سحر ی میں تاخیر سے کون سا وقت مراد ہے؟

سحر ی میں تاخیر سے کون سا وقت مراد ہے؟

Advertisement
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!سَحَری میں تاخِیر کرنا مُسْتَحَب ہے اور دیر سے سَحَری کرنے میں زیادہ ثواب مِلتا ہے۔مگر اتنی تاخیر بھی نہ کی جائے کہ صبحِ صادق کا شُبہ ہونے لگے!یہاں ذِہن میں یہ سُوال پیدا ہوتا ہے کہ ”تاخِیر ” سے مُراد کونسا وَقت ہے ؟ مُفَسّرِشہیرحکیمُ الْاُمَّت حضرتِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنّان ” تفسیر نعیمی ”میں فرماتے ہیں کہ اِس سے مُراد رات کا چھٹا حِصّہ ہے ۔پھر سُوال ذِہن میں اُبھرا کہ رات کا چَھٹا حِصّہ کیسے معلوم کیا جائے ؟اِس کا جواب یہ ہے کہ غُروبِ آفتاب سے لیکر صُبح صادِق تک رات کہلاتی ہے ۔مَثَلاً کسی دِن سات بجے شام کو سُورج غُروب ہوا اورپھر چار بجے صُبحِ صادِق ہوئی۔اِس طرح غروبِ آفتاب سے لیکر صُبحِ صادِق تک جو نو گھنٹے کا وَقفہ گُزرا وہ رات کہلایا۔اب رات کے اِ ن نو گھنٹوں کے برابر برابر چھ حِصّے کر دیجئے ۔ہر حِصّہ ڈیڑھ گھنٹے کا ہوا اب رات کے آخِری ڈیڑھ گھنٹے (یعنی اڑھائی بجے تا چار بجے ) کے دوران صُبحِ صادِق سے پہلے پہلے جب بھی سَحَری کی ، وہ تاخیر سے کرنا ہوا ۔ سَحَری واِفطَار کا وَقت عُمُوماً روزانہ تبدیل ہوتا رہتا ہے ۔بیان کئے ہوئے طریقے کے مطابِق جب بھی چاہیں رات کا چھٹا حصّہ نِکال سکتے ہیں اگر رات
سَحَری کر لی اور روزہ کی نِیَّت بھی کرلی ۔ بلکہ عَوامی اِصطِلاح میں ”روزہ بند ”بھی کرلیا پھر بھی بَقِیَّہ رات میں جب چاہیں کھاپی سکتے ہیں۔نئی نیَّت کی حاجت نہیں۔
Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!