت، دجاّل کے خوارق عادات فتنئہ وہابیاں، مرزاصاحب کی تعریفیں مرزا صاحب کا دعوائے رسالت، قرآن مجید میں قادیان کا نام، الہام کے اقسام، وغیرہ  مضامین نہایت شرح وبسط کے ساتھ بیان کئے گئے۔ 
مولانا مظفر الدین معلیؒؔ نے اس کتاب کی تاریخ طبع لکھی ہے جو اسی کتاب کے آخر ی صفحہ ص۱۸۳ پر مندرج ہے جس سے ۱۳۲۲ھ سنہ طباعت نکلتاہے۔ یہ کتاب دراصل قادیانی تائید میں مولوی حسن علی لکچرار کی کتاب بنام تائید الحق، کے جواب میں لکھی گئی ہے۔ 
باطل فرقوں کا رد علمائے حقانی کا فرض ہے:۔ اس موضوع پر حضرت شیخ الاسلام کا خیال ہیکہ اس میں شک نہیں کہ تائید الحق جیسی پُراثر تقریروں کے زور سے مذاہبِ باطلہ کثرت سے بنتے گئے اور عوام الناس کبھی ان کے دام میں آبھی گئے تو علما کے سمجھانے سے پھر راہِ راست پر آگے لیکن چند سخن پرور انہی خیالات پر جمے رہتے تھے جن کے اتباع مذاہب کو زندہ رکھنے والے اب تک موجود ہیں اور ہر وقت اس کوشش میں لگے ہو ئے ہیں کہ ان باطل مذاہب کو ترقی دیں۔ الحاصل جب کبھی نئے مذہب کی بنیاد پڑی تو علماء حقانی نے اس کے قلع وقمع کی فکر کی اور بفضلہ تعالی اس کا اثر بھی ہو تا گیا کہ وہ عام طور سے مذاہب باطلہ کے لقب کے ساتھ مشہورہے۔ اور اہل انصاف وحق پسند اس سے بچے رہے۔ فی الواقع یہ علماء کا فرض منصبی ہے کہ حتی المقدور حق کی تائید میں کمی نہ کریں۔ 
مولوی حسن علی صاحب لکچرار نے اپنی کتاب تائید الحق میں مرزاصاحب کو سچا خیرخواہ ثابت کرنے کی مدبرانہ کوشش کی ہے اور سچے خیرخواہوں کے ساتھ کیسا سلوک ہوتا ہے اس کی بہت سے مثالیں بھی دی ہیں جن سے مقصود یہ ہے کہ مرزا صاحب کی تکفیرو تفسیق (کافرو فاسق کہنا)صحیح نہیںہے۔ اس کے جواب میں مولانا شیخ الاسلام فرماتے ہیںکہ مرزاصاحب کیسے شخص ہیں اور ان القاب کے مستحق ہیںیا نہیں، کتب توار یخ سے ظاہر کہ صحابہ کے زمانے سے اب تک کو ئی زمانہ نہیں گزرا کہ جس میں مفتر ی کذاب بے دین پیدا نہ ہوئے ہو ں اور اس زمانے کے علماء فقھاء نے ان کی تکفیر نہ کی ہو، جتنے مذاہب باطلہ آج کے زمانے میں پائے جاتے ہیں سب کے موجد زمانہ سابقہ ہی کے لوگ ہیں اس کا کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ 
اب مولوی حسن علی صاحب جو اپنا اطمینان اور شرح صدر مرزاصاحب کی حقانیت پر ظاہر فرماتے ہیں وہ کس طرح اس امر کی دلیل ہو سکے کہ مرزاصاحب سچ مچ عیسیٔ موعود ہیں ہمیں اس میں کلام نہیں کہ مرزاصاحب بڑے مرتاض ہوں گے مگر مشکل یہ ہے کہ جتنے مفتری دغاباز، جعلساز ہوتے ہیں جب تک وہ اچھے عادات، اچھے حالات اور مستند لوگوں کی صورتوں میں اپنے کو ظاہر نہیں کرتے ان کی طرف کوئی توجہ نہیں کرتا۔ تاریخ میں ایسی مثالیں بے شمار ملیں گی جو اپنی فتنہ پروری کے سبب رسوائے زمانہ ہوگئے۔بدنام ہوکر بڑے کہلانا سزائیں پانا حقا نیت کی دلیل بھی نہیں ورنہ جعلساز دغاباز جن سے جیل خانے ہمیشہ بھرے رہتے ہیں سب کو اہل اللہ کہنا پڑے گا اورنہ ان کا اظہار تقدس دلیل بن سکتا ہے کہ وہ حق پر تھے۔ 
مولوی حسن علی صاحب لکچرار نے جہاں اسلام کے موجودہ دشمن فرقوں کی فہرست لکھکر ان کی روز افزوں ترقی اور اس کی وجہ سے مرزا صاحب کی ضرورت ثابت کرنے کی کوشش کی ہے ان میں مولویوں اورمشایخوں کوبھی شریک کیا اور ان کو نہایت نازبیا الفاظ سے یاد کیا ہے۔ مثلاً شیطان، نفس پرست موذی، نائب شیطان، شریر مسلمانوں کے گمراہ کرنے والے، شیطان کے شاگرد ، کافر وغیرہ ۔
حضرت شیخ الاسلام ان کے اس غیراخلاقی رویہ کا رد فرماتے ہوئے لکھتے ہیں اس بات میں مولوی صاحب(حسن علی صاحب) اپنے پیر(مرزاصاحب) کی سنت پر عمل کررہے ہیںکیونکہ مرزا صاحب نے علماء و مشایخین کو ایسے خطابوں سے ذکرکیا ہے۔ چنانچہ ان کی تصانیف سے صاحب عصائے موسیٰ نے جمع کیاہے، کوئی گالی انہوں نے اٹھانہ رکھی۔
تائید الحق کے مصنف اور مرزا صاحب کی تائید اسلام اور تقدس :۔ مولوی حسن علی صاحب لکچرار کی تائید اسلام اورتقدس سے متعلق جتنی باتیں بیان کرتے ہیں مولانا شیخ الاسلام فرماتے ہے کہ ان کا انکار کرنے کی ہمیں ضرورت نہیں مگر یہ حقانیت کی دلیل نہیں ہو سکتی کتب تاریخ سے ظاہر ہے کہ حجاج بن یوسف نے بخارا سے ملتان تک صد ہا شہر فتح کرکے سر حد اسلام میں  داخل کر دیا جن میں کر وڑ ہا اہلِ اسلام پیدا ہوئے اور بفضلہ تعالیٰ ایسی تائید کا اثر قیامت تک جاری رہے گا باوجود اس کے دیکھ لیجئے کہ اسلام میں حجاج ظالم کی کیا وقعت ہے یہ تو ہمارے دین کا خاصہ ہے کہ حق تعالیٰ اس کی تائیدبد کاورں سے بھی کر اتاہے جیساکہ صراحتًا اس حدیث شریف سے ظاہر ہے   قال النبی ﷺ  ان اللہ لیؤ ید ھذ الذین بالرجال الفاجر(رواہ البخاری) (یعنی بلاشبہ اللہ تعالی اس دین کی تائید فاجروں کے ذریعہ بھی کراتاہے) غرض مرزاصاحب کی تائید اسلام میں ہماری گفتگو نہیں کلام ہے تو صرف اس میں ہے کہ مرزا صاحب عیسیٔ موعود بننا چاہتے ہیں اگرچہ اس میں بھی ہمیں کلام کرنے کی ضرورت نہیں اس لئے کہ اس زمانے میں نبوت تو کیا اگر کو ئی خدائی کا بھی دعوی کر ے تو کو ئی نہیں پوچھتا۔ مگر چونکہ ہمارے نبی کریمﷺ کے ارشادات میں وہ تحریف کررہے ہیں اس لئے ہم پر حق ہے کہ جہاں تک ہو سکے ان کی حفاظت کریں اور اپنے ہم مشربوں کو ان کا اصل مطلب معلوم کرادیں اس پر اگر کوئی نہ مانے تو ہمارا کو ئی نقصان نہیں ہم کواپنا حق ادا کر نے کی ضرورت ہے۔ وما علینا الا البلاغ۔
افادۃ الافہام (رد قادیانیت)
اس کتاب میں مولانا محمد انوار اللہ فاروقی فضیلت جنگ علیہ الرحمہ نے مرزا غلام احمد قادیانی کے ازالۃالاوہام کے نہایت محققانہ ومہذبانہ جوابات دئے ہیں جن کے ضمن میں کئی ضروری دینی مسائل کی تحقیقات اور نیز بہت سے تاریخی حالات مندرج ہوئے ہیں، اس کتاب کے دیکھنے سے مذہب قادیانی کے مفاسد سے بخوبی آگاہی ہو جاتی ہے۔ ہند اور بیرون ہند کے علمی طبقے میں اس کتاب کا وزن محسوس کیا گیا، رد مذ ہب قادیانی کے متعلق آج تک ایسی کتاب طبع نہیں ہوئی۔
مولانا نے اس کتاب میں بتایا ہیکہ ۷۲بہتر فرقے ناری اور ایک اہل سنت ناجی ہے ۔ مد عیان نبوت کا ذبہ کی اتباع کر نے والے دین اسلام سے خارج ہیں۔ مرزاصاحب کے ابتدائی خیالات کے ساتھ براہین احمدیہ اور ازالۃالاوہام لکھنے کے مقصد سے بھی آگہی دی ہے۔ مرزا صاحب کس طر ح ہر موقع میں راہ فرار اختیار کرتے ہیں۔ معجزات انبیاء کومسمریزم سے تشبیہ دیتے ہیں اور انکار بھی کرتے ہیں۔ ان انکار کی وجہ اور مسمریزم کی حقیقت سے بھی بالتفصیل وضاحت فرمادی ہے ۔ مرزا صاحب نے پیشنگویاں بھی کیں الہامات بھی گڑھے۔ مولوی ثناء اللہ صاحب امر تسر ی اور محمد حسین بٹالوی کے ساتھ مناظرانہ اندازِ تحریر ملتی رہی اور بعد میں بالمشافہ مناظرہ اور مباہلہ کرنے کے لئے تیارنہیں ہوئے، مسیحِ موعودبننے کی خوب تدابیر نکالی ۔ان سب کاردبلیغ مولانا نے فرمایا ۔ مرزاصاحب اور از قسم جھوٹے مدعیان نبوت کے محققانہ جوابات دئے اور تفرقہ ڈانے والوں کی سزا میں صحیح احادیث پیش کئے اور افسوس کے ساتھ کہتے ہیں کہ ہمارے برادرانِ دینی اب تک ہوشیارنہیں ہو ئے، آخر میں ایسے فتنوں کے وقت  اہلِ اسلام کو کیا کر نا چاہئے کتاب وسنت کی روشنی میں راہ عمل بتادیا ہے۔ 
بقول مولانا مفتی رکن الدین صاحب:۔ جب ہندوستان  میں مرزا غلام احمد قادیانی نے تدریجاًادعاء نبوت کی طر ف قدم بڑھایاتومسلمانوں نے مخالفت شروع کی، مباحثے ہوئے مضامین لکھے گئے ۔ حیدرآباد میںغالباً مولانا علیہ الرحمہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے مذہب قادیانی کی رد میں قلم اٹھا یا اور افادۃ الافہام کے دو حصے اور انوارالحق جیسی کتابیں لکھ کرشائع فرمادیں لیکن انمیں کسی کا جواب بھی مرزاصاحب یا ان کے اتباع میں کسی سے نہیں ہوسکا۔ غرض ان حصوں کے دیکھنے سے مذہب قادیانی کی اصل تصویر دکھائی دیتی ہے۔ رد قادیانیت کرنے والے ان کتب کی مدد سے بے نیاز نہیں ہوسکتے۔ 
افادۃ الافہام (حصہ اول)
(صفحات ۳۶۰ )
مولانانے اس کتاب کو 1905ء میں لکھ کر طبع فرمایا۔ اس کتاب کی اہمیت اور افادیت کا اندازہ امام اہل سنت مولانا شاہ احمد رضا خان فاضل بریلویؒ کے ان الفاظ سے لگایا جاسکتاہے۔
’’کُل تصانیف گرامی کا شوق ہے۔ اگر بہ قیمت ملتی ہو ں قمیت سے اطلاع بخشی جائے دو جلد قادیانی محذول کے چند صفحات دیکھے تھے ، ایک صاحب سے ان کی تعریف کی وہ لے گئے‘‘۔ 
(مکتوبات اعلحٰضرت، مکتوب مؤرخہ ۱۸؍شوال المکرم دوشنبہ ۱۳۳۳ھ ص ۸۶) مرتبہ: مولانا محمود احمدقادری) و کلیاتؔ مکاتیب رضا، ص ۱۳، ڈاکٹر شمس مصباحی پورنوی، ناصر: دارالعلوم قادریہ صابریہ، برکات رضا، کلیر شریف۔ 2005ء)
مرزاصاحب اور دعوی نبوت کا فتنہ، فتنہ کے ایام میں مسلمانوں کو کیا کرنا چاہئے، ردقادنیت میں یوں تو مختلف علماء کرام نے قلم اٹھا یا لیکن ان تمام میں جامع او ربلیغ رد حضرت شیخ الاسلام نے افادۃالافہام دوجلداور انوار الحق جیسی کتابیں لکھکراصلاح کا حق اداکردیا۔ بقول شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی ؒ امام کا منصب اصلاح الظالم و ازالۃ الفساد ہے‘‘ حضرت شیخ الاسلام اپنے ان کارناموں کے پیش نظر ’’امام‘‘ کہلائے جاسکتے ہیں۔
مرزا غلام احمدقادیانی او ردعویٔ نبوت کا فتنہ: نبوت کی آرزوا بتداء میں مسیلمہ کذاب کو ہوئی  اس کے بعد اکثر عقل پر ستوں کو بھی خواہش ہوئی اور چونکہ آیت شریفہ خاتم النبین اور حدیث شریف لا نبی بعدی سے ان کی تکذیب ہوتی تھی اس لئے انہوں نے یہ تدبیر نکالی کہ لانبی بعدی کے بعدالاان یشاء اللہ روایت میں زیادہ کردیا۔ بعض بے دنیوں نے مان لیا مگر عام طورسے اہل اسلام کی طرف سے ان کی تردیدوتکذیب ہوتی رہی اب مرزاصاحب قادیانی نے دیکھا کہ اس زمانے میں رویت کی بھی ضرورت نہیںاپنی جرأت سے لانبی بعدی کے بعد لانبی ظلی بڑھا دیا کیونکہ وہ ظلی نبوت کوجمع جمیع لوازم نبوت، حقیقۃ جائز رکھتے تھے۔ اور خوش اعتقادوں نے اس کوبھی بلاتامل قبول کیا قرأئن قریبہ سے یہ با ت ثابت ہے کہ مرزا صاحب کو نبو ت مستقلہ کا دعویٰ ہے مگر یہ خوف بھی لگاہوا ہے کہ کہیں کوئی مسلمان گرفت میں لے لیگا تو رہا ئی مشکل ہو گی اس لئے انہوں نے فرار کی راہ نکالی کہ ظلی کہہ کر چھوٹ جائیں گے اور عقل پر چلنے والوں کا طریقہ بھی یہی ہے کہ قدم الخروج قبل الولوج (داخل ہونے سے پہلے نکلنے کا راستہ بنانا) کو ہمشیہ پیش نظر رکھا کرتے ہیں کتب لغت اور تفاسیر میں تویہ لکھا ہے کہ بعض ہوشیار جانوورں کابھی اس پر عمل ہے چنانچہ جنگلی چوھے کی عادت ہے کہ جس زمین میں گھر بناتا ہے اس میں ایک سورخ ایسا بھی تیار رکھتا ہے کہ اگر کوئی آفت آئے تو اس راہ سے نکل جائے اس احتیاطی راستے کو عرب نافقا کہتے ہیں۔ مسلمانوں میں بھی اس قسم کے عقلاء پیدا ہوئے تھے کہ ظاہری موافقت اہل اسلام کو جان بچا نیکی راہ بنا رکھی تھی حق تعالیٰ نے ایسے عقلاء کانام منافق رکھا جن کی نسبت ارشاد ہے، ان المنا فقین فی الدرک الأسفل من النار، یعنی منافق کفار سے بھی بدترین ہیں جن کا ٹھکانا دوزخ کے نیچے کے طبقے میں ہے۔ جس طرح نبوت کے دعوے میں مر زا صاحب نے گر یز کا طریقہ نکال لیا اسی طرح ہر موقع پر نکال لیا کر تے ہیں۔ چنانچہ تمام فضائل سید الکونین ﷺ کو اپنے پر چسپاں کر کے گریز کا یہ طریقہ نکالا کہ بطور ظلی وہ سب فضیلتیں حق تعالیٰ نے ان کو دیے ہیں۔مزید یہ بھی دعویٰ کیا کہ ہر قسم کے معجزات وخوارق عادات میں دکھلا سکتا ہوں اور گریز کا طریقہ یہ نکالا کہ طلب کرنے والے کا نہا یت خوش اعتقاد اور طالب حق ہو نا شر ط ہے۔ اگر ذرا بھی اعتقاد میں فرق آجائے تو کو ئی معجزہ ظاہرنہیں ہو سکتا۔ براہین احمدیہ اور ازالۃ الاوہام کی روسے مرزا صاحب نے جتنے فضائل کے دعوے کئے ہیں کہ میں محدث ہوں، امام زماں ہوں، حارث ہوں، امام مہدی ہوں، عیسیٰ موعودہوں،  میں نبی ہوںمجھ پر وحی اترتی ہے۔ خدابے پردہ ہوکر مجھ سے باتیں کر تاہے۔ بلکہ ٹھٹے کرتاہے میرا منکر کافر ہے وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب ایسی باتیں ہیں کہ کسی کو خبر نہیں ہوسکتی کہ مرزاصاحب سچ کہہ رہے ہیں یا جھوٹ، ہر فاسق خبر دے سکتا ہے کہ خدانے مجھ سے یہ فرمایا، دیکھ لیجئے جن جن جھوٹوں نے نبوت کا دعویٰ کیا سب کے دعوے اسی قسم کے ہوا کرتے تھے۔
الغرض ادنیٰ تامل سے معلوم ہوسکتاہے کہ مرزاصاحب کے کل دعوے مجرد ہیں جن کے ساتھ کو ئی دلیل نہیں گویا مرزاصاحب نے مسلمانوں کو جھوٹے وعدے کئے کہ پادریوں، نیچریوں اورآریہ کا مقابلہ کر کے اُن کو قائل کرادوںگا اس طرح کے وعدے کر کے مسلمانوں سے ایک خطیر رقم حاصل کرنی چاہی مگر وہ دینے پر راضی نہ تھے لیکن جن لوگوں نے ان کے اس کام میں رقم لگائی تھی کیا ان کو یہ ندامت نہ ہو گی کہ مرزاصاحب نے ہمیں احمق بناکر اس قدر روپیہ ہم سے لے لیا اور ایسے کام میں لگایا کہ ہمارے ہی دین کی بنیاد ہل رہی ہے اور کیا اب وہ اس بات پر افسوس کر رہے ہیں کہ اس قدر روپیہ ہم صرف نہ کرتے تو اس فتنہ کی آتش اس درجہ کو نہ پاتی۔ اس طرح مرزاصاحب نے مختلف داؤپیچ سے ناجائز طور پر مسلمانوں کا مال بٹورا۔
مرزاصاحب تو براہین احمدیہ کی تصنیف اور اشاعت کے زمانے میں بخوبی جانتے تھے کہ یہ ایسا خنجر تیار کیا گیاہے کہ جب بے رحمی سے مسلمانوں کے گلوں پر چلایاجائے گا تو باپ کو بیٹے سے، بھائی کو بھائی سے، بیوی کو شوہرسے جدا کر دے گا۔ ایک دوسرے کا جانی دشمن اور خون پیاسا ہو جائے گا۔ مسلمانوں میں ایک تہلکہ اعظم برپا ہوگا اور مخالفین مسرت وشادمانی کا اعلان کریں گے۔
الحاصل اس نئی مخالفت نے تمام مسلمانوں کو ایک ایسے تہلکے میں ڈال دیا کہ الامان اور مخالفین کو خوب موقع ہاتھ آیا کہ اسلام اور حامیان اسلام پر حملے کریں۔
مرزاصاحب کو چونکہ نبوت کا دعویٰ ہے اور معجزات اس کے لوازم ہیں، اب انہیں فکر ہو ئی کہ باتیں بنانی تو آسان ہے طبیعت خداد اد سے بہت سے حقائق و معارف تراش لئے جائیں مگر خوارق عادات دکھلانا مشکل کام ہے۔ دیکھا کہ الہام کا طریقہ بہت آسان ہے۔ اس لئے براہین احمدیہ میں الہام کی ایک وسیع بحث کی، اگر چہ بظاہر وہ مخا لفین اسلام کے مقابلہ میں تھی، اس لئے کہ وہاں صرف وحی اور نبوت ثابت کرنا منظورتھا مگر ایسا درمیانی طریقہ اختیار کیا کہ عام طور پر الہام ثابت ہو جائے اور اہلِ اسلام انکار بھی نہ کر سکیں پھر اپنے الہامات پیش کئے اور الہام گوئیوں کا دروازہ کھول دیاگیا۔ مرزاصاحب نبوت کا دعویٰ تو کرتے ہیں مگر معجزات سے متعلق ان کی تقریر یں عجیب ہیں جنکا نتیجہ معجزات کا انکار نکلتا ہے۔ جیسے  ازالۃ الاوہام  سے مرزا صاحب کا قول لکھا ہے کہ’’اپنے لوگ دعا اور تضرع سے معجزات مانگتے ہیں معجزہ نمائی کی ایسی قدررت نہیں رکھتے جیسا کہ انسان کو ہاتھ ہلانے کی  قدرت ہے‘‘۔ 
فتنہ کے زمانے میں مسلمانوں کو کیا کر نا چاہئے:
اس عنوان کے تحت حضرت شیخ الاسلام مولانامحمدانواراللہ فاروقی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں کہ اب یہ بات معلوم کر نے کی ضرورت  ہے کہ ایسے فتنوں کے وقت مسلمانو ں کو کیا کر نا چاہئے پہلے یہ بات معلوم کر نے کی ضرورت ہیکہ حق تعالی نے ایک مخفی راز پرمسلمانو ں کو مطلع کر دیا کہ جو لوگ فتنہ انگیزیاں کرتے ہیں ان کو خدائے تعالی نے اسی واسطے پیدا کیا ہے کہ اس قسم کے کام کیا کریں اور انجام کار رسوا ہوں چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتاہے۔ وکذ الک جعلنا فی کل قریۃ اکابر مجر میھا لیمکروا فیھا وما یمکرون  الابانفسھم وما یشعرون یعنی اور ایسا ہی ہم نے بستی میں بڑے بڑے فساق (فسق کرنے والے) پیدا کئے تاکہ ان میں فتنہ انگزیاں اور مکرکریں اور جتنی مکاریاں وہ کرتے ہیں اپنے حق میں کرتے ہیں اور نہیں سمجھتے۔ اگر یہ آیت شریفہ نازل نہ ہو تی تو اس قسم کے لوگوں کی ترقی سے یہ خد شہ ضرور ہو تا کہ شاید یہ بھی مقبول بارگاہ الہی ہوںجن کو اس قسم کی تائید ہورہی ہے۔ اس قسم کے لوگوں کی ترقیوں سے مسلمانو ں کو یہ خیال کر نا چاہئے کہ ہماری آزمائش کے لئے حق تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا ہے۔ اور اسطرح کی تائید ان کی حقانیت کی دلیل نہیں ہو سکتی۔ بات یہ ہے کہ باطل کا شیوع بہت تیزی سے ہو تاہے۔ مسلیمہ کذاب کا یہ حال تھے کہ دو چار سال ہی میں قریباً ایک لاکھ آدمی ایمان لائے تھا جبکہ پیغمبرانِ حق کو سالہا سال کی محنت کے بعد بھی لاکھ کی تعداد تک پہنچنا دشوار ہوتاہے۔
افادۃ الافہام( حصہ دوم)
(صفحات ۳۶۰ )
حضرت شیخ الاسلام نے اس حصہ میں حدیث اور محدث کامل کے لئے ضروری علوم پر بحث فرمائی ہے۔ جس سے مولانا کی محدثانہ بصیرت کا اندازہ قائم ہوتاہے۔ مرزاصاحب کے تفسیر واحادیث پر حملے اور ان کے جوابات عالمانہ نہایت تحقیق سے دئے گئے ہیں اور یہودی کی صفات مرزاصاحب میں ثابت فرمائی ہیں۔  مرزا صاحب کے دعوائے نبوت کے علاوہ مجدد مسیح ہو نے کے دعویٰ کو دلائل و براہین سے رد فرمادیاہے۔ مشہور بزرگ شاہ نعمت اللہ علیہ الرحمہ کے نام منسوب قصیدہ کو قرائن سے جعلی ثابت قراردیاہے۔ جس سے مرزا صاحب کے دعوؤں کو تقویت مل رہی تھی وحی والہام کی حقیقت بیان کرتے ہوئے ان کے الہاموں کو شیطانی ہو نا ثابت کیا ہے اس کے علاوہ نزول عیسیٰ علیہ السلام کی علامتیں اور مرزاصاحب کی گمراہیوں کی نشاندہی ، خروج دجال، یاجوج ماجوج اور امام مہدیؐ کے ظہور سے متعلق مرزاصاحب کی غلط فہمیاں دعوی عیسویت کے سلسلے میں مرزاصاحب کے مختلف داؤ پیچ احادیث کا امام مہدیؑ کی تائید میں نکلنا اور مرزا صاحب کا ان کو حادث کہہ کر دھوکہ دینا معراج کے مسئلہ میں مرزا صاحب کا اعتراض وغیرہ جیسے امور میں شیخ الاسلام کے مدلل و مسکت جوابات اور اس ضمن میں قرآن وحدیث وآثار صحابہ ، محدیثین کے اقوال بھی بڑی جانفشانی سے جمع کئے ہیں جن کے مطالعہ سے اہل انصاف کو قبول حق کے ساتھ مرزاصاحب کے باطل پرست ہونے میں کو ئی شبہ باقی نہیں رہ جاتا۔
حدیث لا مہدی الا عیسی اور مرزاصاحب کی غلط فہمی: مرزا صاحب کہتے ہیں کہ امام مہدی اور عیسی علیہ السلام ایک ہی شخص ہیں مگر ہمارے نبی ﷺ فر ماتے ہیں وہ دوسرے شخص ہیں اور ہر ایک کے حالات جداجدا ہیں جیسا کہ حدیث شریف ہے۔ 
قال رسول اللہ ﷺ کیف یہلک امۃ فی اولھا، یعنی وہ امت کیوں کر ہلاک ہوگی جس کے اوائل میں عیسی ابن مریم فی آخرھا والمھدی من اہل بیتی فی وسطھا میں ہوں اور آخرمیں عیسی ابن مریم اور وسط میں مہدی ہیں۔ (کنزالعمال، جلد۷)اس سے ظاہر ہے کہ مہدی اور عیسی علیہ السلام ایک شخص نہیں ہیں اور کنزالعمال میں ہے کہ  قال رسول اللہ ﷺ المھدی من عترتی من ولد فاطمہ ، یعنی مہدی میر ی اہل بیت میں فاطمہ رضی اللہ عنھا کی اولاد میں ہونگے۔ یہ روایت ابوداؤد اور مسلم میں ہے اور پھر کنزالعمال میں کہ قال النبی ﷺ المھدی یوالی اسمہ اسمی واسم ابیہ اسم ابی ، یعنی مہدی کا نام محمد ابن عبداللہ ہوگا ان احادیث سے ثابت ہے کہ مہدی علیہ السلام اور ہیں عیسی علیہ السلام اور لیکن دونوں کا زمانہ ایک ہی ہے اس کو ظاہر کرنے کے لئے حضور اکرم ﷺ نے فرما دیا کہ لا مہدی الا عیسی جس میں حر ف مضاف محذوف ہے یعنی لازمان مہدی الازمان عیسی(مطلب یہ کہ مہدی اور عیسی علیہ السلام دونوں کا زمانہ ایک ہے) وہ بھی اس خیال سے کوئی بھی دوشخصیتوں کو ایک نہ سمجھے ویسے لا مہدی الاعیسی کی روایت اکابر محدثین کے نزدیک کئی طرح سے مخدوش ہے مگر مرزاصاحب کو اس سے کیا غرض ان کو کیسی ہی ضعیف،منکر، منقطع، مجہول، مخدوش روایت چاہئے اپنے مفید مطلب ہوتو  اس پر بڑے زورشورسے استدلال کرتے ہیں اور جوروایت ان کے حق میں مضر ہوتی ہے اگر بخاری مسلم میں بھی ہوتو اقسام کے احتمال قائم کر کے ساقط الاعتباربنادیتے ہیں مرزاصاحب کی کج بحثیوں کی کوئی انتہا نہیں جبکہ صدہا احادیث وآثار، امام مہدی کی خصوصیات میں موجود ہیں اور سینکڑوں آیات وآحادیث وآثار عیسی علیہ السلام کے باب میں وارد ہیں ۔ اس لئے ذرہ برابر بھی احتمال نہیں ہوسکتا کہ یہ دونوں نام ایک ہی شخص کے ہیں۔ 
مرزاصاحب کے دعوی عیسویت میں قصیدہ شاہ نعمت اللہ سے استدلال اور اس کی حقیقت: مرزاصاحب اپنی عیسویت کی دلیل کے سلسلہ میں رسالہ نشان آسمانی، میںلکھتے ہیںجس کاماحصل یہ ہے کہ مولوی اسماعیل صاحب شہید دہلوی نے مہدی وقت کی پیشنگوئی کی مصداق اپنے پیرومرشد سید احمد کو ٹھیرایا تھا چنانچہ اس ضمن میں انہوں نے اپنی کتاب کے ساتھ اس کو شائع بھی کردیا تھی مگر ۔مرزاصاحب کہتے ہیں کہ یہ سچ ہے کہ اس پیشنگوئی کے مصداق کا نام احمد ہے اور نیز یہ بھی اشارہ پایا جاتا ہے کہ وہ ملک ہند میں ہوگا اور لکھا ہے کہ وہ تیرویں صدی میں ظہور کریگا لیکن چونکہ یہ تینوں علامتیں سید احمد صاحب میں پائی نہیں جا تیں اس لئے سید احمد صاحب اس پیشنگوئی میں داخل نہیں ہیں۔پھر مرزا غلام احمد نے اس قصید ے کے چند اشعار نقل کرکے خود اپنے آپ کو مذکورہ قصیدہ کی پیشنگوئی کا مصداق سمجھا
ا ح م د ال می خوانم 
نامِ آں نامدار می بینم
بادشاہ تمام ہفتِ اقلیم
شاہ عالی تبارمی بینم
مہدیِ وقت وعیسٰیٔ دوراں
ہر دورا شہسوارمی بینم
حضرت شیخ الاسلام لکھتے ہیں کہ بہر حال ممکن ہے کسی نے اس وقت یہ قصیدہ بنا کر ایک کامل بزرگ کے نام سے مشہور کردیا ہو جس سے مولوی اسماعیل دہلوی کو بھی استدلال کا موقع ہاتھ آگیا پھر جبکہ اس پیشنگوئی میں سید احمد صاحب اور غلام احمد صاحب میں تنازع ہے تو سر سید احمد خان صاحب اس سے کیوں محروم رکھے جائیں ان کے اتباع تو (مہدی وقت وعیسی دوراں )کے مصداق کی تکمیل میں مہدی علی خان صاحب کوپیش کردیں گے جس سے (ہر دوشہوار می بینم)بھی چسپاں ہوجائے گا اور مرزاصاحب جو تکلیف اٹھا کر دو کو ایک کردیا اس کی ضرورت بھی نہ رہیگی اور کثرت اتباع کے لحاظ سے بھی انہی کانمبر بڑھا رہیگا۔ یہ سب آپس کے جھگڑے ہیں۔ مگر اس کا کیا جواب ہو گا کہ قصیدے میں تو بادشاہ تمام ہفت اقلیم می بینم لکھا ہے۔ اگر تینوں احمد صاحبان (سیداحمد رائے بریلوی۲سرسید احمدخان ۳غلام احمدقادیانی) علی سبیل البداہت یا بطور مانعۃ الخلو مصداق ٹہریں تو ان کے پیرو صرف ہندوستا ن کے مسلمانوں کے عشرعشیر نہیں ہوسکتے۔پھر ہفت اقلیم کی سلطنت کیسی اس سے بداہتاً معلوم ہوسکتاہے کہ وہ قصیدہ جعلی ہے کسی نے مصلحت وقت کے لحاظ سے بناکر ان بزرگ کی طرف منسوب کردیا۔ مرزاصاحب نے چند اشعار کی شرح کی اور پور اقصیدہ علحدہ اس کتاب میں لکھ دیا اور انہوں نے جو طر یقہ اختیار کیاہے وہ قابل غورہے، جواحادیث ان کے لئے مضر ہو تی ہیں اگر صحیح مسلم میں بھی ہوں تو صاف کہہ دیتے ہیں کہ بخاری نے ان کو صحیح نہ سمجھ کر چھوڑ دیا اور کبھی کہتے ہیں کہ امام بخاری جیسے ریئس المحدثین کو وہ حدیث نہیں ملی اور کبھی کہتے ہیں ممکن ہے کہ راوی نے سہواً یا عمداً خطا کی ہو مطلب یہ کہ حدیثیں قابل اعتبار نہیں یعنی موضوع ہیں وغیرہ تعجب ہے کہ مرزاصاحب احادیث صحیح میں کلام کرتے ہیں مگر اپنے دعوی کے ثبوت میں قصیدے سے استدلال کرتے ہیں جس کا ثبوت تقریباً محال ہے کہ وہ شاہ نعمت اللہ صاحب ہی کے اشعارہوں۔ حضرت شیخ الاسلام لکھتے ہیں کہ مرزاصاحب کو شاہ نعمت اللہ صاحب کے کشف کا اس قدر وثوق کہ کو ئی لفظ اس کا ظاہری معنی سے ہٹ نہیں سکتا اور نبی کریم ﷺکا کشف اور پیشنگوئیاںایسی کمزورکہ جب تک ان میںنئے معنی نہ ڈالے جائیں اپنے ذاتی معنی  پر دلالت ہی نہیں کرسکتیں بلکہ کبھی یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ ( استغفراللہ) آنحضرتﷺ پر اس کی حقیقت کھلی ہی نہیں پھر اس پر دعوئے امتی بلکہ نبی ہونے کا۔اہل ایمان اس بات کے مامورہیں کہ اگر جعلی انبیاء وغیرہم، مسلمانوںکو بہکادیں تو الدین النصیحۃ(دین نصیحت ہے) کے مصداق دین کی خرابیوں پر متنبہ کر دیں اور جو نہ مانیں تو ان پر غم کھانے کی کوئی ضرورت نہیں مسلمانوں کے لئے ارشاد خدا وندی ہے۔  یاایھاالذین آمنواعلیکم انفسکم لا یضرکم من ضل اذا اھتدیتم۔ یعنی مسلمانوں تم اپنی خبر رکھو جب تم راہ راست پر ہوتو کوئی بھی گمراہ ہواکرے اس کا گمراہ ہونا تم کو کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ اور حدیث شریف میں ہے۔ عن علی رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہﷺ لا تکرھوالفتنہ فی اٰخرالزمان فانھا ثبیرالمنافقین۔ (ابو نعیم کذا فی کنزالعمال) یعنی فرمایا نبی کریم ﷺ نے کہ آخری زمانے میں فتنے کو برا نہ سمجھواس لئے کہ وہ منافقوں کو ہلاک کرے گا مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں کے دل میں پہلے ہی سے پورا ایمان نہیں کہ وہ فتنہ پردازوں کی تصدیق کرلیں گے اور ہلاک ہونگے اور سچے مسلمان اپنے کمالِ ایمانی کی وجہ سے اُن فتنوں سے محفوظ رہیں گے چونکہ ایسے ایمان والوں کا مسلمانوں میں رہنا کچھ مفید نہیں بلکہ ان کا علحدہ ہو جانا ہی بہتر ہے۔ اس لئے تخصیص کرکے آخری زمانے والے مسلمانوں کو ارشارہوا کہ اس زمانے میں فتنے کو مکروہ نہ سمجھو کیونکہ اس میں ایک بڑی مصلحت یہ ہے کہ خالص مسلمان ممتاز ہوجائیں گے۔ حضرت شیخ الاسلام آخر میں مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ اہل اسلام اپنے اپنے ایمان کے مدارج کے موافق خود فیصلہ کرسکتے ہیں کہ کیا اب بھی مرزاصاحب کے ساتھ حسن ظن کیا جائے۔
٭٭٭ 
حواشی و حوالہ جات
(۱)  حضرت مولانا مفتی محمد رکن الدین، مطلع الانوار، ص۱۶۵ اور ص۶۶، 1405ھ
(۲)  مولانا محمد انوار اللہ فاروقیؒ، مقاصد الاسلام حصہ نہم، ص۱۵۷
(۳) مولانا محمد انواراللہ فاروقیؒ، مقاصد الاسلام، حصہ یازدہم،ص۱۳۲
(۴) مولانا محمد انواراللہ فاروقیؒ، مقاصد الاسلام، حصہ یازدہم،ص۲۳
٭٭٭

Related Articles

Check Also
Close
Back to top button
error: Content is protected !!