حالاتِ نسب و ولادت شریف تا بعثت شریف

حالاتِ نسب و ولادت شریف تا بعثت شریف

حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا سلسلۂ نسب یہ ہے: سیدنا محمد بن عبد اللّٰہ بن عبدالمُطَّلِب بن ہاشم بن عبد مَناف بن قُصٰی بن کلاب بن مُرَّہ بن کعب بن لُؤَئ بن غالب بن فِہرْ بن مالک بن نَضْر بن کنانہ بن خزیمہ بن مُدْرِکہ بن الیاس بن مُضَر بن نزار بن معدبن عدنان۔ (1) اور عدنان حضرت اِسمٰعیل بن اِبراہیم خلیل اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِمَا السَّلَام کی اولاد سے ہیں ۔

خاندانی شرافت وسیادت

رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا خاندان عرب میں ہمیشہ سے ممتاز و معزز چلا آتا تھا۔ نَضْر (یا فِہرْ) کا لقب قریش تھااس وجہ سے اس کی اولاد کو قریشی اور خاندان کو قریش کہنے لگے اور اس سے اوپر والے کنانی کہلائے۔ قریش کی وجہ تسمیہ میں بہت سے مختلف اَقوال ہیں جن کے اِیر اد کی اس مختصر میں گنجائش نہیں (2) ۔صحیح بخاری میں ہے کہ رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ میں بنی آدم کے بہتر ین طبقات سے بھیجا گیا، ایک قرن بعد دوسرے قرن کے، یہاں تک کہ میں اس قرن سے ہوا، جس سے کہ ہوا۔ (3)
حدیث ِمسلم میں ہے کہ اللّٰہ تعالٰی نے حضرت اسماعیل عَلَیْہِ السَّلَام کی اولاد میں سے کِنانہ کو بر گز ید ہ بنا یا اور کِنانہ میں سے قریش کو اور قریش میں سے بنی ہاشم کو بنی ہاشم میں سے مجھ کو برگزید ہ بنا یا۔ (4) اسی طرح ترمذی شریف میں بہ سند ِحسن آیا ہے کہ اللّٰہ تعالٰی نے خَلْقَت کو پیدا کیا تو مجھ کو ان کے سب سے اچھے گروہ میں بنا یا پھر قبیلوں کو چنا تو مجھ کو سب سے اچھے قبیلہ میں بنا یا۔پھرگھروں کو چنا تو مجھے ان کے سب سے اچھے گھر میں بنایا، پس میں روح وذات اور اصل

کے لحاظ سے ان سب سے اچھا ہوں ۔ (1) کسی نے کیا اچھا کہا ہے:
لَمْ یَخْلُقِ الرَّحْمٰنُ مِثْلَ محمد اَبَدًا وَّ عِلْمِیْ اَنَّہٗ لاَ یَخْلُقٗ (2)
خدا نے حضرت محمد (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کا مثل کبھی پیدا نہیں کیا اور مجھے علم ہے کہ وہ آپ کا مثل پیدا نہ کرے گا۔
نَضْر کے بعد فِہر اپنے وقت میں رئیس عرب تھا، اس کا ہم عصر حسان بن عبدکلال حمیری چاہتا تھا کہ کعبہ کے پتھر اٹھا کر یمن میں لے جائے تا کہ حج کے لئے وہیں کعبہ بنا دیا جائے، جب وہ اس اراد ے سے حمیرو غیرہ کو ساتھ لے کر یمن سے آیا اور مکہ سے ایک منزل پر مقامِ نخلہ میں اترا تو فِہر نے قبائل عرب کو جمع کر کے اس کا مقابلہ کیا۔ حمیر کو شکست ہوئی، حسان گر فتار ہو ااور تین برس کے بعد فدیہ دے کر رہا ہوا۔ اس واقعہ سے فِہر کی ہیبت و عظمت کا سکہ عرب کے دلوں پر جم گیا۔
فِہر کے بعد قُصٰی (3) بن کلاب نے نہایت عزت و اِقتدار حاصل کیا۔قُصٰی مذکور آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے جد خامس ہیں ان کا اصلی نام زید تھا۔ کلاب کی وفات کے بعد ان کی والدہ فاطمہ نے بنو عذرہ میں سے ایک شخص ربیعہ بن حزام سے شادی کر لی تھی، وہ فاطمہ کو اپنی ولایت یعنی ملک شام کو لے گیا۔فاطمہ اپنے ساتھ زید کو بھی لے گئی چونکہ زید ابھی بچہ ہی تھے اور اپنے وطن مالوف (4) سے دور جارہے تھے اس لئے ان کو قُصٰی (تصغیر ِاقصیٰ بمعنی بعید) کہنے لگے۔جب قُصٰی جوان ہو گئے تو پھر مکہ میں اپنی قوم میں آگئے اور وہیں حُلَیْل خزاعی کی بیٹی حبی سے شادی کرلی۔ حُلَیْل اس وقت کعبہ کا متولی تھا، اس کے مرنے پر تولیت قُصٰی کے ہاتھ آئی، اس نے خُزاعہ کو بیت المال سے نکال دیا اور قریش کو گھاٹیوں پہاڑ یوں اور وادیوں سے جمع کر کے مکہ کے اندر اور باہر آباد کیااس وجہ سے قُصٰی کو مجتمع بھی کہتے ہیں ۔ (5)

قُصٰی نے کئی کا رہا ئے نمایاں کیے چنانچہ ایک کمیٹی گھر قائم کیا جسے دار ا لندوہ کہتے ہیں ۔ مُہِمَّاتِ اُمور (1) میں مشورے یہیں کر تے۔لڑ ائی کے لئے جھنڈا یہیں تیار ہوتا۔ نکاح اور دیگر تقریبا ت کی مَراسِم (2) یہیں ادا کرتے۔حرم کی رِفادَت و سقایت (3) کا منصب بھی قُصٰی ہی نے قائم کیا۔چنانچہ مو سم حج میں قریش کو جمع کرکے یہ تقریر کی: ’’ تم خدا کے پڑوسی اور خدا کے گھر کے متولی ہو اور حجاج خدا کے مہمان اور خدا کے گھرکے زائرین ہیں وہ اور مہمانوں کی نسبت تمہاری میزبانی کے زیادہ مستحق ہیں اس لئے ایام حج میں ان کے کھانے پینے کے لئے کچھ مقررکرو۔ ‘‘ اس پر قریش نے سالا نہ رقم مقرر کی جس سے ہر سال ایام منیٰ میں غریب حاجیوں کو کھانا کھلا یا جاتا تھا۔سقایت کے لئے قُصٰی نے چرمی (4) حوض بنائے جو ایام حج میں کعبہ کے صحن میں رکھے جاتے تھے۔ ان حو ضوں کے بھرنے کے لئے مکہ کے کوؤں (5) کا پانی مَشکوں میں اونٹوں پر لایا جاتا تھا۔ان مناصب (6) کے علاوہ قریش کے باقی شَرَف بھی یعنی حِجابَت ( کعبہ کی کلید برداری وتولیت ) اور لِواء ( عَلم بندی) اور قِیادت ( اِما رتِ لشکر ) قُصٰی کے ہاتھ میں تھے اور قُصٰی ہی پہلے شخص ہیں جنہوں نے مُزدلِفہ پر روشنی کی تا کہ لوگوں کو عرفات سے نظرآجائے۔ (7)
قُصٰی کے چار لڑکے (عبدا لدَّار، عبدمَناف ، عبد ا لعُزّٰی، عبد) اور دو لڑکیاں (تَخْمرُ، بَرَّہ) تھیں ۔ (8) عبدالداراگرچہ عمر میں سب سے بڑا تھا مگر شرافت ووجاہت میں اپنے بھائیوں کے ہم پایہ نہ تھااور عبدمَناف تو سب سے اَشرف تھے یہ آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے جدِّ رابع تھے ان کا اصلی نام مُغِیرہ تھا۔رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے نور کی جھلک ان کی پیشانی میں ایسی تھی کہ ان کو قمر البطحا (وادیٔ مکہ کا چاند) کہا کرتے تھے۔ جب قُصٰی بہت بوڑھے ہوگئے تو انہوں نے عبدا لدَّار سے کہا کہ میں تجھے تیرے بھائیوں کے برابر کرتا ہوں یہ کہہ کر حرم شریف کے تمام مناصب اس کے سپرد کردیئے۔ قُصٰی کی ہیبت کے سبب سے اس وقت کسی نے اعتراض نہ کیا، مگر قُصٰی کے بعد جب عبدالدَّار اور

عبدمَناف کا بھی انتقال ہوچکا تو عبدمَناف کے بیٹوں (ہاشم ، عبد شمس، مُطَّلِب ، نوفَل) نے اپنا استحقاق ظاہر کیا اور چاہا کہ حرم شریف کے وظائف عبدالدار کی اولادسے چھین لیں ۔اس پر قریش میں اختلاف پیدا ہو گیا بنو اسدبن عزی اور بنو زَہرہ بن کلاب اور بنو تَیم بن مُرَّہ اور بنو حارث بن فِہر یہ سب بنو عبد مَناف کی طرف اور بنو مخزوم اور بنو سَہْم اور بنو جمح اور بنو عَدِی بن کعب دوسری طرف ہوگئے۔ بنو عبد مَناف اور ان کے اَحلاف نے قسمیں کھا کر معاہدہ کیا کہ ہم ایک دوسرے کا ساتھ نہ چھوڑیں گے اور یک جہتی کے اظہار کے لئے ایک پیالہ خوشبوسے بھر کر حرم شریف میں رکھا اور سب نے اس میں اپنی انگلیاں ڈبوئیں اس لئے ان پانچ قبائل کو مُطیَّبین کہتے ہیں ۔اسی طرح دوسرے فریق نے باہم معاہدہ کیا اور ایک پیالہ خون سے بھر کر اس میں اپنی انگلیاں ڈُبو کر چاٹ لیں اس لئے ان پانچ قبائل کو لَعَقَۃُ الدم (خون کے چاٹنے والے ) کہتے ہیں ۔ غرض ہر دو فریق لڑائی کے لئے تیار ہو گئے مگر اس بات پر صلح ہو گئی کہ سقایت ورِفادت وقیادت بنو عبد مَناف کو دی جائے اور حِجابت و لواء وندوہ بد ستور بنو عبدالدارکے پاس رہے چنانچہ ہاشم کوجو بھائیوں میں سب سے بڑے تھے سقایت ورِفادت ملی۔ہاشم کے بعد مُطَّلِب کو اورمُطَّلِب کے بعدعبدالمُطَّلِب اور عبد المُطَّلِب کے بعد ابو طالب کو ملی اور ابو طالب نے اپنے بھائی عباس کے حوالہ کردی، قیادت عبدشمس کو دی گئی عبدشمس کے بعد اس کے بیٹے امیہ کو پھر امیہ کے بیٹے حرب کو پھر حرب کے بیٹے ابو سفیان کو عطا ہوئی اس لئے جنگ اُحُداور اَحزاب میں ابو سفیان ہی قائد تھا۔جنگ بدر کے وقت وہ قافلۂ قریش کے ساتھ تھا اس لئے عتبہ بن ربیعہ بن عبد شمس امیر الجیش تھا۔دار الندوہ عبدالدار کی اولاد میں رہا یہاں تک کہ عکرمہ بن عامر بن ہاشم بن عبدمَناف بن عبدالدار نے حضرت معاویہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے ہاتھ فروخت کر دیا۔انہوں نے اسے دار الامارت بنا لیا اور آخر کار حرم میں شامل ہو گیا۔ (1) حِجابت آج تک عبدالدار کی اولاد میں ہے اور وہ بنو شَیْبَہ بن عثمان بن ابی طلحہ بن عبدالعزی بن عثمان بن عبدالدارہیں ۔ لواء بھی اسی کی اولاد میں رہا چنانچہ جنگ اُحُد میں جھنڈا ان ہی کے ہاتھ میں تھا۔ جب ایک قتل ہو جاتا تو دوسرا اس کی جگہ لیتا اس طرح ان کی ایک جماعت قتل ہو گئی۔
ہاشم (2) نے منصب رِفادت وسقایت کو نہایت خوبی سے انجام دیا ذی الحجہ کی پہلی تاریخ کو صبح کے وقت کعبہ سے پشت لگا کر یوں خطاب کر تے تھے: ’’ اے قریش کے گروہ تم خدا کے گھر کے پڑ وسی ہو خدا نے بنی اسمٰعیل میں سے تم کو اس

کی تولیت کا شرَف بخشا ہے اور تم کو اس کے پڑوس کے لئے خاص کیا ہے۔ خد اکے زائرین تمہارے پاس آرہے ہیں جو اس کے گھر کی تعظیم کر تے ہیں ، پس وہ خدا کے مہمان ہیں اور خدا کے مہمانوں کی میزبانی کا حق سب سے زیادہ تم پر ہے اس لئے تم خدا کے مہمانوں اور اس کے گھر کے زائرین کا اکرام کروجو، ہر ایک شہر سے تیروں جیسی لاغر اور سَبُک اَندام (1) اونٹنیوں پر ژُولِیدَہ مُو (2) اور غبار آلود ہ آرہے ہیں ۔اس گھر کے ربّ کی قسم! اگر میرے پاس اس کام کے لئے کا فی سر مایہ ہوتا تو میں تمہیں تکلیف نہ دیتا میں اپنے کسب حلال کی کمائی میں سے دے رہا ہوں ۔تم میں سے بھی جو چاہے ایسا کرے۔ میں اس گھر کی حرمت کا واسطہ دے کر گزارش کر تا ہوں کہ جو شخص بیت اللّٰہ کے زائرین کو اپنے مال سے دے، وہ بجز حلال کی کمائی کے نہ ہو۔ ‘‘ اس تقریر پر قریش اپنے حلال مالوں میں سے دیا کر تے اور دار الندوہ میں جمع کردیتے۔
ہاشم کا اصلی نام عمرو تھا علو رتبہ (3) کے سبب عمروالعلا کہلا تے تھے۔نہایت مہمان نواز تھے ، ان کا دستر خوان ہر وقت بچھا ر ہتا تھا۔ایک سال قریش میں سخت قحط پڑا۔یہ ملک ِشام سے خشک روٹیاں خرید کر ایامِ حج میں مکہ میں پہنچے اور روٹیوں کا چورہ کر کے اونٹوں کے گوشت کے شوربے میں ڈال کر ثرید بنا یا اور لوگوں کو پیٹ بھر کر کھلایا۔اس دن سے ان کو ہاشم (روٹیوں کا چورہ کر نے والا ) کہنے لگے۔ (4)
عبد ِمَناف کے صاحبزادوں نے قریش کی تجارت کو بہت تر قی دی اور دُوُلِ خارجہ (5) کے ساتھ تعلقات پیدا کر کے ان سے کاروانِ قریش کے لئے فرامینِ حفظ واَمن حاصل کیے۔چنانچہ ہاشم نے قیصر ِروم اور مَلِکِ غَسَّان سے اور عبد شمس نے حبشہ کے بادشاہ نجاشی سے اور نوفل نے اَکاسرہِ عراق سے اور مُطَّلِب نے یمن کے شاہ حمیر سے اسی قسم کے فرمان لکھوالئے۔اس کے بعدہاشم نے قریش کے لئے سال میں دو تجارتی سفر مقرر کیے اس لئے قریش موسم سرما میں یمن و حبشہ اور گرمامیں عراق وشام میں جاتے اور ایشیائے کو چک کے مشہور شہر انقرہ (انگورہ ) تک پہنچ جاتے۔
ہاشم کی پیشانی میں نورِ محمد ی چمک رہا تھا۔اَحبار میں سے جو آپ کو دیکھتا آپ کے ہاتھ کو بوسہ دیتا۔قبائل عرب واَحبار میں سے آپ کو شادی کے پیام آتے مگر آپ انکار کر دیتے۔ایک دفعہ بغر ضِ تجارت آپ ملک شام کو گئے۔راستے
میں مد ینہ میں بنو عَدِی بن نجَّار میں سے ایک شخص عمرو بن زید بن لبید خزرجی کے ہاں ٹھہر ے۔ اس کی صاحبزادی سلمیٰ حسن وصورت وشرافت میں اپنی قوم کی تمام عورتوں میں ممتاز تھی۔آپ نے اس سے شادی کر لی۔مگر عمرو نے ہاشم سے یہ عہد لیا کہ سلمیٰ (1) جو اولاد جنے گی وہ اپنے میکے میں جنے گی۔شادی کے بعد ہاشم شام کو چلے گئے۔جب واپس آئے تو سلمیٰ کو اپنے ساتھ مکہ میں لے آئے۔حمل کے آثار بخوبی محسوس ہوئے تو سلمیٰ کو مدینہ میں چھوڑ کر آپ شام کو چلے گئے اور وہیں غزّ ہ (2)
میں پچیس سال کی عمر میں انتقال کیا اور غزّہ ہی میں دفن ہوئے ۔سلمیٰ کے ہاں ایک لڑ کا پیدا ہوا جس کے سر میں کچھ سفید بال تھے اس لئے اس کا نام شیبہ رکھا گیا اور شیبۃ الحمد بھی کہتے تھے۔حمد کی نسبت اس کی طرف اس امید پر کی گئی کہ اس سے افعالِ نیک سر زدہوں گے جس کے سبب سے لوگ اس کی تعریف کیا کریں گے۔شیبہ سات یا آٹھ سال مدینہ ہی میں رہے پھر مُطَّلِب کو خبر لگی تو بھتیجے کو لینے کے لئے مدینہ میں پہنچے۔ جب مدینہ سے واپس آئے تو شیبہ کو اپنے پیچھے اونٹ پر سوار کر لیا۔ شیبہ کے کپڑے پھٹے پرانے تھے۔جب چاشت کے وقت مکہ میں داخل ہوئے تو لوگوں نے مُطَّلِب سے پوچھا کہ یہ کون ہیں ؟ مُطَّلِب نے کہا: یہ میرا عبد (غلام ) ہے اس وجہ سے شیبہ کو عبد المُطَّلِب کہنے لگے۔وجہ تسمیہ میں بعضوں نے اَور قول بھی نقل کیے ہیں ۔ (3)
مُطَّلِب کے بعد اہل مکہ کی ریاست عبد المُطَّلِب (4) کو ملی اور رِفادت وسقایت ان کے حوالہ ہوئی، رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا نور اُن کی پیشانی میں چمک رہا تھااُن سے کستور ی کی سی خوشبو آتی تھی جب قریش کو کوئی حادثہ پیش آتا تو عبدالمُطَّلِب کو کوہ شیبہ پر لے جاتے اور ان کے وسیلہ سے بار گاہ رب العزت میں دعا مانگتے اور ایامِ قحط میں ان کے واسطہ سے طلب باراں کرتے اور وہ دعا قبول ہو تی۔ عبدالمُطَّلِب پہلے شخص ہیں جو تحنث کیا کرتے تھے یعنی ہرسال ماہ

رمضان میں کو ہِ حِراء میں جاکر خدا کے گِیان دِھیان میں گو شہ نشین رہا کر تے۔وہ موحد (1) تھے شراب وز نا کو حرام جانتے تھے، نکاحِ محارم سے اور بحالت ِبر ہنگی طواف کعبہ سے منع کر تے، لڑکیوں کے قتل سے روکتے، چور کا ہاتھ کاٹ دیتے، بڑے مجاب الدعوات (2) اور فیاض تھے، اپنے دسترخوان سے پہاڑیوں کی چوٹیوں پر پر ند چر ند کو کھلا یا کر تے تھے۔اس لئے انہیں مُطْعِمُ ا لطَّیر (پر ندوں کو کھلانے والے ) کہتے تھے۔ (3) یہ سب کچھ نور محمد ی کی برکت سے تھا۔
عبد المُطَّلِب نے چاہِ زمز م کو نئے سرے سے کھد واکر درست کیا۔اس کا قصہ یوں ہے کہ حضرت اسماعیل عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُوَالسَّلَام کے بعد کعبہ کی تولیت نابت بن اسماعیل کے سپردہو ئی نابت کے بعد نا بت کا نانا مضاض بن عَمْروجُرہُمِی متولی ہوا۔جب بنو جُرْہُم حرم شریف کی بے حرمتی کر نے اور کعبہ کے مال اپنے خرچ میں لانے لگے تو بنو بکر بن عبد مَناف بن کِنانہ اور غَبْشَان خزاعی نے ان کو مکہ سے یمن کی طرف نکال دیا۔اس وقت سے خُزاعہ متولی ہوئے۔ خُزاعہ میں سے اخیر متولی حُلَیْل بن حَبْشِیَّہ تھا جس کے بعد تَوَ لِّیَت قُصٰی کے ہاتھ آئی جیسا کہ پہلے مذکور ہوا۔ عَمرْوبن حارِث بن مَضَّاض جُرْہُمی نے جاتے وقت کعبہ کے ہر دوغزالِ طلائی (4) اور حجر رکن کو زمز م میں ڈال کر اسے ایسا بند کر دیا تھا کہ مدت گزرنے پر کسی کو اس کا نشان تک معلوم نہ رہا۔آخرکار عبد المُطَّلِب کو خواب میں اسکے کھودنے کا اشارہ ہوا۔عبد المُطَّلِب کے ہاں اس وقت صرف ایک صاحبزادہ حارث تھااسی کو ساتھ لے کر کھود نے لگے۔جب کوئیں کا بالائی حصہ نظر آیا تو خوشی میں تکبیر کہی۔کھودتے کھودتے ہر دوغزال (5) اور کچھ تلوار یں اور زِرْہیں بر آمد ہوئیں ۔یہ دیکھ کر قریش نے کہا کہ اس میں ہمارا بھی حق ہے۔عبد المُطَّلِب نے بجائے مقابلہ کے اس معاملہ کو قرعہ اندازی پر چھوڑا چنانچہ ہر دوغزال کا قرعہ کعبہ پر، تلوار وں اور زِرْہوں کا قرعہ عبدالمُطَّلِب پر پڑا اور قریش کے نام کچھ نہ نکلا۔ اس طرح عبدالمُطَّلِب نے زمز م کو کھود کر درست کیا۔اس وقت سے زم زم ہی کا پانی حاجیوں کے کام آنے لگا اور مکہ کے کوؤں (6) کے پانی کی ضرورت نہ رہی۔ (7)
زمز م کے کھود نے میں عبد المُطَّلِب نے اپنے معاوِنین کی قِلَّت محسوس کر کے یہ منت مانی تھی کہ اگر میں اپنے سامنے دس بیٹوں کو جوان دیکھ لوں تو ان میں سے ایک کو خدا کی راہ میں قربان کر وں گا۔جب مرادبر آئی تو اِیفائے نذر کے لئے (1) دسوں بیٹوں کولے کر کعبہ میں آئے اور پُجاری سے اپنی نذر کا حال بیان کیا اور کہا کہ ان دسوں پر قرعہ ڈالو، دیکھو کس کا نام نکلتا ہے۔چنانچہ ہر ایک نے اپنے اپنے نام کا قرعہ دیا۔ایک طرف پجاری قرعہ نکال رہا تھا دوسری طرف عبد المُطَّلِب یوں دعا کر رہے تھے : ’’ یااللّٰہ! میں نے ان میں سے ایک کی قربانی کی منت مانی تھی اب میں ان پر قرعہ اندازی کر تا ہوں ، تو جسے چاہتا ہے اس کا نام نکال۔ ‘‘ اتفاق سے عبد اللّٰہ کانام نکلا جو رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے والد اور عبد المُطَّلِب کو سب بیٹوں میں پیارے تھے۔عبد المُطَّلِب چُھری ہاتھ میں لے کر ان کو قربان گاہ کی طرف لے چلے مگر قریش اور عبد اللّٰہکے بھائی مانع ہو ئے، آخر کا ر عبد اللّٰہ اور دس اونٹوں پر قرعہ ڈالا گیا اتفاق یہ کہ عبد اللّٰہہی کے نام پر قرعہ نکلا پھر عبد اللّٰہ اور بیس اونٹوں پر قرعہ ڈالا گیا مگر نتیجہ وہی نکلا۔بڑھاتے بڑھاتے سو اونٹوں پر نوبت پہنچی توقرعہ اونٹوں پر نکلا، چنانچہ عبدالمُطَّلِب نے سواونٹ قربانی کیے اور عبد اللّٰہ بچ گئے اسی واسطے آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا ہے: اَنَا ابْنُ الذَّبِیْحَیْن یعنی میں دوذَبیح ( اسماعیل وعبداللّٰہ ) کابیٹا ہوں ۔ (2)
جب عبد المُطَّلِب اونٹوں کی قربانی سے فارغ ہو ئے تو عبد اللّٰہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکی شادی کی فکر ہوئی۔ عبد اللّٰہ نور محمد ی کے سبب کمال حسن وجمال رکھتے تھے۔ قَضیۂ ذبح (3) سے اور مشہور ہوگئے قریش کی عورتیں ان کی طرف مائل تھیں ، مگر اللّٰہ تعالٰی نے ان کو پر دۂ عفت و عصمت میں محفوظ رکھا۔عبدالمُطَّلِب ان کے لئے ایسی عورت کی تلاش میں تھے جو شرَف، نَسَب وحَسَب و عفت میں ممتاز ہو۔اس لئے وہ ان کو بنو زُہر ہ کے سر دار وَہْب بن عبد مَناف بن زُہرہ بن کلاب بن مُرَّہ کے ہاں لے گئے وہب کی بیٹی آمنہ زُہْریہ قَرَشِیَّہ نَسَب و شرَف میں قریش کی تمام عورتوں سے افضل تھیں ، عبد المُطَّلِب نے وَہْب کو عبد اللّٰہ کی شادی کا پیغام دیا اور وہیں عقْدہو گیا۔ بعضے (4) کہتے ہیں کہ آمنہ اپنے چچا وُہَیْب کے پاس رہتی تھیں عبد المُطَّلِب نے وُہَیْب کو پیغام دیا اور نکاح ہو گیا اور اسی مجلس میں خود عبدالمُطَّلِب نے وُہَیْب کی صاحبزادی ہالہ
سے شادی کی۔ (1)
عبدالمُطَّلِب کے ہاں بقول ابن ہشام پانچ بیویوں سے دس لڑکے اور چھ لڑکیاں پیدا ہو ئیں جن کی تفصیل یوں ہے :

زوجہ کانام اَولاد
سَمْرَاء بنت جُنْدَب ہَوازِنیہ حارِث (2)
لُبْنٰى بنت ہَاجِر خُزَاعِیَّہ ابولَہَب ( اصلی نام عبدُ العُزّٰی )
فَاطِمَہ بنت عَمْرْومَخْزُوْمِیَہ اَ بُوطَالِب (اصلی نام عبدِ مَناف ) ، زُبَیْر، عبدُ اللّٰہ (والد رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰى عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) ، بَیْضَاء ، عَاتِکَہ ، بَرَّہ ، اُمَیْمَہ ، اَرْوٰی
ہَالَہ بنت وُہَیْب زُہْرِیَہ حَمْزَہ ، مُقَوَّم، حَجْل ، صَفِیَّہ
نُتَیْلَہ بنت خَبَّاب خَزْرَجِیَّہ عَبَّاس ، ضِرَار (3)

جب نور محمد ی حضرت آمنہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے رِحم مبارک میں منتقل ہو گیا تو کئی عجائبات ظہور میں آئے۔ اس سال قریش میں سخت قحط سالی تھی، اس نور کی برکت سے زمین پر جابجا رُوئید گی (4) کی مخملی چادر نظر آنے لگی۔ درختوں نے اپنے پھل جھکا دیئے اور مکہ میں اس قدَر فراخ سالی ہو ئی کہ اس سال کو ’’ سَنَۃُ الْفَتْحِ وَالْاِبْتِہَاجِ ‘‘ (5) کہنے لگے۔قریش کا ہر ایک چار پایہ فصیح عربی زبان میں حضرت آمنہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے حمل کی خبر دینے لگا، بادشاہوں کے تخت اور بت اوند ھے گرپڑے، مشرق ومغرب کے وحشی چرند پرند اور دریائی جانوروں نے ایک دوسرے کو خوشخبری دی۔ جِن پکار اُٹھے کہ حضرت کا زمانہ قریب آگیا، کہانت کی آبروجاتی رہی اور رُہبانیت پر خوف طاری ہوا۔حضرت کی والدہ ماجدہ نے
خواب میں سنا کہ کوئی کہہ رہا ہے: ’’ تیرے پیٹ میں جہان کا سر دار ہے، جب وہ پیدا ہوں تو ان کا نام محمد رکھنا۔ ‘‘ (1)

 

 

 

________________________________
1 – السیرۃ النبویۃ لابن ہشام، ذکر سرد النسب۔۔۔الخ، ص۷ علمیہ۔
2 – یعنی انہیں یہاں بیان کرنے کی گنجائش نہیں ۔
3 – صحیح البخاری،کتاب المناقب، باب صفۃ النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم، الحدیث:۳۵۵۷،ج۲،ص۴۸۸علمیہ۔
4 – صحیح مسلم،کتاب الفضائل،باب فضل نسب النبی۔۔۔الخ،الحدیث:۲۲۷۶،ص۱۲۴۹علمیہ۔

______________________________
1 – سنن ا لترمذی،کتاب المناقب، باب ماجاء فی فضل النبی، الحدیث:۳۶۲۷،ج۵،ص۳۵۰علمیہ۔
2 – حیاۃ الحیوان الکبریٰ،خلافۃ ابی بکر الصدیق رضی اللّٰہ عنہ،ج۱،ص۷۵ علمیہ۔
3 – قُصٰی کے حالات کے لئے دیکھو سیرت ابن ہشام اور سیرت حلبیہ۔۱۲منہ
4 – وطن مانوس۔
5 – السیرۃ الحلبیۃ، باب نسبہ الشریف،ج۱،ص۱۴۔۱۵ملخصاً والکامل فی التاریخ لابن اثیر، نسب رسول اللّٰہ۔۔۔الخ،ج۱،ص۵۵۶۔۵۵۷ملخصاً علمیہ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *